گیارہویں شریف… علماء اسلام کی نظر میں

in Tahaffuz, May 2008, ا سلا می عقا ئد, عقا ئد ا ہلسنت, علامہ منظور احمد فیضی

حامدا و مصلیا و مسلما اما بعد! گیارہویں شریف حضور غوث الثقلین پیر محبوب سبحانی قطب ربانی غوث صمدانی شہباز لامکانی سیدی السید محی الدین عبدالقادر جیلانی قدس سرہ النورانی کی ایصال ثواب کی شاخوں میں سے ایک شاخ ہے اور ایصال ثواب کی ایک صورت ہے۔ شریعت محمدیہ میں بدنی اور مالی عبادات کا ثواب دوسرے مسلمان (خواہ وہ زندہ بحیات دنیوی ہو یا وصال یافتہ۔ ردالمختار) کو بخشنا جائز ہے اور وہ ثواب اس مسلمان کو پہنچتا ہے اور اسے نفع دیتا ہے۔ اس کا ثبوت قرآن مجید و حدیث شریف اور اقوال فقہاء کرام سے ہے۔ قرآن کریم نے بہت مقامات پر مسلمانوں کو ایک دوسرے کو دعا کرنے کا حکم دیا ہے اور نماز جنازہ میں بھی فوت شدہ مسلمان کے لئے دعا کی جاتی ہے۔

اﷲ تعالیٰ نے قرآن مجید میں قیامت تک آنے والے مسلمانوں کی یہ صفت بیان کی ہے کہ وہ پہلے مسلمانوں کے لئے دعا کرتے رہیں گے‘ چنانچہ فرمایا

ترجمہ: اور وہ (مسلمان) جو ان کے بعد آئے‘ عرض کرتے ہیں اے ہمارے رب! ہمیں بخش دے اور ہمارے بھائیوں کو جو ہم سے پہلے ایمان لائے اور ہمارے دل میں ایمان والوں کی طرف سے کینہ نہ رکھ‘ ہمارے رب! بے شک تو ہی نہایت مہربان رحم والا ہے۔ (حشر 10)

اگر ایک مسلمان کی دعا دوسرے مسلمان کو نہیں پہنچتی اور اسے فائدہ نہیں دیتی تو یہ حکم دعا اور عمل دعا فضول و لغو ٹھہرے گا۔

عاص بن وائل نے وصیت کی کہ میری طرف سے میرے فوت ہونے کے بعد) سو غلام آزاد کیا جائے۔ حسب وصیت اس کے مرنے کے بعد اس کے بیٹے ہشام نے پچاس غلام آزاد کئے اور اس کے بیٹے نے ارادہ کیا کہ میں بھی اپنے باپ کی طرف سے بقیہ پچاس غلام آزاد کروں اور کہا اس وقت تک آزاد نہیں کروں گا جب تک حضورﷺ سے نہ پوچھ لوں۔ پھر وہ حضور کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور سارا قصہ عرض کیا اور پوچھا

’’افا عتق عنہ‘‘

کیا میں اپنے باپ کی طرف سے باقی پچاس غلام آزاد کروں‘‘

فقال رسول اﷲﷺ انہ لو کان مسلما فاعتقم عنہ او تصدقتم عنہ او حججتم عنہ بلغہ ذلک (ابو داؤد شریف)

حضور علیہ الصلواۃ والسلام نے فرمایا اگر وہ مسلمان ہوتا تو تم اس کی طرف سے آزاد کرتے یا صدقہ و خیرات کرتے یا اس کی طرف سے حج کرتے تو اسے یہ (یعنی ان چیزوں کا ثواب پہنچتا)

(مشکواۃ شریف باب الوصا یا ج 1 ص 226)

امام المحدثین حضرت شیخ عبدالحق محدث و محقق دہلوی حنفی علیہ الرحمہ اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں

’’دل علی ان الصدقتہ لاتنفع الکافر ولاتنجیہ وعلی ان المسلم ینفعہ العبادۃ المالیتہ والبدنیتہ

(لمعات ہامش مشکواۃ ص 226)
مزید فرماتے ہیں

’’ازیں حدیث مفہوم شد کے صدقہ سودندارد کافر اور ستگاری نمے بخشد از عذاب و نیز معلوم شد کہ بمسلمان میر سد ثواب عبادت مالی و بدنی ہردو ‘

(اشعتہ اللمعات جلد 3 صفحہ 100)

