ہوتی رہیں‘ ہمیں ایک طرف مشرکین نے گھیرا‘ دوسری طرف یہودیوں نے درپردہ سازشیں کیں اور ایسے حالات میں آستین کے سانپوں منافقین نے بھی اپنی موجودگی کا پورا احساس دلایا اور ان مصائب و آلام سے لبریز حالات کے باوجود ہم نے اسلام کی دولت اپنے آنے والی نسلوں کو منتقل کی۔
میں ان کی باتوں کو سر جھکائے سنتا رہا۔ پھر یہ دولت اسلام ہمیں ملی (تابعین میں سے کسی نے کہا)
ہم نے اس دولت کی پوری حفاظت کی‘ ہم نے علم کی روشنی بھی حاصل کی اور اس وقت کی عالمی طاقتوں قیصر و کسریٰ کو بھی ناکوں چنے چبوائے۔ ہم نے اپنے جسموں کو تیروں اور نیزوں سے چھلنی کروالیا۔ اپنی گردنوں کو تیز تیغ کے سپرد کرکے سروں کو تو کٹوادیا مگر اس امانت کو اپنی اگلی نسل کو منتقل کردیا۔
میں حیرانگی سے ان کی بات کو سن رہا تھا میرے علم میں تو یہ بات آج آئی کہ اسلام کتنی مشقت سے کتنی قربانیوں اور کتنے سروں کے نیزوں پر بلندی کے بعد ہم تک پہنچا ہے۔ پھر یہ امانت ہمارے پاس منتقل ہوئی‘ ہم نے اس امانت کو ملوکیت کے دور میں بھی سنبھال کر رکھا اور ظلم و ستم کی فکر و تدبر کی جنگوں میں بھی اس امانت میں خیانت نہیں ہونے دی۔ خلق قرآن کا مسئلہ ہو یا کوئی اور فتنہ ہم نے کوڑے بھی کھائے‘ ہمارے چہروں کو سیاہ کرکے گدھے پر بٹھا کر اس شہر رسول میں گھمایاگیا جہاں ہم قال اﷲ و قال رسولﷺ کی صدائیں بلند کیا کرتے تھے۔ ہمیں زہر کے پیالے پلائے گئے صرف اس لئے کہ اس امانت میں خیانت کردو اور چند لوگوں کے چند روزہ اقتدار کو سہارا دے دو۔ اسلام کو قربان کردو۔
مگر ہم نے کوڑے تو کھا لئے‘ اپنی کھالیں تو ادھڑ والیں اور زہر کے جام کو لبوں سے لگالیا مگر اس امانت میں خیانت نہیں کی۔ اور اس امانت کو اپنی اگلی نسلوں کے سپرد کردیا۔
اور پھر یہ امانت ہم تک پہنچی (سلطان صلاح الدین ایوبی کی رعب دار آواز گونجی)
اہل صلیب نے پوری کوشش کی کہ اسلام روئے زمین سے مٹ جائے۔ انہوں نے ظلم و تشدد کی نئی رسموں کا اجراء کیا۔ مسلمان دوشیزائوں کی عفت‘ و عصمت پر ڈاکے ڈالے گئے۔ مسلم نوجوانوں کو ہلاک کیا۔ جہاں مسلمان اقلیت میں تھے اور صرف یہی نہیں بلکہ باطنی ہشیشیں‘ قرامطی فتنوں کی بنیاد رکھی۔ ان کی اہل صلیب نے پشت پناہی بھی کی اور انہوں نے بھی ستم ڈھانے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔
میری زندگی کے زیادہ دن گھوڑے کی پیٹھ پر تو بسر ہوئے جسم تیروں‘ تلواروں‘ نیزوں اور بھالوں کے چرکوں سے زخمی تو ہوا مگر یہ امانت اگلی نسلوں تک منتقل کر گئے۔ ہمارے ساتھیوں نے اپنے لہو سے وہ چراغ روشن رکھے جو قرون اولیٰ کے مسلمانوں نے روشن کئے تھے۔
ابھی میں ان کی تقریر کے سحر میں ڈوبا ہوا ہی تھا کہ سلطان محمود غزنوی کی آواز سنائی دی۔
ہم نے ابھی اس امانت کو تم تک منتقل کرنے میں ذرا کوتاہی نہیں کی اور جانوںکے نذرانے تو پیش کئے اس امانت کا سودا نہیں کیا اور ان چراغوں سے اپنے لہو کو جلائے رکھا جنہیں قرون اولیٰ کے مسلمانوں نے روشن رکھا تھا۔ پھر سقوط بغداد کا سانحہ پیش آیا۔ ایک اور مجاہد کھڑا ہوا۔
50 برس تک امت کی قیادت کسی کے پاس نہ رہی پھر اﷲ تعالیٰ کا کرم ہوا اور یہ قیادت ہمارے ہاتھوں آئی۔ یہ وہ وقت تھا جب اس روشن چراغ کو کئی آندھیاں بجھانے کی کوششیں کررہی تھیں۔ ہم نے اس دیئے کو جلائے رکھا ترکی میں یہ دیا جلتا رہا اور خلافت عثمانیہ میں اس دیئے کی کرنیں پھوٹتی رہیں۔ اہل صلیب کے لشکر‘ یہود ونصاریٰ ہمارے گھوڑوں کی ٹاپوں سے لرزتے رہے اور پھر دشمن اور منافقین کی سازشوں نے اس خلافت کو ٹکڑے ٹکڑے کرڈالا۔ اہل صلیب کی پرزور آندھیاں چلتی رہیں مگر ہم نے دین میں تحریف نہیں ہونے دی اور اس امانت کو اگلی نسل تک منتقل کردیا۔
پھر اسی محفل میں برصغیر کے ان علماء کی آوازگونجی جنہیں 1857ء کی جنگ آزادی میں شہید کردیا گیا تھا۔
عزیز نوجوانو! ہم نے اس امانت کی منتقلی کی پوری کوشش کی اور اپنی جانوں کے نذرانے تو پیش کردیئے اپنے لہو سے چراغ کو روشن رکھا ملک تو ہم سے چھن گیا مگر ہم دولت اسلام کو تم تک پہنچانے میں کامیاب ہوگئے۔
صلیبیوں کے شہید اور مسلمانوں کے قتیل نامی شخص کے افکار و نظریات کی ہم نے دھجیاں بکھیر دیں۔ اپنے خون سے مستقبل کی تاریخ لکھ ڈالی مگر اس امانت میں خیانت نہیں ہونے دی۔
یہ ہے وہ المناکداستان‘ دردناک کہانی اور مصائب و آلام کا وہ سفر جس کے بعد ہم نے یہ اسلام تم تک پہنچایا… جگہ جگہ خون کے دریا پار کئے… منزل بہ منزل خون کے چراغ روشن کئے… اور آہ و فغاں اور سسکیوں کے نالوں کے بعد یہ دولت اسلام تم تک پہنچی ہے۔ آن آوازوں نے مجھے رلا دیا۔
اور میں ابھیاس بزم سے نکلنے کا سوچ ہی رہا تھا کہ ایک اور آواز گونجی
ابھی کہاںجارہے ہو رک جائو!
