مفتی محمد اطہر نعیمی سے انٹرویو

in Tahaffuz, August 2009, انٹرویوز, ملک محبوب الرسول قادری

حضرت مولانا مفتی محمد اطہر نعیمی کراچی میں اہل سنت کی سب سے بڑی درس گاہ ’’دارالعلوم نعیمیہ‘‘ کی روح رواں ہیں۔ وہ بزرگ‘ سنجیدہ‘ صائب الرائے اور متین عالم دین ہیں۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق رکن اور مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے سابق چیئرمین رہے۔ قدیم و علوم پر ان کی نظر ہے۔ ایک بڑے علمی خانوادے کے چشم و چراغ ہیں۔ تحریک پاکستان کو انہوں نے جاگتی آنکھوں دیکھا ہے۔ کراچی میں ان سے متعدد نشستوں میں کیا جانے والا انٹرویو قارئین کی خدمت میں پیش کرتے ہوئے مجھے خوشی کا اظہار ہورہا ہے۔ آیئے ایک بزرگ عالم‘ محقق‘ مترجم‘ مصنف اور مدارس کی خدمت میں کچھ وقت گزارتے ہیں۔ ادارہ
ابتدائی تعارف کے حوالے سے سوال کے جواب میں حضرت مفتی محمد اطہر نعیمی نے بتایا کہ میرا نام ’’محمد‘‘ عرفیت ’’اطہر‘‘ اور نعیمی استاد محترم سے نسبت ہے۔ میری ولدیت تاج العلماء شیخ الحدیث والتفسیر مفتی محمد عمر صاحب نعیمی قدس سرہ‘ میں نے قاعدہ بغدادی اور قرآن کریم والدہ محترمہ سے پڑھا۔ اردو (ابتدائی اردو) ملا سید مہدی علی صاحب سے پڑھی اور حساب بھی انہیں سے سیکھا۔ فارسی جامعہ نعیمیہ میں فارسی کے مدرس قاضی محمد حسین اور والد محترم سے پڑھی۔ گلستان بوستان‘ انشاء خلفیہ انوار سہیلی بچپن میں پڑھیں۔ گلستاں کے ابتدائی چار باب والد صاحب نے پڑھا کر فرمادیا۔ اب خود مطالعہ کرو جہاں سمجھ میں نہ آئے تو دریافت کرلو۔ اس وقت تو یہ احساس نہ ہوا کہ کتاب آگے کیوں نہیں پڑھائی۔ گلستاں کا پانچوں باب ’’در عشق و جوان‘‘ پر مشتمل ہے اور اس میں ایسی حکایات ہیں جو ایک باپ اپنے بیٹے کو اور خصوصا اس عمر میں جس کو غیر شعوری کہا جاسکتا ہے پڑھائے‘ عربی کی ابتدائی کتابیں والد محترم اپنی مصروفیات کے باوجود بھی پڑھاتے تھے اور ان کے قابل شاگرد مجھے سبق یاد کراتے تھے۔ مدرسہ کے بعض مدرسین اپنی محبت و خلوص کی بناء پر سبق یاد کرنے میں معاونت فرماتے تھے۔ میں نے درس نظامی کی بعض کتابیں مدرسہ میں دوسرے طالب علموں کے ساتھ پڑھیں۔ میرے ان اساتذہ میں الحاج الحافظ الحکیم‘ مولانا سید وصی احمد صاحب اور مولانا محمد یونس صاحب سنبھلی سے پڑھیں۔ موقف علیہ کی وہ کتابیں جو الہ آباد کے تحت ہونے والے ’’مولوی‘‘ کے نصاب میں شامل تھیں‘ انہیں تفسیر جلالین کے علاوہ اور کتابیں مولانا محمد یونس صاحب سے پڑھیں۔ مولانا سید وصی احمد صاحب سے مختصر معانی‘ ہدایہ اور علم طب میں میزان الطب اور غالبا قانونچہ پڑھا تھا۔ اس ضمن میں ایک واقعہ دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ اوائل عمری میں میری شادی صدر الافاضل کی خواہش اور حکم پر کردی گئی تھی۔ آپ ایک مرتبہ میرے ابا سے فرمانے لگے۔ مولانا میری علالت کی وجہ سے اس بچے کی طبی تعلیم مکمل نہ ہوسکی جس کا مجھے افسوس ہے۔
حضرت صدرالافاضل رحمتہ اﷲ علیہ سے اپنے تعلق داری کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ جس شب صدر الافاضل کا انتقال ہوا اس کی شام عصر کے بعد میں اور والد محترم صدر الافاضل کی چارپائی کے قریب بیٹھے ہوئے تھے۔ مولوی غلام معین الدین نعیمی مرحوم بھی موجود تھے۔ اس وقت صدر الافاضل رحمتہ اﷲ علیہ نے میری اہلیہ کی بابت دریافت فرمایا جو اس زمانہ میں علیل تھیں۔ والد محترم نے ان کی کیفیت بتائی تو صدر الافاضل نے دریافت فرمایا کہ علاج کس کا ہے۔ تو ابا جان نے فرمایا کہ سالویشن آرمی کے اسپتال کے بڑے ڈاکٹر کا۔ یہ سن کر صدر الافاضل نے ناراضگی کا انداز اختیار کرتے ہوئے فرمایا۔ نسوانی امراض میں مرد ڈاکٹر کا علاج؟ جب یہ وضاحت کی گئی کہ ڈاکٹر صرف دوا تجویز کرتا ہے۔ مریض کا حال ڈاکٹر کو اس کی دایہ بتاتی ہے تو اطمینان ہوا۔ یہ ان بزرگوں کے تقویٰ کا حال تھا کہ بستر علالت پر ہیں لیکن شریعت کے احکام کا اتنا خیال۔ آج کل اگر ہم لوگ اپنے بزرگوں کا اتباع کرلیں تو معاشرتی انتشار دور ہوجائے۔ مفتی صاحب نے بتایا کہ میں نے دورہ کی کتابوں کے علاوہ تفسیر بیضاوی اور منطق میں ملا حسن‘ صدر الافاضل سے پڑھی تھیں۔ کیوں کہ آپ آخر عمر میں صرف یہی تین کتابیں پڑھاتے تھے۔ میرے اہم ترین استادوں میں صدر الافاضل استاد العلماء حضرت مولانا سید محمد نعیم الدین صاحب اور والد محترم استاذ العلماء شیخ الحدیث و التفسیر مفتی محمد عمر نعیمی ہیں اور دوسرے اساتذہ کے نام بتا چکا ہوں۔
اس سوال کے جواب میں کہ آپ کے شاگردوں کی تعداد کتنی ہے‘ انہوں نے فرمایا جو خود طالب علم ہو اس کے شاگرد کہاں… انہوں نے بتایا کہ شیخ المشائخ حضرت شاہ علی حسین صاحب کچھوچھوی رحمتہ اﷲ علیہ نے جب میری عمر سات سال تھی‘ سر پر ہاتھ رکھ کر بہت سی دعائیں دے کر فرمایا تھا ’’تمہیں بھی داخل سلسلہ کرلیا‘ْ‘ … اس لئے میں خود کو مرید تو حضرت شاہ علی حسین صاحب رحمتہ اﷲ علیہ کا سمجھتا ہوں۔ لیکن صدر الافاضل رحمتہ اﷲ علیہ نے انتقال سے تین گھنٹے قبل (آپ کا وصال 10 بجے ہوا تھا) مغرب و عشاء کے درمیان خلافت کے شرف سے نوازا تھا۔ میرے ساتھ آپ کے فرزند نسبتی حافظ سید حامد علی بھی تھے۔ یہاں ضمنا ایک اور بات بھی کہے دیتا ہوں کہ مولانا غلام معین الدین نعیمی مرحوم (مترجم مدارج النبوۃ) جو میرے قریبی دوستوں میں تھے اور صدر الافاضل نے انہیں اجازت بھی دی تھی‘ ان کا انتقال لاہور میں ہوا۔ انہوں نے مجھ سے کہا تھا کہ دوسرے شاگردوں کی طرح تم بھی خلافت کی درخواست کرو۔ تمہیں بھی دوسروں کی طرح خلافت مل جائے گی لیکن میں نے موصوف (مرحوم) سے کہا تھا اگر وہ مجھے اس اعزاز کا مستحق سمجھیں گے تو خود نوازش کریں گے مانگ کر خلافت حاصل کرنا میرے لئے مناسب نہیں۔ بحمدہ تعالیٰ ایسا ہی ہوا اور مجھے اس اعزاز سے نوازا گیا۔ تمام سلاسل میں اجازت کے علاوہ اور بھی بہت کچھ عطا فرمایا۔
مفتی محمد اطہر نعیمی نے کہا کہ اپنے والد محترم سے جو کچھ ملا اس کی وضاحت اس لئے نہیں کرتا کہ وہ خود ستائی ہوگی البتہ ایک خلافت جو سلسلہ عالیہ قادریہ میں شیخ المشائخ پیر سید طاہر علائو الدین گیلانی رحمتہ اﷲ علیہ سے ملی‘ وہ بھی بغیر طلب کے عطا ہوئی۔ طوالت کے خوف سے پورا واقعہ نہیں صرف اتنا کہتا ہوں کہ اس گفتگو کے دوران پیر صاحب رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا تھا ’’ہم آپ کو خلافت دیتے ہیں اور حضرت نے باقاعدہ خلافت نامہ بھی عطا فرمایا۔ اس وقت یہ واقعات پرانے ہوچکے ہیں سن وغیرہ اس وقت ذہن میں نہیں‘‘
انہوں نے بتایا کہ میں مارچ 1950ء میں پاکستان آیا۔ کچھ دن (تقریبا ایک ماہ) لاہور رہا لیکن عربی مدارس میں نوعمری کی وجہ سے کوئی مناسب جگہ نہ ملی تو اپریل 1950ء میں کراچی آگیا۔ تھوڑی بہت انگریزی جاننے کے سبب تقریبا ایک ماہ ایک پرائیویٹ دفتر میں گزارا تو ظہر کی نماز کے وقفہ کی وجہ سے ’’سیٹھ صاحب‘‘ کے ماتھے کی شکنیں برداشت نہ ہوئیں اور اس ملازمت سے مستعفی ہوگیا۔ اس وقت کراچی میں کوئی دقیع مدرسہ نہ تھا۔ صرف دارالعلوم امجدیہ قائم ہوچکا تھا اس لئے عربی مدارس میں درس و تدریس کا سوال ہی پیدا نہ ہوسکتا تھا۔ لہذا اس انگریزی کے بل بوتے پر محکمہ ڈاک میں ملازمت کی اور کئی سال GPO میں گزارے۔ بعد میں پوسٹ ماسٹر جنرل کے دفتر میرا تبادلہ ہوگیا۔ یہاں1982 ء تک وقت گزرا اور قبل پھر از وقت ریٹائرمنٹ لے لی۔ اس اقدام میں مفتی سید شجاعت علی مرحوم کا بڑا ہاتھ رہا۔ موصوف ہمیشہ یہ اصرار کرتے رہے تھے کہ نوکری ختم کرکے علمی کام کی طرف توجہ دیں۔ لیکن اس ملازمت کے دوران بھی میں نے علمی ماحول سے بالکل علیحدگی اختیار نہیں کی تھی۔ والد محترم کے پاس ایک مولوی صاحب آتے تھے جو ان سے بعد نماز مغرب‘ فقہ کی کتابیں پڑھتے تھے۔ ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ خانوادہ رضوی کی ایک شخصیت مولانا تقدس علی خان صاحب‘ والد صاحب رحمتہ اﷲ علیہ سے ملاقات کے لئے آئے تو شدید گرمی کا موسم تھا۔ والد صاحب ان سے ملاقات کے لئے صحن میں تشریف لائے اور گفتگو ہوتی رہی۔ دوران گفتگو وہ طالب علم جو کمرہ میں بیٹھے تھے‘ مجھے کہنے لگے کہ تین دن سے کوئی نہ کوئی ایسا شخص آجاتا ہے جس کی وجہ سے میرے سبق کا ناغہ ہوجاتا ہے۔ آپ میری مدد کریں۔ موصوف اس زمانہ میں کنزالدقائق پڑھ رہے تھے میں نے ازراہ تفنن کہہ دیا پڑھئے تو انہوں نے کتاب پڑھنی شروع کی۔ اﷲ تعالیٰ کا نام لے کر میں نے پڑھانا شروع کردیا۔ جب مولانا تقدس علی خان صاحب نے میری آواز سنی تو ابا جان سے کہنے لگے کہ اپنے گھر پر بھی پڑھانا شروع کردیا ہے۔ اندر کمرہ سے پڑھانے کی آواز آرہی ہے۔ جب ابا جان نے میری آواز سنی تو فرمایا ایک طالب علم آتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ اطہر میاں پڑھا رہے ہوں گے۔ واضح رہے کہ گھر والے مدرسہ کے طالب علم اور اساتذہ کرام سب مجھے اعزاز کے طور پر اطہر میاں ہی کہتے تھے‘ پڑھا رہے ہوں گے تو مولانا تقدس علی خان صاحب نے ازراہ تعجب فرمایا کہ کنز پڑھا رہے ہیں تو کیا وہ کنز پڑھا لیتے ہیں؟
جامع مسجد آرام باغ کراچی میں اپنی خطابت کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں مفتی صاحب نے کہا کہ میرے والد محترم کی علالت کے زمانہ میں مولانا قاضی عبدالرحمن صاحب جو اس زمانہ میں کراچی میں تھے‘ وہ خطابت کرتے رہے والد محترم کے انتقال کے بعد یہ ذمہ داری اس لئے میرے سپرد ہوئی کہ والد محترم کا یہ منصب اعزازی تھا۔ جب تک مسجد محکمہ اوقاف کی تحویل میں نہ آئی تھی تو وہ مسجد سے کوئی تنخواہ یا کرایہ آمدورفت نہیں لیتے تھے۔ محکمہ اوقاف کی تحویل میں آنے کے بعد ایڈمنسٹریٹر اوقاف نے ابا جان سے یہ کہلوایا (خود جرات نہیں کی) کہ اگر مفتی صاحب گوارا فرمائیں تو میں دو ہزار روپیہ کرایہ آمدورفت کی مد میں پیش کردوں۔ والد صاحب نے فرمایا کہ اتنے سال سے میں نے مسجد سے کوئی ذاتی منفعت حاصل نہیں کی ہے اور کوئی کام تو خالصتا رضائے خداوندی کے لئے بھی ہونا چاہئے اس لئے منع کردیا تھا۔ ان کے بعد نہ تو مولانا اوکاڑوی اور نہ میں نے مسجد سے کوئی دنیاوی منفعت حاصل کی۔ جب یہ ذمہ داری میرے سپرد ہوئی اس وقت کا عالم یہ تھا اور اب بھی ہے کہ پاکستان میں نماز جمعہ سے قبل خطباء حضرات خطابت کے جوہر دکھاتے ہیں اور اپنا حال تھا یہ کہ تقریر کی ’’ت‘‘ بھی اس لئے نہیں آتی تھی کہ دور طالب علمی سے اس کی طرف رجحان طبع تھا ہی نہیں لیکن ’’قہر درویش برجان درویش‘‘ نماز سے قبل منبر سے کچھ نہ کچھ کہنا شروع کیا اور جمعہ کی خطابت شروع کردی۔ دو ہفتہ کے بعد عیدالاضحی آگئی۔ یوں تو مراد آباد میں عیدین کی نمازیں پڑھا چکا تھا ان میں ایک مرتبہ اس مشہور و معروف قلعہ والی مسجد میں جہاں والد محترم خطابت فرماتے تھے‘ عیدالاضحی پڑھائی تھی لیکن وہاں نماز سے قبل پاکستان کی طرح تقریریں نہیں ہوتی تھیں‘ صرف نماز کی ترکیب وضاحت سے بتائی جاتی تھی۔ وہاں بھی یہ ہوا کہ نمازیوں کو یہ خدشہ ہوا تھا کہ یہ نوعمر عید کی نماز صحیح طور پر پڑھا بھی سکے گا؟ پہلی رکعت تو ٹھیک ہوگئی دوسری رکعت میں قرأت کے بعد تکبیریں کہنے کی بجائے رکوع میں جانے لگا تو ایک دم احساس ہوا اور یہ معلوم ہوا جیسے کسی نے بجلی کا گرم تار لگادیا فورا تکبیریں کہہ کر نماز مکمل کی تھی۔ لیکن مراد آباد کا مجمع اور کراچی میں جامع مسجد آرام باغ کا مجمع… یہ احساس مجھے بھی تھا لیکن اس وقت مسجد کے موذن حاجی عبدالرحیم مرحوم مجھ سے بھی زیادہ خوفزدہ تھے۔ خدا کرے کہ نماز صحیح پڑھا لیں۔ بحمدہ تعالیٰ مجمع کی کثرت سے متاثر ہوئے بغیر نماز پڑھائی بعد میں خطیب پاکستان مولانا محمد شفیع اوکاڑوی مرحوم نے آرام باغ میں خطابت شروع کی لیکن مولانا اوکاڑوی کی غیور طبیعت محکمہ اوقاف کی بالادستی قبول نہ کرسکی تو مولانا اس ذمہ داری سے سبکدوش ہوگئے۔
یہاں ایک بات اور کہوں کہ جب مولانا اوکاڑوی مرحوم نے جامع مسجد آرام باغ میں خطابت منظور کی تھی اس وقت مجھ سے ایک بزرگ نے فرمایا تھا اگر چاہو تو وزیر اوقاف سے کہہ کر اس تقرر کو رکوادوں۔ لیکن یہ اوقاف سے مانگنا ہوگا درخواست کرنی ہوگی تو میں نے کہا تھا یہ تو حدیث بھی ہے کہ دینے والا ہاتھ اوپر اور لینے والا (درخواست کرنے والا) ہاتھ نیچے ہوتا ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ تقریر کے معاملہ میں اوکاڑوی صاحب کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ ان بزرگ نے فرمایا تھا کہ مولانا اوکاڑوی اوقاف کی ماتحتی برداشت نہ کریں گے حالانکہ مولانا نے بھی ملازمت کے طور پر نہیں بلکہ اعزازی خطابت قبول کی تھی۔ اوکاڑوی صاحب اور میں جب اس جھگڑے میں پڑیں گے تو دشمنوں کومضحکہ خیزی اور ہنسنے کا موقع ملے گا۔ اس لئے جو قدرت کو منظور تھا‘ ہوا اور وہی ہوتا رہے گا۔ اوکاڑوی صاحب نے آرام باغ سے علیحدگی اختیار کرکے مسجد گلزار حبیب کو مرکز بنایا جن کے انتقال کے بعد ان کے صاحبزادے عزیزی مولانا کوکب نورانی سلمہ بڑے طمطراق کے ساتھ خطابت کررہے ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ معاش کے لئے میری ملازمت کا سلسلہ جاری رہا اور فی سبیل اﷲ جو خدمت بھی ہوسکی‘ کرتا رہا اور ان شاء اﷲ کرتا رہوں گا۔ معاشی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ معاشرتی ذمہ داریوں میں حصہ لیا لیکن کسی جماعت سے متعلق ہوکر نہیں‘ مولانا عبدالحامد بدایونی صاحب نے کئی مرتبہ جمعیتہ العلماء پاکستان سے باقاعدہ متعلق ہونے کے لئے کہا لیکن میں نے معذرت کرلی۔ البتہ جماعت اہلسنت کراچی کے صدر مولانا سید سعادت علی صاحب جب صدر منتخب ہوئے تھے تو انہوں نے زبردستی کرکے نائب صدر منتخب کرایا چونکہ موصوف اکثر بیرون ملک دوروں پر رہتے تھے اس لئے یہ ذمہ داری میرے ذمہ ڈال دی گئی لیکن یہ سلسلہ بھی کچھ دن بعد میں نے محدود کردیا تھا۔ مفتی صاحب نے کہا کہ تصنیف و تالیف کے سلسل میں کوئی خاص کام انجام نہ دے سکا البتہ چند کتابوں کے تراجم کئے جن میں سے چند میری نام سے طبع ہوئے البتہ دو تین کتابیں وہ جن کے تراجم طبع تو ہوئے لیکن ان پر نام کسی اور کا آیا۔
انہوں نے بتایا کہ میرے تراجم میں معارج النبوۃ رکن اول (فارسی) شفائ‘ قاضی عیاض جلد ثانی (عربی) مشہور زمانہ محمد بن اسحاق کی تاریخ کا فارسی ترجمہ کئی سو سال پہلے ایران میں کیا گیا تھا۔ میں نے اس فارسی نسخہ کا اردو ترجمہ کیا ان کے علاوہ چند مغازی کے حالات اور ان مغازی میں حصہ لینے والوں صحابہ (اور کفار کے) بارے میں مولوی رحمان علی صاحب جو تذکرہ علماء ہند کے حوالے سے بہت مشہور ہوئے۔ ان کی کتاب ’’المشاہد‘‘ پر نظرثانی کرکے اس کتاب کی تسہیل کی (یہ کتابیں علامہ اقبال احمد فاروقی صاحب نے مکتبہ نبویہ سے شائع کیں چند کتابیں اور ترجمہ کی تھیں جن کی اشاعت ابھی تک نہ ہوسکی ہے)
عصری حالات میں تنظیمی و تحریکی جدوجہد کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سیاسی و سماجی اقدار وموجودہ دور میں میری اپنی افتاد طبع سے مطابقت نہیں کرتیں‘ اس لئے جتنا ممکن ہوسکتا ہے‘ وہ کرلیتا ہوں اور کوئی ایسا معرکتہ الآراء کارنامہ انجام نہ دے سکا جس کا تذکرہ کیا جائے۔
انہوں نے واضح طور پر کہا کہ میرے جد امجد دینی و علمی شخصیت نہ تھے‘ مراد آباد میں عمارتی لکڑی کے Whole Sell تاجر تھے۔ دریائے رام گنگا میں طغیانی کی وجہ سے سارا سرمایہ سیلاب کی نذر ہوگیا۔ یہ صدمہ اتنا زبردست تھا کہ اس کو برداشت نہ کرسکے اور راہی ملک بقاء ہوگئے۔ والد صاحب کا تذکرہ اکثر کتابوں میں آچکا ہے صحت نے اجازت دی اور وقت ملا تو انشاء اﷲ علیحدہ مضمون پیش کروں گا۔  جیل خانوں کی زندگی کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سنت سجاد اور دوسرے اکابر کے طریقہ پر عمل کی توفیق نہیں ہوئی۔
مضامین و مقالات کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ اخبارات و رسائل میں اکثر مضامین شائع ہوئے لیکن ان کا کوئی باقاعدہ ریکارڈ مرتب نہ ہوسکا۔ میں نے وزارت امور مذہبی اسلام آباد کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی سیرت کانفرنس میں کئی سال مسلسل مقالات لکھے جو طبع بھی ہوئے۔ سیالکوٹ میں منعقد ہونے والی سیرت کانفرنس کے لئے جو مقالہ لکھا تھا اس کو منتظمین نے خطبہ صدارت بنا دیا تھا۔ نہ معلوم طبع ہوا یا نہیں۔ البتہ مجبوری یہ معلوم ہوئی کہ چونکہ صدارت جس شخصیت کو کرنی تھی وہ سیالکوٹ نہیں آئے تھے۔ مفتی محمد اطہر نعیمی نے کہا ہے کہ اپنی ساری زندگی میں اپنے استاد محترم صدر الافاضل مولانا محمد نعیم الدین صاحب اور اپنے والد محترم تاج العلماء مفتی محمد عمر صاحب رحمتہ اﷲ علیہا کی نظر التفات شامل حال رہیں اور یہ انہیں کا فیض ہے جس کے سبب آپ جیسے نقاد کی فرمائش پر یہ سب کچھ کہہ رہا ہوں۔ مجھے جن اکابر علماء و مشائخ کی زیارت کا موقع ملا اور ان کی شخصیات نے متاثر کیا انہیں سے چند نام یہ ہیں۔ حضرت شاہ علی حسین صاحب کچھوچھوی‘ پیر سید جماعت علی صاحب علی پوری‘ فاضل بریلوی علیہ الرحمہ کے فرزندان مولانا حامد رضا خان صاحب و مفتی اعظم مولانا مصطفے رضا خان صاحب‘ پیر صاحب مانکی شریف‘ مولانا شاہ عبدالعلیم صاحب صدیقی ان سب کے بارے میں تفصیلات بیان کرنا اس وقت ممکن نہیں۔ ایک سوال کے جواب میں مفتی صاحب نے بتایا کہ بحمدہ تعالیٰ حرمین شریفین کی حاضری کی سعادت گیارہ مرتبہ حاصل ہوئی۔ چار مرتبہ حج کے موقع پر اور سات مرتبہ عمرہ کے لئے‘ میں نے پہلا حج 1972ء میں بحری جہاز سے تنہا کیا۔ اس حج کے موقع پر جو کیفیت نصیب ہوئی وہ بعد میں تین مرتبہ حاصل نہیں ہوئی اس کی وجہ یہ ہے کہ دوسرا سفر 1978ء میں اہلیہ کے ساتھ کیا ان کی وجہ سے حج کی مصروفیات میں پوری طرح یکسوئی حاصل نہ ہوسکی۔ تیسرا سفر 1987ء میں کیا۔ موجودہ حالات میں گو سفر میں بہت سی سہولتیں تو میسر آگئی ہیں لیکن زائرین کی کثرت نے ان سہولتوں کی قدر وقیمت کو کم کردیاہے۔ چوتھا سفر 1990ء میں کیا اس سفر میں اسلامی نظریاتی کونسل کے چند ممبران خصوصا مفتی سید شجاعت علی بھی ساتھ تھے۔ عمرہ کے ساتھ سفروں کے سنین یاد نہیں‘ پاسپورٹ دیکھنے پڑیں گے۔ اب حرمین شریفین کی حاضری دس سال سے نہیں ہوئی میں بھی حاضری کی دعائیں کرتا ہوں۔ آپ بھی دعا کریں کہ پھر حاضری نصیب ہو۔
انہوں نے کہا کہ اتحاد اہل سنت کے بارے میں جو سوال آپ نے کیا ہے اس کے سلسلہ میں صرف اتنا ہی کہہ سکتا ہوں کہ اس کے جواب سے آپ بھی خوب واقف ہیں۔ میں صرف یہ جملہ کہہ سکتا ہوں خلوص و ایثار اس سلسلہ میں بہت بڑا کردار ادا کرسکتے ہیں اور ساری رکاوٹوں کو دور کرسکتے ہیں۔
انہوں نے تجزیاتی انداز میں کہا کہ درسیات کے مدرسوں کی کمی کا رونا بہت سالوں سے رویا جارہا ہے لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس میں ارباب علم کی ناقدری کا بہت بڑا دخل ہے۔ اگر یہی لیل و نہار رہے تو ان اہل مدرسین کی جگہ شروح خلاصوں اور ترجموں سے پوری کرنے کی کوشش کی جائے گی۔  اب بہت سی درسی کتب کے تراجم دستیاب ہیں۔ اس لئے طالب علم محنت کی بجائے ان ترجموں اور خلاصوں سے کام نکال رہے ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ قابل طالب علم ہی قابل مدرس بن سکتے ہیں جب طالب علم محنت نہ کریں گے تو مدرس کہاں سے آئیں گے؟ یہ وبا عربی مدارس میں انگریزی اسکولوں اور کالجوں سے آئی ہے۔ جدید تعلیم کے مطابق پڑھائی اجنے والی کتابوں کے خلاصے سے طالب علم امتحانی پرچے حل کرتے ہیں اور طرفہ تماشا یہ کہ پرانے حل شدہ پرچے بھی بازار سے دستیاب ہیں اس میں استادوں کے غیر ذمہ داری اور بے توجہی کا بہت دخل ہے وہ درسی کتابوں سے پرچے مرتب نہیں کرتے بلکہ لوٹ پھیر کر پانچ سالہ پروں سے نیا پرچہ مرتب کرتے ہیں لیکن مجھے یہ کہنے میں عار نہیں کہ اس گئے گزرے دور میں بھی ایسے ذمہ دار اساتذہ موجود ہیں جو دیانت داری کے ساتھ پرچے مرتب کرتے ہیں۔
موجودہ صورتحال میں وہ مسائل جو آج کل مسلمانوں کو پیش آرہے ہیں‘ ان کے علاوہ ماضی میں جن مسائل کی طرف توجہ نہیں کی گئی اس کمی کو پورا کیا جائے مثلا اخلاقیات‘ اتباع اسلام‘ دہشت گردی وغیرہ۔ ان موضوعات پر ہمارے احباب نے لکھا تو ہے لیکن ان موضوعات پر ابھی اور بہت کچھ لکھنے کی ضرورت ہے۔ جو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ ہو۔ تفصیلات سے قطع نظر آپ کا تعلق چونکہ عملی صحافت سے ہے مجھ جیسے گوشہ نشین کی نسبت وقت کے امراض کی نباضی آپ خود بہتر طور پر کرسکتے ہیں۔
جمعیت علماء پاکستان اور جماعت اہلسنت کئی دھڑوں میں بٹ چکی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ تمام حضرات جو علیحدہ علیحدہ اپنی تنظیمیں بنائے ہوئے ہیں مل کر ان عواقب کو مدنظر رکھ کر خلوص و ایثار کا ثبوت دیں۔ ان شاء اﷲ عظمت رفتہ واپس مل جائے گی۔ یوثرون علی انفسہم ولو کان بہم خصاصۃ (الحشر 9)