یعنی اس حدیث شریف سے ثابت ہوا کہ مسلمان کو مالی اور بدنی عبادت کا ثواب پہنچتا ہے اور اسے نفع دیتا ہے‘ بخلاف کافر کے کہ ’’مرگیا مردود نہ فاتحہ نہ درود‘‘ ہاں بدنی عبادت میں نیابت جائز نہیں یعنی کوئی شخص کسی کی طرف سے نماز فرض پڑھ دے تو اس کی نماز ادا نہ ہوگی‘ ہاں نماز کا ثواب بخشا جاسکتا ہے۔

حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا

’’من یضمن لی مفکم ان یصلی لی فی مسجد العشار رکعتین اواربعا ویقول ہذہ لابی ہریرۃ‘‘ (ابوداؤد شریف)

یعنی کون میرے لئے اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ وہ مسجد عشاء میں میرے لئے دو رکعت یا چار رکعت نماز پڑھے اور کہے یہ ابوہریرہ کے لئے ہے‘ یعنی اس نماز کا ثواب ابوہریرہ کے لئے ہے۔

(مشکواۃ شریف کتاب الفتن باب الملاحم ص 468)

اسی طرح ہر عبادت کا ثواب بخشا جاسکتا ہے اور اسے پہنچتا ہے‘ علاوہ ازیں بہت سی حدیثیں اس بارے میں وارد ہیں۔
والاحادیث والآثار فی ہذہ الباب اکثر من ان تحصی

یعنی اس باب میں احادیث و آثار شمار کرنے سے بھی زیادہ ہیں ۔(شرح عقائد ص 123)

دعاء الاحیاء للاموات وصدقتہم ای صدقتہ الاحیاء عنہم ای عن الاموات نفع لہم ای للموات خلافا للمعتزلہ

یعنی زندوں کا وفات یافتہ مسلمانوں کے لئے دعا کرنا اور زندوں کا فوت شدہ مسلمانوں کی طرف سے صدقہ کرنا ان کے لئے نفع ہے بخلاف معتزلہ کے۔ (شرح عقائد ص 122)
خاتم المحققین علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں

خلاصہ: یعنی جو گورستان میں داخل ہوا اور اس نے سورۃ یٰسین پڑھ کر ان کو بخشی تو اس دن گورستان والوں سے اﷲ عذاب میں تخفیف کرے گا اور اس کو اموات کی تعداد کے مطابق نیکیاں ملیں گی اور ایک حدیث میں آیا کہ جس نے گیارہ مرتبہ سورہ اخلاص پڑھ کر اس کا ثواب اموات کو بخشا‘ اموات کی تعداد کے مطابق اس ثواب بخشنے والوں کو ثواب ملے گا۔ قرآن پاک مختلف مقامات سے تلاوت کرکے اس کا ثواب وصال یافتہ حضرات کو یوں بخشے کہ اے اﷲ جو کچھ ہم نے پڑھا ہے اس کا ثواب فلاں مخصوص شخص کو یا ان سب کو بخش دے۔ تنبیہ ہمارے علماء احناف نے اس بات کی تصریح کی ہے کہ انسان کو ازروئے شریعت اس بات کا اختیار ہے کہ وہ اپنے عمل کا ثواب اپنے غیر کو بخش دے‘ خواہ وہ عمل نماز ہو یا روزہ‘ صدقہ ہو یا غیر صدقہ اور اس شخص کے لئے افضل یہ ہے جو نفلی صدقہ کرنا چاہتا ہے کہ وہ سب مومن مردوں اور عورتوں کی نیت کرے‘ اس لئے کہ اس کا ثواب ان سب کو پہنچے گا اور اس کے ثواب سے کچھ کم نہ ہوگا۔ یہی اہل سنت کا مذہب ہے‘ ثواب بخشنے والا زندہ کو بھی ثواب بخش سکتا ہے اور مردہ کو بھی قبل از عمل بھی نیت کرسکتا ہے اور بعد از عمل بھی فرض بھی اور نفل بھی ایک مرتبہ فاتحہ پڑھ کر اگر اہل مقبرہ کو بخش دے تو ان میں سے ہر ایک کو پوری فاتحہ کا ثواب ملے گا انشاء اﷲ الغفار۔ (رد المحتار ‘جلد اول ‘ ص ۶۶۶)

