دیوبندیوں کے مرکزی اجتماع میں ہندو پنڈتوں کی شرکت اور منتر پڑھے گئے

in Tahaffuz, December 2009, آ ئينہ کيو ں نہ دوں, مولانا محمد طفیل رضوی

یوپی بھارت کے شہر دیوبند میں دیوبندی فرقے کے مرکزی اجتماع میں بھارت کے نامور پنڈتوں نے شرکت کی، منترپڑھے گئے،
یوگا سکھایااور ہندومُسلم اتحاد اور بھائی چارگی کے نعرے لگائے گئے۔

ہمارے سوالات…….
ہمارا اکابردیوبند سے سوال ہے کہ ایک خالصتاً مذہبی اجتماع میں ہندوپنڈتوں کو کیوں بُلایاگیا؟
ہمارا دوسرا سوال یہ ہے کہ جب بھی کوئی مذہبی اجتماع ہوتاہے تو وہاں بڑے بڑے علماء مہمان خصوصی ہوتے ہیں مگر علمائے دیوبند ہمیشہ اپنے اجتماع میںہندورہنمائوں کو کیوں خصوصی طورپر بلاتے ہیں؟
ہماراتیسرا سوال یہ ہے کہ علمائے دیو بند واضح کریں کہ اُن ہندئوں کے ساتھ اندورنی کیا رشتہ ہے کہ وہ دارالعلوم دیوبند کے سوسالہ جشن جوکہ 1980؁ء میں منایاگیا اُس میں مہمان خصوصی اندراگاندھی کو بُلایاجبکہ ڈیڑھ سوسالہ جشن دیوبند میں اٹل بہاری واجپائی اور سونیا گاندھی کوخصوصی طورپر بلایااور اب ہندو پنڈتوں کو بلایااور تکریم سے نوازا؟
ہماراچوتھا سوال یہ ہے کہ پنڈت نے جب تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ہماراخون اور تمہارا خون ایک ہے۔ لہٰذاہم ایک ہیں اس پر شرکائِ دیوبند نے تالیاں بجا کر ہندئوں کو اپنا بھائی تسلیم کرلیا۔جبکہ  قرآن فرماتاہے کہ مشرک نجس ہے تو پھر بحکم قرآن علمائے دیوبندو عوام دیوبند پر کیافتویٰ لگے گا۔
مسلمانوں ذراغور کرو!
جہاں قرآن مجید تلاوت ہونی چاہیے وہاں گیتاکا درس ہوا۔
جہاں کلمہ طیبہ اور دعائیں سکھانی چاہیے وہاں منتر پڑھے گئے۔
جہاں نماز کاطریقہ بتانا چاہئے وہاں یوگا کا طریقہ سکھایاگیا۔
کیا یہ لوگ اسلام اور مصطفیٰ جان رحمتﷺ کے وفادار ہوسکتے ہیں؟