محدث اعظم تاجدار مسند تدریس امام فن حدیث

in Tahaffuz, August 2009, د ر خشا ں ستا ر ے, مولانا محمد حسن علی رضوی بریلوی میلسی

آقائے نعمت امام اہلسنت محدث اعظم پاکستان حضرت قبلہ شیخ الحدیث علامہ ابوالفضل مولانا محمد سردار احمد محدث بریلوی قدس سرہ العزیز جب شہزادہ اعلیٰ حضرت شیخ الانام حجتہ الاسلام مولانا شاہ محمد حامد رضا خان صاحب قدس سرہ کے ہمراہ دیار علم و فضل شہر عشق و محبت لاہور سے بریلی شریف حاضر ہوئے تو ان کے تقویٰ و طہارت اتباع سنت و شریعت اور ذوق تحصیل علوم کے جذبہ صادقہ اور ایک خاص روحانی تڑپ کو دیکھ کر آپ کے قابل فخر اساتذہ بالخصوص سیدنا امام حجتہ الاسلام حضور سیدنا مفتی اعظم فقیہ عالم مولانا شاہ مصطفی رضا خان صاحب نوری بریلوی اور عالم اسلام کے عبقری صدر المدرسین صدر الصدور صدرالشریعہ مولانا محمد امجد علی اعظمی رضوی قدست اسرارہم نے آپ کی تعلیم و تربیت اس نہج پر فرمائی اور اپنی فراست و بصیرت اور باریک بین نظروں سے دیکھ لیا تھا کہ طالب علم مستقبل میں دارالعلوم بریلی شریف کا صدر المدرسین اور شیخ الحدیث اور اپنے وقت کا استاد الاساتذہ ہوگا۔ حضور سیدنا حجتہ الاسلام قدس سرہ نے آپ اپنے دولت کدہ پر رکھا اور ہر قسم سہولت بہم پہنچائی حتی کہ عید بقرہ عید پر اپنے صاحبزادہ مفسر اعظم شاہ محمد ابراہیم رضا جیلانی علیہ الرحمہ کے جیسے کپڑے بنوائے جاتے‘ ویسے ہی حضور محدث اعظم علیہ الرحمہ آپ کو اپنے دولت کدہ پر پڑھاتے‘ دو سال بعد حضرت صدر الصدور صدر الشریعہ مولانا شاہ محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ کی خدمت میں جامعہ معینیہ عثمانیہ دارالخیر والقدس اجمیر شریف بھیج دیا۔ وہاں حضرت صدر الشریعہ کے حلقہ درس میں سات سال زیر تعلیم رہے حضرت صدر الشریعہ قدس سرہ دارالعلوم کے اوقات مقررہ کے علاوہ بھی پڑھاتے اور جو کتابیں اس وقت مدرس کے کورس اور نصاب تعلیم میں شامل تھین‘ ان کے علاوہ بھی قدیمی نایاب درسی کتب اور حواشی قدیمہ و جدیدہ بھی پڑھاتے۔ حضرت صدرالشریعہ فرماتے تھے کہ مجھ سے جنہوں نے صحیح معنی میں پڑھا وہ مولانا سردار احمد صاحب اور حافظ عبدالعزیز صاحب ہیں اس جماعت جس میں حضرت محدث اعظم علیہ الرحمہ شامل تھے‘ جب ان طلباء کا امتحان ہوا تو ممتحن مولانا علامہ فضل حق رامپوری علیہ الرحمہ نے امتحان لیا تو حضرت محدث اعظم نے اپنی جماعت میں نمایاں و منفرد کامیابی حاصل کی اور سب سے زیادہ نمبر لئے۔ حضرت مولانا فضل حق رامپوری نے اپنی رپورٹ میں تحریر فرمایا ’’جیسے طلباء یہاں دارالعلوم اجمیر شریف میں موجود ہیں‘ پورے ہندوستان کے مدارس میں ایسے طلباء موجود نہیں‘‘