امام سیدی عبدالوہاب شعرانی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں

ومذہب اہل السنۃ ان للانسان ان یجعل ثواب عملہ لغیرہ

یعنی اہل سنت کا مذہب یہ ہے کہ انسان اپنے ثواب کا عمل غیر کو بخش سکتا ہے

(کتاب المیزان للشعرانی جلد 1 ص 210)

فاتحہ‘ تیجہ (قل خوانی)‘ دسواں‘ چالیسواں‘ شش ماہی‘ سالانہ عرس‘ جمعراتیں‘ گیارہویں شریف‘ نیاز امامین‘ سب اسی ایصال ثواب میں داخل ہیں کہ ان تقریبات میں جو کلام و طعام لوجہ اﷲ ہوتا ہے‘ اس کا ثواب وصال یافتہ حضرات کو بخشا جاتا ہے‘ باقی رہا جانوروں کو بنیت ایصال ثواب ان کی طرف منسوب کرنا یاماکولات اور مشروبات‘ دودھ‘ وشربت و پانی پر ان بزرگوں کا نام آنا بھی موجب حرمت نہیں ہے‘ بلکہ یہ بھی حدیث شریف سے ثابت ہے۔
حضرت سعد بن عبادۃ رضی اﷲ عنہ نے حضورﷺ سے عرض کی یارسول اﷲﷺ میری ماں فوت ہوچکی ہے تو (اس کی طرف سے) کون سا صدقہ افضل ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا ‘ پانی تو حضرت سعد نے کنواں کھدوایا اور کہا ’’ہذہ لام سعد‘‘ یہ سعد کی ماں (متوفیہ کا کنواں ہے)

(ابوداؤد‘ نسائی‘ مشکواۃ ص 169‘ شرح عقائد ص 123)

اگر فوت شدہ کا نام پانی پر آنا اس پانی کے حرام ہونے کا سبب بنتا تو حضرت سعد اس کنویں پر ام سعد کا نام نہ آنے دیتے‘ مااہل بہ لغیر اﷲ کا مطلب یہ ہے کہ بوقت ذبح جانور پر غیر اﷲ کا نام نہ آئے‘ جان کا نکالنا خالق جان ہی کے نام پر ہو ۔(تفسیر خازن ومدارک جلد 1 ص 103)

قبل از ذبح یا بعد از ذبح بغرض ملکیت یا بغرض ایصال ثواب وغیرہ کسی کا نام جانور وغیرہ پر آنا یہ سبب حرمت نہیں مثلا یوں کہا جاتا ہے۔ مولوی صاحب کی گائے‘ خان صاحب کا دنبہ‘ ملک صاحب کی بکری‘ عقیقہ کا جانور‘ قربانی کا بکرا‘ ولیمہ کی بھینس‘ ان جانور پر جو غیر اﷲ کا نام پکارا گیا تو کیا یہ حرام ہوگئے؟ ہرگز نہیں! یہی حکم ہے گیارہویں کے دودھ‘ حضور غوث الثقلین رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی طرف منسوب بکری اور منت والے جانوروں کا۔ (تفسیرات احمدیہ)

باقی رہا تعیین یوم تو یہ نہ فرض ہے‘ نہ واجب‘ آگے پیچھے بھی ایصال ثواب ہوسکتا ہے۔ ہاں ان کے وصال والے دن کو اور دنوں پر امتیازی شان حاصل ہے‘ بوجہ فرمان خداوندی تعالیٰ ’’وذکرہم بایام اﷲ‘‘ کے لہذا اکثر وبیشتر تقریبات ان خاص دنوں میں سرانجام پاتی ہیں۔

باقی رہا جائز اور مستحب کام (ایصال ثواب بصورت گیارہویں وغیرہ) کو اتنا پابندی سے کیوں ادا کیا جاتا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس طرح کی پابندی حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے بھی ثابت ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ حضور علیہ الصلواۃ والسلام نے نماز فجر کے وقت حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے پوچھا کہ تو اپنے امید افزاء اسلامی عمل سے مجھے خبر دے کیونکہ میں نے تیرے جوتوں کی آواز اپنے آگے بہشت میں سنا ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ نے جوابا عرض کیا کہ دن ہو یا رات‘ جب بھی میں وضو کرتا ہوں تو اس وضو سے (تحیۃ الوضو کی جو نفلی نماز ہے نہ فرض ہے اور نہ ہی واجب) جتنی رکعتیں میرے مقدر میں لکھی جاتی ہیں پابندی سے پڑھتا ہوں (بخاری و مسلم وترمذی مشکواۃ ص 117-116)

