حضرت بابا فرید گنج شکر علیہ الرحمہ

in Tahaffuz, December 2009, د ر خشا ں ستا ر ے

حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے نقد رقم اور تحائف قبول کرلئے اور فورا ہی اپنے ایک خادم کو حکم دیا کہ یہ تمام چیزیں اسی وقت ضرورت مندوں میں تقسیم کردی جائیں۔ اس کے بعد آپ الغ خان کے لائے ہوئے پروانہ جاگیر کو بہت غور سے دیکھنے لگے۔
الغ خان درمیان ہی میں بول اٹھا ’’حضور! جاگیر کا یہ حکم نامہ صرف آپ کے لئے ہے‘‘
جیسے ہی الغ خان کی زبان سے یہ الفاظ ادا ہوئے‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے وہ تمام کاغذات واپس کرتے ہوئے فرمایا ’’مجھے ان کی حاجت نہیں‘ تمہاری سلطنت میں بے شمار ضرورت مند ہیں‘ یہ کاغذ کے ٹکڑے ان لوگوں میں تقسیم کردو‘‘
حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے جاگیر کا پروانہ واپس کیا تو الغ خان کے چہرے کا رنگ اتر گیا اجودھن آنے سے پہلے الغ خان نے اپنے ذہن میں یہ منصوبہ بنایا تھا کہ جب حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ جاگیر کے کاغذات قبول کرلیں گے تو پھر وہ اپنے اقتدار کے لئے دعا کی درخواست کرے گا‘ اس کے سینے میں برسوں سے یہ آرزو دفن تھی کہ وہ کسی طرح حکومت ہندکا مطلق العنان فرمانروا بن جائے۔ سلطان ناصر الدین محمود کے دور میں یہ خواہش اس قدر شدت سے بیدار ہوئی تھی کہ الغ خان حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے در تک آپہنچا تھا۔ خواہش کی تکمیل نذر قبول کرنے کے بعد آسان ہوجائے گی… مگر جب ایک درویش خدا مست نے شاہی عطئے کو ٹھکرا دیا تو الغ خان کا اپنا منصوبہ ناکام ہوتا ہوا نظر آیا پھر بھی وہ دل ہی دل میں یہ دعا مانگتا رہا کہ کاش بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ اس کے اقتدار کے لئے دعا فرمادیں۔
ابھی الغ خان کی آرزوئوں کا سفینہ ڈوب کر ابھر رہا تھا کہ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے اسے مخاطب کرتے ہوئے فارسی زبان کی ایک رباعی پڑھی جس کا مفہوم کچھ اس طرح تھا۔
’’شہنشاہ ایران فریدوں‘‘ کوئی آسمانی فرشتہ نہیں تھا اور نہ اسے آرام و آسائش سے کوئی نسبت تھی… مگر جب اس نے سخاوت سے کام لیا تو اس درجے تک پہنچ گیا تو بھی دادودہش (سخاوت و بخشش) سے کام لے‘ تو بھی ایک دن فریدوں ہوجائے گا‘‘
الغ خان کچھ دیر تک سناٹے میں بیٹھا رہا‘ اس نے بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی روحانی قوتوں کے بے شمار تذکرے سنے تھے لیکن آج اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا تھا کہ اجودھن کا یہ درویش کتنا بڑا روشن ضمیر ہے جو تمنائیں الغ خان کے دل کی گہرائیوں میں کروٹیں لے رہی تھیں‘ وہ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے سامنے اس طرح بے نقاب تھیں جیسے آسمان پر چمکتا ہوا سورج۔ الغ خان حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے اس روحانی جلال کو برداشت نہ کرسکا اور اپنے ہزاروں سپاہیوں کی موجودگی میں اس نے حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے قدموں پر سر رکھ دیا۔ پھر بڑے عاجزانہ لہجے میں کہنے لگا۔
’’شیخ! میں کیا کروں؟ اپنے دل سے مجبور ہوں۔ ہر شخص سینے میں آرزوئے اقتدار رکھتا ہے اور میں بھی اپنے نفس کا اسیر ہوں کاش! ایسا ہوکہ یہ غلام زادہ ایک دن تخت ہندوستان پر جلوہ افروز ہو… اور یہ کار عظیم آپ کی دعائوں کے بغیر ممکن نہیں‘ بس یہی التجا ہے کہ میری جانب ایک بار نگاہ خاص سے دیکھ لیجئے کہ آپ کی ایک نظر میرا مقدر سنوار دے گی‘‘
حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا۔ الغ خان… اٹھو! دنیا کا کوئی درویش کسی انسان کے مقدر پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ اگر کوئی فقیر کسی وجہ سے یہ دعویٰ کر بیٹھا ہے تو وہ ہذیان کا شکار ہے۔ میں بھی تمہارے لئے دعا تو کرسکتا ہوں مگر اقتدار کی خوشخبری نہیں سنا سکتا۔ پھر بھی سخاوت اور رحم سے کام لو۔ عجب نہیں کہ یہ فیاضی تمہاری کام آجائیٖ‘‘
