عصر حاضر کے معاشی مسائل اور ان کا حل

in Tahaffuz, August 2009, متفرقا ت, مولانا محمد شعیب سعیدی

لقد کان لکم فی رسول اﷲ اسوۃ حسنہo
علم معاشیات کی اہمیت و حیثیت ہر دور میں مسلّم رہی ہے لیکن اسکی جتنی ضرورت آج ہے پہلے کبھی نہیں تھی‘ کوئی بھی نظام حکومت اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس کا معاشی نظام اچھا نہ ہو‘ اس نظام کو کامیاب کرنے کیلئے مفکرین نے ہردور میں اپنی عقلوں کے گھوڑے دوڑائے لیکن کوئی اسے انسانی ضروریات کی تقاضوں کے مطابق پورا نہ کر سکااور افراط و تفریط کا شکار ہو گیا۔کبھی کلا سیکل نظریہ پیش کیا گیا اور کبھی نیو کلا سیکل‘ کبھی جاگیردارنہ نظام رائج کیا گیا اور کبھی سرمایہ دارانہ‘ کبھی سوشلزم کا کیا گیا اور کبھی کمیونزم کا‘ لیکن ان میں سے ہرایک نظام فیل ہوتا چلا گیا اور آج سائنسی ترقی کے باوجود دنیا کی سپر پاور کی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچی ہوئی ہے اور اس کے بڑے بڑے بینک دیوالیہ ہو رہے ہیں۔ دنیا میں ہر طرف غربت عام ہو رہی ہے اور لوگ بے روزگاری کا شکار ہو رہے ہیں۔غذائی اجناس کی قلت پیدا ہو رہی ہے اور لوگ بھوک سے مر رہے ہیں‘ آئے روز بے روزگاری کی وجہ سی خود کشی کے واقعات عام ہو رہے ہیں۔
اور اس کی بنیادی وجہ موجودہ نظاموں کا اخلاقی اور روحا نی اصولوں سے خالی ہونا اور حصول زر بلکہ زر پرستی کو اپنا مطمع نظر بنا لینا ہے۔ کسی نے اس کو صرف حصول دولت کا علم قرار دیکر انسانیت کو نظرانداز کردیا ہے اور کسی نے اس کے اخلاقی و روحانی پہلوئوں کو ترک کردیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ معاشی نظام خواہ مغربی ہو یا مشرقی‘ انسانی اقدار کی کلیتاً نفی کرتاہوا نظر آتا ہے۔ جس میں غربت‘ افلاس اور بے روزگاری کو ختم کرنے کے بلند بانگ دعوے تو کیے جاتے ہیں لیکن غریبوں‘ مسکینوں اور یتیموں کو بے حال چھوڑ دیا جاتا ہے‘ موجودہ نظام میں خود غرضی اور طلب پرستی کا عنصر نمایاں ہے اور یہ نظام صرف دولت کے حصول تک محدود ہے قطع نظر اس بات کے کہ وہ دولت کس طرح حاصل ہو رہی ہے‘ سودخوری سے‘ احتکارزر اور ذخیرہ اندوزی سے‘ شراب وزنا کی آمدنی سے یا بے لگام آزاد منڈی اور تجارت سے‘ ہم جانتے ہیں کہ موجودہ نظام معیشت کا دارومدار صرف اور صرف سود پر ہے جو تمام خرابیوں کی جڑ ہے‘ جس میں امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا جا رہا ہے۔ طاقتور ملک پوری دنیا کی معیشت پرقابض ہوجاتاہے اور دولت چند ہاتھوں میں مرتکز ہو کر رہ جاتی ہے جس میں زکواۃ ‘ خیرات اور صدقہ و ایثار کا کوئی تصور نہیں ہے۔
لیکن قربان جائوں اس رسول عربی ﷺ پر کہ جن کی زندگی کو لوگوں کیلئے اسوئہ حسنہ قرار دیا گیا‘ جنہوں نے جہاں زندگی کے دیگر شعبوں میں کامل رہنمائی فرمائی وہاں نظام معیشت میں ایسے مستحکم اصول اور ضابطے عطا فرمائے جو مکمل افراط و تفریط سے پاک اور انسان کی مادی و روحانی ضروریات کے عین مطابق ہیں‘ جن میں ایک طرف تو انسان کے مادی لوازمات جو مدنظر رکھا گیا ہے اور دوسری طرف اخلاقی پہلوئوں کو بھی ہاتھ سے نہ جانے دیا گیا۔ ایسا نظام معیشت عطا فرمایا جو ہر دور میں یکسان مفید رہا اور رہے گا۔ یہی سبب ہے کہ اسلام کے صدر اول سے لیکر تاحال جب بھی‘ جہاں بھی اور جس زمانے میں بھی اسلام غالب رہا اسلامی معاشرہ اور معاشرتی خوشحالی کا نمونہ کامل رہا۔
