جنات کا بادشاہ

ابو سعد عبداﷲ بن احمد کا بیان ہے ‘ ایک بار میری لڑکی فاطمہ گھر کی چھت پر سے یکایک غائب ہوگئی۔ میں نے پریشان ہوکر سرکار بغداد حضور سیدنا غوث پاک رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہ کی خدمت بابرکت میں حاضر ہوکر فریاد کی۔ آپ رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہ نے ارشاد فرمایا ’’کرخ جاکر وہاں کے ویرانے میں رات کے وقت ایک ٹیلے پر اپنے اردگرد حصار (یعنی دائرہ) باندھ کر بیٹھ جائو۔ وہاں میرا تصور باندھ لینا اور بسم  اﷲ کہہ لینا۔ رات کے اندھیرے میں تمہارے اردگرد جنات کے لشکر گزریں گے‘ ان کی شکلیں عجیب و غریب ہوں گی‘ انہیں دیکھ کر ڈرنا نہیں‘ سحری کے وقت جنات کا بادشاہ تمہارے پاس حاضر ہوگا اور تم سے تمہاری حاجت دریافت کرے گا۔ اس سے کہنا ’’مجھے شیخ عبدالقادر جیلانی قدس سرہ الربانی نے بغداد سے بھیجا ہے تم میری لڑکی کو تلاش کرو‘‘ چنانچہ کرخ کے ویرانے میں جاکر میں نے حضور غوث اعظم رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہ کے بتائے ہوئے طریقے پر عمل کیا۔ رات کے سناٹے میں خوفناک جنات میرے حصار کے باہر گزرتے رہے۔ جنات کی شکلیں اس قدر ہیبت ناک تھیں کہ مجھ سے دیکھی نہ جاتی تھیں۔ سحری کے وقت جنات کا بادشاہ گھوڑے پر سوار آیا۔ اس کے اردگرد بھی جنات کا ہجوم تھا۔ حصار کے باہر ہی سے اس نے میری حاجت دریافت کی۔ میں نے بتایا کہ مجھے حضور غوث الاعظم رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہ نے تمہارے پاس بھیجا ہے۔ اتنا سننا تھا کہ ایک دم گھوڑے سے اتر آیا اور زمین پر بیٹھ گیا۔ دوسرے سارے جن بھی دائرے کے باہر بیٹھ گئیٍ میں نے اپنی لڑکی کی گمشدگی کا واقعہ سنایا۔ اس نے تمام جنات میں اعلان کیا کہ لڑکی کو کون لے گیا ہے؟ چند ہی لمحوں میں جنات نے ایک چینی جن کو پکڑ کر بطور مجرم حاضر کردیا۔ جنات کے بادشاہ نے اس سے پوچھا‘ قطب وقت حضرت غوث الاعظم رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہ کے شہر سے تم نے لڑکی کیوں اٹھائی؟ وہ کانپتے ہوئے بولا‘عالی جاہ! میں دیکھتے ہی اس پر عاشق ہوگیا تھا۔ بادشاہ نے اس چینی جن کی گردن اڑانے کا حکم صادر کیا اور میری پیاری بیٹی میرے سپرد کردی۔ میں نے جنات کے بادشاہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ ماشاء اﷲ عزوجل آپ سیدنا غوث الاعظم رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہ کے بے حد چاہنے والے ہیںٍ اس پر وہ بولا خدا کی قسم! جب حضورغوث الاعظم رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہ ہماری طرف نظر فرماتے ہیں تو تمام جنات تھر تھر کانپنے لگتے ہیںٍ جب اﷲ تبارک و تعالیٰ کسی قطب وقت کا تعین فرماتا ہے تو تمام جن و انس اس کے تابع کردیئے جاتے ہیں (بہجتہ الاسرار و معدن الانوار ص ۱۴۰ دارالکتب العلمیہ بیرون)