الغ خان حضرت شیخ کا اشارہ سمجھ گیا تھا۔ اس لئے خاموشی کے ساتھ بارگاہ فریدی سے اٹھا اور اجودھن کے درویش کے ہاتھوں کا طویل بوسہ دے کر واپس چلا گیا۔
حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی ملاقات سے فیض یاب ہونے کے بعد الغ خان میں ایک خاص تبدیلی آگئی تھی۔ دوسرے وزیر و امیر اس کی اس بدلی ہوئی عادت کو بہت حیرت سے دیکھتے تھے مگر الغ خان اپنے امرائے سلطنت کے اس ردعمل سے بے نیاز محتاجوں اور ضرورت مندوں میں دولت تقسیم کرتا رہتا تھا۔ جب بھی کوئی حاجت مند اس کے سامنے آکر دست سوال حیرت انگیز طور پر اجودھن کا واقعہ یاد آجاتا اور ایسا محسوس ہوتا جیسے حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ سرگوشی میں کہہ رہے ہوں۔
’’شہنشاہ ایران فریدوں بادشاہ بن کر آسمان سے نہیں اترا تھا‘‘
حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے الفاظ کی بازگشت الغ خان کو پرجوش بنادیتی اور پھر وہ جی کھول کر سرکاری خزانہ لٹاتا رہتا۔
غرض اس طرح حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ سے ملاقات کئے ہوئے تقریبا پچیس سال گزر گئے مگر ابھی الغ خان کی خواہش اقتدار تکمیل تک نہیں پہنچی تھی۔ کبھی کبھی وہ شدید مایوس ہوجاتا اور مطلق العنان حکمرانی کے خواب بکھرنے لگتے مگر یہ عجیب بات تھی کہ جب بھی الغ خان ناامیدی کا شکار ہوتا۔ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے الفاظ اس کی سماعت میں گونجنے لگتے۔
’’سخاوت و کرم سے کام لے‘ تو بھی فریدوں ہوجائے گا‘‘
ان الفاظ کے یاد آتے ہی الغ خان ایک بار پھر پرامید نظر آنے لگتا اور ضرورت مندوں کی جماعت سے نہایت فراخدلانہ سلوک کرتا۔
پھر وہ وقت معلوم آپہنچا۔ 664ھ میں سلطان ناصر الدین محمود نے انتقال کیا اور متفقہ طور پر الغ خان کو ہندوستان کا فرمانروا منتخب کرلیا گیا۔ خواہش اقتدار ایک طویل انتظار کے بعد تکمیل کے مراحل تک پہنچی۔
الغ خان برسر عام کہا کرتا تھا کہ میرے اس منصب عظیم پر فائز ہونے میں حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی دعائوں کا بہت زیادہ دخل ہے۔ آپ مجھے فریدوں ہونے کی دعا دیتے تھے اور میں فریدوں شہنشاہ ہوگیا۔ رسم تاج پوشی کے بعد الغ خان نے سلطان غیاث الدین بلبن کا لقب اختیار کیا اور نہایت جاہ و جلال کے ساتھ طویل و عریض ہندوستان پر حکومت کرنے لگا۔
سلطان غیاث الدین بلبن کی داستان اقتدار بیان کرنے کے بعد اب ہم اصل موضوع کی طرف لوٹتے ہیں۔ بے شک! خاتون بیگم نام کی ایک دوشیزہ سے حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے 634ھ میں شادی کی تھی مگر وہ فرمانروائے ہندوستان بلبن کی صاحبزادی نہیں تھی۔ خاتون بیگم خاندان سادات سے تعلق رکھنے والی ایک پاکباز عورت تھی۔ اﷲ نے انہیں یہ شرف بخشا تھا کہ ان کے بطن سے پیدا ہونے والی اولادیں نہ صرف زندہ ہیں بلکہ ان ہی کے ذریعے حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی نسل کو فروغ حاصل ہوا۔
اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت قطب رحمتہ اﷲ علیہ کے اصرار مسلسل کے بعد حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے عملی طور پر کیا قدم اٹھایا تھا؟ عام تاریخ نویس تو یہی لکھتے ہیں کہ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے اپنے پیرو مرشد کے وصال کے بعد 634ھ میں خاتون بیگم سے شادی کی تھی… مگر اہل دل اس تاریخی روایت کو تسلیم نہیں کرتے۔ اگر بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ  شیخ کی وفات کے بعد شادی کرتے تو معرفت کے قانون میں آپ کا یہ عمل حکم عدولی کے مترادف قرار پاتا … اور حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ وہ بزرگ تھے جو حکم شیخ پر جان تو دے سکتے تھے مگر سرتابی نہیں کرسکتے تھے۔
ان حقائق کی روشنی میں حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے حکم شیخ کے مطابق 621ھ یا 622ھ میں نجیب النساء سے شادی کی۔ ان خاتون کے بارے میں زیادہ تفصیلات تو موجود نہیںپھر بھی اتنا ضرور ہے کہ نجیب النساء ایک شریف خاندان سے تعلق رکھتی تھیں… اور یہ خاندان غالبا بانسی میں آباد تھا۔ اپنی ان ہی زوجہ محترمہ کی وجہ سے حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے شہر بانسی میں طویل قیام کیا۔
بیشتر تذکرہ نگاروں کا خیال ہے کہ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ حضرت شیخ جمال الدین بانسوی رحمتہ اﷲ علیہ کی وجہ سے اس شہر میں سکونت پذیر ہوئے۔ شیخ جمال الدین بانسوی رحمتہ اﷲ علیہ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے انتہائی لاڈلے اور چہیتے مرید تھے۔ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کو آپ سے اس قدر محبت تھی کہ بعض مواقع پر دوسرے مرید حضرت جمال الدین بانسوی سے حسد کرنے لگتے تھے۔
حضرت شیخ جمال الدین بانسوی رحمتہ اﷲ علیہ کا مختصر تعارف یہ ہے کہ آپ کا سلسلہ نسب چند واسطوں سے امام اعظم حضرت ابوحنیفہ رحمتہ اﷲ علیہ تک پہنچ جاتا ہے۔ آپ کا خاندانی نام جلال الدین تھا۔
سلسلہ چشتیہ میں داخل ہونے سے پہلے حضرت شیخ جمال الدین بانسوی رحمتہ اﷲ علیہ ایک اعلیٰ درجے کے خطیب تھیٖ۔ آپ جس محفل میں بھی تقریر کرتے‘ سننے والے مبہوت ہوکر رہ جاتیٖ حضرت شیخ جمال الدین بانسوی رحمتہ اﷲ علیہ کو الفاظ پر وہ قدرت حاصل تھی کہ آپ جب چاہتے اہل مجلس کو رلا دیتے اور جب چاہتے حاضرین کے ہونٹوںپر مسکراہٹوں کے چراغ جل اٹھتے۔
حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے آپ کی اس صفت خاص کے بارے میں سنا تو فرمایا ’’جمال زبان کا امیر ہے مگر اس کا دل دولت عرفان سے خالی ہے‘‘
جب حضرت شیخ جمال الدین بانسوی رحمتہ اﷲ علیہ کو یہ معلوم ہوا تو آپ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے ’’مجھے اپنی غلامی کا شرف عطا کیجئے کہ میں اب تک اس دولت سے محروم ہوں‘‘
شیخ جمال الدین بانسوی رحمتہ اﷲ علیہ کی درخواست سن کر حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ فرمانے لگیٖ ’’تم تو خود ایک عالم و فاضل شخص ہو۔ اپنی تقریروں سے محفلوں میں آگ لگا دیتے ہو۔ پھر میں تمہاری رہنمائی کس طرح کرسکوں گا؟‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ شیخ جمال الدین بانسوی رحمتہ اﷲ علیہ کی آزمائش کے لئے گریز اختیار کررہے تھے۔
’’ممکن ہے کہ ایسا ہی ہو مگر آج میں اپنے دل میں آگ لگانا چاہتا ہوں۔ میرا سینہ اب تک ایک سرد خانے کی مانند ہے۔ شیخ! اسے عشق کی حرارت عطا کیجئے ورنہ پتھر بن کر رہ جائوں گا‘‘ شیخ جمال الدین بانسوی رحمتہ اﷲ علیہ کی آواز سے رقت جھلک رہی تھی۔
آزمائش کا مختصر مرحلہ گزر چکا تھا۔ جیسے ہی شیخ جمال الدین بانسوی رحمتہ اﷲ علیہ کی زبان سے یہ الفاظ ادا ہوئے‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے آگے بڑھ کر فاضل نوجوان کو سینے سے لگالیا اور پھر والہانہ انداز میں فرمایا ’’میرا جمال‘‘ عجیب الفاظ تھے اور عجیب لمحہ تھا۔
اسی وقت اہل نظر کو اندازہ ہوگیا تھا کہ اس نووارد کوچہ معرفت کی نگاہ شیخ میں کیا مقام حاصل ہے؟ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے شیخ جمال الدین بانسوی رحمتہ اﷲ علیہ کو سلوک کی منزلیں اس طرح طے کرائیں کہ اس کا تصور ہی کرکے دوسرے عارف حیران رہ جاتے تھے پھر جلد ہی وہ مقام بھی آگیا جب حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے شیخ جمال الدین بانسوی رحمتہ اﷲ علیہ کو خرقہ خلافت عطا کردیا۔ ظاہری اعتبار سے بھی حضرت شیخ جمال رحمتہ اﷲ علیہ ایک بہت بڑے عالم تھیٖ آپ نے کئی کتابیں تصنیف کیں۔ ’’ہلمات‘‘ آپ کی مشہور کتاب ہے۔ اس کے علاوہ حضرت شیخ جمال الدین بانسوی رحمتہ اﷲ علیہ بلند مرتبہ شاعر بھی تھیٖ آپ کا صوفیانہ کلام اس قدر دلنشیں ہوتا تھا کہ جسے سن کر صوفیائے کرام بھی وجد میں آجاتے تھے۔
باقی آئندہ شمارے میں ملاحظہ فرمائیں