مفتی محمد اطہر نعیمی نے دینی لٹریچر کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اﷲ تعالیٰ جزاء خیر عطا فرمائے ہمارے ان بزرگوں کو جنہوں نے ان لوگوں کے لئے جن کا آپ نے سوال میں ذکر کیا۔ اردو میں کتابیں لکھ دی ہیں‘ یا عربی کتابوں کے تراجم کردیئے۔ اس میں میں خود بھی شامل ہوگیا اب نہ کوئی مدارج النبوۃ (فارسی) کو دیکھتا ہے نہ خصائص کبریٰ دیکھتا ہے۔ اب محرم الحرام اور ربیع الاول میں وہ کتابیں پڑھ کر جن میں بزرگوں نے درس اور دوبارہ تقریریں کہہ دی ہیں خطابت کے جوہر دکھاتے ہیں‘ ایسے صاحب علم جو علمی انداز اختیار کرتے ہیں‘ کم ہی نظر آتے ہیں۔ میں نے یہ جملے ان اہل علم کے بارے میں نہیں کہے بلکہ آپ کے سوال نے مجھے اکسایا تو… لیکن احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ ارباب علم کے نام لے کر اردو کتابوں کے ’’محررین‘‘ کی ناراضگی مول لینا نہیں چاہتا… ضرورت ہے کہ نئے مقررین کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انہیں اس طرف توجہ دلائی جائے کہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر عوام کے سامنے وہ تقاریر کریں جن میں اتباع اسلام‘ معاشی اور معاشرتی اصلاح کے پہلو اجاگر ہوں۔ یہاں اتنا ضرور کہوں گا کہ ہمارے عوام اب اس منزل پر نہیں جو ارباب علم کی تقریریں سن کر یہ کہتے ہیں کہ ہمیں افیون کی گولیاں کب تک کھلائی جاتی رہیں گی کسی عالم‘فاضل کی تقریر میں اتنا مجمع نہیں ہوتا‘ جتنا کہ اس مقرر کے بیان میں ہوتا ہے جو نعت شریف کے الفاظ ترنم سے ادا کرتا ہو۔ اگر اوکاڑوی کی مثال دی جائے تو ہر شخص مولانا اوکاڑوی نہیں بن سکتا۔ ان کا اپنا ایک اسلوب تھا وہ نعت شریف کے اشعار پڑھ کر جوش و جذبہ کو جگا کر اپنی بات کہہ جاتے تھے۔ اس کے علاوہ محراب و منبر کی جو بات آپ نے فرمائی اس کے سلسلہ میں صرف اتنا کہوں گا کہ مسجد کے خطیب و امام کو جتنا حق محنت کاملتا ہے اس سے زیادہ تو صبح 9 بجے سے شام 5 بجے تک مزدوری کرنے والا‘ بشمول ایک گھنٹہ دوپہر میں کھانے وغیرہ کے لئے لے کر شام کو اتنی مزدوری لے لیتا ہے کہ اگر ماہانہ مزدوری کا حساب لگایا  جائے تو امام و خطیب کو اس سے تقریبا نصف معاوضہ ہاتھ آتا ہے۔
اچھے اماموں و خطباء کی مناسب خدمت کی جائے تاکہ وہ سکون و اطمینان سے مطالعہ پر اپنا وقت صرف کریں۔ درس نظامی کے ساتھ عصری علوم ضرور پڑھائے جائیں تاکہ جب ہمارے درس نظامی پڑھے ہوئے لوگ انٹرویو دینے جائیں تو انہیں صرف اس بناء پر مسترد نہ کیا جائے کہ انہیں سماجی معاملات اور معاشیات کی ضروری باتیں بھی معلوم نہیں۔ کمپیوٹر کے اس دور میں بہت سے مدارس میں اس کی تعلیم کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔ دوسرے مدارس میں کمپیوٹر کا استعمال ہونے لگا سے دارالعلوم نعیمیہ کراچی جس کا میں ایک ادنیٰ خادم ہوں‘ اب طالب علم ذوق و شوق سے اس سے استفادہ کررہے ہیں۔ البتہ یہ بات ضرور کہنی ہے کہ عربی مدارس کے طالب علموں کو اردو اور حساب کی تعلیم ضرور دی جائے اور انہیں اردو لکھنی سکھائی جائے تاکہ وہ اپنی صلاحیت کے مطابق مضامین لکھ کر اپنے زمانے کے مطابق اس کمی کو پورا کرسکیں۔
انہوں نے کہا کہ رویت ہلال کے سلسلہ میں جو سوال آپ نے کیا ہے جس وقت پاکستانی دو حصوں میں مشرقی و مغربی پاکستان تھا اس وقت بھی یہ کوئی مسئلہ نہ تھا سب رویت ہلال کمیٹی کے فیصلوں کو تسلیم کیا کرتے لیکن ہمارے بعض کرم فرما اس وقت بھی رویت ہلال کمیٹی کے فیصلہ کے باوجود ایک دن پہلے عید کیا کرتے تھے۔ اس وقت یہ انداز اس لئے سب کو پتہ نہ چلتا کہ اس وقت نہ تو اخباری دنیا اتنی ترقی یافتہ تھی نہ الیکٹرانک میڈیا موجود تھا۔ اب سائنس کی ترقی نے ان تمام باتوں کو آسان کردیا ہے اور وہ لوگ جو ہمیشہ سے اسلام کے احکام کی پابندی کرتے ہیں ان پر قدامت پسندی کا لیبل لگاتے ہیں اب اس مسئلہ کو خوب اچھالتے ہیں اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ جس دن سعودی عرب میںعید ہو اسی دن پاکستان میں بھی ہونی چاہئے۔ چاہے پاکستان کے مطلع پر چاند کا وجود ہو یا نہ ہو۔ تفصیلات سے صرف نظر کرتے ہوئے صرف یہ کہہ سکتا ہوں اور یقین کامل بھی ہے کہ رویت ہلال کا جو طریق کار اور انتظام پاکستان میں ہے ایسا شاید دنیا کے کسی اسلامی ملک میں نہیں۔