اس نفلی نماز کی پابندی کی وجہ سے حضرت ابوہریرہ بہشت میں غلامانہ طور پر حضورﷺ سے آگے چل رہے تھے۔ معلوم ہوا کسی نفلی یا استحبابی کام پر ہمیشگی کرنا ’’معد عدم الفرضیۃ اعتقاد او مع الترک احیانا‘‘ موجب حرمت نہیں بلکہ موجب سعادت ہے۔

امام المحدثین حضرت شیخ عبدالحق محدث ومحقق دہلوی علیہ الرحمہ گیارہویں شریف کے متعلق فرماتے ہیں

یعنی ہمارے شہروں میں یہ گیارہویں کا دن مشہور ہے اور یہی اہل ہند کے مشائخ کے نزدیک جو حضرت محبوب سبحانی کی اولاد سے ہوں‘ ان کے نزدیک بھی مشہور ہے‘ جیسا کہ سیدی و شیخی سید موسیٰ پاک شہید ملتانی قدس سرہ النورانی نے ذکر فرمایا ہے (ماثبت من السنتہ ص 123)
مزید فرماتے ہیں

یعنی اگر تو کہے کہ کیا اس عرف کے کئے جو ہمارے دیار میں مشہور ہے کہ بزرگان دین کے یوم وفات کی حفاظت بصورت عرس کی جاتی ہے۔ کوئی اصل ہے اگر ہے تو بیان کرو‘ میں جواب دوں گا کہ میں نے اپنے شیخ سیدی امام عبدالوہاب متقی مکی سے یہ پوچھا تھا آپ نے فرمایا تھا کہ یہی مشائخ کرام کا معمول ہے اور اس میں ان کی (بہترین) حیات ہیں… اور بعض متاخرین مشائخ مغرب نے ذکر فرمایا ہے کہ وہ دن جس دن میں وہ حضرات رب کی بارگاہ میں پہنچے‘ اس دن میں خیروکرامت‘ برکت و نورانیت کی زیادہ امید ہے۔ بہ نسبت اور دنوں کے۔ (ماثبت من السنۃ ص 124)

شیخ المحدثین حضرت شیخ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:

واگر مالیدہ وشیر برنج بنا بر فاتحہ بزرگ بقصد ایصال ثواب بروح ایشاں پختہ بخورند مضائقہ نیست جائز است

یعنی اگر مالیدہ اور شیرینی کسی بزرگ کی فاتحہ کے لئے ایصال ثواب کی نیت سے پکا کر کھلا دے تو جائز ہے کوئی مضائقہ نہیں (فتاویٰ عزیزی جلد 1 ص 39)
آگے فرماتے ہیں

’’طعامیکہ ثواب آں نیاز حضرت امامین نمایندو وبرآں فاتحہ و قل ودرود خواندن تبرک میشود خوردن بسیار خوب است‘‘

یعنی جس کھانے پر حضرات امامین حسنین کی نیاز کریں اس پر قل اور فاتحہ اور درود پڑھنا باعث برکت ہے اور اس کا کھانا بہت اچھا ہے (فتاویٰ عزیزی جلد 1 ص 71)
کتاب ’’وجیز الصراط فی مسائل الصدقات والاسقاط‘‘ میں مصنف علام ابن ملاجیون علیہما الرحمہ نے گیارہویں شریف کا بایں الفاظ مستقل عنوان کی حیثیت سے ثبوت پیش کیا ہے

’’مسئلہ 9 در بیان عرس حضرت غوث الثقلین بتاریخ یازدہم ہرماہ و بیان حکم خوردن نذر و نیاز وغیرہ صدقات مراغیارا‘ حضرت حامد قاری لاہوری در نذریت یازدہم گفتگوی طویل کردہ اندو اور اصدقہ تطوع قراردادہ اند (وصدقہ تطوع اغنیارانیز مباح است ۔ فیضی) (وجیز الصراط ص 80)

وازہمیں جنس است طعام یازدہم کہ عرس حضرت غوث الثقلین‘ کریم الطرفین‘ قرۃ عین الحسنین‘ محبوب سبحانی‘ قلب ربانی سیدنا ومالانا فرد الافرادابی محمد الشیخ محی الدین عبدالقادر الجیلانی ست چوں مشائخ دیگر را عرسی بعد سال معین میکردند آنجناب را درہرماہے قراردادہ اند (وجیز الصراط ص 82)

