شیخ عرب والعجم حضرت علامہ مولانا الحاج الشیخ ابوالفضل ضیاء الدین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ

in Tahaffuz, December 2009, شخصیات, شیر زمان ملک

اعلیٰ حضرت امام اہل سنت‘ مجدد دین و ملت مولانا شاہ احمد رضا خاں فاضل بریلوی علیہ رحمتہ کا سورج جب نصف النہار پر تھا‘ پورے برصغیر کے عاشقان مصطفیﷺ مرکز اہل سنت بریلی شریف میں آکر اپنی اپنی استطاعت کے مطابق پیاس بجھا رہے تھے اور فاضل بریلوی بھی بڑی فراخ دلی سے عشق رسولﷺ اور محبت نبیﷺ کے جام بھر بھر کر لٹا رہے تھے۔ ہر کسی کو اپنی اپنی طلب اور حیثیت کے مطابق نوازا جارہا تھا۔ جس کسی کی طبیعت میں جس طرف کا رجحان اور رغبت تھی‘ اسے اس سے زیادہ مالا مال فرمایا جارہا تھا۔ مثلاً حضرت مولانا امجد علی خان اعظمی رحمتہ اﷲ علیہ کا مزاج مسائل دینیہ کی طرف زیادہ مائل تھا تو اعلیٰ حضرت کے سامنے زانوے تلمذ طے کرنے کے بعدصدر شریعہ ٹھہرے اور ایسے جامع شریعت کے جن کی بہار شریعت بلا مبالغہ فقہ حنفیہ میں فتاویٰ رضویہ کے بعد سب سے زیادہ مقبول ہوئی اور صرف مقبول ہی نہیں بلکہ دیگر معجم کتب سے بھی بے نیاز کردیتی ہے۔ کیونکہ فقہائے احناف کے تمام حوالہ جات سے مزین ہے۔
حضرت مولانا عبدالعلیم صدیقی میرٹھی کی طبیعت میں تبلیغ اسلام کا رجحان تھا۔ اعلیٰ حضرت کی ارادت و خلافت کے بعد ایسے مبلغ اعظم ٹھہرے کہ قائداعظم محمد علی جناح نے بھی آپ کو سفیر اسلام کا لقب دیا اور انہوں نے تمام دنیا یورپ‘ امریکہ‘ افریقہ اور مشرق بعید وغیرہ میں اسلام کے جھنڈے گاڑھے اور عظمت مصطفیﷺ کے ڈنکے بجائے اور حضور خاتم النبیینﷺ کی ختم نبوت کے منکرین کے پرچم سرنگوں کئے۔
مولانا سید نعیم الدین مراد آبادی کا رجحان علوم قرآنیہ کی طرف تھا۔ اعلیٰ حضرت سے وابستگی کے بعد ایسے ممتاز قرآن ہوئے کہ آپ کی تفیسر خزائن العرفان اعلیٰ حضرت کے شہرہ آفاق ترجمتہ القرآن کنزالایمان شریف کا لازمی جزو بن گئی اور بقول تاج کمپنی اور دیگر ناشرین قرآن کے اداروں کے‘ پاک و ہند میں سب سے زیادہ طبع ہونے والی اور پڑھی جانے والی تفیسر ٹھہری۔ مولانا حشمت علی خان لکھنوی کی طبیعت ہندوستان کے ہندو آریہ‘ دہریہ وغیرہ بدمذہبوں کے رد کی طرف مائل تھی۔ فاضل بریلوی سے وابستہ ہونے کے بعد فن مناظرہ میں ایسے یکتا ہوئے کہ شیر بشیہ اہل سنت ٹھہرے اور آپ کا نام ہی بے دینوں کی شکست کے لئے کافی ہوتا تھا۔ اعلیٰ حضرت کے خلیفہ اکبر و سجادہ نشین حجتہ الاسلام مولانا شاہ حامد رضا خان علیہ الرحمہ تو آپ کے حسن و جمال کے ایسے پرتو تھے کہ جہاں سے فقط کا گزر ہوتا تھا تو غیر مسلم صرف آپ کو دیکھ کر اتنے متاثر ہوتے کہ اسلام لے آتے۔ الغرض امام اہل سنت کی مرجع خلائق اور ہمہ جہت شخصیت نے جہاں کثیر تصانیف کا ذخیرہ یادگار چھوڑا ہے‘ وہاںآپ کے تلامذہ و خلفاء کی بھی ایک کثیر تعداد ہے۔ جنہوں نے پورے برصغیر پاک و ہند اور پنجاب و سندھ میں آپ کی تحریک فروغ عشق مصطفیﷺ کے مشن کوپروان چڑھایا۔ بقول محقق عصر علامہ ڈاکٹر محمد مسعود احمد ایم اے پی ایچ ڈی گولڈ میڈلسٹ‘ امام احمد رضا رحمتہ اﷲ علیہ کے خلفاء کی تعداد پچاس سے تجاوز ہے جن میں نمایاں مفتی اعظم ہند مولانا مصطفی رضا خان نوری رحمتہ اﷲ علیہ‘ ملک العلماء مولانا ظفر الدین بہاری رحمتہ اﷲ علیہ‘ پروفیسر سید محمد سلیمان اشرف علی گڑھ یونیورسٹی‘ علامہ سید محمد محدث کچھوچھوی مفتی اعظم پاکستان علامہ سید ابوالبرکات رحمتہ اﷲ علیہ اورآپ کے والد ماجد علامہ سید دیدار علی شاہ صاحب الوری رحمتہ اﷲ علیہ(جنہیں غازی علم الدین شہید کی نماز جنازہ پڑھانے کی سعادت حاصل ہوئی) مولانا عبدالسلام جبل پوری اور مفتی برہان الحق جبل پوری وغیرہ رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہم اجمعین‘ خلفائے اعلیٰ حضرت میں ایک بات قابل مشترک تھی اور وہ تھی تحریک پاکستان کی حمایت اور کانگریس کی مخالفت اور اس میں سب سے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ مسلم لیگ اور قائد اعظم رحمتہ اﷲ علیہ کا ساتھ دیا۔
مجھے اس وقت ذکر کرنا ہے‘ فاضل بریلوی کے محبوب خلیفہ و مرید فنا فی الرسولﷺ‘ فدائے مدینہ‘ عاشق طیبہ اور مدفون مدینہ المنورہ‘ قطب مدینہ حضرت مولانا الشاہ ضیاء الدین احمد القادری مدنی نور اﷲ مرقدہ کا جوکہ اپنے پیر و مرشد کے جذبہ عشق و محبت رسولﷺ سے اس قدر متاثر ہوئے کہ بعد از زیارت مدینہ شریف کے‘ یہاں سے واپس جانا گوارا نہیں کیا۔ سرکار دوعالم سید العالمین حضور تاجدار مدینہﷺ کی بارگاہ بے کس پناہ عاجزانہ التماس کی۔ یار سول اﷲﷺ! اب اپنے در اقدس سے جدا نہ کیجئے اور مزید عرض کی۔
رو رو کے یہاں پہنچا مر مر کے اسے پایا
چھوٹے نہ الٰہی اب در سنگ جاناناں
تو آپ کی گزارشات کو شرف قبولیت  سے نوازا گیا اور آپ کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دنیا و آخرت میں مدینہ النبیﷺ کی سکونت سے سرفراز فرما دیا گیا۔ اﷲ اﷲ کیسی خوش قسمتی اور اعلیٰ بخشی ہے جس پر جتنا بھی ناز کیا جائے‘ کم ہے۔
تجھ سے تجھی کو مانگ کر پالیا سب کچھ ہم نے
اٹھتے نہیں ہیں ہاتھ میرے اس دعا کے بعد
1915ء میں جب آپ مدینہ منورہ حاضر ہوئے تو اس وقت برصغیر پر انگریز قابض تھے اور حجاز مقدس میں حرمین شریفین کی خدمت کی سعادت ترک حاصل کررہے تھے۔ ظاہری طور پر اب کی طرح تیل اور دولت کی فراوانی نہیں تھی۔ لوگ تنگدستی کی زندگی گزار رہے تھے لیکن محبت و خلوص کا یہ عالم تھا کہ اگر بازار میں ایک دکاندار کے پاس دن میں دو چار گاہک آجاتے اور اس کے پڑوسی دکان والے کے پاس کوئی گاہک نہ آتا تو بعد میں آنے والے گاہک کو دکاندار یہ کہہ کر ساتھ کی دکان والے کے پاس بھیج دیتا کہ بھئی الحمدﷲ صبح سے میری کافی آمدنی ہوچکی ہے جبکہ میرا وہ بھائی ابھی تک فارغ بیٹھا ہے۔ لہذا آپ ان کے ہاں چلے جایئے۔ اﷲ اﷲ کیسے مخلص لوگ تھے اور کیسا بابرکت وقت تھا۔
