عصر حاضر کے چیلنجز اور ان کا حل

کسی بھی قوم کی بقاء اور عروج اس کی تہذیب وثقافت اور تمدن میں مضمر ہوتا ہے۔ قومی عقائد و نظریات کو تہذیب‘ ان عقائد و نظریات کی عملی صورت کو ثقافت اور تہذیب و ثقافت کے مجموعہ کو تمدن کہا جاتا ہے۔

ہر وہ چیز قوم کے لئے چیلنج بن جاتی ہے جو اس کی قومی و معاشرتی تہذیب و ثقافت کو نقصان پہنچانے یا ان کو تبدیل کرنے کے درپے ہو۔ احادیث کی روشنی میں سب سے پہلے ہم اپنی تہذیب کو سمجھیں گے۔ اس کے بعد ہم مسلمانوں کو درپیش چیلنجز اور ان کے حل کا جائزہ لیا جائے گا۔ ہماری تہذیب دو قسموں پر مبنی ہے

(۱) قومی تہذیب (۲) معاشرتی تہذیب

(۱) مسلمانوں کی قومی تہذیب

حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے۔ رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا۔ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے۔

(۱) اس بات کی گواہی دینا کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بے شک محمدﷺ اﷲ کے رسول ہیں (۲) نماز قائم کرنا (۳) زکواۃ دینا (۴) حج کرنا (۵) رمضان کے روزے رکھنا

تشریح

یہ وہ حدیث ہے جو تمام عقائد و اعمال اسلامیہ کا خلاصہ اور جامع ہے‘ جن کو پانچ عقائد کی صورت میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ وہ عقائد ہیں جوکہ ایمان کی اساس ہیں۔ اگر بندہ ان کو سمجھ لے اور ان پر عمل کرے تو دنیا کی کوئی چیز اس کے لئے چیلنج نہیں بن سکتی۔ نہ کہ وہ صرف دنیا میں کامیابی و کامرانی سے ہمکنار اور سرخرو ہوگا۔ آخرت میں بھی اﷲ عزوجل اور رسول پاک علیہ الصلواۃ و السلام کے سامنے سرخرو ہوگا۔ لیکن یہ بات خوب ذہن نشین رہے کہ پہلا عقیدہ اﷲ عزوجل اور رسولﷺ پر ایمان ‘ دیگر چاروں عقائد کی روح اور اصل ہیٍ اگر اس میں کوئی کمی رہ جاتی ہے تو دیگر عقائد ہرگز مکمل نہیں ہوسکتیٍ آیئے سب سے پہلے اس عقیدے کو سمجھتے ہیں پھر دیگر چاروں عقائد کا جائزہ لیں گی

پہلا عقیدہ

یہ عقیدہ دو حصوں پر مشتمل ہے (۱) اﷲ تعالیٰ پر ایمان (۲) رسول اﷲﷺ پر ایمان
اب سوال یہ ہے کہ حضور پاک علیہ الصلواۃ و السلام نے ان دونوں (۱) ایمان باﷲ اور ایمان بالرّسول عزوجل وﷺ کو ایک ہی رکن کیوں قرار دیا؟ ان دونوں کو علیحدہ علیحدہ دو رکن کیوں نہیں قرار دیا؟
قرآن و حدیث سے استدلال سے پہلے اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ ’’حضور پاک علیہ الصلواۃ و السلام سے اپنا تعلق قائم کئے بغیر اﷲ تعالیٰ سے تعلق ہرگز نہیں ہوسکتا اور حضور پاک علیہ الصلواۃ و السلام سے تعلق‘ وابستگی درحقیقت اﷲ تعالیٰ کی ذات سے تعلق اور وابستگی ہے۔ اسی طرح حضور پاک علیہ الصلواۃ و السلام پر ایمان لائے بغیر اﷲ تعالیٰ پر ایمان لانے کا تصور نہیں پایا جاسکتا اور اﷲ تعالیٰ پر ایمان لائے بغیر حضور پاک علیہ الصلواۃ و السلام پر ایمان لانے کا تصور نہیں پایا جاسکتا۔ کامل ایمان کے لئے دونوں پر ایمان لانا اور ان کی اطاعت ضروری ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے

ترجمہ: اے محبوب آپ فرمادیجئے! اگر تم اﷲ سے محبت کرتے ہو تو میرے فرمانبردار ہوجائو۔ اﷲ تم سے محبت فرمائے گا اور تمہارے گناہوں کو بخش دے گا اور اﷲ بخشنے والا مہربان ہے (۲)

ترجمہ: اے محبوب آپ فرمادیجئے کہ اﷲ اور رسول کی اطاعت کرو پھر اگر وہ (لوگ اطاعت نہ کریں اور) روگردانی کریں (تو ایسے لوگ مومن نہیں ہوسکتے) تو بے شک اﷲ کافروں کو پسند نہیں کرتا) (۳)

حضرت انس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

تین چیزیں جس میں ہوں گی وہ ایمان کی حلاوت (مٹھاس) کو پائے گا۔
(۱) وہ اﷲ عزوجل اور رسول ﷺ سے سب سے زیادہ محبت کرتا ہو (۲) وہ کسی بھی شخص سے صرف اﷲ تعالیٰ کی رضا کی خاطر محبت کرتا ہو (۳) اس کے بعد کہ اﷲ تعالیٰ نے اس کو کفر سے بچالیا وہ کفر کی طرف لوٹنا ایسا ناپسند کرتا ہو جیسے وہ آگ میں پھینک دیئے جانے سے ناپسند کرتا ہے (۵)

مذکورہ دونوں آیات اور حدیث کے معانی میں غور کیجئے کہ اﷲ تعالیٰ کی رضا اور محبت چاہئے تو سب سے پہلے حضور پاک علیہ الصلواۃ والسلام کی فرمانبرداری اور محبت و رضا کو لازمی قرار دیا گیا۔ اسی طرح ایمان کی حلاوت چاہئے تو بھی دونوں ہی کی محبت کو ضروری قرار دیا گیا۔ الغرض ان مذکورہ آیات و حدیث کے علاوہ بہت سی آیات و احادیث مبارکہ ہیں جن میں یہ بات بہت ہی واضح ہے کہ اﷲ تعالیٰ اور رسولﷺ دونوں پر ایمان لانے سے ہی بندہ مومن و مسلمان کہلائے گا۔ کہیں بھی یہ بات موجود نہیں ہے کہ صرف اﷲ پر ایمان لاؤ تو مومن ہوجائوگے یا صرف نبی پر ایمان لائو تو مومن ہوجائوگے۔ یہی وجہ ہے کہ پیارے آقا علیہ الصلواۃ والسلام نے دونوں پر ایمان لانے کو ایک ہی رکن قرار دیا ہے۔

اﷲ پر ایمان لانے کا معیار

اﷲ تعالیٰ پر ایمان لانے کا معیار یہ ہے کہ بندہ اپنی ذات سمیت ہر چیز کا مالک اﷲ تعالیٰ کو سمجھیٍ تمام عبادات ومعاملات الغرض ہر کام میں صرف اسی کی رضا مقصود ہو۔ اگر کوئی کام سرانجام دیتا ہے یا عبادت کرتا ہے‘ اس کو رب کریم کا احساب سمجھے۔
ارشاد ربانی ہے

قل فمن یملک لکم من اﷲ شیئاً ان اراد بکم ضراً او اراد بکم نفعاً بل کان اﷲ بما تعملون خبیراً (۶)

اے محبوب آپ فرمادیجئے سو اﷲ کے سامنے (تمہارے معاملات میں) کسی کو (یا تمہیں) کیا اختیار ہے؟ اگر وہ تمہیں نقصان پہنچانا چاہے (کون ہے جو اس نقصان کو دور کرسکے؟) یا تمہارے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرمائے (تو کون ہے جو اس بھلائی کو روک سکے؟)

الا ان ﷲ مافی السموات والارض (۷)

سن لو! بے شک اﷲ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے۔

عن معاذبن جبل قال سمعت رسول اﷲﷺ یقول قال اﷲ تبارک و تعالیٰ وحبتمحبتی للمتحابین فی المتجاسین فی المتزا ورین فی المتباذین فی (۸)

حضرت معاذ بن جبل رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم علیہ الصلواۃ والسلام کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ ان لوگوں پر میری محبت واجب ہے جو میری رضا کی خاطر آپس میں محبت کرتے ہیں۔ ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھتے ہیں۔ ایک دوسرے سے ملاقات کرتے ہیں اور ایک دوسرے پر خرچ کرتے ہیں۔

اس حدیث پاک میں اشارہ ہے کہ جو بھی کام اﷲ تعالیٰ کی رضا کی خاطر کیا جائے نہ صرف اﷲ تعالیٰ اس کام پر خوش ہوتا ہے بلکہ ایسا کرنے والے سے محبت بھی فرماتا ہے۔

رسول اﷲﷺ پر ایمان لانے کا معیار

حضور پاک علیہ الصلواۃ والسلام پر ایمان لانے کامعیار یہ ہے کہ آپ علیہ الصلواۃ والسلام کی ذات کی تو بات ہی کیا ہے۔ بلکہ آپ علیہ الصلواۃ والسلام کی عزت وعظمت کو اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز جانے‘آپ علیہ الصلواۃ والسلام کی ذات سے تمام مخلوق سے زیادہ محبت کریٍ تمام عبادات و معاملات میں آپ علیہ الصلواۃ والسلام کا اسورہ حسنہ (سیرت طیبہ)کو عملی جامہ پہنائے۔

یاد رکھئے ایمان لانے کے بعد نماز‘ روزہ‘ حج‘ زکواۃ الغرض تمام عبادات و معاملات بعد میں ہیں۔ سب سے پہلے ادب مصطفےﷺ ہیٍ اگر آپ علیہ الصلواۃ والسلام کا ادب ہے تو سب مقبول ورنہ ساری عبادتیں اور ریاضتیں مردود ہوں گی۔

ارشاد خداوندی ہے۔

فالذین امنوا بہ وعزروہ ونصروہ واتبعوا النور الذی انزل معہ اولئک ہم المفلحون (۹)
سو وہ لوگ جو محمدﷺ پر ایمان لائیں اور ان کی تعظیم کریں‘ اور ان کی مدد کریں اور اس نور (یعنی قرآن پاک) کی پیروی کریں جو ان کے ساتھ اترا وہی لوگ کامیاب ہوئے۔

اس آیت مقدسہ میں کامیابی کے لئے چار چیزوں کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔

(۱) اﷲ پر ایمان لانے کے ساتھ ساتھ حضور پاک علیہ الصلواۃ والسلام پر بھی ایمان لایا جائے

(۲) ایمان لانے کے بعد سب سے پہلے آپ علیہ الصلواۃ والسلام کا خوب ادب کیا جائے

(۳) آپ علیہ الصلواۃ والسلام کی مدد کی جائے‘ جس کا طریقہ یہ ہے کہ دین کی ترویج و اشاعت میں کردار ادا کیا جائے

(۴) قرآن پاک میں مذکور احکام کی پیروی کی جائے۔

لقد کان لکم فی رسول اﷲ اسوہ حسنہ لمن کان یرجوا اﷲ والیوم الاخر وذکر اﷲ کثیرا (۱۰)

بے شک تمہارے لئے رسول اﷲﷺ کی ذات بہترین نمونہ ہے اس کے لئے جو اﷲ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اور اﷲ تعالیٰ کو بہت یاد کرتا ہو۔

عن انس قال قال رسول اﷲَﷺ لایومن احدکم حتی اکون احب الیہ من والدہ ولدہ والناس اجمعین (۱۱)

حضرت انس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم علیہ الصلواۃ والسلام نے ارشاد فرمایا: تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوسکتا‘ جب تک کہ اس کے دل میں میری محبت اپنے والد‘ اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ نہ ہو۔

یہ بات یاد رکھئے گا کہ اس حدیث میں بندے کی اپنی جان کا ذکر نہیں ہوا ہے (یعنی آپ علیہ الصلواۃ والسلام نے یہ نہیں فرمایا کہ اس کے دل میں میری محبت اس کی اپنی جان سے بھی زیادہ ہو) اس لئے کہ بعض اوقات بندے کو اپنے والد اور اولاد سے اپنی جان سے بھی زیادہ محبت ہوتی ہے۔ تو جب والد اور اولاد کا ذکر ہوگیا تو اپنی جان کے ذکر کی ضرورت نہ رہی اس لئے اس کو ذکر نہیں فرمایا (۱۲)

والد کا ذکر فرمایا‘ والدہ کا ذکر نہیں فرمایا‘ اس لئے کہ والد بحیثیت مرد والدہ سے افضل ہے۔

عن جابر رضی اﷲ عنہ قال قال رسول اﷲﷺ اما بعد فان خیر الحدیث کتاب اﷲ و خیر الھدی ہدی محمد و شر الامور محدثا قھا و کل بدعتہ ضلالتہ (۱۳)

حضرت جابر رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم علیہ الصلواۃ والسلام نے فرمایا۔ اما بعد (یعنی حمد و صلواۃ کے بعد) پس بے شک بہترین کلام کتاب اﷲ (قرآن) ہے اور بہترین سیرت محمدﷺ کی سیرت ہے  اور بدترین امور (کام) بدعات (سیئہ) ہیں اور ہر بدعت سیئہ (بری بدعت) گمراہی ہے۔

حاصل کلام

پہلے عقیدے کا خلاصہ یہ ہوا کہ یہ عقیدہ تمام عقائد و اعمال کی اصل اور روح ہے۔ کوئی شرعی فعل و قول ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا جس میں اﷲ تعالیٰ کی توحید و عظمت کی جھلک کے ساتھ ساتھ حضور نبی کریم علیہ الصلواۃ والسلام کی رسالت وعظمت کی جھلک نہ ہو۔

دوسرا عقیدہ

دوسرا عقیدہ نماز ہے‘ یہ وہ عقیدہ ہے جس کا تعلق قلبی اعتقاد کے ساتھ ساتھ فعل سے بھی ہے۔ غور کیجئے۔ یہ نماز شروع سے لے کر آخر تک اﷲ تعالیٰ کے حکم کے ساتھ ساتھ سیرت مصطفےﷺ کے ایک پہلو کا عظیم مظاہرہ بھی ہے۔ اول تا آخر تصور اور ادائے مصطفےﷺ سے بھرپورہے۔

مسلمانوں کی تہذیب و ثقافت کا مظہر و پاسبان (محافظ) ہے۔ جیسا کہ حضرت جابر رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے۔ نبی کریم علیہ الصلواۃ والسلام نے ارشاد فرمایا۔ مسلمان بندہ اور کافر کے درمیان فرق نماز کا چھوڑ دینا ہے (۱۴)
(یعنی نماز مسلمانوں کی عظمت اور علامت ہے)

تیسرا عقیدہ

تیسرا عقیدہ زکواۃ ہیٍ یہ بھی وہ عقیدہ ہے جس کا تعلق قلبی اعتقاد (یعنی دل کے اعتقاد کے ساتھ ساتھ فعل سے بھی ہے) زکواۃ بھی ایک ایسی عبادت ہے کہ جہاں اس کے حکم اور ادائیگی میں اﷲ تعالیٰ کی عظمت اور حکم کا تصور آتا ہے وہیں اس کی مقدار اور تعین میں حضور پاک علیہ الصلواۃ والسلام کی عظمت اور سنت کا تصور بھی آتا ہے کہ قرآن پاک سے صرف زکواۃ کی فرضیت ثابت ہے لیکن کتنے اور کون سے مال پر اور کتنی مدت کے بعد اور کتنا حصہ فرض ہیٍ یہ ارشاد مصطفےﷺ سے پتہ چلا ہے