اس جماعت کا ہر فرد صدر المدرسین و شیخ الحدیث ہوا۔ امتحانات کے بعد اور طلباء تو اپنے اپنے گھروں کو گئے اور متعدد کو مبارک پور اعظم گڑھ‘ الہ آباد اور جون پور و ممئی میرٹھ مقرر کیا گیا لیکن مرکز اہلسنت بریلی شریف کے مرکزی دارالعلوم جامعہ رضویہ منظر اسلام میں حضور محدث اعظم پاکستان کو پہلے سال ہی مدرس دوم اور ناظم تعلیمات مقرر کیا گیا۔ دو سال کے بعد صدر المدرسین اور شیخ الحدیث کے منصب عظمیٰ پر متعین و مقرر کیا گیا۔ 1356ھ میں آپ نے بریلی شریف کی مرکزی جامع مسجد بی بی جی صاحبہ میں دارالعلوم مظہر اسلام قائم کیا۔ اس دوران نہ صرف یو پی ‘ سی پی‘ بہار بنگال‘ پنجاب‘ سندھ‘ سرحد‘کشمیر‘ راجستھان‘ مارولڈ بلکہ افغانستان نیپال‘ برما‘ مصر اور شام تک کے طالبان علوم دینیہ اور تشنگان علوم حدیث نے آپ سے درس لیا اور شرف تلمذ حاصل کیا۔
اور یہی وجہ ہے کہ آپ کی شان تدریس اور درس حدیث میں مہارت نامہ کو دیکھ کر دنیائے اسلام کے نامور محدثین اور شیوخ وقت نے اپنے مریدین و متوسلین بلکہ اپنے صاحبزدگان کو تحویل علوم دینیہ و درس حدیث کے لئے آپ کی خدمت میں بھیجا۔
جیسے شہزادہ اعلیٰ حضرت حجتہ الاسلام مولانا شاہ محمد حامد رضا خان صاحب بریلوی قدس سرہ نے اپنے صاحبزادگان مفسر اعظم علامہ محمد ابراہیم رضا جیلانی میاں‘ حضرت مولانا حماد رضا خان صاحب‘ برادر زادہ اعلیٰ حضرت فاضل اجل مولانا علامہ حسنین رضا خان صاحب بریلوی جانشین مولانا علامہ حسن رضا بریلوی قدس سرہ نے اپنے صاحبزادہ صدر العلماء علامہ تحسین رضا خان صاحب بریلوی کو امیر ملت پیر سید جماعت علی شاہ‘ محدث علی پوری علیہ الرحمہ نے حضرت مولانا محمد شریف صاحب نقشبندی کو حضرت علامہ مولانا قطب الدین جھنگوی اور حضور امیر ملت محدث علی پوری قدس سرہما نے علامہ عبدالرشید رضوی جھنگوی کو حضرت مخدوم پیر سید نور الحسن شاہ کیلیانوالہ نے حافظ العلوم علامہ پیر سید محمد جلال الدین شاہ صاحب بھکھی شریف والوں کو حضور صدر الشریعہ مولانا علامہ امجد علی صاحب اعظمی علیہ الرحمہ نے علامہ مولانا عبدالمصطفے ازہری اور مولانا علامہ عطاء المصطفی اعظمی و علامہ ثناء اﷲ محدث مثنوی اور علامہ مفتی مجیب الاسلام نسیم اعظمی کو مفسر اعظم علامہ جیلانی میاں بریلوی علیہ الرحمہ نے اپنے صاحبزادہ مولانا علامہ ریحان رضا خان صاحب بریلوی کو حافظ ملت علامہ حافظ عبدالعزیز بانی جامعہ اشرفیہ مبارک پور نے مولانا حافظ محمد صدیق صاحب مراد آبادی کو مناظر اسلام علامہ محمد عمر اچھروی نے اپنی صاحبزادہ مولانا سلطان بہائو صاحب اور مولانا علامہ عبدالتواب صاحب کو حکیم الامت مفتی احمد یار خان صاحب نعیمی علیہ الرحمہ نے مفتی مختیار احمد محمد میاں گجراتی کوشیخ الاسلام خواجہ قمر الدین صاحب علیہ الرحمہ نے مولانا عزیزاحمد صاحب مرحوم مولانا اشرف سیالوی کو حضرت مخدوم پیر سید محمد معصوم شاہ صاحب نوری علیہ الرحمہ نے اپنے صاحبزادہ مولانا مخدوم سید محمد حسن صاحب نوری کو آل انڈیا سنی کانفرنس میں مصروفیت کے باعث صدر الافاضل مولانا علامہ نعیم الدین مراد آبادی علیہ الرحمہ نے متعدد طلباء کو حضرت پیر سید نور الحسن صاحب کیلیانوالہ نے مولانا محمد سعید اور مولانا عبدالقادر صاحب مانگٹ کو مولانا علامہ محمد نقشبند صاحب کو پیر محمد شفیع صاحب چورہ شریف نے حضرت علامہ مفتی محمد ظفر علی صاحب نعمانی علیہ الرحمہ نے حضرت علامہ مفتی محمد حسین صاحب سکھروی کو غزالی زماں علامہ سید احمد سعید کاظمی علیہ الرحمہ نے مولانا علامہ محمد فیض احمد اویسی کو اور مولانا قادر بخش حسین آبادی کو تحصیل علوم و دورہ حدیث کے لئے حضرت سیدی محدث اعظم پاکستان قدس سرہ کی خدمت میں بھیجا۔ اسی طرح اوربہت سے اکابر علماء نے اپنے صاحبزادگان کو درس حدیث پاک کے لئے آپ کے حلقہ درس میں بھیجا تھا۔ آپ کی شان تدریس اور خصوصا درس حدیث کی ممتاز و منفرد حیثیت کو دیکھ کر شہزادہ اعلیٰ حضرت سیدنا مفتی اعظم عالم اسلام قدس سرہ نے فرمایا تھا‘ ذکی و محدث باکمال‘ متوکل سراپا برکت فہیم عصر مدرس بے مثال‘ حاوی فروع مدصول محقق معقول و منزول عزیزالاولیائ‘ ان تینوں جملوں سے تاریخ وصال ۱۳۸۲ھ نکلتی ہے اور ایک جگہ فرماتے ہیں۔
وہ محدث و محقق و فقیہ عالم علم ہدی جاتا رہا
اس زمانے کا محدث بے مثال‘ جس کا ثانی ہی نہ تھا جاتا رہا
اٹھ گیا دنیا سے استاد شفیق‘ مایہ لطف عطا جاتا رہا
حضور محدث اعظم ہند کچھوچھوی قدس سرہ نے فقیر کے نام ایک مکتوب میں فرمایا تھا۔ آپ وہاں جامعہ رضویہ مظہر اسلام لائل پور میں دورہ حدیث شریف پڑھیں یا پھر حزب الاحناف میں حضرت مولانا ابوالبرکات سید احمد صاحب کے پاس ان دونوں جگہوں پر دورہ حدیث کرانے والوں سے مجھے پوری واقفیت ہے۔ حافظ ملت جلالتہ العلم علامہ حافظ عبدالعزیز صاحب بانی جامعہ اشرفیہ فرماتے ہیں۔
’’حضرت موصوف کمال کے جامع تھے‘ علامہ زماں استاد محترم حضرت صدر الشریعہ قبلہ کے صحیح جانشین تھے۔ جامع معقول و منقول تھے بالخصوص فن حدیث میں آپ کو یدطولیٰ حاصل تھا۔ بلامبالغہ آپ بخاری زماں تھے۔ عالم حدیث تھے عالم حدیث تھے‘‘ (نوری کرن محدث اعظم نمبر)
محبوب ملت غازی اہلسنت علامہ قاری محبوب علی خاں بمبئی علیہ الرحمہ نے فقیر کے نام مکتوب میں یہ تاریخی جملہ فرمایا ’’آہ محدث لاجواب پاکستان‘‘
٭ نبیرہ غوث اعظم پیر سید طاہر علائو الدین گیلانی بغدادی فرماتے ہیں ’’انت عالم کبیر و شیخ عظیم و محدث عظیم‘‘ اپنے ایک عربی مکتوب میں فرمایا جس کا ترجمہ یہ ہے ’’مولانا العلامہ مولوی سردر احمد رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہ علماء اہلسنت علماء پاکستان میں سب سے بہترین تھے‘‘
٭ شیخ الاسلام خواجہ محمد قمر الدین سیالوی فرماتے ہیں ترجمہ عربی مکتوب ’’میرے اس کہنے میں مبالغہ نہ ہوگا کہ شیخ معظم محدث اعظم پاکستان رحمتہ اﷲ علیہ یکتا و یگانہ تھے‘‘
٭مفر اعظم نبیرہ اعلیٰ حضرت مولانا شاہ محمد ابراہیم رضا جیلانی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں ’’بریلی کے ایک لعل بے بہا کو لائلپور میں درخشاں دیکھا جس کی آب و تاب سے پہچان و پاکستان کو چمکتا ہوا پایا۔ وہ عظیم الشان مجمع اہل حق و اہلسنت کا دیکھا جس کی مثال اعلیٰ حضرت رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے عرس شریف میں دیکھتا ہوں اور حجتہ الاسلام رحمتہ اﷲ علیہ کے عرس مبارک میں نظرآتی ہے۔ علماء فضلاء مشائخ عوام و خواص محبان رسولﷺ فدائیان غوث اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اس نائب اعلیٰ حضرت خلیفہ حضرت حجتہ الاسلام شمع ہدایت فخر اہل بریلی محدث بے مثال فقیہ باکمال کے گرداگرد مجتمع ہیں…