میں سوچنے لگا کہ یہ آواز کس کی ہے؟ میں نے نظر اٹھا کر دیکھا تو سامنے شہدائے نشتر پارک کھڑے تھے۔
تمہیں معلوم ہے ہمیں کس جرم میں شہید کیا گیا؟
میں نے کہا کہ ہاں! مجھے معلوم ہے کہ آپ کو کس جرم میں شہید کیا گیا کیونکہ یہ میرے عہد کا واقعہ ہے۔
آپ کا جرم عشق رسولﷺ تھا
آپ استعمار کی راہ میں کھٹکنے والے کانٹے تھے
آپ وہ تھے جن کی آواز مسلمانوں میں سنی جاتی تھی
آپ کی آواز پر لوگ گھروں سے باہر آجاتے تھے
آپ کا جرم یہ تھا کہ آپ مغربی تہذیب و ثقافت کی راہ میں چٹان بن کر حائل ہورہے تھے
آپ کا جرم یہ تھا کہ آپ نے حدود اﷲ میں ترمیم نہیں ہونے دی
آپ کا جرم یہ ہے کہ آپ نے نوٹوں کے عوض اپنے دین کا سودا نہیں کیا
آپ کا جرم یہ ہے کہ آپ نے روشن خیالی کے مغربی فلسفے کو مسترد کردیا
آپ کا جرم یہ ہے کہ آپ نے فحاشی و عریانیت کے بلوں کی حمایت نہیں کی
آپ کا جرم یہ ہے کہ آپ اسلامی اقدار کی حفاظت کے لئے اپنا کردار ادا کرتے رہے
آپ کا جرم یہ ہے کہ آپ نے حق کو حق اور باطل کو باطل کہا
آپ کا جرم یہ ہے کہ آپ بکے نہیں
آپ کا جرم یہ ہے کہ آپ نے بازار رسوائی میں اپنی قیمت نہیں لگوائی
اور غداروں کے اس بازار میں ایمان و عقائد کا سودا نہیں کیا۔
آپ کے ان جرموں کی طویل فہرست مغربیت پسند حکمرانوں نے ہر شخص کے تخیل میں بغیر کسی کاغذی تحریر کے نمایاں کردی ہے۔
نوجوان تم نے سچ کہا مگر یہ تو بتائو! کہ ہماری شہادت کے بعد کیا ہوا؟
کیا ہمارے قاتل گرفتار ہوگئے؟
کیا وہ جرائم جن کی پاداش میں ہمیں بم دھماکے میں شہید کردیا گیا اس الحاد کے خلاف اہل وفا نے ان سے بغاوت کی؟
کیا مغرب کی ننگی تہذیب و ثقافت کی راہ میں کوئی رکاوٹ حائل کی گئی؟
کیا روشن خیالی کے مغربی ایجنڈے کو رد کرنے کے لئے کوئی کانفرنس ‘ کوئی مجلس‘ کسی مذاکرے کا اہتمام کیا گیا؟
کیاان امڈتی ہوئی‘ الحاد کی آندھیوں کو روکنے کا کوئی اور سامان کیا گیا؟
کیا تشکیک کے بیج جو نونہالان ملت کے ذہنوں میں بوئے جارہے ہیں اس کا کچھ تدارک ہوا؟
کیا امت کی بیٹیوں کے لئے عفت و عصمت کا کوئی سامان ہوا؟
کیا جامعات اور کالج میں پڑھنے والے کلیسا کے نصاب میں کچھ تبدیلی لائی گئی اگر یہ ممکن نہ تھا تمہارے لئے تو کیا ان کے قبلہ کو درست رکھنے کے لئے کوئی لٹریچر لکھوا کران میں تقسیم کیا گیا؟
سوالات کا یہ سلسلہ تابڑ توڑ سوالات نے مجھ سے کھڑے ہونے کا حوصلہ بھی چھین لیا اور میں برستے ہوئے آنسوئوں کے ساتھ زمین پر گھٹنے ٹیک کر رونے لگا۔ میری ہچکیاں بندھ گئیں۔ جب آنسوئوں نے میرے رخسار کو بھگو دیا تو میں تخیل کی اس بزم سے باہر بیٹھا ہوا تھا۔
عزیزان گرامی!
۱۲ ربیع الاول کی مبارک ساعتیں قریب ہی قریب ہیں۔ یہ وہ دن ہے جس دن نبی کریمﷺ اس دنیا میں تشریف لائے‘ تاریکیوں کے اندھیرے دور ہوئے‘ ظلم و ستم کی آندھیاں فنا ہوگئیں… امن وآشتی کی فضا میں بھائی چارگی نے جنم لیا… جس دن یتیموں کے سر پر  دست شفقت رکھنے والے کی ولادت ہوئی… جس دن بیوائوں کے سہارے کی آمد ہوئی… جس دن بے کسوں کا حامی اس دنیا میں تشریف لایا… جس دن مظلوموں کی داد رسی کرنے والا پیدا ہوا… جس دن امن وآشتی کے پیغمبر کی ولادت ہوئی۔
عزیزان گرامی!
