تعلیم نسواں کی اہمیت

in Tahaffuz, July 2008, بنت فضل بیگ مہر, متفرقا ت

ہر قوم کی تعمیر و ترقی کا انحصار اس کی تعلیم پر ہوتا ہے۔ تعلیم ہی قوم کے احساس وشعور کو نکھارتی ہے اور نئی نسل کو زندگی گزارنے کا طریقہ سکھاتی ہے۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ انسان کسی صفت و کمال سے وہ دل کی صفائی‘ فراخی اور وسعت حاصل نہیں کرسکتا جو علم کی بدولت حاصل کرنے میںکامیاب ہوجاتا ہے۔
تعلیم ایک ایسا عمل ہے جو تخلیق انسانی کے ظہور سے شروع ہوا۔ اﷲ تبارک و تعالیٰ نے حضرت سیدنا آدم علیہ السلام کو تمام مفید انسانی علوم کی تعلیم فرمائی۔ پھر یہ علوم نسل انسانی میں منتقل ہوتے رہے اور آج علوم کی بے شمار شاخیں ہیں۔
علم کی افادیت قرآن و حدیث سے بھی ثابت ہے۔ سورہ مجادلہ آیت نمبر ۱۱ میں اﷲ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر فرمایا ہے جنہیں علم کی دولت سے نوازا گیا ہے۔
اﷲ تمہارے ایمان والوں کے اور ان کے جن کو علم دیا گیا درجے بلند فرمائے گا (ترجمہ کنزالایمان)
سورہ زمر آیت ۹ میں علم والوں کی فضیلت کا کچھ اس طرح سے بیان ہے:
تم فرمائو کیا برابر ہیں جاننے والے اور انجان‘ نصیحت تو وہی مانتے ہیں جو عقل والے ہیں (ترجمہ کنزالایمان)
سرکار مدینہﷺ نے فرمایا اس ذات پاک کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے جو کوئی طالب علم کبھی عالم کے دروازے پر علم سیکھنے کے لئے آمدورفت رکھتا ہے اس کے ہر قدم پر ایک ایک سال کی عبادت لکھ دی جاتی ہے اور ہر ہر قدم کے بدلے میں جنت میں اس کے لئے ایک ایک شہر آباد کردیا جاتا ہے اور جس زمین پر چلتا ہے وہ زمین اس کے لئے استغفار کرتی ہے (نزہتہ المجالس)
مسلمان کے لئے علم ایک عظیم تر نعمت ہے بس مومن کی شان یہ ہے کہ وہ ہر وقت اپنے علم میں اضافہ کرنے کی ہرممکن کوشش کرتا رہے۔ زندگی کے جس حصے میں چاہے بچپن کے ایام ہوں یا جوابی کاد ور ہو یا بڑھاپے کی سرحدیں عبور کررہا ہو‘ پس جہاں سے اور جب اسے علم دین ملے تو اسے اپنی گمشدہ نعمت سمجھ کر حاصل کرے کہ علم جتنا زیادہ ہوگا اتنا ہی اس کے درجات بڑھتے جائیں گے اور دنیا و آخرت میں اس کی فلاح و بہبود اور ترقی کے دروازے کھلتے جائیں گے۔
الغرض کہ علم ایسی چیز نہیں جس کی فضیلت اور خوبیوں کے بیان کرنے کی حاجت ہو۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ علم ایک بہت بہتر چیز ہے۔ ایک لازوال دولت ہے اور اﷲ عزوجل کی ایک بہت بڑی نعمت ہے اور اس کا حاصل کرنا وجہ امتیاز و فضیلت و شرف اور سعادت مندی ہے۔ یہی وہ چیز ہے کہ اس سے انسانی زندگی کامیاب اور خوشگوار ہوتی ہے اور اسی سے دنیا و آخرت سنورتی ہے۔
حضرت امام غزالی رحمتہ اﷲ علیہ کا فرمان ہے ’’تعلیم کا مقصد صرف نوجوان نسل کی پیاس بجھانا نہیں بلکہ ساتھ ہی ان میں اخلاقی کردار اور اجتماعی زندگی کے اوصاف نکھارنے کا احساس بھی پیدا کرنا ہے‘‘
آج ہم پستی کی طرف جارہے ہیں اور زوال کا شکار ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہماری نئی نسل علم کی عطا کردہ بصیرت اور لذت سے محروم ہے۔ علم کے نتیجے میں نیک و بد اور خوب و ناخوبکی جو تمیز پیدا ہونی چاہئے‘ اس کا بھی فقدان ہے۔ اخلاق و کردار کے لحاظ سے تعلیم یافتہ اور غیر تعلیم یافتہ میں فرق کرنا مشکل ہے۔ غرض یہ کہ علم جو اعتماد قوت عملی اور اخلاق پیدا کرتاہے اس سے ہماری نئی نسل عاری نظرآتی ہے۔ اس حقیقت کا احساس عام ہے کہ ہمارے ہاں تعلیم اپنی افادیت کھو چکی ہے اور ہمارے معاشی اور معاشرتی تقاضوں سے تعلیم کا کوئی ربط و رشتہ باقی نہیں رہ گیا۔ اس طرح ہمارا سارا معاشرہ اپنی اقدار سمیت شکست کا شکار ہوگیا ہے۔ یہ ہم سب کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔
اس کے علاوہ آج ہمارے معاشرے میں عورت کی تعلیم پر زیادہ توجہ نہیں دی جاتی جبکہ حدیث مبارک میں ہے کہ :
حضرت انس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ معلم کائنات سرکار دو عالمﷺ نے ارشاد فرمایا:
طالب العلم فریضتہ علی کل مسلم
یعنی علم حاصل کرنا ہر مسلمان (مردو عورت) پر فرض ہے۔
