یحییٰ علیہ السلام اور شیطان:
منقول ہے کہ حضرت سیدنا یحییٰ علیٰ نبینا علیہ السلام نے ایک با ر شیطان کے پاس بہت سے جال دیکھ کر استفسار فرمایا‘ یہ کیا ہے؟ اس نے جواب دیا‘ یہ شہوات کے جال ہیں جن سے میں آدمیوں کا شکار کرتا ہوں۔آپ علیہ السلام نے پوچھا‘ کیا مجھے پھانسنے کے لیے بھی ان میں سے کوئی جال ہے؟ اس نے کہا‘ ’’نہیں‘مگر صرف ایک رات آپ (علیہ السلام) نے پیٹ بھر کرکھانا کھایا‘ تو میں نے اس رات آپ (علیہ السلام) پر نماز کو بھاری کر دیا۔ حضرت سیدنا یحیٰی علیٰ نبینا علیہ السلام نے یہ سن کر فرمایا‘ خدا کی قسم ! آئندہ میں کبھی پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھاؤں گا۔‘‘ شیطان بولا‘ ’’ میں بھی کبھی آئندہ کسی کو ایسی (فائدے والی) بات نہیں بتائوں گا۔‘‘ (منہاج العابدین‘ص ۹۳) اﷲ عزوجل کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔
عبادت میں کب لذت آتی ہے:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یہ حکایت نقل کرنے کے بعد حجۃ الاسلام حضرت سیدنا امام غزالی علیہ رحمتہ اﷲ الوالی فرماتے ہیں‘ یہ اس معصوم ہستی کا حال ہے جس نے ساری عمر میں ایک بار سیر ہو کر کھایا‘ تو اس کا کیا حال ہوگا جس نے ساری عمر میں صرف ایک بار (وہ بھی کسی مجبوری کے تحت) پیٹ کو بھوکا رکھا؟کیا ایسا شخص لذت عبادت کی امید کر سکتا ہے؟ پیٹ بھر کر کھانے سے عبادت میں کمی واقع ہوتی ہے۔کیونکہ انسان جب خوب سیر ہو کر کھا لیتا ہے تو اس کا بدن بوجھل ہو جاتا ہے‘آنکھوں میں نیند بھر جاتی‘ اور اعضاء سست پڑ جاتے ہیں‘ کوشش کے باوجود کوئی کھڑانہیں کرسکتا ہے‘ ہر وقت زمین پر مردہ کی طرح پڑا رہتا ہے‘ کہا گیا ہے‘ ’’ جب تو پیٹو بن جائے تو پھر اپنے آپ کو زنجیر میں جکڑا ہوا سمجھ۔‘‘ حضرت سیدنا سلیمان دارانی قدس سرہ النورانی فرماتے ہیں‘ ’’ میں عبادت میں سب سے زیادہ حلاوت ( یعنی مٹھاس) اس وقت محسوس کرتا ہوں جب میرا پیٹ پیٹھ سے لگا ہوا ہو۔‘‘ (منہاج العابدین‘ص ۹۳) اﷲ عزوجل کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔کاش بھوک خریدی جا سکتی!: حضرت سیدنا یحیٰی بن معاذ رحمتہ اﷲ علیہ فرماتے ہیں‘ اگر بھوک بازار میں بکتی ہوتی تو آخرت کے طلب گار ضرور اس کی خریداری کیا کرتے۔ ( رسالتہ القشیریہ‘ ص ۱۴۱)
ہرطرف کھانا خریدا جارہا ہے!: اﷲ ! اﷲ ! اولیائے کرام رحمہم اﷲ تعالیٰ کے مدنی ذہن کی کیا بات ہے ! حضرت سیدنا یحیٰی بن معاذ رحمتہ اﷲ تعالٰی ’’بھوک‘‘ خریدنے کی بات فرمارہے ہیں‘ جبکہ نادان لوگوں میں زیادہ کھانے کے باقاعدہ مقابلے کیے جارہے ہیں‘ جو سب سے زیادہ کھانا کھا لیتا ہے وہ بہت بڑا بہادر تصور کیا جاتا ہے ! افسوس ! صد کروڑ افسوس! آج کل لوگ پیسے دے دے کر کھانے کی بازاری اشیاء اور ان کے ساتھ ساتھ طرح طرح کے ’’امراض‘‘ خریدنے میں مصروف ہیں ہرطرف کھانے پینے کی چیزوں کی  دھوم ہے‘ فوڈ کلچر کا دوردورہ ہے‘ ایک ایک محلہ میں کئی کئی ریستوران کھلے ہوئے ہیں‘ ہر سو ہوٹلیں جگمگا رہی ہیں‘ چہارجانب سموسے کے بستے‘ دھی بڑے  اور آلو کے خوانچے مسکراتے نظر آرہے ہیں‘ چاروں طرف سیخ کباب اور چکن تکوں کی خوشبوئیں پھیلی ہیں‘ آئسکریم اور سوڈا لیمن کی بوتلوں کی دکانوں کی خوب بہاریں ہیں۔ ضرورت مند خریداروں کے ساتھ ساتھ کئی لوگ فقط نفس کی لذت کی خاطر کھانے پینے کی چیزوں پر بے تابانہ منڈلا رہے ہیں‘ جو ہاتھ میں آیا پھانک رہے ہیں‘ جو ملا ہڑپ کررہے ہیں‘ نہ کسی کو دنیوی نقصان کی فکر‘ نہ بیماری کی پرواہ اور نہ ہی آخرت کے حساب کی پڑی ہے‘ ہر ایک کی آواز ہے کھائوں‘ کھائوں اور بس کھائوں اورکھاتا ہی چلاجائوں گویا ہرطرف سے صدائیں بلند ہو رہی ہیں‘ کھائوپیو‘جان بنائو! کاش! سرکار نامدار ﷺ‘ صحابہ کرام و شھیدان کربلا علیہم الرضوان اور اولیائے کرام رحمہم اﷲ تعالیٰکی مبارک بھوک ہمیں یاد رہتی۔ آہ! آہ! آہ! ہم ’’ کھائوں کھائوں ‘‘ کے نعرے لگا رہے ہیں اور ان مقدس ہستیوں کی طرف سے ’’بھوک بھوک‘‘ کے پیغامات مل رہے ہیں۔ ہم اگرچہ ہو دم کھانے پینے میں مشغول ہیں مگر کوئی تو بات ہے کہ تمام انبیائ‘ صحابہ اور اولیاء علیہم السلام  و علیہم الرضوان  کی جانب سے کم کھانے کا درس مل رہا ہے ۔
زیادہ کھانا کفار کی صفت ہے:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! صرف لذت نفس کیلئے کوئی چیز کھانا اچھا نہیں۔ صدر الشریعہ‘ بدر الطریقہ حضرت علامہ مولانا مفتی امجد علی اعظمی رحمتہ اﷲتعالٰی فرماتے ہیں‘ قرآن کریم میں کفار کی صفت یہ بیان کی گئی ہے کہ کھانے سے ان کا مقصود تلذذو وتنعم ( یعنی صرف لطف  ولذت اٹھانا) ہوتاہے اورحدیث پاک میں کثرت خوری ( یعنی زیادہ کھانا) کفار کی صفت بتائی گئی ہے۔(ماخوذ از بہار شریعت‘ حصہ ۱۶‘ص ۳۰)
بھوک میں طاقت:
حضرت سیدنا سہل بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی حالت یہ تھی کہ جب بھوکے ہوتے تو طاقتور ہوتے مگر جب کچھ کھا لیتے تو کمزور ہوجاتے! ( رسالتہْ القشیر یہ‘ص ۱۴۲)
کسی فارسی شاعر نے کتنی پیاری بات کی ہے
اگر لذت ترک لذت بدانی         دگر لذت نفس‘ لذت نخوانی
(یعنی اگر تو لذتوں کو چھوڑنے کی لذت جان لے تو نفس کی لذت نہ جانے۔)
حصول تصوف:
سیدنا جنید بغدادی علیہ رحمتہ اﷲ الھادی فرماتے ہیں‘ ہم نے تصوف کو قیل وقال (یعنی بحث ومباحثہ) سے نہیں بلکہ بھوک‘ دنیا سے دوری اور لذت نفسانی کو ترک کرکے حاصل کیا ہے۔( سبع سنابل مترجم‘ ص ۲۴۱)
میں سب سے براہوں:
حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں! نیک بندہ کی پانچ نشانیا ں ہیں :
(۱) اچھی صحت میں رہتا ہے۔(۲) زبان و شرمگاہ کی حفاظت کرتا ہے۔(۳) دنیا کی نعمت کو وبال اور دینی نعمت کو فضل رب ذوالجلال تصور کرتا ہے۔(۴) حلال کھانا بھی اس خوف سے پیٹ بھرکر نہ کھانا کہ اس میں کہیں حرام نہ ملا ہواہو۔(۵) اپنے علاوہ سب مسلمانوں کو نجات یافتہ تصور کرتا اور خود کو گنہگارسمجھتے ہوئے اپنی ہلاکت کاخطرہ محسوس کرتا ہے۔( المنبھات للعسقلانی‘ باب الخماسی۵۹)
بغیر کھائے پیئے آدمی کتنے دن زندہ رہتا ہے؟:
طویل عرصے تک نہ کھانے پینے کے باوجود جینے اور زندگی کے معمولات میں فرق نہ آنے کے معاملات ’’ خواص ‘‘ کے ہیں انہیں روحانی غذائیں ملتی ہیں۔ ’’ عوام‘‘ ان طویل فاقوں کے متحمل نہیں ہو سکتے‘ اگر کوئی جذبات میں آکر فاقہ شروع کر بھی دے تو چند روز کے حوصلہ ہار جائے اور پھر شاید آئندہ ہمت بھی نہ کر سکے۔ایک ڈاکٹر کی تحقیق کے مطابق بغیر کچھ کھائے  18 دن اور اگر بہت طاقتور ہے ہوتو زیادہ سے زیادہ 25 دن نیز بغیر پانی پئے  تین دن اور آکسیجن کے بغیر ایک منٹ سے لیکر زیادہ سے زیادہ پانچ منٹ تک انسان زندہ رہ سکتا ہے۔
عوام کتنا کھائے؟:
عام آدمی کیلئے اتنا بھی خوب ہے کہ وہ اگر زیادہ کھانے کا عادی ہے تو رضائے الہی عزوجل حاصل کرنے کیلئے ’’پیٹ کا قفل مدینہ ‘‘ لگاتے ہوئے بتدریج کم کرتے کرتے ایک تہائی پیٹ بھر جائے اتنی خوراک پر کفایت کرنا سیکھ لے۔ انشاء اﷲ عزوجل بھوک کی برکتیں بھی حاصل ہوں گی‘ کمزوری بھی نہیں ہوگی اور حیرت انگیز طور پر صحت بھی ہو بہتر ہو جائے گی نیز ڈاکٹروں کی بڑی بڑی فیسوں اور دوائوں کے خرچوں سے بھی تقریباً جان چھوٹ جائیگی۔ یقین نہ آتا ہو تو تجربہ کرکے دیکھ لیجئے۔
بیمار دل کی دوائیں:
حضرت سیدنا عبداﷲ انطاکی رحمتہ اﷲ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں‘ بیمار دل کی پانچ دوائیں ہیں: (۱) نیکوں کی صحبت (۲) تلاوت قرآن (۳) کم کھانا (۴) تہجد کی پابندی (۵) رات کے آخری حصہ میں گریہ وازی۔( المنبھات للعسقلانی‘ باب الخماسی‘ ص ۶۰)
ہلکے بدن کی فضیلت :
حضرت سیدنا عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ ارشاد فرمایا‘ اﷲ عزوجل کو تم میں سب سے زیادہ وہ بندہ پسندہے جو کم کھانے والا اور خفیف (یعنی ہلکے ) بدن والا ہے۔( الجامع الصغیر‘ ص ۲۰‘ رقم الحدیث ۲۲۱)