میں جب انڈونیشیا کے دورہ پر جو وزارت امور مذہبی کے زیر انتظام ہوا تھا‘ گیا وفد کے ملاقات انڈونیشیا کے وزیر امور مذہبی سے ہوئی تھی۔ موصوف نے کہا تھا کہ ہم اسلامی ممالک کے سفراء کے مجمع میں رویت کا اعلان کرتے ہیں۔ ہمیں اس کی کچھ تفصیلات بھی معلوم ہوئی تھیں کہ عید وغیرہ کے متعلق پہلے سے انتظامات ہوجاتے تھے کہ فلاں دن عید ہوگی اور اس میں اعلان بعد میں کیا جاتا تھا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ شرعی احکام کے مطابق رویت کا فیصلہ ہونا چاہئے اور یہاں بحمدہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ محکمہ موسمیات اور حکومت کے متعلقہ ادارے اس سلسلہ میں پہلے سے یہ بتا دیتے ہیں کہ چاند کتنی ڈگری ہوگا اور انسانی آنکھ اس کو دیکھ سکے گی یا نہیں۔ اس کے علاوہ رویت ہلال کمیٹی کے اجلاس کے موقع پر محکمہ موسمیات کے اہلکار بشمول اعلیٰ افسران میٹنگ میں موجود ہوتے ہیں اور محکمہ کے زونل و ذیلی دفاتر سے باقاعدہ اطلاعات حاصل کرتے رہتے ہیں کہ محکمہ کی کسی رصدگاہ سے رویت کی رپورٹ ملی یا نہیں۔ ایسا بھی ہوا ہی کہ محکمہ کی کسی رصدگان سے چاند دیکھے جانے یا سائنسی آلات کے استعمال کے باوجود روایت کا ثبوت نہیں ملا‘ رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین نے شرعی احکام پر عمل کرتے ہوئے عدم رویت کا اعلان کردیا اس کے باوجود بعض مقامات سے عید کی اطلاع ملی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اگر عوام میں سے کچھ لوگ (کسی نہ کسی وجہ سے) عید کرلیں لیکن حکومت کے اعلیٰ اور ذمہ دار حضرات رویت ہلال کمیٹی کے اعلان کے مطابق عید منائیں یہ مسئلہ ایسا ہے کہ اس پر سابقہ تجربات کی روشنی میں بہت کچھ کہا جاسکتا ہے۔ حضرت استاذ العلماء سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ علامہ عطا محمد بندیالوی علیہ الرحمہ برصغیر پاک و ہند کی ان شخصیات میں سے تھے جن پر اہل سنت جتنا فخر کریں‘ کم ہے۔ درس نظامی کی تدریس کے حوالے سے تقسیم ہند کے بعد پاکستان میں مولانا بندیالوی علیہ الرحمہ کی ذات منفرد تھی‘ میری مولانا سے بے تکلفیکی ملاقات نہ تھی لیکن اسلامی نظریاتی کونسل میں مولانا کے ساتھ میں بھی ممبر تھا‘ مولانا علیہ الرحمہ کے ساتھ جو خادم تھا اس کو میں نے حضرت علامہ بندیالوی سے فارسی کی کوئی کتاب (نام یاد نہیں رہا) پڑھتے دیکھا تو مولانا سے عرض کیا۔ حضرت یہ کتاب تو آپ کے شایان شان نہیں۔ فرمانے لگے۔ صاحبزادہ صاحب اگر انہیں اچھی فارسی نہ آئی تو آگے جاکر نحو میر‘ صرف‘ پنج گنج اور علم الصیغہ کس طرح سمجھیں گے؟ اور جس طالب علم کو فارسی آتی ہو اس کے لئے عربی آسان ہوجاتی ہے۔ ان کے بارے میں کچھ کہنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہوگا۔ حضرت مفتی محمد اطہر نعیمی نے حضرت شاہ عبدالعلیم صدیقی اور مولانا نورانی کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ مولانا شاہ احمد نورانی علیہ الرحمہ کے ساتھ میری تقسیم ہند سے پہلے دیدشنید تھی۔ موصوف کے بڑے بھائی مولانا محمدجیلانی (مرحوم) میرے ہم سبق تھے‘ اس کے علاوہ مولانا نورانی صاحب کے والد گرامی مولانا عبدالعلیم صدیقی علیہ الرحمہ جو اکثر مراد آباد تشریف لاتے رہتے‘ میرے ساتھ بہت شفقت فرماتے تھے اسی طرح مولانا نورانی صاحب بھی نہایت محبت و خلوص کا اظہار کرتے تھے۔ میں نے ان کا وہ دور بھی دیکھا جو سیاست میں آنے سے پہلے کا تھا اور سیاسی دور بھی دیکھا۔ یہاں ایک واقعہ یاد آیا۔ میں 1972ء میں جب حرمین شریفین حاضر ہوا تو حضرت مولانا ضیاء الدین صاحب رحمتہ اﷲ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ یہ دوپہر کا وقت تھا۔ نماز ظہر میں تقریبا کوئی گھنٹہ بھر باقی تھا۔ میں دست بوسی کرکے ایک طرف بیٹھ گیا۔ اس وقت مولانا صاحب کے پاس کچھ ترکی اور شامی زائرین بیٹھے تھے اور وہ ان سے مصروف گفتگو تھے۔ میں نے کچھ عرض کرنا چاہا تو حضرت مولانا نے فرمایا صاحبزادے! آپ یہ سمجھ رہے ہیں کہ میری طرف توجہ نہیںدی ان لوگوں سے فارغ ہولوں تو آپ سے بات کروں گا۔ آپ یہ سمجھ رہے کہ اس نے آپ کو پہچانا نہیں۔ آپ کے بھائی اور والدہ دو سال ہوئے مدینہ شریف آئے تھے اور آپ کے والد محترم کا نام اورآپ کے نام کے ساتھ نعیمی کا لاحقہ کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ پھر چند منٹ گفتگو کے بعد فرمایا کہ ملاقات کا وقت عشاء کے بعد مناسب رہے گا۔ رات کو جب حاضر ہوا تو دیکھا کہ وہاں تو بہت آدمی بیٹھے ہیں اور نعت شریف کا سلسلہ جاری ہے۔ دوسرے دن جب حاضر ہوا تو چند افراد بیٹھے تھے اس دن گفتگو کا موقع ملا۔ کراچی اور مراد آباد کے حالات کے علاوہ ذاتیات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ مجھے اندازہ ہوا کہ مدینہ طیبہ میں بیٹھ کر حضرت مولانا ہم سب کے حالات سے واقف ہیں۔ اسی ضمن میں یہ بات فرمائی جس کے لئے میں نے اتنی بڑی تمہید ’’گانٹھی‘‘ ہے۔ فرمانے لگے … ’’میں نے نورانی سے کہا تھا کہ سیاست کی پرخار وادی میں قدم تو رکھ رہے ہو لیکن حقانیت اور حق گوئی میں فرق نہ آنے پائے… حالات کا ڈٹ کر بلا خوف لومتہ لائم کام کرنا‘‘
مفتی اطہر نعیمی کا کہنا تھا کہ یہ درست ہے کہ پاکستان کے قیام کا مقصد اسلام اور صرف اسلام تھا اگر انگریزی جمہوریت کے طرز کی حکومت کا قیام مقصد ہوتا تو ہندوستان سے ترک وطن کرکے آنے والے مشرقی پنجاب‘ دہلی اور ہندوستان میں لاکھوں مسلمانوں کی شہادت کا کیا مقصد؟ صرف اتنا ہی کہہ سکتا ہوںکہ ایک گروہ نے یہ سوچا کہ اگر پاکستان میں نظام مصطفےﷺ نافذ ہوگیا تو ہماری (قسم قسم کی) آزادیاں سلب ہوجائیں گی۔ آج اگر قوم نظام مصطفےﷺ کو رائج کرے تو طبقاتی‘ لسانی اور دیگر تعصبات ختم ہوجائیں گے اور قوم متحد ہوکر اس کو اسلام کا گہوارہ بنائے گی۔ اگر اس موضوع پر سیر حاصل تبصرہ کیا جائے تو بہت سے پردہ نشینوں کے نقاب اتر جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ تقسیم ہند سے قبل فتنہ قادیانیت اتنا نہیں ابھرا تھا‘ یہ لعنت تو پاکستان بننے کے بعد تیزی کے ساتھ ابھری۔ ہندوستان کی تقسیم سے قبل مجھے جیسا کہ یاد ہے کہ مراد آباد میں صرف ایک قادیانی سے واقف تھا‘ شہر میں اور بھی قادیانی ہوں گے لیکن وہ اپنا عقیدہ کھلم کھلا ظاہر نہیں کرتے تھے۔ بعض علاقوں میں دوسری حقیقت ہوگی‘ اگر ایسا نہ ہوتا تو ’’الیاس برنی‘‘ صاحب فتنہ قادیانیت پر ایسی عظیم کتاب ’’فتنہ قادیانیت کا علمی محاسبہ‘‘ نہ لکھتے۔ وہ کتاب آج بھی اپنی افادیت باقی رکھے ہوئے ہے۔ اس کے علاوہ بھی اور بہت سے ارباب علم نے اس موضوع پر قلم اٹھایا ہے۔ جو قابل رشک ہے اس موضوع پر کام جاری رہنا چاہئے۔
تحریک پاکستان کے حوالے سے جدوجہد اور حالات کے حوالے سے ایک سوال پر مفتی صاحب کہنے لگے کہ پاکستان کے سرکردہ سیاسی لیڈروں میں نواب محمد اسماعیل خاں‘ مولانا حسرت موہانی‘ مولانا صبغت اﷲ انصاری‘ مولانا جمال میاں سے ملاقات ہوئی تھی۔ جب وہ 1946-47ء میں مراد آباد میں مسلم لیگ کے جلسہ میں آئے اور میرے مکان کے قریب ٹھہرے تھے اور صدرالافاضل مولانا سید محمد نعیم الدین صاحب سے ملاقات کے لئے ان کے مکان پر گئے تھے۔ مفتی صاحب بڑی محبت سے کہہ رہے تھے کہ علاوہ ازیں میں عمر کے اس دور میں تھا کہ یہ ذہن میں نہیں آسکتا تھا کہ ایک وقت وہ آئے گا جب محبوب الرسول قادری صاحب اتنے سوالات کریں گے جن کا مکمل جواب دینا ممکن نہ ہوگا اگر شعور پختہ اور ذرائع ابلاغ اتنے وسیع ہوئے تو ضرور ان باتوں کو ذہن میں رکھتا۔ ایک سوال پر مفتی صاحب یوں گویا ہوئے بحمدہ تعالیٰ اکابر اہلسنت مشائخ کرام کی زیارت کا موقع ملا اور اس کا سبب یہ تھا کہ اکثر بزرگ حضرت صدر الافاضل مولانا سید نعیم الدین صاحب کے پاس تشریف لاتے اور ان کی ملاقات کا شرف حاصل ہوجاتا اور آل انڈیا سنی کانفرنس منعقدہ بنارس کے موقع پر تو ایسے بزرگوں کو دیکھا جن کے صرف نام سنے تھے اور وہ بھی تھے جن کے نام تک نہ سنے تھے۔ مدارس دینیہ میں زیر تعلیم سادات کرام کے لئے صدقات واجبہ سے تصرف کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس سوال کے جواب مدارس سے متعلق وہی حضرات دے سکیں گے جن کے ذمہ یہ انتظامات ہوتے ہیں۔ یہ بھی مدنظر رکھیں کہ مدارس میں صدقات واجبہ کے ساتھ صدقات نافلہ بھی آتے ہیں اور عطیات بھی… اس لئے صرف صدقات واجبہ سے اخراجات سمجھ لینا درست نہ ہوگا۔ یقینا ذمہ دار منتظمین کو بھی یہ مسئلہ معلوم ہوگا اور یاد بھی ہوگا۔