کس شان کا ہے یہ جامعہ اور اس کی جامع اس سال سو طلباء درجہ حدیث شریف سے فارغ ہورہے ہیں‘‘ (ملخصا)
٭ شیخ القرآن بحر العلوم علامہ عبدالغفور ہزاروی رحمتہ اﷲ علیہ فرماتے ہیں ’’اگر میں یہ کہوں کہ برصغیر میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی قدس سرہ کے نائب اور صحیح جانشین حضرت محدث اعظم پاکستان مولانا سردار احمد رحمتہ اﷲ علیہ تھے تو بالکل بجا ہوگا۔ آپ نے مسلک اعلیٰ حضرت کے مطابق کام کیا۔ قلیل مدت میں انقلاب برپا کردیا…ہماری جماعت میں بزرگ اور بھی ہیں فاضل اور بھی ہیں‘ محدث اور بھی ہیں مگر اس محدث اعظم کی شان ہی نرالی تھی۔ یہ ایسا مقناطیس ہیں کہ طالب علم ان کی طرف کھینچے چلے آتے ہیں‘‘ (ملخصا)
٭ شیخ القرآن علامہ ہزاروی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں۔ پرسوں رات مفتی احمد یار خان بدایونی سحری کے وقت میرے پاس آئے۔ بے ساختہ ان کی چیخ نکل گئی اور فرمانے لگے ہم میں سے وہ اٹھ گیا جس کا بدل ہماری جماعت میں نہیں ہے۔ بارات کا دولہا غائب ہوگیا۔ مجمع ہے مگر رونق نہیں۔ ایک بار ملتان شریف کے ایک جلسہ سے واپسی حکیم الامت مفتی احمد یار خاں نعیمی علیہ الرحمہ اپنے صاحبزادہ مفتی اقتدار احمد کے ہمراہ جامعہ رضویہ لائل پور حاضر ہوئے۔ حضور محدث اعظم علیہ الرحمہ دورہ حدیث پڑھا رہے تھے۔ حضرت مفتی صاحب خاموشی اور یکسوئی سے سنتے رہے… اسباق احادیث کے اختتام پر حضرت محدث اعظم نے مفتی صاحب سے معانقہ و مصافحہ فرمایا اور کہا مفتی صاحب میں جب دارالحدیث میں ہوتا ہوں یوں محسوس کرتا ہوں جیسے بریلی شریف میں ہوں جب گھر جاتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ لائل پور میں ہوں۔ حضرت علامہ مفتی احمد یار خاں صاحب علیہ الرحمہ نے عرض کیا ’’حضرت میرا دل چاہتا ہے کہ میں دورہ حدیث شریف میںآپ کے حلقہ درس میں شامل ہوجائوں‘‘ حضرت صاحب قبلہ نے فرمایا نہیں آپ نہیں ان (اپنے صاحبزادہ صاحب) کو بھیجیں تو مفتی احمد یار خاں علیہ الرحمہ نے اپنے صاحبزادہ مفتی محمد مختار نعیمی کو بھیجا‘‘
٭ غزالی زماں علامہ احمد سعید کاظمی علیہ الرحمہ نے فرمایا ’’آپ کو محدث اعظم پاکستان اس لئے کہا جاتا ہے آپ نے علم حدیث کی (تدریس) اشاعت میں بڑا کام کیا جس طرح حضرت امام اعظم علیہ الرحمہ کے شاگردوں نے فقہ اور حدیث کی کتابیں لکھی ہیں مگر خود امام اعظم علیہ الرحمہ کتابیں نہیں لکھیں اسی طرح حضرت مولانا سردار احمد صاحب کے شاگردوں نے بھی قابل قدر کام کیا اور کتابیں لکھیں۔ علم حدیث میں آپ کو منفرد مقام حاصل تھا۔