چوتھا عقیدہ

چوتھا عقیدہ حج ہے۔ یہ بھی وہ عقیدہ ہے جو دل کے یقین کے ساتھ ساتھ جسم کے ذریعے عمل کرنے سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ ایک ایسی عبادت ہے جو شروع سے لے کر آخر تک اﷲ تعالیٰ کے حکم کے ساتھ ساتھ اﷲ تعالیٰ کے پیارے بندوں بالخصوص آقائے دوعالم علیہ الصلواۃ والسلام کی ادا‘ سنت اور سیرت پر مشتمل ہے۔

پانچواں عقیدہ

پانچواں عقیدہ رمضان کے روزے رکھنا ہے۔ یہ بھی وہ عقیدہ ہے جس کا تعلق قلبی اعتقاد کے ساتھ ساتھ فعل سے بھی ہے اور یہ ایک ایسی عبادت ہے جو اول تا آخر حکم خداوندی کے ساتھ ساتھ عظمت و تصور مصطفےﷺ (مثلا روزے رکھنے کا طریقہ کار کیا ہے‘ کیا کیا چیزیں ممنوع اور جائز ہیں) پر مشتمل ہیٍ الحاصل یہ پانچوں عقائد پوری مسلم قوم کی قومی تہذیب ہیںٍ اب معاشرتی تہذیب ملاحظہ فرمائیں۔

مسلمانوں کی معاشرتی تہذیب

مسلمانوں کے رہن سہن کے حوالے سے جو افکار و نظریات ہیں‘ انہیں مسلمانوں کی معاشرتی تہذیب کہا جاسکتا ہے۔ ہماری معاشرتی تہذیب کی بنیاد تین چیزیں ہیں

(۱) قرآن کریم (۲) احادیث مبارکہ (۳) بزرگان دین کی پیروی۔

امام مالک بن انس رضی اﷲعنہ سے مرسلا روایت ہے۔ رسول پاک علیہ الصلواۃ والسلام نے ارشاد فرمایا: میں نے تم میں دو چیزیں چھوڑی ہیں۔ اگر تم ان کو تھامے رکھوگے تو ہرگز گمراہ نہ ہوگے۔

(۱) اﷲ کی کتاب (قرآن پاک) (۲) اﷲ کے رسولﷺ کی سنت (یعنی احادیث کریمہ کی صورت میں سیرت طیبہ) (۱۵)

حضرت عمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے‘ نبی کریم علیہ الصلواۃ والسلام نے ارشاد فرمایا۔ میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں۔ تم ان میں سے جس کی بھی اقتداء (پیروی) کروگے‘ ہدایت پاجاؤگے (۱۶)

سورہ فاتحہ کی آیت نمبر ۵۔۶ اور سورہ نساء کی آیت نمبر ۶۹ کا خلاصہ ہے۔ اے اﷲ ہمیں انبیاء علیہم السلام‘ صدیقین‘ شہداء اور بزرگان دین کے راستے پر چلا۔

مسلمانوں کو درپیش چیلنجز اور ان کا حل

(۱) عالمی سطح پر درپیش چیلنج
مسلمانوں کو عالمی سطح پر سب سے بڑا چیلنج اپنے ’’تشخص‘‘ اور پہچان کے حوالے سے ہے۔ آج کا مسلمان غیروں کا دلدادہ ہوچکا ہے۔ اپنی پہچان بھول چکا ہے کہنے کو تو مسلمان ہے‘ لیکن رہن سہن میں‘ لباس میں‘چلنے پھرنے میں‘ رنگ ڈھنگ میں اغیار کی تہذیب و ثقافت کی جھلک نظرآتی ہے۔ لیکن اتنا کچھ کرنے کے باوجود بھی جب یہ دلدادہ‘ اغیار کا عاشق‘ یورپ کا فریفتہ‘ سرزمین یورپ پر قدم رکھتا ہے تو اس کی جامہ تلاشی کایہ عالم کہ جوتے تک اتروا دیتے ہیں۔