اس خوشی میں ہمارے محلے‘ گلی‘ کوچے‘ شہر‘ بستی سب کے سب خوشی میں ڈوب جاتے ہیں اور ہر ایک بام و در سے یہ صدا سنائی دیتی ہے۔
نثار تیری چہل پہل پر ہزاروں عیدیں ربیع الاول
سوائے ابلیس کے جہاں میں سبھی تو خوشیاں منا رہے ہیں
احباب من!
ان خوشیوں کو روکنے کے لئے کسی ابلیسی قوت نے بارود کی قہرسے مٹانے کی کوشش کی تو کسی نے فتوئوں کی توپوں سے مٹانے کی کوشش کی اور اس پر تحریف فی الدین اور شرک و بدعت کی گولہ باری کی مگر یہ نہ رکی اور نہ رکے گی کیونکہ اس بزم کی ابتداء اس میلاد کی ابتداء رب العالمین نے کی ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہوتا ہے…
ترجمہ: اور یاد کرو جب لیا اﷲ تعالیٰ نے انبیاء سے پختہ وعدہ کہ قسم ہے تمہیںاس کی جو دوں میں تم کو کتاب اور حکمت سے پھر تشریف لائے تمہارے پاس وہ رسول جو تصدیق کرنے والا ہو ان (کتابوں) کی جو تمہارے پاس ہیں تو تم ضرور ایمان لانا اس پر اور ضرور ضرور مدد کرنا اس کی (اس کے بعد) فرمایا تم نے اقرار کرلیا اور اٹھالیا تم نے اس پر میرا بھاری ذمہ؟ سب نے عرض کی ہم نے اقرار کیا (اﷲ نے) فرمایا تو گواہ رہنا اور میں (بھی) تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ہوں پھر جو کوئی پھرے  اس (پختہ عہد) کے بعد تو وہی لوگ فاسق ہیں (سورہ آل عمران آیت 81-82)
عزیزان گرامی!
اس آیت پر غور فرمایئے۔
کس سے پختہ وعدہ لیا جارہا ہے؟ انبیاء کرام جن کی معصومیت میں ذرا شک نہیں
کیا فرمایا گیا
’’تم ضرور ضرور ان پر ایمان لانا‘‘
’’تم ضرور ضرور ان کی مدد کرنا‘‘
اب عالم الغیب و الشہادۃ تو جانتا ہے کہ اس کے علم میں تو پہلے ہی سے ہے کہ میں اپنے اس محبوب نبی کو سب سے آخر میں بھیجوں گا۔ پھر پختہ عہد کیوں لیا؟
پھر فرمایا کیا تم نے اقرار کرلیا اور اٹالیا تم نے اس پرمیرا بھاری ذمہ سب نے عرض کی ہم نے اقرار کیا۔
اب فرمایا… تو آپس میں ایک دوسرے کے گواہ ہوجائو
اور
میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ہوں۔
اورپھر کیا یہ مجلس اختتام پذیر ہوگئی
نہیں بلکہ فرمایا
اپنے پیاروں سے پھر جو کوئی پھرے اس پختہ عہد کے بعد تو وہی لوگ فاسق ہیں۔
علامہ ابن جریر اس آیت کے تحت لکھتے ہیں کہ…
حضرت نوح علیہ السلام سے لے کر آج تک اﷲ تعالیٰ نے کوئی نبی بھی ایسا مبعوث نہیں کیا کہ جس سے یہ وعدہ نہ لیا ہو کہ وہ حضرت محمدﷺ پر ایمان لائے گا۔ اگر آپ تشریف لائے ہوں  جبکہ وہ نبی زندہ ہو تو وہ ضرور آپ کی مدد کرے گا اور یہ وعدہ بھی لیا کہ وہ اپنی قوم سے وعدہ لے گا کہ وہ بھی حضورﷺ پر ایمان لائے گی اور آپ کی مدد کرے گی۔ اگر حضورﷺ تشریف لائیںگے جب کہ وہ قوم زندہ نہ ہو
(تفسیر در منثور جلد 2 ص 134 از علامہ جلال الدین سیوطی مطبوعہ ضیاء القرآن بحوالہ تفسیر طبریٰ)
حضرت ام المومنین حضرت صفیہ رضی اﷲ عنہا اپنا چشم دید واقعہ بیان کرتی ہیں جس سے یہودیوں کے خبث باطن پر روشنی پڑتی ہے۔ وہ فرماتی ہیں۔
’’میں اپنے باپ حی اور چچا ابو یاسر کی ساری اولاد سے زیادہ لاڈلی اور ان کی آنکھوں کا تارا تھی۔ جب بھی میں ان کے سامنے آتی تو وہ دوسرے بچوں کو چھوڑ کرمجھے اٹھا لیتے۔ جب رسول اﷲﷺ ہجرت کرکے آئے اور قبا میں قیام پذیر ہوئے تو ایک روز میرا باپ حی اور میرا چچا ابو یاسر منہ اندھیرے قبا گئے۔ سارا دن وہیں گزارا۔ وہ شام غروب آفتاب کے بعد واپس آئے تو وہ از حد افسردہ اور درماندہ تھے۔ بڑی مشکل سے وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھا کر چل رہے تھے۔ میں حسب دستور ان کو خوش آمدید کہنے کے لئے آگے بڑھی لیکن ان دونوں میںسے کسی نے میری طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھا۔ اس وقت میں نے سنا کہ میرا چچا ابو یاسر میرے باپ کو کہہ رہا تھا ’’اہو ہو‘‘ کیا یہ وہی ہے۔ حی نے کہا ہاں وہی ہے۔ ابو یاسر نے کہا کیا تم نے ان کو ان صفات اور علامات کے ذریعہ پہچان لیاہے۔ اس نے کہا ہاں خدا کی قسم! ابو یاسر نے پھر پوچھا ان کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے (کیا ان پر ایمان لائیں‘ یا نہیں) قال عداوتہ واﷲ ما یقیت حی نے کہا میں نے تو فیصلہ کرلیا ہے کہ جب تک زندہ رہوںگا ان کی دشمنی پر پکا رہوں گا … (ضیاء النبی جلد سوم ص 209)
پیر کرم شاہ الازہری اپنی شہرہ آفاقی کتاب سیرت ضیاء النبی میں لکھتے ہیں:
مخیریق النضری یہ یہود کے بنو نضیر قبیلہ کا فرد تھا اور ان کا بہت بڑا عالم تھا۔ یہ حضور پرنورﷺ کو ان نشانیوں کے باعث خوب پہچانتا تھا جو تورات میں مذکور تھیں لیکن اپنے آبائی دین سے اس کی دلی محبت نے اس کو اجازت نہ دی کہ حضورﷺ پر کھل کر ایمان لائے۔ یہاں تک کہ ہفتہ کا وہ دن طلوع ہوا جس روع معرکہ احد وقوع پذیر ہوا۔ اچانک اﷲ تعالیٰ نے اس پراپنی خصوصی رحمت فرمائی ‘ تعصب اور تقلید کے قفس کو اس نے توڑ دیا اور اپنی قوم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔
اے گروہ یہود! بخدا تم جانتے ہو کہ محمد مصطفیﷺ کی امداد تم پرفرض ہے۔ چلو اس فرض کو ادا کریں۔ وہ کہنے لگے آج تو یوم السبت ہے۔ یعنی ہفتہ کا دن ہے ہمارے لئے آج جنگ ممنوع ہیاس نے کہا یہ سب تمہاری من گھڑت باتیں ہیں۔ میں تو جارہا ہوں۔ اس نے اپنے وارثوں کو بلایا اور وصیت کی کہ اگر میں لڑائی میں مارا جائوں تو میرے سارے اموال حضورﷺ کی خدمت میں پیش کردینا‘ حضورﷺ جیسے چاہیں انہیں خرچ کریں۔
پھر ہتھیار سجا کر میدان جنگ کا رخ کیا اور جہاں گھمسان کارن پڑ رہا تھا وہاں گھس گیا۔ آخر دم تک لڑتا رہا۔ یہاں تک کہ اﷲ کی راہ میں جان دے دی (ضیاء النبی جلد سوم ص 499)
احباب من!
بتانا صرف اتنا مقصود ہے کہ تمام انبیاء نے امام الانبیاء کی مدد کا وعدہ لیا اپنی اپنی قوموں سے آج اسی دین پر آکر عجب وقت پڑا ہے۔
آج الحاد و گمراہی کی آندھیاں اس دین اسلام کو مٹانے کے درپے ہے۔
مغربی تہذیب کی آگ نبی کریمﷺ کے دین روشن تہذیب و ثقافت کو جلانے کے لئے بے تاب ہورہی ہے۔دین اسلام کو ڈھانے کے لئے مغربی روشن خیالی کا ڈھنڈورا پیٹا جارہا ہے۔
اے ملت اسلامیہ کے غیور لوگو!
اس امت کونبی کریمﷺ کا کلمہ پڑھنے کے جرم میں گولیوں سے بھونا جارہا ہے۔ ان پر بمباری کی جارہی ہے ان کودھماکوں میں اڑایا جارہاہے۔ ان میں فرقہ واریت کے بیج بوئے جارہے ہیں۔ ان کے گھروں اور مساجد کو ان کے بازاروں کو خس و خاشاک کے ڈھیر میں تبدیل کیا جارہا ہے۔
اے ملت ہاشمی کے نگہبانو!
امت مسلمہ کے نوجوانوں لارڈ میکالے کے کالے کلیسائی نظام تعلیم کا اسیر بنا کر ان کی رگوں سے روح محمدی کو نکالنے کی عالمی سازشیں ترتیب پاچکی ہیں اور اب تو قوم صلیب ان سے نتائج حاصل کررہی ہے۔
آئو آج ہم ان جماعت میں ان کالجز میں یہاں کے طلبہ و طالبات میں اور یہاں کے اساتذہ میں دینی اور اسلامی لٹریچر کو عام کریں…ادیبوں سے لکھوائیں… قلم کاروں کا تعاون حاصل کریں اور تشکیک و الحاد کے طوفانوں کے سامنے بند باندھیں۔ آج ہمیں اپنے پیارے نبیﷺ کے دین کی مدد کرنی ہے۔
ولتنصرنہ (ضرور ضرور ان کی مدد کرنا)
آج مادر پدر آزاد میڈیا اور ہمارے نام نہاد مذہبی میڈیا اپنی ذمہ داریوں سے پہلوتہی کرتے ہوئے ایک طرف اخلاق باختہ پروگراموں کو نشر کررہا ہے تو دوسری جانب ہمارا مذہبی میڈیا نام نہاد اسلامی میڈیا‘ منافقوں کو‘ خارجیوں کو ٹی وی پر بٹھا کر دین اسلام کو ڈھانے میں کردار ادا کررہاہے۔
کیا ہماری یہ ذمہ داری نہیں کہ ہم اس کو روک سکیں‘ اگر ہم روک نہیں سکتے تو منافقین کو پروموٹ کرنے سے روک تو سکتے ہیں۔
مگر نہیں… اہل ہوس کے مفادات کے سامنے اجتماعیت اور دین اسلام کی کوئی اہمیت نہیں۔ یاد رکھنا… ارشاد فرمایا ہے۔
ولتنصرنہ (ضرور ضرور ان کی مدد کرنا)
آج ان کی مدد کرنے کے بجائے منافقین کو ٹی وی کے سامنے بٹھایا جارہاہے۔ صرف اس لئے کہ وہاں سے کچھ آمدنی ہورہے‘ کچھ ان کی جیبوں پر بوجھ نہیں پڑرہا۔
احباب من!