٭  حضرت ممدوح (محدث اعظم پاکستان) گنتی کے ان اکابرین میں سے تھے جن کا وجود کشتی ٔسنیت کے لئے ناخدا سمجھا جاتا ہے جن کے دم قدم سے گلشن سنیت سرسبز و شاداب ہے۔‘‘
٭ ملک المدرسین استاذ الاساتذہ علامہ عطا محمد بندیالوی رحمتہ اﷲ علیہ فرماتے ہیں ’’جیسے لفظ شیخ الحدیث وضعی توکلی معنی کے لئے کیا گیا ہے لیکن غلبہ کے طور پر قبلہ حضرت مولانا محمد سردار احمد صاحب کا علم ہوچکا ہے جب ہم لفظ شیخ الحدیث بولیں تو فورا ذہن انہی کے طرف منتقل ہوجاتا ہے اور غلبہ کے طور پر جزی حقیقی اور مانع تکسر ہے‘‘
٭ علمی حیثیت سے شیخ الحدیث مرحوم کا جو پایہ تھا وہ کسی سے مخفی نہیں… (مناظرہ سلانوالی کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا) اس دوران جب کبھی علماء کے درمیان کسی مسئلہ پر بحث ہوتی‘ شیخ الحدیث سب پر چھائے ہوئے ہوتے‘‘ (ملخصا)
٭ استاذ العلماء مولانا علامہ فیض احمد فیض چشتی صدر المدرسین جامعہ غوثیہ گولڑہ شریف نے امام اہلسنت محدث اعظم علیہ الرحمہ کے وصال پر ایک طویل المیہ قصیدہ عربی میں ارقام فرمایا جس کا مختصر عربی ترجمہ یہ ہے ’’ایک عظیم حادثہ کے سبب زمین بھی روئی اور آسمان بھی افسوس افسوس (۴) وہ حادثہ یہ ہے کہ اہل علم کے آفتاب اور اہل فضل کے ماہتاب جو خطباء دہر کے لئے زیب و زینت تھے‘ ہمیں دنیائے عالم میں چھوڑ کر دار بقاء کو تشریف لے گئے ان کا نام مبارک سردار احمد ہے وہ اہل کرم (اہل علم) کے سردار تھے… الخ علوم عقلیہ میں عظیم المرتبت استاد تھے اور علوم نقلیہ میں موسلا دھار بارش ‘ اے فیض احمد ان تاریخ وصال میں یہ کہہ دے کہ ان رضا منا رحلا بے شک حضرت امام احمد رضا رحمتہ اﷲ علیہ ہم سے کوچ فرما گئے۔ (ملخصا)
٭ نائب اعلیٰ حضرت سیدنا محدث اعظم پاکستان کے درس حدیث شریف کی منفرد امتیازی شان کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ آپ صرف ایک ماہ میں بخاری شریف کے چند خصوصی اسباق پڑھانے والے محدث نہ تھے بلکہ درجہ حدیث کی تمام کتابیں مکمل صحاح ستہ شریف اور موطا اور طحطاوی کے علاوہ اہم تفاسیر اور فنون کی بعض اہم کتابیں خود پڑھاتے‘ آٹھ آٹھ دس دس گھنٹے پڑھاتے تھے۔
٭ جملہ کتب احادیث پر آپ کے علمی تحقیقی حواشی و تعلیقات ایک نہایت خزانہ ہے جو مخدوم اہلسنت پیر طریقت علامہ صاحبزادہ قاضی فضل رسول صاحب مدظلہ کی تحویل میں ہے۔
٭ آج کل تو مرید و شاگرد اپنے بزرگوں کو من مانے القابات خود دیتے ہیں مگر مکہ معظمہ سے ایک سوال کے جواب میں شہزادہ اعلیٰ حضرت امام الفقہاء شیخ العلماء مفتی اعظم علامہ مصطفی رضا نوری بریلوی قدس سرہ اور متعدد اکابر علماء بریلی شریف اور اکابر علماء ہند نے آپ کے محدث اعظم پاکستان علی الاطلاق ہونے پر ایک مدلل محققانہ فیصلہ اور فتویٰ رضوی دارالافتاء سے خود جاری فرمایا جس کی اصل آٹھ کاپیاں فقیر کے پاس محفوظ ہیں اور نقول رسالہ ماہنامہ اشرفیہ مبارک پور اعظم گڑھ اور ماہنامہ پاسبان الہ آباد انڈیا میں چھپوا چکا ہوں۔ رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہ