قربانی میں حکم ربی کی اطاعت اور سنت ابراہیمی (علیہ السلام) کی یاد تازہ کرنا ہے‘ مگر یاد رکھنا چاہئے کہ اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں وہی قربانی مقبول ہے جو حضور اکرمﷺ کے طریقۂ سنت پر کی جائے۔ قربانی میں اصل چیز دلوں کی گہرائیوں میں جذبہ ایثار و قربانی کا محسوس کرنا ہے جس کو قرآن کریم نے ’’تقویٰ‘‘ کے لفظ سے تعبیر کیا ہے اور صاف صاف فرما دیا ہے کہ خدا کو گوشت و پوست اور خون کی ضرورت نہیں‘ بلکہ تقویٰ کی ضرورت ہے۔ لفظ تقویٰ اپنے ہمہ گیر معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ پس قربانی کرتے وقت اپنے دلوں میں جذبۂ ابراہیمی کی پرورش کی جائے اور راہ خدا میں متاع عزیز کے لٹا دینے سے بھی دریغ نہ کیا جائے۔
شریعت نے قربانی کے چند اصول و ضوابط مقرر کردیئے ہیں۔ قربانی کی ظاہری صورت کی تکمیل کے لئے ان کا جاننا ضروری ہے۔ ہم مختصراً بعض مسائل بیان کرتے ہیں۔
اصطلاح شریعت میں خاص عمر کے مخصوص جانور کو متعلقہ اسباب و شرائط کے ساتھ تقرب الٰہی کی نیت سے ذبح کرنے کو قربانی کہتے ہیں۔
قربانی کا وقت تین روز تک یعنی ذوالحجہ کی دسویں‘ گیارہویں اور بارہویں‘ اول تاریخ افضل ہے۔ دسویں تاریخ کے طلوع فجر سے لے کر بارہویں تاریخ کو غروب آفتاب تک قربانی جائز ہے‘ جن شہروں میں نماز عید ہوتی ہے‘ وہاں نماز کے بعد قربانی کی جائے گی۔ ہاں دیہات میں طلوع آفتاب کے بعد کی جاسکتی ہے۔ رات کو قربانی کرنا مکروہ ہے۔ قربانی کے لئے تین دن متواتر رکھنے میں ایک حکمت یہ بھی ہے کہ انسان پر فقر و غنیٰ کی حالتیں گزرتی رہتی ہیں۔ اگر اول فقیر ہے پھر غنی ہوگیا‘ قربانی واجب ہوگی‘ اس کے برعکس ہوا تو واجب نہ ہوگی۔
جس جانور کی قربانی کرنا ہے اس کو قربانی کے دنوں میں قربانی کی نیت سے ذبح کرنا قربانی کا رکن ہے۔ واجب قربانی کے لئے قربانی کرنے والے کا غنی یعنی فراخ دست ہونا ضروری ہے۔ اس سے مراد ایسی فراخ دستی نہیں جس سے زکوٰۃ واجب ہوتی ہے‘ بلکہ ایسی فراخ دستی جس سے صدقہ فطر واجب ہوتا ہے۔ شریعت میں غنی وہ شخص ہے جس کے پاس گھر کے ضروری اسباب‘ سواری اور نوکر کے علاوہ ضرورت سے فاضل دو سو درہم یا بیس دینار یا اتنی قیمت کی کوئی شے ہو‘ قربانی کے لئے قربانی کرنے والے کا عاقل و بالغ ہونا شرط نہیں حتی کہ اگر نابالغ غنی ہے تو اس کی طرف سے اس کا باپ یا باپ کا وصی اس کے مال سے خرید کر قربانی کرے گا مگر گوشت صدقہ نہ کیا جائے گا۔ قربانی کرنے والے کے لئے ضروری ہے کہ وہ مقیم ہو‘ مسافر نہ ہو‘ عورت اور مرد دونوں پر قربانی واجب ہے۔
