اب منور نور سے دیوار و در ہونے کو ہے
ایسا لگتا ہے مدینہ کا سفر ہونے کو ہے
سرنگوں دل کی جبیں دربار پر ہونے کو ہے
اور نچھاور آپﷺ پر شرمندہ سر ہونے کو ہے
یہ ہی سنتے آئے‘ جس کو چاہتے ہیں‘ بلواتے ہیں
خود بخود ہی اب تو اسباب سفر ہونے کو ہے
اے زمیں ماں! تھوڑی سی مجھ کو بقیع میں دو جگہ
خاتمہ ایمان پر اس خاک پر ہونے کو ہے
اب نوید صبح نو کا مژدہ دیتی ہے ہوا
اب رفو انشاء اﷲ دامان تر ہونے کو ہے
ہر طرف سے نعت خوانی کی صدائے آئیں گی
کیسا منظر دیکھنا روز حشر ہونے کو ہے
پھر بھٹک جانے کا میرے‘ کیسے اٹھے گا سوال
ہادیٔ گلﷺ جبکہ میرے راہبر ہونے کو ہے
روشنی ہی روشنی کیوں چار جانب ہے مرے
مجھ پہ بھی شاید توجہ کی نظر ہونے کو ہے
جس کے دل میں ہوگی نہ الفت رسول اﷲﷺ کی
نور رب سے‘ جان لوخالی وہ گھر ہونے کو ہے
مرتبہ شہدائے جشن‘ عید میلاد النبیﷺ
جب سے جانا آپﷺ پر قربان ہر ہونے کو ہے
بے ردائی کا مجھے اب کوئی بھی خطرہ نہیں
چادر رحمت کا میرے سایہ سر ہونے کوہے
بے توجہی کا مجھ کو کوئی بھی طعنہ نہ دے
انﷺ کے ٹکڑوں پر پلا ہوں‘ اک عمر ہونے کو ہے
مجھ سے پاپی کو مدینے کی اجازت مل گئی
آج مجھ کو خود پہ حیرت کس قدر ہونے کو ہے
کب تلک میری مدینے سے لکھی ہیں دوریاں
اب تو میری زندگی کی سہ پہر ہونے کو ہے
ایسا نہ ہو کہ مدینے میں کبھی نہ جاسکوں
کیوں مرے وہم وگماں میں ایسا ڈر ہونے کو ہے
معتبر پھر کیوں نہ کرتا آرزو فردوس کی
جبکہ آقا ﷺ شافع روز حشر ہونے کو ہے
معتبر کیوں نہ مزا آئے گا سفر طیبہ میں
سنتا ہوں کہ پیر ومرشد ہمسفر ہونے کو ہے