تھرتھراتے ہیں سبھی جنات تیرے نام سے
ہے تیرا وہ دبدبہ یا غوث اعظم دستگیر

عذاب قبر سے رہائی

ایک غمگین نوجوان نے آکر بارگاہ غوثیت مآب علیہ الرحمہ التواب میں فریاد کی‘ یاسیدی! میں نے اپنے والد مرحوم کو رات خواب میں دیکھا۔ وہ  کہہ رہے تھے ’’بیٹا! میں عذاب قبر میں مبتلا ہوں‘ تو سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی قدس سرہ الربانی کی بارگاہ میںحاضر ہوکر میرے لئے دعا کی درخواست کر‘‘ یہ سن کر سرکار بغداد حضور غوث اعظم رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہ نے استفسار فرمایا‘ کیا تمہارے ابا جان میرے مدرسے سے کبھی گزرے ہیں؟ اس نے عرض کی‘ جی ہاں‘ بس آپ رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہ خاموش ہوگئیٍ وہ نوجوان چلا گیا۔ دوسرے روز خوش خوش حاضر خدمت ہوا اور کہنے لگا ’’یامرشد! آج رات والد مرحوم سبز حلہ (یعنی سبز لباس) زیب تن کئے خواب میں تشریف لائے‘ وہ بے حد خوش تھے‘ کہہ رہے تھے ’’بیٹا! سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی قدس سرہ الربانی کی برکت سے مجھ سے عذاب دور کردیا گیا ہے اور یہ سبز حلہ بھی ملا ہے۔ میرے پیارے بیٹے! تو ان کی خدمت میں رہا کر‘‘ یہ سن کر آپ رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہ نے فرمایا

’’میرے رب عزوجل نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے کہ جو مسلمان تیرے مدرسے سے بھی گزرے گا اس کے عذاب میں تخفیف (یعنی کمی) کی جائے گی (ایضا ۱۹۴)

نزع میں‘ گور میں‘ میزاں پہ سر پل پہ کہیں
نہ چھٹے ہاتھ سے دامان معلی تیرا

المدد یا غوث اعظم

حضرت بشر قرظی رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہ کا بیان ہے کہ میں شکر سے لدے ہوئے 14 اونٹوں سمیت ایک تجارتی قافلے کے ساتھ تھا۔ ہم نے رات ایک خوفناک جنگل میں پڑائو کیا۔ شب کے ابتدائی حصے میں میرے چار لدے ہوئے اونٹ لاپتا ہوگئے جو تلاش بسیار کے باوجود نہ ملیٍ قافلہ بھی کوچ کرگیا۔ شتربان میرے ساتھ رک گیا۔ صبح کے وقت مجھے اچانک یاد آیا کہ میرے پیرومرشد سرکار بغداد حضور غوث پاک رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہ نے مجھ سے فرمایا تھا ’’جب بھی تو کسی مصیبت میں مبتلا ہوجائے تو مجھے پکار‘ انشاء اﷲ عزوجل وہ مصیبت جاتی رہے گی‘‘ چنانچہ میں نے یوں فریاد کی ’’یاشیخ عبدالقادر! میرے اونٹ گم ہوگئے ہیں‘‘ یکایک جانب مشرق ٹیلے پر مجھے سفید لباس میں ملبوس ایک بزرگ نظر آئے جو اشارے سے مجھے اپنی جانب بلا رہے تھے۔ میں اپنے شتربان کو لے کر جوں ہی وہاں پہنچا کہ یکایک وہ بزرگ نگاہوں سے اوجھل ہوگئیٍ ہم ادھر ادھر حیرت سے دیکھ ہی رہے تھے کہ اچانک وہ چاروں گمشدہ اونٹ ٹیلے کے نیچے بیٹھے ہوئے نظر آئے۔ پھر کیا تھا ہم نے فورا انہیں پکڑ لیا اور اپنے قافلے سے جاملے۔

نماز غوثیہ کا طریقہ

حضرت سیدنا شیخ ابوالحسن علی خباز رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہ کو جب گمشدہ اونٹوں والا واقعہ بتایا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ مجھے حضرت شیخ ابوالقاسم رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہ نے بتایا کہ میں نے سیدنا شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی قدس سرہ الربانی کو فرماتے سنا ہے

جس نے کسی مصیبت میں مجھ سے فریاد کی‘ وہ مصیبت جاتی رہی‘ جس نے کسی سختی میں میرا نام پکارا‘ وہ سختی دور ہوگئی‘ جو میرے وسیلے سے اﷲ عزوجل کی بارگاہ میں اپنی حاجت پیش کرے وہ حاجت پوری ہوگئی جو شخص دو رکعت نفل پڑھے اور ہر رکعت میں الحمدشریف کے بعد قل ھواﷲ شریف گیارہ گیارہ بار پڑھے‘ سلام پھیرنے کے بعد سرکار مدینہﷺ پر درودوسلام بھیجے پھر بغداد شریف کی طرف گیارہ قدم چل کر میرا نام پکارے اور اپنی حاجت بیان کرے۔ انشاء اﷲ عزوجل وہ حاجت پوری ہوگی

(بہجتہ الاسرار ومعدن الانوار ص ۱۹۴‘ ۱۹۷ دارالکتب العلمیہ بیروت)

آپ جیسا پیر ہوتے کیا غرض در در پھروں
آپ سے سب کچھ ملا یاغوث اعظم دست گیر

اﷲ کے سوا کسی اور سے مدد مانگنا

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہوسکتا ہے کسی کے ذہن میں یہ خیال آئے کہ اﷲ عزوجل کے سوا کسی سے مدد مانگنی ہی نہیں چاہئے کیونکہ اﷲ عزوجل مدد کرنے پر قادر ہے تو پھر کسی سے مدد مانگیں ہی کیوں؟ جوابا عرض ہے کہ یہ شیطان کا خطرناک ترین وار ہے اور اس طرح وہ نہ جانے کتنے لوگوں کو گمراہ کردیتا ہے۔ جب اﷲ عزوجل نے کسی غیر سے مدد مانگنے سے منع نہیں فرمایا تو پھر کسی کو یہ حق کیسے پہنچتا ہے کہ وہ یہ کہہ دے کہ اﷲ عزوجل کے سوا کسی سے مدد مت مانگو۔ دیکھئے قرآن پاک میں جگہ بہ جگہ اﷲ عزوجل نے دوسروں سے مدد مانگنے کی اجازت مرحمت فرمائی ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے

ان تنصرو اﷲ ینصرکم۔ (پ ۲۶‘ محمد ۷)

ترجمہ کنز الایمان: اگر تم دین خدا (عزوجل) کی مدد کروگے اﷲ (عزوجل) تمہاری مدد کرے گا۔

حضرت عیسٰی نے دوسروں سے مدد مانگی

حضرت سیدنا عیسٰی کلیم اﷲ علی نبینا و علیہ الصلواۃ والسلام نے اپنے حواریوں سے مدد طلب فرمائی چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے

قال عیسٰی ابن مریم للحوارین من انصاری الی اﷲ ‘ قال الحواریون نحن انصار اﷲ۔ (پ ۲۸ الصف ۱۴)

ترجمہ کنز الایمان: عیسٰی علیہ السلام بن مریم رضی اﷲ عنہا نے حواریوں سے کہا ‘ کون ہیں جو اﷲ عزوجل کی طرف ہوکر میری مدد کریں؟ حواری بولے ہم دین خدا عزوجل کے مددگار ہیں۔

حضرت موسیٰ نے بندوں کا سہارا مانگا

حضرت سیدنا موسیٰ روح اﷲ علی نبینا علیہ الصلواۃ والسلام کو جب تبلیغ کے لئے فرعون کے پاس جانے کا حکم ہوا تو انہوں نے بندے کی مدد حاصل کرنے کے لئے بارگاہ خداوندی عزوجل میں عرض کی

واجعل لی وزیرا من اہلی‘ ہارون اخی‘ اشددبہ ازری۔ (پ ۱۶ طٰہ ۲۹‘ ۳۱)

ترجمہ کنزالایمان: اور میرے لئے میرے گھر والوں میں سے ایک وزیر کردے۔ وہ کون‘ میرا بھائی ہارون (علیہ السلام) اس سے میری کمر مضبوط کر

نیک بندے بھی مددگار ہیں

ایک اور مقام پر ارشاد باری تعالیٰ ہے

فان اﷲ ھو مولٰہ وجبریل وصالح المومنین ج و ملائکتہ بعد ذالک ظہیر۔ (پ ۲۸ التحریم ۴)

ترجمہ کنزالایمان: تو بے شک اﷲ عزوجل ان کا مددگار ہے اور جبریل علیہ السلام اور نیک ایمان والے اور اس کے بعد فرشتے مدد پر ہیں۔

انصار کے معنی مددگار

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے! قرآن پاک بالکل صاف صاف لفظوں میں بہ بانگ دہل یہ اعلان کررہا ہے کہ اﷲ عزوجل تو مددگار ہے ہی مگر باذن پروردگار عزوجل ساتھ ہی ساتھ جبریل امین علیہ الصلواۃ و السلام اور اﷲ عزوجل کے مقبول بندے (انبیائے کرام علیہم الصلواۃ والسلام) اور اولیائے عظام رحمتہ اﷲ تعالیٰ اور فرشتے بھی مددگار ہیں۔ اب تو انشاء اﷲ عزوجل یہ وسوسہ جڑ سے کٹ جائے گا کہ اﷲ عزوجل کے سوا کوئی مدد کر ہی نہیں سکتا۔ مزے کی بات تو یہ ہے کہ جو مسلمان مکہ مکرمہ سے ہجرت کرکے مدینہ منورہ پہنچے وہ مہاجر کہلائے اور ان کے مددگار انصار کہلائے اور یہ ہر سمجھدار جانتا ہے کہ ’’انصار‘‘ کے لغوی معنی ’’مددگار‘‘ ہیں۔

اہل اﷲ زندہ ہیں

اب شاید شیطان دل میں یہ وسوسہ ڈالے کہ زندوں سے مدد مانگنا تو درست ہے مگر بعد وفات مدد نہیں مانگنی چاہئیٍ آیت ذیل اور اس کے بعد والے مضمون پر غورفرمالیں گے تو انشاء اﷲ عزوجل اس وسوسے کی جڑ بھی کٹ جائے گی۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے

ولاتقولوا لمن یقتول فی سبیل اﷲ اموات ‘ بل احیآء ولکن لاتشعرون ۔(پ ۲ البقرہ ۱۵۴)

ترجمہ کنز الایمان: اور جو خدا (عزوجل) کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں ہاں تمہیں خبر نہیں۔

انبیاء حیات ہیں

جب شہداء کی زندگی کا یہ حال ہے تو انبیاء علیہم الصلواۃ والسلام جو شہیدوں سے مرتبہ و شان میں بالاتفاق اعلیٰ اور برتر ہیں ان کے حیات ہونے میں کیوں کر شبہ کیا جاسکتا ہیٍ حضرت سیدنا امام بیہقی علیہ رحمتہ اﷲ القوی نے حیات انبیاء کے بارے میں ایک رسالہ اور ’’دلائل النبوۃ‘‘ میں لکھا ہے کہ انبیاء علیہم الصلواۃ والسلام شہداء کی طرح اپنے رب عزوجل کے پاس زندہ ہیں ۔(الحاوی للفتاوٰی للسیوطی ج ۲ ص ۲۶۳ ‘ دارالکتب اللعلمیہ بیروت)

اولیاء حیات ہیں

بہرحال انبیاء کرام علیہم الصلواۃ والسلام اور اولیائے عظام رحمہم اﷲ تعالیٰ حیات ہوتے ہیں اور ہم مردوں سے نہیں بلکہ زندوں سے مدد مانگتے ہیں اور اﷲ عزوجل کی عطا سے انہیں حاجت روا اور مشکل کشا مانتے ہیں۔ ہاں اﷲ عزوجل کی عطا کے بغیر کوئی نبی یا ولی ایک ذرہ بھی نہیں دے سکتا نہ ہی کسی کی مدد کرسکتا ہے۔

امام اعظم نے سرکار سے مدد مانگی

حضرت سیدنا امام اعظم ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ بارگاہ رسالتﷺ میں مدد کی درخواست کرتے ہوئے قصیدہ نعمان میں عرض کرتے ہیں

یااکرم الثقلین یا کنز الواری… جدلی بجودک وارضی برضاک
انا طامع بالجود منک لم یکن… لابی حنیفۃ فی الانام سواک

یعنی اے جن و انس سے بہتر اور نعمت الٰہی عزوجل کے خزانے! اﷲ عزوجل نے جو آپ کو عطا فرمایا ہے اس میں سے مجھے بھی عطا فرمایئے اور اﷲ عزوجل نے آپ کو جو راضی کیا ہے آپ مجھے بھی راضی فرمایئے میں آپ کی سخاوت کا امیدوار ہوں۔ آپ کے سوا ابو حنیفہ کا مخلوق میں کوئی نہیں۔

شاہ ولی اﷲ کا اعتقاد

حضرت شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی علیہ رحمتہ اﷲ القوی ہمعات کے صفحہ ۱۱ میں گیارہویں والے غوث پاک رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہ کی شان عظمت نشان بیان کرتے ہوئے تحریر کرتے ہیں

حضرت محی الدین عبدالقادر جیلانی رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہ اندولھذا گفتہ اندکہ ایشاں در قبر خود مثل احیاء تصرف می کنند

وہ شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی قدس سرہ الربانی ہیں لہذا کہتے ہیں کہ آپ رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہ اپنی قبر شریف میں زندوںکی طرح تصرف کرتے ہیں (یعنی زندوں ہی کی بااختیار ہیں)

(ہمعات ص ۶۱‘ اکادیمیہ الشاہ ولی اﷲ الدہلوی باب الاسلام حیدرآباد)

لوٹا قبلہ رخ ہوگیا

ایک بار جیلان شریف کے مشائخ کرام رحمہم اﷲ تعالیٰ کا ایک وفد حضور سیدنا غوث اعظم علیہ رحمتہ اﷲ الاکرام کی خدمت سراپا عظمت میں حاضر ہوا‘ انہوں نے آپ رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہ کے لوٹے شریف کو غیر قبلہ رخ پایا (تو اس کی طرف آپ رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہ کی توجہ دلائی اس پر) آپ رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہ نے اپنے خادم کو جلال بھری نظر سے دیکھا۔ وہ آپ رحمتہ اﷲ تعالیٰ کے جلال کی تاب نہ لاتے ہوئے ایک دم گرا اور تڑپ تڑپ کر جان دے دی۔ اب ایک نظر لوٹے پر ڈالی تو وہ خودبخود قبلہ رخ ہوگیا (ایضا ص ۱۰۱)

خدارا! مرہم خاک قدم دے
جگر زخمی ہے دل گھائل ہے یاغوث

لوٹا قبلہ رخ رکھا کیجئے

سرکار بغداد حضور غوث پاک رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہ کے دیوانو! یقینا محبت کا اعلیٰ درجہ یہی ہے کہ اپنے محبوب کی ہر ہر ادا کو خوش دلی کے ساتھ اپنا لیا جائیٍ لہذا ہوسکے تو لوٹے کی ٹونٹی ہمیشہ قبلہ رخ رکھا کیجئے۔حضور محدث اعظم پاکستان حضرت مولانا سردار احمد صاحب رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہ لوٹے کے علاوہ اپنی نعلین بھی قبلہ رخ ہی رکھا کرتے۔ الحمدﷲ سگ مدینہ عفی عنہ ان دونوں اولیائے کرام کی اتباع میں حتی الامکان اپنے لوٹے اور جوتیوں کا رخ قبلہ ہی کی طرف رکھتا ہے‘ بلکہ خواہش یہی ہوتی ہے کہ ہر چیز کا رخ جانب قبلہ رہے۔

قبلہ رو بیٹھنے والے کی حکایت

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دوسری چیزوں کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنا چہرہ بھی ممکنہ صورت میں قبلہ رخ رکھنے کی عادت بنانی چاہئے کہ اس کی برکتیں بے شمار ہیں۔ چنانچہ حضرت سیدنا امام برہان الدین ابراہیم زر نوجی رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں دو طلبہ علم دین حاصل کرنے کے لئے پردیس گئیٍ دو سال تک دونوں ہم سبق رہے‘ جب وطن لوٹے تو ان میں ایک فقیہ (یعنی زبردست عالم و مفتی) بن چکے تھے جبکہ دوسرا علم و کمال سے خالی ہی رہا تھا۔ اس شہر کے علمائے کرام رحمہم اﷲ تعالیٰ نے اس امر پر خوب غوروخوض کیا۔ دونوں کے حصول علم کے طریقہ کار انداز تکرار اور بیٹھنے کے اطوار وغیرہ کے بارے میں تحقیق کی تو ایک بات نمایاں طور پر سامنے آئی کہ جو فقیہ بن کر پلٹے تھے ان کا معمول یہ تھا کہ وہ سبق یاد کرتے وقت قبلہ رو بیٹھا کرتے تھے جبکہ دوسرا جوکہ کورے کا کورا پلٹا تھا وہ قبلہ کی طرف پیٹھ کی طرف پیٹھ کرکے بیٹھنے کا عادی تھا۔ چنانچہ تمام علماء وفقہاء رحمھم اﷲ تعالیٰ اس بات پر متفق ہوئے کہ یہ خوش نصیب استقبال قبلہ (یعنی قبلہ کی طرف رخ کرنے) کے اہتمام کی برکت سے فقیہ بنے کیونکہ یہ بیٹھتے وقت کعبتہ اﷲ شریف کی سمت منہ رکھنا سنت ہے۔

(تعلیم المتعلم طریق التعلم ص ۶۸ باب المدینہ کراچی)