اگر کسی مقیم نے حالت اقامت میں قربانی کا جانور خریدا پھر سفر اختیار کیا تو اب اجازت ہے کہ جانور کو فروخت کردے یا قربانی کریٖ اگر ایک شخص قربانی کے دنوں میں غنی تھا‘ قربانی نہ کی اور مر گیا تو اس کے ذمہ سے قربانی ساقط ہوجائے گی‘ لیکن اگر قربانی کے ایام گزرنے کے بعد مرا تو اس کے لئے واجب ہوگا کہ قربانی کے جانور کی قیمت صدقہ کرنے کی وصیت کرے۔
قربانی کے جانوروں میں اونٹ‘ گائے‘ بھینس‘ دنبہ‘ بھیڑ‘ مینڈھا اور بکری وغیرہ شامل ہیں۔ نیلے رنگ کے مینڈے کی قربانی افضل ہیٖ قربانی کے لئے بکری ایک سال‘ گائے دو سال‘ اونٹ پانچ سال سے کم عمر کا نہ ہو‘ دنبہ یا مینڈھا بشرطیکہ فربہ ہو‘ چھ ماہ کا بھی جائز ہے۔
جس جانور کی ناک کٹی ہو یا تھن کٹے ہوں وہ جائز نہیں‘ جو بکری یا گائے اپنے بچہ کو دودھ نہ پلا سکتی ہو اور تھن خشک ہوگئے ہوں وہ ناجائز ہے‘ نجاست کھانے والے جانور کی قربانی بھی جائز نہیں جو جانور اتنا دبلا ہوگیا ہو کہ اس کی ہڈیوں میں گودا تک نہ رہا‘ وہ ناجائز ہیٖ جس بکری میں نرو مادہ دونوں کی خصوصیت پائی جاتی ہو‘ اس کی قربانی بھی جائز نہیں۔ ایک بکری خریدی جو فربہ تھی پھر دبلی ہوگئی یا عیب دار ہوگئی‘ تو اگر قربانی کرنے والا غنی ہے تو دوسری خرید کر قربانی کرے‘ ورنہ وہی کافی ہے۔ اسی طرح اگر مرگئی یا چوری ہوگئی تو غنی ہوگا تو دوسری واجب ہوگی ورنہ نہیں‘ اگر غنی نے قربانی کی ذبح کرتے وقت اضطراری کی کیفیت کی وجہ سے جانور عیب دار ہوگیا تو قربانی ہوگئی۔ افضل یہ ہے کہ قربانی کا جانور‘ خوب فربہ اور خوب صورت ہو‘ عیب دار جانوروں کے عدم جواز کے لئے فقہاء نے یہ نکتہ بیان فرمایا ہے کہ جو عیب ایسا ہوکہ منفعت کو پورا پورا زائل کردے یا جمال و زیبائی کو غت ربود کردے تو ایسا عیب قربانی سے مانع ہے۔
قربانی کے جانور کا دودھ استعمال کرنا یا اس سے کوئی اور نفع حاصل کرنا مکروہ ہے‘ دودھ اگر نکال لیا ہے تو اس کا صدقہ کردے۔ قربانی کے جانور پر سوار ہونا بھی مکروہ ہے۔ قربانی کے جانور کے گوشت وغیرہ کے لین دین میں یہ اصول پیش نظر رکھنا چاہئے‘کھانے کی چیز بعوض کھانے کی چیز کے اور بے کھانے کی چیز بعوض بے کھانے کی چیز کے جائز ہے۔ اس کے برعکس جائز نہیں۔ قربانی کے جانور کے ہاں بچہ ہوا تو اس کی قربانی بھی ضروری ہے۔ اونٹ اور گائے میں سات آدمی شریک ہوسکتے ہیں لیکن اگر ایسا آدمی شریک ہوگیا جس کا مقصود قربانی نہیں تو کسی کی قربانی نہ ہوگی‘ قربانی کے ایام میں قربانی کے علاوہ دوسری چیز اس کے قائم مقام نہیں ہوسکتی ہاں اگر نہ کرسکا تو بطور قضا اس کی قیمت صدقہ کرنی ہوگی۔
افضل یہ ہے کہ اپنے ہاتھ سے ذبح کرے‘ نہ کرے تو کھڑا ضرور رہے‘ دل سے نیت کافی ہے‘ البتہ ذبح کرتے وقت ’’بسم اﷲ اﷲ اکبر‘‘ کہنا ضروری ہے۔