معلوم ہوا کہ مرد کی طرح عورت پر بھی علم کا حصول فرض ہے۔ خواتین پردے میں رہتے ہوئے کسی بھی سطح تک تعلیم حاصل کرسکتی ہیں۔ اسلام نے انہیں تعلیم حاصل کرنے سے منع نہیں کیا۔ لیکن حدود توڑنے کی صورت میں بغاوت کے زمرے میں آئیں گی۔
معاشرے کو سنوارنے یا بگاڑنے میں عورت کا بہت ہاتھ ہوتا ہے۔ اسلام نے دنیا کو بتایا کہ جس طرح مرد اپنا مقصد وجود رکھتا ہے اسی طرح عورت کی تخلیق کی بھی ایک غائیت ہے۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ معاشرے کی تشکیل صرف مرد تک ہی محدود نہیں بلکہ عورت بھی اس میں برابر کی حقدار ہے۔
عورت پر گھریلو ذمہ داریاں بھی ہوتی ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ عورت کے لئے امور خانہ داری کے علاوہ دنیا کے باقی کام ممنوع ہیں۔ بلکہ خانگی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے بعد وہ اپنے ذوق اور رجحان کے لحاظ سے علمی‘ ادبی اور اصلاحی کاموں میںحصہ لے سکتی ہے۔ مسلمان عورت ڈاکٹر‘ پروفیسر‘ انجینئر‘ عالمہ‘ مورخ‘شاعرہ‘ ادیبہ اور محقق وغیرہ سب کچھ ہوسکتی ہے کیونکہ ایک خود مختار فرد کی حیثیت سے اس کا یہ پیدائشی ورثہ ہے۔
دین اسلام نے واضح طور پر بتادیا ہے کہ مرد اور عورت کی تخلیقی بنیاد ایک ہے۔ قرآن کریم میں جہاں کہیں بھی فضیلت انسانی کا ذکر آیا ہے اس میں مرد اور عورت دونوں برابر کے شریک ہیں۔ تقویٰ اور آخرت کی فلاح کا جو معیار مرد کے لئے مقرر کیا گیا ہے‘ وہی عورت کے لئے ہے۔ ہمارا دین عورت کو گھر کی چار دیواری میں اس طرح قید نہیں کرتا کہ وہ اپنی ضروریات کیلئے دوسروں کی دست نگر رہے۔ نبی  اکرمﷺ نے فرمایا:
بے شک تمہیں اﷲ نے گھر سے نکلنے کی اجازت دی ہے اپنی ضروریات کے حصول کے لئے
اسلام کے عظیم احسانات میں سے عورت کو جس قدر حصہ ملا ہے‘ اس کی مثال دنیائے تاریخ میں نہیں ملتی اور اسی طرح تعلیمات نبویﷺ پر عمل کرتے ہوئے جو کارنامے معزز محترم خواتین نے انجام دیئے ان سے بھی انکار نہیں کیاجاسکتا۔
آیئے عورت کی تعلیم کے حوالے سے اس عظیم ہستی کا ذکر خیر کرتے ہیں کہ جنہوں نے شجاعت و بہادری جذبہ عبادت‘ بندگی‘ علمی خدمات میں اپنی مثال قائم کردی ہے۔ ہر میدان علم و عمل میں ان کی شہرت کے پرچم لہرا رہے ہیں۔
وہ عظیم ہستی ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اﷲ عنہا ہیں۔ انہیں قرآن کریم کی پہلی حافظہ کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ بلند پایہ محدثہ تھیں ۔ تقریبا ۲۲۱۰ احادیث مبارکہ کی حافظہ بھی تھیں اور ہزاروں صحابہ کرام علیہم الرضوان کی استاد بھی تھیں۔ دین کا 1/3 حصہ انہیں کی بدولت ہم تک پہنچا۔ خلافت فاروقی میں اہم معاملات میں ان کی رائے کو فضیلت دی جاتی تھی۔ بڑے بڑے جلیل القدر صحابہ ان کی خدمت میں حاضر ہوکر ہر قسم کے مسائل پوچھا کرتے تھے۔ حضرت ابو موسیٰ الشعری فرماتے ہیں کہ ہم لوگوں کو کوئی مشکل ایسی نہیں نہ آئی جس کا علم حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا کے پاس نہ ہو۔ حضرت عروہ بن زبیر کا قول ہے کہ میں نے قرآن‘ حدیث‘ فقہ‘ تاریخ میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہ سے بڑھ کر کسی کو نہیں دیکھا۔
کتب سیرت میں متعدد روایتیں ملتی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا کو دینی علوم کے علاوہ طب‘ تاریخ اور شعر و ادب میں بھی دسترس حاصل تھی۔
مگر افسوس کہ آج مسلم خواتین میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ نہ اسلام کا جوش ہے‘ نہ ایمان کا جذبہ ہے اور نہ ہی علم حاصل کرنے کی لگن ہے۔ انہیں تو بس نت نئے فیشن اپنانے کا شوق ہے۔ اور دنیا کی حرص و ہوس ہے۔ یہ سب علم  سے دوری اور احکام شریعت سے لاعلمی کی وجہ سے ہے۔
آج ہمارے معاشرے کے وہ والدین جو اپنے لڑکوں کی تعلیم پر زیادہ توجہ دیتے ہیں لیکن لڑکیوں پر توجہ نہیں دیتے‘ انہیں چاہئے کہ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا کی مقدس زندگی سے درس حاصل کرتے ہوئے لڑکیوں کو بھی علم کی راہوں سے روشناس کروائیں۔
یاد رہے کہ جس قوم کی بیٹی پڑھی لکھی ہوتی ہے اس قوم کی اخلاقی بنیادیں بھی مضبوط ہوتی ہے۔