آہ!
خدا ہی ملا نہ وصال صنم        نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے

آج مجھے وہ حدیث یاد آرہی ہے جو میرے آقا علیہ الصلواۃ والسلام نے آج سے چودہ سو سال پہلے بیان کی تھی۔
حضرت ابو سعید خدری رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے۔ نبی کریم علیہ الصلواۃ والسلام نے ارشاد فرمایا۔ (ایک ایسا وقت آئے گا کہ) تم اپنے پہلے والوں کی ایک ایک بالشت اور ایک ایک گز کی پیروی کروگے۔ یہاں تک کہ وہ اگر گوہ کے بل میں بھی داخل ہوجائیں تو تم بھی ان کی پیروی میں اس میں داخل ہوجائوگے (صحابہ فرماتے ہیں) ہم نے عرض کیا یارسول اﷲﷺ کیا حضور کی یہودونصاری ہیں۔ آقا علیہ الصلواۃ والسلام نے فرمایا وہ نہیں تو پھر کون ہیں؟ (یعنی یہود ونصاری ہی مراد ہیں ) (۱۵)
غور کیجئے! کیا ہم پر یہ حدیث صادق نہیں آتی؟ ہم اپنے ہر معاملے میں ان کے شیدا اور ان کے پیروکار نہیں بن چکے؟

مسلمانوں کا قومی اور معاشرتی تشخص

اﷲ تعالیٰ کی سچی بندگی اور حضور پاک علیہ الصلواۃ والسلام کی سچی غلامی مسلمانوں کا قومی اور معاشرتی تشخص ہے۔ یہ وہ ’’تشخص‘‘ ہے جو قومی یکجہتی‘ اتحاد‘ اخوت اور محبت کا ضامن ہے۔ جب یہ تشخص قائم ہوجائے تو دنیا کی کوئی بھی طاقت مسلمانوں کو للکار نہیں سکتی۔ اس کی سب سے بڑی مثال خلفائے راشدین علیہم الرضوان کے پیارے ادوار ہیں۔ ان سنہری ادوار کے متعلق کبھی آپ نے پڑھا یا سنا؟کہ مسلمانوں کے کسی علاقے پر قبضہ ہوا ہو۔ اسی تشخص کے متعلق رب کریم کا ارشاد ہے
(ترجمہ) اے لوگو! اپنے رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے والے لوگوں کو پیدا فرمایا۔ شاید کہ تمہیں پرہیزگاری ملے (۱۸)
(ترجمہ) اور میں نے انسان اور جن کوصرف اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میری بندگی کریں (۱۹)
(ترجمہ) تو اے محبوب تمہارے رب کی قسم وہ مسلمان نہ ہوں گے جب تک اپنے آپس کے جھگڑے (اور دیگر معاملات) میں تمہیں حاکم نہ بنائیں پھر جو کچھ تم حکم فرمادو (اسے تسلیم کریں) اپنے دلوں میں کوئی رکاوٹ نہ پائیں اور دل سے مان لیں۔ (۲۰)
آپ نے ملاحظہ کیا کہ ایک مسلمان کی پیدائش کی غرض اور اس مسلمان کا تشخص کیا ہے تو جب مسلمان اپنا تشخص قائم کرلیتا ہے تو ان کے متعلق اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔
(ترجمہ) کئی بار ایسا ہوا کہ کم جماعت زیادہ جماعت پر غالب آئی ہیٍ اﷲ کے حکم سے اور اﷲ صابروں کے ساتھ ہے (۲۱)