1294ھ بمطابق 1877ء میں سیالکوٹ کے علاقہ کلاس والا میں آپ کی ولادت ہوئی۔ مولانا عبدالحکیم سیالکوٹی رحمتہ اﷲ علیہ آپ کے جد امجد تھے‘ جنہوں نے سب سے پہلے حضرت شیخ احمد سرہندی نقشبندی رحمتہ اﷲ علیہ کو مجدد الف ثانی کا لقب دیا جوکہ بعد میں آپ کے اسم گرامی کا لازمی جزو بن گیا۔ کچھ ابتدائی تعلیم آپ نے اپنے گائوں میں حاصل کی پھر مولانا غلام قادر بھیروی کے مکتب میں لاہور داخل ہوئے۔ تکمیل درس نظامی 1315ھ بمطابق 1898ء میں کی۔ جبکہ دورہ حدیث پیلی بھیت (یو پی) میں اس وقت کے معروف محدث حضرت علامہ وصی احمد سورتی رحمتہ اﷲ علیہ کے ہاں مکمل کیا۔ اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رحمتہ اﷲ علیہ سے آپ کے روابط اسی دوران ہوئے‘ کیونکہ محدث سورتی امام احمد رضا رحمتہ اﷲ علیہ کے عقیدت مند تھے اور ہر جمعرات کو بریلی شریف جایا کرتے تھے۔ اور جمعہ کی نماز کے بعد واپسی ہوتی جبکہ مولانا مدنی بھی اپنے محدث استاد کے ساتھ جایا کرتیٖ اس وقت سے فاضل بریلوی رحمتہ اﷲ علیہ کے جذبہ عشق رسالت مآبﷺ سے ایسے متاثر ہوئے اور اعلیٰ حضرت کی عقیدت و محبت کا آپ پر ایسا رنگ چڑھا کہ پھر آپ نے انہی کا طریقہ اختیار کیا۔ اعلیٰ حضرت کو آپ نے مسلسل کئی سال تک قریب سے دیکھا اور آپ کو بے لوث و مخلص پایا تو آپ نے اعلیٰ حضرت رحمتہ اﷲ علیہ سے ارادت کی درخواست کی۔ فاضل بریلوی رحمتہ اﷲ علیہ نے آپ کے اخلاص کو دیکھتے ہوئے آپ کو ارادت و خلافت و اجازت سے نوازا۔ بعد فراغت و اجازت بریلی شریف سے براستہ کراچی ہوتے ہوئے بغداد شریف کے لئے 1318ھ بمطابق1900ء روانہ ہوئیٖ 1915ء تک کا عرصہ آپ بغداد شریف میں رہے اور حضور سیدنا غوث اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے دربار کی دربانی کی۔
اس دوران آپ پر جذب کی سی کیفیت طاری ہوگئی۔ اس وقت وہاں ایک طویل العمر بزرگ سید حسینی کردی رحمتہ اﷲ علیہ نے آپ پر توجہ فرمائی اور آپ پر عالم ہوش میں واپس آئے تو آپ کو مدینہ شریف کی زیارت کا اشتیاق پیدا ہوا۔ جس کا آپ نے اپنے محسن سید حسینی کردی رحمتہ اﷲ علیہ سے اظہار کیا تو انہوں نے کچھ نصیحتوں کے ساتھ آپ کو مدینہ عالیہ جانے کی اجازت عطا فرمائی کہ ضیاء الدین احمد ہر حال میں اس شہر مقدس کے ادب و احترام کو ملحوظ رکھنا‘ وہاں ذرا سی لغزش سے ساراسفر برباد ہوجانے کا اندیشہ ہے۔ مدینہ پاک آمد کے بعد آپ اس شہر معطر و منور کے جلوئوں میں ایسے گم ہوئے کہ پھر یہیں کے ہوکر رہ گئے اور واپسی کا نام تک نہ لیا۔ سرکار غوث اعظم رضی اﷲ عنہ کی نگاہ کرم اپنے پیر و مرشد اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی کے روحانی فیض اور سید حسینی کردی رحمتہ اﷲ علیہ کی دعائوں کا ثمر تھا کہ آپ نے ہمیشہ مدینہ منورہ کے آداب اور فضیلت و حرمت کوملحوظ نظر رکھا اور اسی پر عمل پیرا رہیٖ سوائے حج کے مواقع کے اور دیگر چند ایک اہم شرعی ضرورتوں و مجبوریوں کے آپ کبھی بھی مدینہ پاک سے باہر نہیں گئے اور اسی در کے ہورہے۔
راقم الحروف فقیر شیر زمان القادری 1979ء میںپہلی مرتبہ حجاز مقدس کی زیارت سے بہرہ ور ہوا۔ سعودیہ کے شہر تبوک میں ملازمت کے سلسلہ میں وہاں پر مغربی جرمنی کی معروف کمپنی فلیپ ہولزمان میں بطور کرین آپریٹر جاب ملی‘ جبکہ کرین کا یہ کام کراچی میں پاکستان اسٹیل ملز میں سیکھا تھا۔
تبوک مدینہ المنورہ سے سات سو کلومیٹر دور اردن اور شام کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ اپنی کار تھی اور مہینہ میں ایک بار مدینہ پاک کی زیارت ہوجایا کرتی تھی۔ بعد از زیارت حرم نبوی شریف‘ حضرت قطب مدینہ کی بارگاہ میں بھی حاضری ہوتی۔ اس وقت تک فقیر ابھی تک کسی شیخ طریقت سے بیعت نہیں ہوا تھا۔ اور نمود ونمائش کو دیکھ کر کسی جگہ دل بھی نہیں لگتا تھا کہ پشاور کے ایک مہربان سید صاحب نے ایک طویل استخارہ اس مشکل کے حل کے لئے تجویز کیا اور احقر نے فوراً اس پر عمل کیا تو رحمت خداوندی کو جوش آیا اور حضور تاجدار کائناتﷺ کے لطف و کرم اور حضور غوث الثقلین محبوب سبحانی قطب ربانی پیران پیر دستگیر محی الدین ابو محمد سیدنا سید شیخ عبدالقادر جیلانی بغدادی رحمتہ اﷲ علیہ سرکار کے سلسلہ عالیہ قادریہ میں سیدی قطب مدینہ کے ذریعے و توسط سے داخلہ ملا۔ بیعت کے وقت سیدی قطب مدینہ رحمتہ اﷲ علیہ نے شریعت پر پابندی کا درس دیا۔ آپ اکثر فرمایا کرتے تھے۔ طریقت شریعت کے طابع ہیں۔
شریعت کو سختی سے پکڑنے والا سب فتنوں سے محفوظ اور منزل کا راہی ہوجاتا ہے اور مخالف شریعت گمراہی کے گڑھوں میں گر جاتا ہے۔ یہی ہمارے مشائخ و اسلاف کا طریقہ ہے۔
معروف دانشور‘ مفکر‘ صحافی‘ مذہبی اسکالر اور صاحب تصنیف صاحبزادہ سید خورشید احمد گیلانی مرحوم جب پہلی مرتبہ حرمین شریفین کی زیارت سے بہرہ ور ہوئے تو واپسی پر فرمانے لگے کہ اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ تمہاری عمر کتنی ہے تو بلا مبالغہ عرض کروں گا کہ دس دن۔ پوچھنے والا بولے گا کہ جناب آپ لگتے تو پچاس برس کے ہیں ظاہری طور پر لیکن اپنی عمر صرف دس دن بتا رہے ہیں تو میں یہ عرض کروں گا کہ ہاں واقعی ہی عمر تو میری اتنی ہی ہے لیکن حالت حیات صرف دس وہ دن ہیں جوکہ دیار حبیبﷺمیں گزار آیا ہوں۔ باقی تو سب اس آرزو میں ہے یا جستجو میں۔ اﷲ اﷲ آپ اندازہ لگایئے اس عاشق رسولﷺ کا جس نے اپنی عمر کے پچھتر سال اس مقدس سرزمین پر اس ادائے ناز اور آداب و احترام کے ساتھ گزارے کہ بڑے بڑے مفسر‘ محدث ‘ فقیہ علماء دین اور مشائخ عظام ان پر رشک کرتے تھے کہ
ایں سعادت بزور بازو نیست
سیدی قطب مدینہ کی حیات عشق رسولﷺ اور آداب و احترام مدینہ سے مرقوم اور استقامت فی الدین سے عبارت ہے۔ بڑے بڑے واقعات سے بھی آپ کے پائے استقامت میں ذرہ برابر لغزش نہ ہوئی۔ مختصر اس مقالہ میں ایک صدی سے زیادہ آپ کی طویل حیات مبارکہ‘ حالات و واقعات اور کرامات کا احاطہ ناممکن ہے۔ سرکار کی بارگاہ میں مقبول ہونے‘ برکت کے لئے ایک واقعہ پر اکتفا کرتاہوں۔
کراچی کے ایک صاحب جب پہلی مرتبہ مدینہ منورہ کی حاضری سے فیض یاب ہوئے تو بارگاہ بیکس پناہﷺ میں جہاں اور اپنی ڈھیر ساری گزارشات عرض کیں‘ وہیں یہ عرضی بھی پیش کی کہ یارسول اﷲﷺ ابھی تک کوئی شیخ کامل نہیں ملا۔ سرکار کرم فرمائیں تاکہ مخلص پیر کی بیعت کرلوں‘ کہیں بن مرشد کے موت ہی نہ آجائیٖ بس پھر کیا تھا۔ اسی رات سوئے تو بظاہر تو سوگئے لیکن درحقیقت قسمت بیدار ہوگئی۔ کیا دیکھتے ہیں کہ دو جہاں کے سردار سرکار ابد قرارﷺ حرم نبوی شریف میں جلوہ افروز ہیں اور باب مجیدی کے دروازے سے آپﷺ باہر تشریف لاتے ہیں کہ سامنے سے مولانا مدنی دوڑتے ہوئے آتے ہیں اورآپ کے قدمین مبارک سے لپٹ کر رو رو کر عرض کرتے ہیں کہ آقا آپ نے کیوں تکلیف فرمائی۔ حکم دیتے تو غلام حاضر خدمت ہوجاتا۔
اس سے میں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ جس شخص پر آقاﷺ اتنے مہربان ہیں کہ اسے نوازنے کے لئے خود تشریف لاتے ہیں تو یہ اس کی قرب بارگاہ کی دلیل ہے۔ اس سے بیعت کرنی چاہئے۔
جب تک بکے نہ تھے تو کوئی پوچھتا نہ تھا
آقا تم نے خرید کر مجھے انمول کردیا
سیدی قطب مدینہ رحمتہ اﷲ علیہ اپنے ہم عصر مشائخ و علماء اور دانشوروں کی نظر میں
(۱) خالق و مالک نے اپنے محبوبﷺ کی محبت کا جو وافر حصہ اپنی فیاضی خاص سے سیدی قطب مدینہ رحمتہ اﷲ علیہ کو عطا فرمایا تھا‘ وہ بہت کم خوش بختوں کے حصے میں آیا۔
(غزالی زمان علامہ سید احمد السعید شاہ کاظمی محدث ملتانی رحمتہ اﷲ علیہ)
(۲) فنا فی الرسولﷺ کے جس مقام پر سیدی قطب مدینہ رحمتہ اﷲ علیہ فائز ہیں‘ یہ عظیم سعادت ہر کسی کے حصے میں نہیں آتی۔
(محدث اعظم پاکستان مولانا سردار احمد صاحب فیصل آبادی رحمتہ اﷲ علیہ)
(۳) سیدی قطب مدینہ رحمتہ اﷲ علیہ پورے عالم اسلام کے باذوق مسلمانوں کیلئے مرکز رشد و ہدایت اور مینارہ نور تھے
(مجاہد ملت مولانا عبدالستار خان نیازی رحمتہ اﷲ علیہ)
(۴) سیدی قطب مدینہ رحمتہ اﷲ علیہ پیکر علم و عمل‘ مجسمہ عشق و محبت اور زہد و ارتقاء میں یکتائے روزگار تھے
(شیخ القرآن ابو البیان مولانا غلام علی اوکاڑوی رحمتہ اﷲ علیہ)
(۵) سرکار تاجدار مدینہ‘ راحت قلب و سینہﷺ کی نگاہ خاص تو آپ پر تھی ہی لیکن ساتھ ہی قطب الاقطاب بالمدینہ المنورہ سیدہ الشہداء سیدنا حمزۃ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ بھی آپ پر مہربان تھے۔
(الحاج مرزا شکور بیگ رحمتہ اﷲ علیہ حیدرآباد دکن)
(۶) ہم تو اپنے آپ کو سیدی ضیاء الدین کے خدام میں شمار کرتے ہیں
(بابا غلام رسول بلیوک والا‘ مدینہ منورہ)
(۷) جو کیف و سرور اور روحانی غذا سیدی قطب مدینہ رحمتہ اﷲ علیہ کی محفل میں بیٹھ کر میسر آتی تھی‘ ایسی کیفیت کسی دوسری جگہ نہیں دیکھی۔
(مولانا نور اﷲ نعیمی رحمتہ اﷲ علیہ فقیر بھیرپوری)
(۸) سیدی قطب مدینہ رحمتہ اﷲ علیہ کے آستانہ عالیہ پر مدینہ منورہ کی بکریوں کے دودھ کی چائے کا ذائقہ ابھی تک دعائیں دیتا ہے
(سابق وفاقی مذہبی وزیر مولانا کوثر نیازی )
(۹) حضرت اقدس سیدی قطب مدینہ رحمتہ اﷲ علیہ نے اتنی ڈھیر ساری دعائوں سے نوازا ہے کہ احاطہ تحریر سے باہر ہیں
(قائد اہل سنت علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی رحمتہ اﷲ علیہ مرحوم)
(۱۰) اہل علم و عرفان کے جوقافلے مدینہ منورہ سے لوٹتے‘ وطن واپسی پر سب ہی سیدی قطب مدینہ رحمتہ اﷲ علیہ کی تعریف میں رطب اللسان نظر آتے۔
(مفسر قرآن پیر محمد کرم شاہ الازہری رحمتہ اﷲ علیہ)
آپ کا آستانہ عالیہ مصر‘ شام‘ ترکی‘ یمن‘ اردن‘ برصغیر اور دیگر بلادِ اسلامیہ اور پوری دنیا کے اہل شوق مسلمانوں کی آماج گاہ تھا اور آپ مدینہ المنورہ حاضری دینے والے مہمانان رسولﷺ کی میزبانی کا شرف حاصل کرتے تھے۔ آپ کے ہاں حاضری دینے والوں کی بھی ایک طویل فہرست ہے جنہوں نے مختلف مواقع پر حاضر ہوکر آپ سے فیض یابی بھی پائی اور خراج عقیدت بھی پیش کیا جن میں:
امیر ملت پیر سید جماعت علی شاہ علی پوری رحمتہ اﷲ علیہ‘ مفتی اعظم ہند مولانا مصطفی رضا خان نوری رحمتہ اﷲ علیہ‘ محدث اعظم کچھوچھوی حافظ ملت مولانا عبدالعزیز مبارک پوری رحمتہ اﷲ علیہ‘ مجاہد ملت مولانا حبیب الرحمن الہ آبادی رحمتہ اﷲ علیہ‘ شیخ الحدیث مولانا شریف الدین امجدی رحمتہ اﷲ علیہ‘ مولانا جلال الدین امجدی رحمتہ اﷲ علیہ‘ شیخ القرآن مولانا عبدالغفور ہزاروی رحمتہ اﷲ علیہ‘ علامہ عارف اﷲ شاہ قادری راولپنڈی رحمتہ اﷲ علیہ‘ سابق ایم این اے شیخ الحدیث علامہ عبدالمصطفی الازہری رحمتہ اﷲ علیہ کراچی‘ سابق ایم این اے مولانا سید محمد علی رضوی رحمتہ اﷲ علیہ حیدرآباد‘ مفتی محمد حسین قادری رحمتہ اﷲ علیہ سکھر‘ مفتی تقدس علی خان پیر جوگوٹھ سندھ‘ مفتی اعظم پاکستان علامہ سید ابوالبرکات قادری رحمتہ اﷲ علیہ لاہور‘ مفتی ظفر علی نعمانی رحمتہ اﷲ علیہ کراچی‘ مفتی وقار الدین قادری رحمتہ اﷲ علیہ کراچی‘ مفسر قرآن علامہ سید ابوالحسنات قادری رحمتہ اﷲ علیہ لاہور‘ علامہ فیض احمد اویسی رحمتہ اﷲ علیہ بہاولپور‘ علامہ منظور احمد فیضی رحمتہ اﷲ علیہ احمد پور شرقیہ‘ مولانا ابوالنصر منظور احمد شاہ ہاشمی رحمتہ اﷲ علیہ ساہیوال‘ خواجہ قمر الدین سیالوی رحمتہ اﷲ علیہ‘ علامہ ارشد القادری انڈیا‘ شیخ الاسلام سید مدنی میاںانڈیا‘ پیر صاحب تونسہ شریف حضرت نور جہانیاں رحمتہ اﷲ علیہ چشتیہ شریف‘ پیر سید افضل حسین رحمتہ اﷲ علیہ علی پور شریف‘ مولانا سید نور محمد قادری رحمتہ اﷲ علیہ گجرات‘ حافظ محمد عالم رحمتہ اﷲ علیہ سیالکوٹ‘ ابوالنور مولانا محمد بشیر کوٹلی لوہاراں‘ مولانا ابو دائود محمد صادق گوجرانوالہ‘ مفتی اطہر علی نعیمی کراچی‘ مولانا ابراہیم خوشتر صدیقی افریقہ‘ خطیب پاکستان مولانا محمد شفیع اوکاڑوی رحمتہ اﷲ علیہ کراچی‘ مولانا محمد شریف نوری قصوری‘ میاں جمیل احمد شرق پوری‘ مفتی محمد حسین نعیمی رحمتہ اﷲ علیہ‘ خواجہ محمد عبداﷲ جان سرہندی پشاور‘ علامہ نور احمد قادری مورخ اسلام آباد‘ مولانا محمد الیاس قادری امیر دعوت اسلامی‘ قاری مصلح الدین صدیقی رحمتہ اﷲ علیہ کراچی‘ الحاج ملک شیر محمد اعوان کالا باغ‘ پیر سید محمد علی شاہ کرماں والا شریف‘ سید شرافت نوشاہی‘ شیخ التفسیر علامہ سید محمد زبیر شاہ چکوال‘ مورخ لاہور محمد دین کلیم قادری‘ علامہ قمر الزماں اعظمی انگلینڈ‘ حاجی نواب الدین گولڑوی‘ شیخ الحدیث سید حسین الدین شاہ راولپنڈی‘ جسٹس مفتی سید شجاعت علی قادری کراچی‘ علامہ سید سعادت علی قادری ہالینڈ اور معروف ڈاکٹر حمید اﷲ رحمتہ اﷲ علیہ پیرس شامل ہیں۔
آپ کے خلفاء کی بھی ایک طویل فہرست ہے جوکہ پاک و ہند‘ بنگلہ دیش‘ یورپ و امریکہ و افریقہ میں خدمت اسلام اور اہل سنت و الجماعت کی ترویج و ترقی کے لئے کوشاں ہیں۔
رحمتوں‘ برکتوں اور حرمت والے مہینہ ذوالحجہ کا پہلا جمعہ‘ ادھر حرم نبوی شریف سے موذن نے جمعہ کی اذان بلند کی اور جب حی الصلوٰۃ پر پہنچا تو ادھر اس عاشق صادق نے جان جان آفرین کے سپرد کردی۔ انتقال سے چند لمحے قبل آپ کی زبان سے یہ الفاظ سنے گئے کہ حضور ضعیف ہوگیا ہوں۔ آپ کی تعظیم کے لئے اٹھ نہیں سکتا۔ ان مہمانوں کے لئے جگہ چھوڑ دو۔ یہ خضر علیہ السلام ہیں۔ یہ ہمارے غوث اعظم آئے ہیں اور یہ میرے اعلیٰ حضرت تشریف لائے ہیں اور پھر زبان پر کلمہ شریف جاری ہوگیا۔ ان ﷲ وانا الیہ راجعون o
آپ کے صاحبزادے مولانا فضل الرحمن علیہ رحمتہ الرحمن اس عظیم صدمہ کے موقع پر صبر واستقامت کا کوہ گراں ثابت ہوئے۔ اور تمام مراحل بہ احسن و خوبی نبھائیٖ۔ جمعہ شریف کے دن ہی حرم نبوی شریف میں قدیمی محراب عثمانی میں آپ کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔ امامت کے فرائض علامہ سید محمد علی مراد شامی رحمتہ اﷲ علیہ نے ادا کئے جوکہ آپ کے خلفیہ بھی تھیٖ بعد نماز جنازہ سرکار کے مواجہہ شریف میں جنازہ تھوڑی دیر برکت کے لئے رکھا گیا اور پھر قدمین شریفین ہوتا ہوا بقیع شریف میں اہل بیت رسولﷺ کے قدموں میں دفن کردیا گیا۔ آپ کی وصیت تھی کہ مجھے اہل بیت کے قدموں میں ڈال دینا پھر میں خود ان کے قدموں سے لپٹ جائوں گا جبکہ چند قبروں کے فاصلے پر آپ کے پیر بھائی مولانا عبدالعلیم صدیقی رحمتہ اﷲ علیہ بھی ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا کے قدموں میں آرام فرما ہیں۔
دیگر آپ کی وصیت یہ بھی تھی کہ میرے جنازے کے ساتھ سرکار ابدقرار کی شان میں کہا گیا اعلیٰ حضرت کا نعتیہ وہی قصیدہ پڑھا جائے جو اعلیٰ حضرت کی وصیت کے مطابق اعلیٰ حضرت کے جنازہ کے ساتھ پڑھا گیا تھا۔ یعنی
کعبہ کے بدر الدجیٰ تم پر ہوں کروڑوں درود
طیبہ کے شمس الضحی تم پر ہوں کروڑوں درود
آپ کے انتقال کے بعد قومی اخبارات و جرائد میں لاتعداد مضامین شائع ہوئے اور تعزیتی اجتماع اور ایصال ثواب کے لئے محافل منعقد کی گئیں۔ ناچیز نے بھی اس وقت تبوک میں ایک پروگرام ترتیب دیا۔ جس میں حضرت مولانا فضل الرحمن القادری مدنی علیہ رحمتہ بذات خود تشریف فرما ہوئے تھے۔ سیدی قطب مدینہ کو 27 سال کا عرصہ ہوگیا ہم سے بچھڑے ہوئے‘ لیکن آپ کی یادیں‘ عنایتیں اور باتیں‘ ایسے لگتا ہے جیسے کل کی بات ہو۔ پھر چند سال قبل آپ کے لخت جگر بھی داغ مفارقت دے گئے۔ انہیں دیکھ کر سیدی کی یاد تازہ کرلیتے تھے۔ اب آپ کے پوتے حضرت علامہ ڈاکٹر پروفیسر رضوان مدنی جو آپ کی سجادگی کی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں جوکہ دینی اور دنیاوی دونوں علوم کے ذریعہ سے آراستہ ہیں۔
وہی بزرگوں والی خوش اخلاقی اور ملنساری آپ کو ورثہ میں ملی ہے‘ جسے آپ احسن طریقے سے نبھا رہے ہیں۔ جبکہ دیگر ماشاء اﷲ اہل مدینہ مشائخ کے ساتھ بھی آپ کے گہرے روابط ہیں۔
اﷲ تعالیٰ آپ کو ہمیشہ اپنی حفظ و امان میں رکھے اور ہر قسم کے شیاطین‘ حاسدین اور مخالفین کے شر سے محفوظ رکھے تاکہ تادیر آپ کے جد کایہ روحانی فیض جاری و ساری رہے۔ آمین بجاہ طٰہ و یٰسینﷺ
٭ بابا غلام رسول عرف بابا بلیاں والا رحمتہ اﷲ علیہ کی ذات و شخصیت سے شاید ہی کوئی پاک و ہند کا‘ مدینہ شریف کا زائر یا مکین ناواقف ہو۔ آپ کے پاس جانے والوں میں سابق صدر پاکستان جنرل ضیاء الحق اور دیگر وزراء اور سیاسی شخصیات کے علاوہ علمائ‘ مشائخ اور عوام خواص کی ایک بڑی تعداد آپ کے پاس دعا کے لئے حاضر ہوتے تھے۔
ایک روز اتفاق سے سیدنا حمزہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے مزارشریف کی زیارت سے احقر اور حضرت مولانا فضل الرحمن علیہ الرحمہ واپس آرہے تھے کہ شاہراہ سیدنا حمزہ جہاں پر بابا غلام رسول کا مکان پڑتا تھا‘ فقیر نے حضرت سے عرض کیا کہ حضور اب بابا غلام رسول یہاںاس مکان میں آگئے ہیں  تو حضرت نے فرمایا کہ چلو ملتے چلتے ہیں۔ جب ہم ان کے پاس گئے اور فقیر نے انہیں حضرت کا بتایا تو وہ خوشی و مسرت سے پھولے نہیں سما رہے تھے۔ اہلیہ کو بولا کہ جو کچھ گھر میں ہے‘ جلدی سے لے آئو۔ حضرت کی خدمت میں پیش کرو۔ اور مسرت و غمی کے ملے جلے انداز میں رو رو کر حضرت سے عرض کرنے لگے کہ حضور میں تو اب معذور ہوگیا ہوں۔ چلنے پھرنے کے قابل نہیں رہا لیکن آپ نے بھی ہمیں بھلا دیا ہے۔ میں تو سیدی ضیاء الدین علیہ الرحمہ کے خدام میں سے ہوں۔ جب آپ رحمتہ اﷲ علیہ باغ میں تشریف رکھتے تھے تو میں ننگے پائوں سر پر کھانا اٹھا کر ان کی خدمت میں پیش ہوتا تھا اور پھر حضرت کے گھر کے سب بچوں کے نام لے لے کر ان کی خیریت دریافت کی۔ سچ کہتے ہیںکہ ولی را ولی می شناسد‘ اﷲ اﷲ شیخ ضیاء الدین مدنی رحمتہ اﷲ علیہ کا اہل اﷲ کے نزدیک کیا مقام تھا۔ یہ وہ لوگ جانتے تھے۔