علامہ پروفیسر ڈاکٹر محمدمسعود احمد علیہ الرحمہ کا المناک سانحہ ارتحال

in Tahaffuz, July 2008, شخصیات, مولانا محمد حسن علی رضوی بریلوی میلسی

اس دور قحط الرجال میں یکے بعد دیگرے متعدد ممتاز اہل علم و کمال داغ مفارقت دے گئے اور جام وصال حقیقی نوش فرماگئے۔ حضرت علامہ پروفیسر ڈاکٹر محمدمسعود احمد صاحب نقشبندی مجددی علیہ الرحمہ کاالمناک سانحہ ارتحال ایسا افسوسناک حادثہ فاجعہ ہے جس کے اثر سے فضائے سنیت مدتوں مغموم و متاثر رہے گی۔ حضرت ممدوح موصوف مرحوم ومغفور مفتی اعظم دہلی حضرت علامہ الحاج الشاہ المفتی محمد مظہر اﷲ صاحب شاہی امام جامع مسجد فتح پوری دہلی قدس سرہ کے فرزند دلبند تھے جودہلی میں اہلسنت کے مشہور و ممتاز مستند عالمو فقیہ مفتی و متقی پرہیزگار عالم دین تھے آقائے نعمت امام اہلسنت حضور محدث اعظم پاکستان علیہ الرحمہ نے فقیر کے ایک معروضہ کے جواب میں فرمایا تھا ’’حضرت مولانا مفتی محمد مظہر اﷲ صاحب خطیب امام جامع مسجد فتح پوری دہلی متقی پرہیزگار سنی عالم دین ہیں‘ فقیر کے برسوں سے ان سے قریبی تعلقات ہیں۔ متعد بار ان کے ہاں (عید میلاد کے جلسوں میں) آنا جانا رہا اور پاکستان بننے سے دو سال پہلے حج بھی ایک ساتھ کیا‘‘ (مخلصاً) اسی طرح خود حضرت علامہ مفتی محمد مظہر اﷲ صاحب قدس سرہ فقیر کے نام تقریبا اپنے ہر مکتوب گرامی میں فرماتے ’’مولانا سردار احمد صاحب مدظلہ سے فقیر کا سلام عرض کردیں اتنے کثیر طلباء کا درجہ حدیث شریف میں فارغ التحصیل ہونا بلاشبہ ان کی کرامت ہے۔ مخلصتا‘ علامہ پروفیسر محمد مسعود احمد صاحب علیہ الرحمہ ایسے عظیم المرتبت والد گرامی کے فرزند ارجمند اور ان کے فیض صحبت سے فیض یاب تھے۔ کتب اقراء اور دروغ گوئی پر مبنی رسوائے زمانہ ’’دھماکہ‘‘ نامی کتاب جب منظر عام پر آئی اور بفضلہ تعالیٰ فقیر نے جب اس کا مکمل و مفصل مدلل و مستحقق جامع جواب قہر خداوندی شائع کیا تو جناب ڈاکٹر پروفیسر محمد مسعود احمد صاحب کا تحسین و آفرین سے بھرپور مکتوب فقیر کے نام آیا اور اس طرح ان کے مکتوب گرامی سے معلوم ہوا کہ وہ حضور مفتی اعظم دہلی شریف کے صاحبزادہ صاحب ہیں۔ اس طرح ان سے خط و کتابت کا سلسلہ تادم وصال جاری وساری رہا۔ اور وہ فقیر سے ملاقات اور فقیر ان کی زیارت کا مشتاق رہا ہے۔ وہ فقیر سے اپنے والد محترم قدس سرہ کے مکتوبات اور خطوط وغیرہ بھی طلب فرماتے رہے۔ بحیثیت پروفیسر جہاں جہاں تعینات ہوئے انہوںنے برابر خط و کتابت کا سلسلہ بدستور برقرار رکھا۔
اہم خصوصیات
جناب پروفیسر صاحب کی اہم خصوصیات جو ان کو معاصرین میں ممتاز کرتی ہیں وہ نہایت سنجیدہ و متین نہایت متواضع اور منسکر المزاج تھے حلیم الطبع و ملنسار تھے۔ غرور و گھمنڈ علمی زعم مطلق العنان نہ تھے انانیت سے دور تھے فقیران سے بہت چھوٹا حقیر و کمترین ہے مگر وہ وسیع النظر وسیع القلب تھے۔ فقیر کا بڑوں کی طرح احترام فرماتے اور بیشتر امور میں مشاورت فرماتے اور فقیر کی حقیر آراء کو قبول فرماتے۔ عجز و انکساری اور خود فراموشی کا یہ عالم تھا کہ فقیر دورہ کراچی کے موقع پر جس جگہ سکونت پذیر ہوتا وہ کچھ کتابیں اور تحفہ تحائف لیکر وہاں پہنچ جاتے اور یکسوئی سے فقیر کی معروضات سن رہے ہوتے۔ محسوس ہوتا اخذکررہے ہیں طبیعت نہایت اخاد تھی۔ فقیر کی گفتگو سے بہت مسرور ہوتے اور یکسوئی سے سماعت فرماتے اور ایک عظیم وصف جمیل ان کی ذات میں یہ بھی کہ وہ علمی وتحقیقی زعم میں اکابر اہلسنت سے اپنی راہیں علیحدہ متعین نہ فرماتے اور خود اپنی ذات پر تنقیدفراخدلی اور خندہ پیشانی سے قبول فرماتے اور کبیدہ خاطر نہ ہوتے۔ کم گو تھے جب بولتے بولتے نہایت متانت کے ساتھ‘ سنجیدہ گفتگو فرماتے ‘ اکابر کرام بالخصوص تحقیقات و مسلک اورفتاویٰ اعلیٰ حضرت امام اہلسنت فاضل بریلوی قدس سرہ سے ہرگز اختلاف نہ فرماتے جیسا کہ آج کل بعض عناصرعموم بلویٰ‘ تغیرات زمانہ اور اسباب ستہ کا بے اطلاق کرکے مسلک اعلیٰ حضرت سے اختلاف کی راہیں تلاش کرتے ہیں اور اپنے مریدوں شاگردوں کی خود ساختہ مجلس شرعی کا فیصلہ اکابر کے مقابلہ میں نافذ کرنے کی مذموم سعی کرتے ہیں۔ فقیر کے پاس ان کے عظیم المرتبت والد گرامی مفتی اعظم دہلی علامہ مفتی شاہ محمد مظہر اﷲ صاحب علیہ الرحمہ کے بہت سے خطوط و فتاویٰ ہیں تحقیقات اعلیٰ حضرت اور مسلک اعلیٰ حضرت کے بارے میں ارشاد فرماتے تھے ’’تحقیقات و مسلک اعلیٰ حضرت کے بارے میں کس کا زہرہ ہے کہ جرات لب کشائی کرسکے‘‘ یہی وجہ ہے کہ حضرت علامہ پروفیسر رحمتہ اﷲ علیہ نے مسئلہ مغفرت ذنب اور ترجمہ کنز الایمان‘ لائوڈ اسپیکر نماز کے عدم جواز و مووی ٹی وی‘ نفلی نمازوں کی جماعت کے عدم جواز مسئلہ رویت ہلال وغیرہ امور و مسائل میں حامیان مسلک اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی دل کھول کر بے دریغ حمایت فرمائی۔ یہ ان کی کسر نفسی اور حقیقت پسندی تھی کہ جب ان کے بعض عقیدت مندوں نے حضرتممدوح موصوف کو مجدد لکھناشروع کیا تو فقیر نے ایک عریضہ میں عرض کیا کہ اس وقت اہلسنت کے حلقہ ہائے طریقت میں ۹ بزرگوں کو ان کے مریدین مجدد قرار دے رہے ہیں اور گیارہ حضرات کو پاک و ہند میں امیر اہلسنت بنایا جارہا ہے۔ کوئی بھی شخص اپنے مریدوں شاگردوں کے بل بوتے پر مجدد اور امیر اہلسنت قرار نہیں دیا جاتا… حضرت علامہ پروفیسر صاحب نے بڑی وسعت نظر اور وسیع قلبی سے دوبارہ تحریر فرمایا ’’میں ہرگز مجدد وغیرہ نہیں ہوں‘ یہی کیا کم ہے کہ اﷲ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے دین کی تھوڑی بہت خدمت لے رہا ہے۔ میرے لئے یہی کافی ہے کہ مولیٰ تعالیٰ اپنے کرم سے مغفرت فرمادے‘‘ الخ ایک بار بعض حضرات نے یہ شکایت کی کہ حضرت پروفیسر صاحب گستاخانہ کفریہ عبارات پر تکفیر نہیں کرتے اورفتاویٰ مبارکہ حسام الحرمین کی تائید و تصدیق نہیں فرماتے۔ فقیر کی تحریک پر انہوں نے غیر مبہم واضح انداز میں حسام الحرمین کی تائید و تصدیق فرمائی اور ماہنامہ معارف رضا کراچی میں اس کو شائع کرایا۔ وہ اہلسنت کے باہمی انتشار و خلفشار کو بھی پسند نہ فرماتے تھے نہ وہ کبھی سیاست میں آئے نہ گروپ بندی میں شامل ہوئے جب مولانا محمد الیاس صاحب کے نام فقیر کی ’’مدنی التجا‘‘ ماہنامہ اعلیٰ حضرت بریلی شریف میں چھپی تو پاک و ہند کے ۵۰۰ سے زائد علماء اہلسنت نے فقیرکے مقالہ پر تائید و حمایت اور تحسین فرمائی لیکن چند افراد کو یہ مخلصانہ مدنی التجا ناگوار بھی ہوئی اور ناحق کی محاذ آرائی اور بے مقصد قلم کاری شروع کردی۔ حضرت محترم پروفیسر صاحب نے فقیر کو اپنے مکتوب میں فرمایا کہ مجھے مولانا الیاس صاحب نے کئی بارکہا ہے کہ علماء اہلسنت کو جن جن مسائل میں شکایت ہے میں رجوع کرلیتا ہوں۔ حضرت علامہ پروفیسر صاحب علیہ الرحمہ نے مجھ فقیر کو تحریر کیاکہ آپ اپنی تحریر بھیج دیں۔ میں فیضان مدینہ کراچی جاکر مولانا الیاس صاحب کو مل لیتا ہوں۔ فقیر نے صرف یہ تحریر کیا کہ تحقیقات و مسلک اعلیٰ حضرت اور خلفاء و شہزادگان اعلیٰ حضرت کے فتاویٰ پر پہلے کی طرح عمل کیا جائے… فقیر اپنی کسی تحقیق و فتاویٰ پر عمل نہیں کرانا چاہتا… کم و بیش دو تین ماہ کے بعد حضرت پروفیسر صاحب کا جواب آیا کہ ادھر سے کوئی مثبت جواب نہیں آیا اس لئے کوئی پیش رفت نہ ہوسکی۔ اور ایک دوسرے مکتوب میں فرمایا ’’دعوت اسلامی کی اصلاح ضروری ہے اور یہی اخلاص ہے‘‘ مخلصا اسی طرح جب ان سے پیر کرم شاہ ازہری کے متعلق ملک کے اطراف سے سوالات ہوئے تو انہوں نے فقیر سے رجوع فرمایا اور پھر دوسرے مکتوب میں فقیر کے موقف کی تائید فرمائی۔ اسی طرح عصر حاضر کے عظیم فتنہ طاہریہ منہاجیہ سے متعلق فقیر کے موقف کی قلمی تحریری تائید فرمائی وہ اس میں عار محسوس نہیں کرتے تھے گاہے بگاہے وہ مختلف کتب کے حوالہ جات بھی طلب فرماتے اور ایک سے زائد حوالہ جات پاکر مسرور ہوتے۔ وہ نہ صرف پاکستان بلکہ برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش کے صف اول کے ممتاز مصنف اور کامیاب قلم کار تھے۔ انہوں نے سیدنا مجدد اعظم اعلیٰ حضرت قدس سرہ پر جہت سے بہت کچھ لکھا اوربہت خوب لکھا اور ماہر رضویات کہلائے۔ سیدنا امام ربانی مجدد الف  ثانی قدس سرہ پر انہوں نے بے مثال کام کیا اور حق ادا کردیا۔ تین بار ان کے دولت کدہ پر حاضری کا شرف حاصل ہوا اور انہوں نے کمال اپنائیت سے دیدہ و دل فرش راہ کیا اور بہت ہی زیادہ پرتکلف ضیافتیں فرمائیں اور سنی رضوی جامع مسجد میلسی کی تعمیر کے لئے عظیم و خطیر رقوم عطا فرمائیں۔ وہ دنیا سے ایمان کا اعلیٰ درجہ لے کر گئے۔ حضرت ممدوح کی اچانک رحلت ایک عظیم سانحہ اور المناک حادثہ ہے۔ ان کی عظیم و جلیل دینی خدمات مدت العمر بے لوث اور ریاونمود سے پاک رہیں۔ مولیٰ تعالیٰ حضرت ممدوح کو اجر عظیم جزاء جمیل عطا فرمائے۔ آمین
حیف در چشم زون صحبت یار آخر شڈ
روئے گل سیر قدیدم و بہار آخر شد