قربان جائوں اس رسول عربی ﷺ پر کہ جس نے اپنی بعثت سے قبل ہی ام المومنین خدیجہ رضی اﷲ عنہا کا مال تجارت امانت کے ساتھ فروخت کر کے اس بات کا اعلان کر دیا کہ لوگو! میں ایک فلاحی معاشرے کی بنیاد ڈالنے والا ہوں۔ مدینہ کے اندر ایسی کامیاب معاشی و معاشرتی ریا ست کی بنیاد ڈالی کہ جس کی مثال چہاردانگ عالم میں کہیں نہیں ملتی‘ تصور امانت پر تمام معاشی اصولوں کی بنیاد رکھتے ہوئے کسی بھی نظام معیشت کی تمام قباحتیں جو لا محدود زرپرستی اور ذخیرہ اندوزی کے نتیجہ میں پیدا ہو سکتی تھیں ‘ان کا قلع قمع کر دیا۔ ارشاد فرمایا ’’ التاجرالصدوق الامین مع النبیین و الصدیقین و الشھدائ‘‘عدل‘ احسان‘ اخوت‘ تعاون‘ مساوات اور حرام و حلال کے وہ جامع اصول عطا فرمائے کہ جو زندگی کے ہر شعبے میں‘ چاہے وہ معیشت ہو کہ معاشرت‘ سیاست ہو کہ سیادت‘ زمانہ امن ہو کہ رزم گاہ حق و باطل‘ فرد کے ساتھ واسطہ ہو کہ پورے معاشرے کے ساتھ‘ لین دین کا معاملہ ہو کہ اخلاقیات کا‘ مسلمانوں کے ساتھ تعلقات ہو یا غیر مسلموں کے ساتھ‘ یکساں مفید ہیں اور جنہیں معاشیات کا اخلاقی پہلو بھی کہا جا سکتا ہے۔
’’وفی اموالھم حق للسلا ئل و المحروم‘‘کا اصول عطا فرما کر دیگر حاجت مندوں کے حقوق کی طرف توجہ دلائی۔’’ یا یھا الناس کلواممافی الارض حلالاً طیبا‘‘ سے صرف رزق حلال کے حصول کی طرف اشارہ فرما دیا۔ ’’ یا یھا الذین امنو الا تاکلو اامولکم بینکم بالباطل ‘‘ سے تمام حرام ذرائع کے راستے مسدود کر دیے چاہے وہ رشوت کی صورت میں ہو‘ غصب کی صورت میں ہو‘ خیانت کی صورت میں ہو‘ چوری کی صورت میں ہو‘ ناپِ تول میں کمی بیشی کی صورت میںہو‘ مال یتیم میں بے جا تصرف کی صورت میں ہو یا فحاشی پھیلانے والے ذرائع کی صورت میں ہو۔
زکواۃ صدقہ کی تاکید اور انفاق فی سبیل اﷲ کی ترغیب دیکر غریبوں‘ فقیروں‘ مسکینوں یتیموں اور بیواؤں کی داد رسی فرمائی اور ارتکاز دولت کے راستے بند کر دیے فرمایا‘ ’’ ماافاء اﷲ علیٰ رسولہ من اھل القرٰی فاﷲ وللرسول ولذی القربی والیتٰمیٰ المسکین وابن السبیل کی لا یکون دولۃ بین الاغنیاء منکم ‘‘ اسی چیز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بچپن میں ہی آپ کے چچا ابوطالب نے کیا خوب ارشاد فرمایاتھا۔
والبیض یستسقی الغمام بوجھہ
ثمال الیتٰمیٰ و عصمۃ للارامل
( وہ سفید رو ذات جسکے چہرے کی برکت سے بارش طلب کی جاتی ہے‘ یتیموں کی پناہ گاہ اور بیوائوں کا سہارا)
موجودہ نظام معیشت کی مطابق وسائل محدود اور خواہشات لا محدود ہیں لیکن آپﷺ نے الیدالعلیا خیر من الید السفلیٰ سے انفاق کی اہمیت بتائی اور گدا گری جیسی لعنت کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے خواہشات کو محدودو مسدود کر دیا اور وما من دابۃ فی الارض الا علی اﷲ رزقھا کا دل آویز یہ اعلان فرما کر اسباب و وسائل کو زمین سے لیکر آسمان تک لا محدود کردیا اور الکاسب حبیب اﷲ سے ان کی حصول کی طرف توجہ دلائی‘ سود کے ساتھ اعلان جنگ فرما کر زوال معیشت کے موذی مرض کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا فرمایا
’’یا یھا الذین امنو ااتقو ااﷲ وذروامابقی من الربواان کنتم مئومنین‘ فان لم تفعلو ا فاذنو ابحرب من اﷲ و رسولہ ‘‘
اور کہیں من غش فلیس منا کہ کر دھوکہ دہی سے منع فرما دیا۔ من ترک مالا فلا ھلہ ومن ترک ضیا عاً فالی سے بے سہارا لوگوں کی ذمہ داری حکومت کے سپرد کی‘ اپنے پیچھے ایسے حکمران چھوڑے کہ جن کا اصول و حکم نامہ اپنے اعمال افسران کیلئے یہ ہوتا تھا ان لا یاکل نقیاً ولا یلبس ثوباً رقیقا ولا یرکب برزونا ولا یغلق بابہ دون حوائج الناس۔
قربان جائوں آپﷺ کے عطا کردہ نظام معیشت پر کہ لوگ حضرت عمر بن عبدالعزیز کے دور میں زکواۃ دینے کے لیے نکلتے تھے مگر کوئی لینے والا نہ ملتا تھا۔ مگر آج کے معاشرے و حکمرانوں کی صورت حال ہمارے سامنے ہے۔
خدا کی قسم آج بھی اگر کوئی دنیا کی اس ڈولتی ہوئی کشتی کو سنبھال سکتے ہیں اور کنارے لگا سکتے ہیں تو وہ محمد عربی ﷺ کے غلام ہیں اور آپ کا عطا کردہ نظام ہے۔
دعا ہے کہ اﷲ رب العزت نظام مصطفیٰ ﷺ کا بول بالا فرمائے۔ آمین
بشکریہ : فانوس ( دو ماہی رسالہ)