یعنی حضرت غوث الثقلین کے عرس کے بیان میں جو ہر ماہ کی گیارہویں تاریخ کو ہوتا ہے اور نذر و نیاز وغیرہ صدقات کھانے کے حکم کے بیان میں حضرت حامد قاری لاہوری نے گیارہویں شریف کی نذر کے بارے میں طویل گفتگو کی ہے اور اس کو صدقہ نفل قرار دیا ہے (اور صدقہ‘ نفل اغنیاء کو بھی مباح ہے ۔ فیضی) اور گیارہویں کا طعام بھی اسی جنس سے ہے کہ حضرت غوث الثقلین‘ کریم الطرفین‘ قرۃ عین الحسنین‘ محبوب سبحانی‘ قطب ربانی‘ سیدنا ومولانا فردالافرادبی محمدن الشیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی کا عرس ہے جیسے دیگر مشائخ کا عرس سال بعد معین کیا گیا ہے‘ حضرت محبوب سبحانی قدس سرہ کا عرس ہر ماہ مقرر کیا گیا ہے۔

رشید احمد گنگوہی اور اشرف علی تھانوی کے پیرومرشد حاجی امداد اﷲ مہاجر مکی صاحب ’’فیصلہ ہفت مسئلہ‘‘ میں فرماتے ہیں
نفس ایصال ثواب ارواح میت میں کسی کو کلام نہیں۔ اس میں بھی تخصیص و تعین کو موقوف علیہ ثواب کا سمجھے یا واجب و فرض اعتقاد کرے تو ممنوع ہے اور اگر یہ اعتقاد نہیں بلکہ کوء مصلحت باعث تقیید ہیئت کذائیہ ہے تو کچھ حرج نہیں‘ جب بمصلحت نماز میں سورہ اخلاص معین کرنے کے فقہاء و محققین نے جائز رکھا ہے اور تہجد میں اکثر مشائخ کا معمول ہے … جیسے نماز میں نیت ہر چند دل سے کافی ہے مگر موافقت قلب ولسان کے لئے عوام کو زبان سے کہنا بھی مستحسن ہے۔ اسی طرح اگر یہاں زبان سے کہہ لیا جائے کہ یا اﷲ اس کھانے کا ثواب فلاں شخص کو پہنچ جائے تو بہتر ہے پھر کس کو خیال ہوا کہ لفظ اس کا مشار الیہ اگر روبرو موجود ہو تو زیادہ استخصار قلب کر کھانا روبرو لانے لگے۔ کسی کو یہ خیال ہوا کہ یہ دعا ہے اس کے ساتھ اگر کچھ کلام الٰہی بھی پڑھا جاوے تو قبولیت دعا کی بھی امید ہے اور اس کلام کا ثواب بھی پہنچ جاوے گا کہ جمع بین العبادتین ہے… اور گیارہویں حضرت غوث پاک سرہ کی دسویں‘ بیسویں‘ چہلم‘ ششماہی‘ سالیانہ وغیرہ اور توشہ حضرت شیخ احمد عبدالحق اردولی رحمتہ اﷲ علیہ اور سہ منی حضرت شاہ بوعلی قلندر رحمتہ اﷲ علیہ وحلوہ‘ شب برات اور دیگر طریق ایصال ثواب کے اسی قاعدے پر مبنی ہیں (فیصلہ ہفت مسئلہ ص 7-6)
پھر فرماتے ہیں

’’پس حق یہ ہے کہ زیارت مقابر انفراداً واجتماعاً دونوں طرح جائز اور ایصال ثواب قرات و طعام بھی جائز اور تعین تاریخ بمصلحت بھی جائز سب مل کر بھی جائز … مشرب فقیر کا اس امر میں یہ کہ ہر سال اپنے مرشد کی روح مبارک کو ایصال ثواب کرتا ہوں‘ اول قرآن خوانی ہوتی ہے‘ اور گاہے گاہے اگر وقت میں وسعت ہوئی تو مولود (میلاد شریف) پڑھا جاتا ہے پھر ماحضر کھانا کھلایا جاتا ہے اور اس کا ثواب بخش دیا جاتا ہے

(فیصلہ ہفت مسئلہ ص 9-8)