(۲) معاشرتی سطح پر درپیش چیلنجز

معاشرتی سطح پر بہت سے چیلنجز درپیش ہیںٍ ان میں سب سے بڑا چیلنج بے حیائی کا المناک مظاہرہ ہے۔ آج مختصر لباس زیب تن کرنا باعث فخر سمجھا جارہا ہے۔ بھائی بہن سے نہ شرمائے‘ نہ بہن بھائی سے شرمائے‘ نہ بیٹی ماں سے شرمائے‘ نہ ماں بیٹی سے حیا محسوس کرے۔ یہ کیا ہے؟ غور کیجئے‘ پوری فیملی مل کر گانے‘ باجے‘ فلمیں‘ ڈرامے دیکھنے میں کوئی عار تک محسوس نہیں کرتی۔ پھر ہم کیوں نہ مصیبت میں گرفتار ہوں‘ کون سی پریشانی ہے جو ہم میں نہیں ہے اور کون سی مشکلات ہیں جن میں ہم گرفتار نہیں ہیں۔ حالانکہ لوگوں کے اربوں کھربوں روپے ہیں لیکن انہیں دلی سکون ہرگز میسر نہیں ہے اور جب تک یہ برائیاں نہیں چھوڑتے‘ لاکھ قرآن خوانیاں کروالیں‘ دعائیں کروالیں‘ تعویذات لے لیں‘ خدا کی قسم! مصیبت پھربھی ختم نہیں ہوگی۔
اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے:
اور تمہیں جو مصیبت پہنچی ہے وہ تمہارے اپنے اعمال کی وجہ سے ہے اور اﷲ بہت کچھ معاف فرمادیتا ہے (۲۲)
ہم تسلیم کرتے ہیں کہ اس کا سب سے بڑا ذمہ دار میڈیا ہے۔ لیکن میڈیا چلانے والے کون ہیں؟ اس موذی مرض کو گھر میں داخل کرنے والے کون ہیں؟ یہ بات ہمیں بھی معلوم ہے کہ میڈیا میں اچھائی بھی ہے لیکن بتایئے کتنے فیصد۔ اس کے علاوہ امیر غریب میں فرق ‘ (حالانکہ حضور پاک علیہ الصلواۃ والسلام کو غریبوں سے بے حد محبت ہے) علماء حق کی بے ادبی‘ بڑوں کی بے ادبی‘ والدین کی نافرمانی‘ دوسروں کو حقیر جاننا‘ ظلم و ستم‘ قوم پرستی‘ قبائل پرستی‘ یہ سب چیزیں ایک مسلمان کو زیب نہیں دیتیں اور سچے مسلمان میں یہ چیزیں کبھی نہیں ہوں گی۔ اگر کوئی مسلمان ہونے کا دعویدار ہے‘ اور اس میں یہ چیزیں ہوں تو اسے چاہئے کہ وہ اپنے آپ پر نظرثانی کرے کیونکہ اس کے دعوے میں سچائی کا عنصر بہت ہی کم ہے۔ الغرض ان تمام چیلنجز کا حل صرف اور صرف اﷲ تعالیٰ اور اس کے پیارے حبیب علیہ الصلواۃ والسلام کی اطاعت و فرمانبرداری ہے۔

دردناک لمحہ فکریہ!

