1971 کا وہ وقت تھا جب بھارت نے مشرقی پاکستان میں اپنی فوجیں داخل کردی تھیں اور حالات دن بدن خراب ہوتے جارہے تھے ملک ٹوٹنے کے قریب تھا پاکستانی عوام ایسے میں کسی کی مدد کے منتظر تھے ایسے حالات میں پاکستان کو اپنا دوست کہنے والے ملک امریکہ نے پاکستانی عوام کو یہ خوشخبری سنائی کہ ان کا ایک بحری بیڑا پاکستان کی مدد کیلئے آرہاہے مگر آہ ! پاکستان ٹوٹ گیا ہمارا مشرقی بازو ہم سے علیحدہ کردیاگیا۔90,000فوجی جنگی قیدی بنادیئے گئے وہ مسلم ملک جو آبادی اور رقبے کے لحاظ سے اسلامی دنیا کا سب سے بڑاملک تھا دشمنوں کے ہاتھوں ٹوٹ گیا۔امریکی بحری بیڑے کو نہ آنا تھا اور نہ ہی آیا اس کی آمد ایک خواب ہی ثابت ہوئی ۔پاکستانی عوام کیلئے امریکی دوستی کا تجربہ ہمیشہ تلخ رہا۔1978ء افغانستان میں روس کی فوجیں داخل ہوگئیں روسی فوجوں کے افغانستان پر قابض ہونے سے مشرق وسطیٰ میں امریکی مفادات شدید خطرے میں پڑگئے اور امریکہ ایک نہایت ہی مشکل صورتحال سے دوچارہوگیا ایسے میں امریکہ کو ایک بار پھر پاکستان یاد آیا اس نے پاکستان کی طرف دوستی کا ہاتھ ایک مرتبہ پھر بڑھایا حافظے کی کمزوری کی وجہ سے پاکستانی حکمرانوں نے 1971؁ء میں اپنے ساتھ ہونے والے امریکی سلوک فراموش کرکے امریکہ کا دوستی کیلئے بڑھے ہوئے ہاتھ کو گرم جوشی سے تھام لیااور امریکی جنگ لڑنے کا فیصلہ کیا۔دنیا بھر کے مسلمان نوجوانوں کو سی آئی اے کے طیاروں کے ذریعے پاکستان لایاگیا انہیں یہ ذہن دیاگیا افغانستان میں روس کی موجودگی اسلام کیلئے خطرہ ہے۔پاکستان میں ان نوجوانوں کی برین واشنگ کی گئی امریکی ہتھیاروں سے لیس ان نوجوانوں کو افغانستان بھیج دیاگیا جہاں انہوں نے روس کے خلاف جنگ لڑی۔ان مجاہدین میں اُسامہ بن لادن اور خالد شیخ جیسے نام شامل تھے ۔11سال جاری رہنے والی اس جنگ میں مجاہدین بڑی بہادری جرات سے لڑے اور روس کو شکست کا سامنا کرناپڑا افغانستان میں روس کی شکست امریکہ کیلئے بڑی کامیابی ثابت ہوئی اُسے اپنے مخالف سے نجات ملی اور دنیا میں امریکہ سپر پاور بن کر ابھرا۔اس جنگ کے نتیجے میں پاکستان کو کیا تحفہ ملا؟ ہیروئن، کلاشنکوف کلچر وغیرہ۔ دس لاکھ افغان مہاجرین کا بوجھ بھی پاکستان کو برداشت کرنا پڑا۔جیسے ہی امریکہ کا مطلب نکلا وہ مجاہدین افغان مہاجرین اور پاکستان کو بھول گیا اور ایف16طیارے جن کی قیمت پاکستانی حکمرانوں نے ادا کی تھی وہ بھی واپس نہ کی ۔گیارہ ستمبر 2000ء کو امریکہ میں ورلڈٹریڈسینٹر پر حملوں کے بعد سپرپاور امریکہ کو اپنا پرانا دوست پاکستان یادآیا ۔ایک بار پھر اسے پاکستان کی ضرورت محسوس ہوئی ہمیں دھمکی دی گئی کہ اگر آپ ہمارا ساتھ نہیں دیں گے تو ہماری راہیں جدا ہوجائیں گی۔دوبار ان کی دوستی میں دھوکہ کھانے کے بعد ہمارے حکمران ایک مرتبہ پھر ان کی باتوں میں آگئے۔اور انہی مجاہدین جن کی تربیت میں ہمارا اہم کردار تھا سے بے وفائی کی۔ان سے بے وفائی کا صلہ یہ ملا کابل میں ایک پاکستان مخالف اور بھارت دوست حکومت اقتدار میں لائی گئی یہ ہماری خارجہ پالیسی کی ناکامی ہے پاکستان نے اپنے اسی ہزار فوجی افغانستان سرحدوں سے منسلک علاقوں میں تعینات کردیئے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے بے شمار فوجی ہلاک ہوئے اور پاکستان میں خود کش حملوں کا آغاز ہوا۔بہت سے افراد ہلاک ،ہزاروں زخمی اور معذورہوئے اور اربوں روپے کا نقصان ہوا پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جتنی قربانی دی‘ اتنی کسی اور نے نہیں دی اس کے باوجود امریکہ پاکستان کی کارکردگی سے مطمئن نہیں اور ہم سے مزید کچھ کرنے کا مطالبہ کررہاہے ایک بار پھر امریکہ نے پاکستان کے ساتھ اپنی دوستی اس طرح نبھائی کہ اسے نظر انداز کرکے انڈیا کو سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی فراہم کرنے کے بعد معاہدے پر دستخط کئے  جب پاکستان نے اس روئیے کی شکایت کی تو امریکہ نے جواب دیا کہ آپ انڈیا نہیں ہیں۔حال ہی میں امریکہ کے نائب صدر نے پاکستان کا دورہ کیا اور کہا کہ ہم پاکستان کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف مزید کارروائی کرنی ہوگی۔ورنہ پاکستان کی فوجی اور مالی امداد بند ہوسکتی ہے ۔9/11کے بعد ایک مرتبہ پھر امریکہ کو پاکستان یادآیاتو پاکستان نے اپنی خارجہ پالیسی میں یوٹرن لیتے ہوئے طالبان حکومت کے خاتمے کیلئے امریکہ کو اڈے فراہم کئے ۔لاجسٹک سپورٹ اور حساس معلومات فراہم لیکن اس کے باوجود بھی سپرپاور امریکہ پاکستانی حکمرانوں سے مطمئن نہیں۔ خود پاکستان کی 62سالہ تاریخ گواہ ہے کہ امریکہ قابل اعتبار دوست نہیں ۔امریکیوں نے ہمیشہ پاکستان کو اپنے مقاصد کے حصول کیلئے استعمال کیا۔مقاصد پورے ہونے کے بعد ٹشو پیپر کی طرح استعمال کے بعد پھینک دیا۔قرآن میں بھی اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ یہود و نصاری کو دوست مت بنائو! قوم آج اپنے حکمرانوں سے جرات مندانہ اعلان کی توقع کررہی ہے۔کیا ہمارے حکمرانوں میں اتنی جرات ہے کہ وہ امریکہ سے یہ کہہ دیں آیا پاکستان قوم فاقے برداشت کریگی لیکن تمہاری بھیک منظور نہیں کریگی۔ بس اب وقت آگیا کہ ہم امریکہ کو باور کرائیں کہ یک طرفہ دوستی کا یہ سلسلہ زیادہ عرصہ نہیں چل سکتا۔
تم تکلف کو بھی اخلاص سمجھتے ہو فراز
دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا