فلولا فضل اﷲ علیکم و رحمتہ لکنتم من الخٰسرینO
۶۵۔ ولقد علمتم الذین اعتدوامنکم فی السبت فقلنا لھم کونو اقردۃ خٰسئینo
۶۶۔ فجعلنھا نکالا لما بین یدیھا وماخلفھا وموعظۃ للمتقینo

تو اگر نہ ہوتا  اﷲ کا فضل تم پر اور اس کی رحمت‘ ضرور تم ہوتے خسارہ والوں سے
اور یقینا تم جان چکے ہو انہیں جو حد سے بڑھ گئے تھے تم میں سے‘ سنیچر کے بارے میں ‘ تو فرمادیا‘ ہم نے انہیں کہ ہوجائو بندر ذلیل

تو بنادیا ہم نے اس کو عبرت ان کے لئے جو موجود ہوں اور جو بعد کو ہوں اور نصیحت ڈر جانے والوں کے لئے

… اس جسارت پر اگر تم کو فورا جہنم میں جھونک دیا جاتا تو تم اس کے پورے مستحق ہوچکے تھے مگر (یہ تو) جب ہوتا کہ (اگر نہ ہوتا اﷲ) تعالیٰ (کا) یہ (فضل تم پر) بھی کہ عذاب جہنم کو حشر پر رکھ دیا ہے اور دنیا میں توبہ کی توفیق ہوجاتی ہے (اور اس) اﷲ تعالیٰ (کی رحمت) خاتم الانبیاء و رحمۃ للعالمین کی ذات‘ جن کی موجودگی میں عذاب کا زمین پر آنا بند ہوگیا ہے‘ تو (ضرور) اے یہودیو (تم ہوتے) نہایت بدتر (خسارہ والوں سے) تم سے بڑھ کر کوئی گھاٹے میں نہ ہوتا۔
(یقینا تم جان چکے ہو انہیں) اور تمہیں ان کا علم یقین حاصل ہے (جو حد) قانون (سے بڑھ گئے تھے تم میں سے) اور قانون کو اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا۔ جس سے کھیلا کرتے تھے (سنیچر کے بارے میں) قانون تھا کہ سنیچر کے دن مچھلیوں کا شکار نہ کھیلو‘ انہوں نے دیکھا کہ سنیچر ہی کے دن مچھلیاں دریا کے کنارے آکر اچھلتی ہیں اور پھر دوسرے دن سے جمعہ تک پانی کی تہہ میں چھپی رہتی ہیں۔ انہوں نے جمعہ کے دن دریا کے کنارے کنارے گڑھے کھودے اور دریا سے گڑھوں تک نالیاں بنادی۔ سنیچر کے دن مچھلیاں اچھلتی نالیوں کے راستہ سے گڑھوں میں گرتی تھیں اور اتوار کے دن وہ لوگ جاکر مچھلیوں کو پکڑتے اور کام میں لاتے۔ ان کی بستی کا نام ’’ایلہ‘‘ تھا۔ اس میں اس مسئلہ میں تین جماعتیں تھیں۔ ایک ان  نیکوکاروں کی‘ جو خود شکار اس طرح نہ کھیلتے اور کھیلنے والوں کو منع کرتے تھے۔ دوسری ان بزدلوں اور غفلت شعاروں کی‘ کہ گو خود نہ کھیلتے‘ مگر کھیلنے والوں کو منع نہ کرتے۔ تیسری ان غنڈوں اور نافرمان سرکشوں کی‘ جو بے دھڑک یہ شکار کھیلتے اور سمجھتے کہ ہم قانون کے اندر اندر جرم کررہے ہیں۔ ابتداء میں تو وہ چاہتے رہے کہ قانون کے اندر ہی یہ جرم رہے‘ لیکن جرم نے اپنی خاصیت دکھائی تو اب یہ دیکھ کر ان کی کوئی پکڑ نہ ہوئی‘ سنیچر کے دن ہی آزادانہ شکار کھیلنے لگے۔ اس پر حضرت دائود نے دعائے عذاب کی اور بالاخر ہوا (تو) یہ ہوا کہ (فرمادیا ہم نے انہیں) ان دس ہزار کو چھوڑ کر جو نیکوکار تھے (کہ) تم انسانیت چھوڑ چکے ہو ‘ تو انسانی شکل بھی چھوڑو اور (ہوجائو) اسی وقت (بندر) کی شکل میں (ذلیل) رسوائے عالم لوگ‘ تمہاری ذات پر انسانیت کو شرم آتی ہے۔
وہ لوگ بندر ہوگئے اور تین دن تک زندہ رہ کر مرگئے (تو بنادیا ہم نے اس) واقعہ مسخ صورت (کو) درس و (عبرت ان) بستیوں (کے لئے جو) اس وقت (موجود) و آباد (ہوں اور جو) اس عہد کے (بعد کو) آباد (ہوں) اور اس میں بہت بڑی (نصیحت) ہے اﷲ تعالیٰ سے (ڈرجانے والوں)‘ سچے مسلمان ہوجانے والوں (کے لئے) کہ ان سے ایسی بے جابات نہ ہو‘ کہ اﷲ تعالیٰ کا حکم توڑیں‘ یا توڑنے والوں کو منع نہ کریں۔