زیادہ کھانے کی ایک آفت جسم کا وزن بڑھ جانا اور تو ندنکل آنا بھی ہے اور آج ایک تعداد اس مرض میں مبتلا ہے ۔ وزن کی مقدار اپنے اپنے قد کے لحاظ سے ہوتی ہے۔اوسط قد (ساڑھے پانچ فٹ یعنی 66 انچ ) والے مرد کا وزن 150 پائونڈ
(68.Kg ) اور اوسط عورت (سوا پانچ فٹ یعنی 63انچ ) کا 130 پائونڈ (یعنی 50.kg) ( سے ہرگز بڑھنا نہیں چاہیے۔اپنا قد ناپ کر دئیے ہوئے اندازے کے مطابق جو کوئی چاہے اپنے وزن کا حساب لگا سکتا ہے۔
کھانے کی مقدار مقرر فرما لیجئے :
اپنے کھانے کی مقدار (مثلاً آدھی روٹی‘ ایک چمچ چاول ‘ سات قتلے کدو شریف ‘ بڑی ہو تو ایک ورنہ دو بوٹیاں‘ ایک ٹکڑا آلو‘ تین چمچ شوربہ وغیرہ) مقرر فرما لیجئے کہ اتنا کھانے کے بعد چاہے کتنی ہی بھوک باقی رہ جائے مزید نہیں کھائوں گا۔چنانچہ جب بھی کھانے بیٹھیں توممکنہ صورت میں طے شدہ مقدار میں کھانا پہلے ہی سے رکابی میں الگ کر لیجئے کہ پیٹ کا قفل مدینہ لگانے کے خواہش مند کیلئے شاید اس سے کوئی بہتر طریقہ نہیں۔ہاں اگر نفس نے آپ کی رکابی میں زیادہ ڈلوا بھی دیاکم توکر دیجئے۔ایک بار لے چکیں پھر چاہے لاکھ خواہش ہو مزید مت لیں‘ ورنہ نفس مطالبات بڑھاتا چلا جائیگا !کبھی کہے گا‘ ایک بوٹی اور اٹھالو ‘کبھی کہے گا آلو لے لو‘ ایک چمچ دال مزید ڈال لو وغیرہ۔دعوتوں میں بھی اس انداز کو ملحوظ رکھئے۔کیوں کہ ’’پیٹ کا قفل مدینہ‘‘ لگانے یعنی بھوک سے کم کھانے کی ابھی تک جس کی عادت نہیں بنی وہ اگر عام رواج کے مطابق بڑے برتن سے باربار تھوڑا تھوڑا نکالتا رہے گا تو اندیشہ ہے نفس اس کو بھلا وے میں ڈال کر زیادہ کھلا دے۔اگر تھال میں سب ملکر کھا رہے ہوں اور اپنا ئیت کی فضاء ہو مثلاً سنتوں کی تربیت کا مدنی قافلہ ہو یا دعوت اسلامی کے جامعۃ المدینہ کا مدنی ماحول۔جو اسلامی بھائی یا طالب علم ’’ پیٹ کا قفل مدینہ ‘‘ لگانا چاہے وہ ’’مدنی انعامات‘‘ کے مطابق تھال میں سے اپنے مٹی کے برتن میں ضرورت کا کھانا نکال لے مگر تھال کے قریب بیٹھ کر مل کرہی کھائے۔ایسے موقع پر اگر ساتھ والوں کو ناگوار ہو تو سب کے ساتھ مل کر تھال میں کھائے۔لہذا سب سے محفوظ طریقہ بھی یہی ہے کہ کھانے کے نوالے مخصوص کر لے مثلاً 12 نوالوں کی عادت بنائی ہے تو سب کے ساتھ مل کر کھانے میں انشاء اﷲ عزوجل کو ئی دشواری نہ ہو گی کہ تصور میں گن کر نوالے پورے کئے جاسکتے ہیں۔
بھوک کا یا الہی قرینہ ملے پیٹ کا مجھ کو قفل مدینہ ملے
استقامت کا مدنی خزینہ ملے حرص لذات دنیا کبھی نا ملے