جرمنی کے ایک آرٹسٹ گریگور شینڈر نے نقلی خانہ کعبہ تیار کیا ہے جو دیکھنے میں بالکل خانہ کعبہ کی طرح لگتاہیٖ۔ 46 فٹ اونچا خانہ کعبہ پر غلاف کعبہ کی طرح سیاہ کپڑا چڑھایا گیا ہے۔ اس بدبخت آرٹسٹ نے خانہ کعبہ کے اس ماڈل کو اپنے فن کا شاہکار کہا ہے ۔یہ نقلی کعبہ ہیمبرگ کے پریمیئر میوزیم میں رکھا گیا ہے۔ جہاں سینکڑوں لوگ دیکھنے آتے ہیں۔ اس طرح کا ایک واقعہ اس سے قبل بھی پیش آچکا ہے۔ ایک اسلامی ویب سائٹ مڈل ایسٹ میڈیا ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکہ کے شہر نیویارک کے وسط میں واقع مین ہٹن کے علاقے میں ایک عمارت بالکل کعبہ کی مانند تیار کی گئی ہے۔ اس عمارت کی لمبائی اور چوڑائی کعبہ معظمہ سے مشابہت رکھتی ہے اور دیکھنے میں کعبہ معظمہ کی نقل ہیٖ رپورٹ کے مطابق اس عمارت میں 24 گھنٹے شراب فروخت کی جاتی ہے۔ اس طرح کی عمارتوں کا تعمیر کیا جانا محض اتفاق نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی سازش کا نتیجہ ہے۔ جس کا مقصد مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنا ہے۔ توہین خانہ کعبہ کے بعد توہین رسالت اور توہین قرآن  کی بھی سازشیں کی جارہی ہیں۔ بدنام زمانہ گستاخ رسولﷺ و قرآن تسلیمہ نسرین اپنی جان بچانے کے لئے ماری ماری پھر رہی ہیں۔ وہ جرمنی‘ امریکہ اور فرانس بھی بھاگ کر گئی مگر اس کو پناہ نہ ملی۔ دنیا میں صرف واحد یہ خاتون غیر محفوظ نہیں بلکہ اس کے ساتھ وہ لوگ جنہوں نے قرآن اور حضورﷺ کی شان میں گستاخی کی‘ ان کو بھی اپنی جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ 45 سالہ تسلیمہ نسرین بنگلہ دیش کے شہر میمن سنگھ میں پیدا ہوئی۔ وہ میڈیکل کے پیشے  سے وابستہ ہونے کے ساتھ ساتھ ناول نگاری بھی کرتی تھی۔ 1994ء میں اس نے ایک ناول لکھا جس میں قرآن‘ اسلام اور پیغمبر اسلامﷺ کی توہین کی۔ اس نے کہا کہ ’’قرآن کو مکمل طور پر تبدیل کردینا چاہئے‘‘ کیونکہ قرآن اور اسلام عورت کے ساتھ امتیازی سلوک برتنے کا درس دیتا ہے۔ بنگلہ دیشی علماء کرام نے اس کی کفریہ تحریروں اور نظریات کی وجہ سے اس کے قتل کا فتویٰ جاری کیا تو بنگلہ دیش میں روپوشی کے بعد گرفتاری اور فتوے سے بچنے کے لئے کچھ عرصہ یورپ اور امریکہ میں گزارا۔ قرآن کے متعلق اس طرح کے گستاخانہ کلمات کی ادائیگی کے بعد یورپین پارلیمنٹ نے تسلیمہ نسرین کی حوصلہ افزائی کے لئے اسے اظہار خیال اور رائے کی آزادی کا ایوارڈ دیا۔ یہ ایوارڈ دراصل اسلام دشمنوں کی حوصلہ افزائی کرنے کا حصہ تھا۔
قارئین کرام! آخر کب تک یہ دشمنان اسلام قرآن اور ہمارے پیارے آقاﷺ کی شان میں گستاخیاں کرتے رہیں گیٖ؟
کاش! مسلمانوں میں اتنا اتحاد اور اتفاق پیدا ہوجائے کہ کوئی شخص گستاخی کرنے کا سوچ بھی نہ سکے۔ امریکہ اور یورپ میں انتہا پسند اور اسلام مخالف ایک عرصے سے باقاعدہ منصوبہ بندی اور منظم طریقے سے مسلمانوں کے جذبات اور احساسات کو ٹھیس پہنچانے کے لئے اسلام کی مقدس ہستیوںبالخصوص حضور اکرمﷺ کی توہین پر مبنی تحریریں‘ خاکے شائع کرتے رہے ہیں۔ ڈنمارک کے اخبارات کی جانب سے حضورﷺ کے توہین آمیز خاکوں کی اشاعت‘ ڈنمارک فیڈریشن آف جرنلسٹس کی جانب سے توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کرنے والے اخبار کو ایوارڈ دیا جانا‘ ٹائم میگزین کا سلمان رشدی جیسے مکروہ شخص کو ہیروز کی فہرست میں شامل کرنا‘ اسے ’’سر‘‘ کاخطاب دینا‘ امریکی جوتے بنانے والی کمپنی کی جانب سے جوتے پر تحریر کلمہ طیبہ کی توہین‘ ہالینڈ میں ایک خاتون ماڈل کے برہنہ جسم پر قرآنی آیات تحریر کرکے اسے فن کا شاہکار قرارد ینا‘ بنگلہ دیشی گستاخ رسول تسلیمہ نسرین کو یورپ اور انڈیا میں اعزازات سے نوازنا‘ یہ ساری چیزیں کوئی اتفاقیہ نہیں ہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی سازش کا نتیجہ ہیں۔
امریکی انتہا پسند مسلمانوں کی دل آزاری کا کوئی موقع بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیتے جس سے ان کے دل میں مسلمانوں اور اسلام کے خلاف نفرت کا اندازہ ہوتا ہے۔ حال ہی میں سوڈان میں ایک برطانوی خاتون ٹیچر کی جانب سے حضور اکرمﷺ کی توہین کاواقعہ پیش آیا۔ وہ اس طرح کہ برطانوی ٹیچر نے اپنی کلاس کے چھ سے سات سالہ بچوں کو یہ ذہن دینے کی کوشش کی کہ ان کا کھلونا دراصل محمدﷺ ہیں۔ (نعوذ بااﷲ) بچوں کے والدین کے شکایت کی وجہ سے اگرچہ مقامی پولیس نے ٹیچر کو گرفتار کرلیا مگر برطانوی حکومت نے اسے اپنے ایک شہری کی معصوم غلطی قرار دی ہیٖ۔ اسلامی تعلیمات کی رو سے کعبہ کی نقل بنانا‘ جوتے پہن کر داخل ہونا‘ شراب پینا کوئی مسلمان قطعاً برداشت نہیں کرسکتا۔ کعبہ صرف ایک عمارت کا نام نہیں بلکہ اس مضبوط عقیدے‘ مذہب اور تاریخ کا نام ہے‘ غیر مسلم ایک چوکور عمارت بنا کر اسے کالے کپڑے سے ڈھک تو سکتے ہیں لیکن کیا وہ اس میں وہ عظمت اور جلال بھی پیدا کرسکتے ہیں جس کا مشاہدہ کرنے والے لاکھوں مسلمان دیوانہ وار طواف کرتے ہیں۔ کیا دنیا کا کوئی ڈیکوریٹر وہ خوبصورتی‘ نور اور خوشبو پیدا کرسکتا ہے جو اﷲ نے کعبہ کو عطا کیا ہے۔ غیر مسلموں کو ایک نکتہ اچھی طرح ذہن نشین کرلینا چاہئے کہ دنیا بھر کے مسلمانوں کا خانہ کعبہ کے ساتھ جو عقیدت اور رشتہ قائم ہے اس میں ذرا سا بھی فرق نہیں آسکتا۔
قارئین کرام! اس وقت پوری دنیا میں ایک سروے کے مطابق مسلمانوں کی تعداد ایک ارب 47 کروڑ 62 لاکھ 33 ہزار 4 سو 70 ہے۔ کثیر تعداد میں مسلمان ہونے کے باوجود آخر کب تک مسلم دنیا کو ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
آخر کب تک! کشمیر‘ عراق‘ کویت‘ افغانستان میں بے گناہ مسلمان شہید ہوتے رہیں گے؟ وقت آگیا ہے کہ ہم سب ایک ار نیک ہوکر دشمن کی سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کریں۔