ہمارے اس زوال اور معاشرے کے بگاڑ میں ہمارے اہل منصب سرکاری افراد‘ ایک عام صاحب منصب سے لے کر ملک کے اعلیٰ عہدیدار تک سب سے بڑا کردار ہے الا ماشاء اﷲ چند لوگ اچھے ہوں گے۔ وہ معاشرے کو کس طرح سے بگاڑ رہے ہیں‘ اس کی وضاحت کی ضرورت نہیں۔ ہر شخص جانتا ہے‘ پھران میں سے بعض لوگ کہتے ہیں کہ کیا کریں بھائی ہم بھی تو مجبور ہیں ورنہ ہماری روزی کا مسئلہ بن جائے گا۔ استغفراﷲ! کیسا عجیب جواب ہیٍ ان کو فیصلہ کرلینا چاہئے وہ کس کے بندے ہیں؟ ان کو رزق کون دیتا ہے؟ یاد رکھیں! ایک دن ایسا بھی آئے گا کہ جب کوئی منصب کام نہ آئے گا۔ اس دن ہر چیز کا حساب دینا ہوگا۔ دوسرے نمبر پر پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر تجزیہ کرنے والے ہمارے بعض دانشوران ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اکثروبیشتر اپنی گفتگو میں بطور دلیل اہل یورپ اور اہل ہند کے اسکالرز کو پیش کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ حضرات (دانشوران) ہمارے ہی مسلمان بھائی ہیں۔ نتیجتاً ہماری نوجوان نسل ان غیر اسلامی لوگوں کو اپنا آئیڈیل بنالیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر وہ لوگ اتنے ہی دانشور تھے تو اپنی قوموں کوسدھار کیوں نہ سکے؟ ان تجزیہ نگاروں سے عرض ہے کہ وہ بھی دینی علوم کا مطالعہ کریں۔اگر مطالعہ ہے تو عمل کریںٍ جتنی حکمت و دانائی کی باتیں اور رہنما شخصیات اسلام نے دیں‘ اتنی تو دور ان کا ایک فیصد بھی غیروں میں نہیں ہے۔

اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں اپنا کھویا ہوا مقام مل جائے‘ تو پھر ہر ایک مسلمان کو انفرادی طور پر کوشش کرنی چاہئے‘ کہ وہ اپنی تہذیب و ثقافت پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہے۔

اﷲ تعالیٰ اپنے حبیب کریم علیہ الصلواۃ والسلام کے صدقہ طفیل عمل کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

اہم وضاحت

قرآنی آیات کے تراجم کنزالایمان شریف سے ماخوذ ہیں۔ حسب ضرورت تراجم کو آسان کیا گیا ہے۔ حواشی
(۱) امام محمد بن اسماعیل بخاری (۲۵۶ھ٭ صحیح بخاری ج ۱ ص ۶ کتاب الایمان
(۲) القرآن۔ آل عمران ۳۱
(۳) القرآن۔ آل عمران ۳۲
(۴) امام مسلم بن حجاج (۲۶۱ھ) صحیح مسلم ج ۱ ص ۴۹ کتاب الایمان
(۵) صحیح بخاری ج ۱ ص ۸ کتاب الایمان
(۶) القرآن ‘ الفتح ۱۱
(۷) القرآن‘ یونس ۵۵
(۸) امام مالک بن انس (۱۷۹ھ) موطا امام مالک ص ۷۲۳ کتاب الجامع
(۹) القرآن‘ الاعراف ۱۵۷
(۱۰) القرآن‘ الاحزاب ۲۱
(۱۱) صحیح بخاری ج ۱ ص ۷ کتاب الایمان
(۱۲) عینی شرح صحیح بخاری
(۱۳) صحیح مسلم بحوالہ مشکواۃ المصابیح ص ۲۷
(۱۴) صحیح مسلم بحوالہ مشکواۃ المصابیح ص ۵۸ کتاب الصلواۃ
(۱۵) موطا امام مالک بحوالہ مشکواۃ المصابیح ص ۳۱
(۱۶) زین بحوالہ مشکواۃ المصابیح ص ۵۵۴
(۱۷) صحیح بخاری ج ۲ ص ۱۰۸۸ کتاب الاعتصام
(۱۸) القرآن ‘ البقرہ ۲۱
(۱۹) القرآن‘ الذاریات ۶۵
(۲۰) القرآن‘ النساء ۶۵
(۲۱) القرآن‘ البقرہ ۲۴۹
(۲۲) القرآن ‘ الشوریٰ ۳۰