ذرا بتایئے آج ہمارے کتنے دینی اسکول ہیں جہاں اسلامی تعلیم دی جارہی ہو۔
ذرا بتایئے آج ہمارے کتنے جرائد و رسائل ہیں جو بین الاقوامی طرز پر نکلتے ہیں۔
ذرا بتایئے آج ہمارے ہاںکتنے نامور علماء ہیں جومیڈیا پر بدمذہبوں اور کفار کودندان شکن جواب دے سکتے ہیں۔
ذرا بتایئے آج ہمارے نوجوان کے پاس کتنا اسلامی لٹریچر ہے۔
ذرا بتایئے ہم نے اب تک نوجوان لڑکیوں اور لڑکوںکے لئے کتنا اسلامی لٹریچر لکھا اور طبع کروایا۔
ذرا بتایئے تو صحیح ہم نے نئی نسل جو ابھی اسکول میں ہے‘ ان کی تربیت کے لئے کتنی اسلامی کہانیاں چھپوائیں۔
ذرا بتایئے تو صحیح ہم نے کتنے یتیم خانے کھولے‘ کتنی بیوائوں کو سہارا دیا۔ کتنے بیماروں کے لئے اسپتال قائم کئے۔
ذرا بتایئے‘ ہمارے یہاں چند ایک کے سوا کتنے پبلشرز ہیں جو عالمی طرز پر کتابوں کی طباعت کرا رہے ہیں۔
دوستو اور بزرگو!
ستم کی سیاہ رات گہری سے گہری ہوتی چلی جارہی ہے…آج دین اسلام کی مدد کی جتنی ضرورت ہے‘ اس سے قبل نہ تھی‘ مگر ہم ابھی تک خواب غفلت میں گرفتار ہیں۔ ہم ابھی تک نہ جانے کس آسمانی امداد کے منتظر ہیں کہ ہمیں کچھ نہ کرنا پڑے اور سب کچھ خودبخود ہوجائے۔ اگر آج ہم نے اس پیارے دین کی مدد نہیں کی تو کیا کل ہم روز محشر اپنے نبی کو منہ دکھا سکیں گے۔
ہم کل کیا جواب دیں گے؟
ہم کس بات پر جنت کی امید رکھیں؟
یاد رکھو! وہاں دنیاوی بہانہ‘ لنگڑی لولی مصلحت کام نہ آئے گی۔
آج ہی سے اپنی زندگیوں میں تبدیلی لایئے۔
جہاں آپ محفل نعت میں لنگر کا اہتمام کرتے ہیں اس کی تعداد کو کم کرکے صرف نیاز دلا دی جائے اور اس کی جگہ علمائے اہلسنت کا لٹریچر فری تقسیم کیجئے۔
اگر آپ حج یا عمرہ کی سعادت حاصل کرچکے ہیں اور دوبارہ کرنا چاہتے ہیںتو آپ سے یہ گزارش ہے کہ اس رقم کو مدرسہ کی تعمیر اور دین اسلام کی اشاعت پر لگایئے۔
اگر اﷲ نے آپ کوصاحب حیثیت بنایا ہے تو ﷲ لاکھوں روپے محفل نعت پر لگانے کے بجائے اہلسنت کے کسی مدرسہ کی سرپرستی فرمایئے یا پھر کسی بزم اور تنظیم کی سرپرستی کے ذریعے دینی لٹریچر کوعام کرنے کی کوشش کیجئے۔
احباب من!
اگر آپ کے پاس اتنا بھی نہ ہو تو اتنا ضرور کیجئے کہ اپنے گھر میں ذاتی لائبریری کی بنیاد رکھئے اور ہر مہینے کسی عالم دین کی کوئی نہ کوئی کتاب اپنے گھر میں ضرور لایئے۔
یہ ساری کوششیں اس نبی کے دین کی مدد میں انشاء اﷲ ضرور ضرور معاون ثابت ہوں گی جن کے لئے فرمایا۔
ولتنصرنہ (ضرور ضرور ان کی مدد کرنا)
عزیزان گرامی!
آج ہم میں سے ہر ایک شخص چاہتا ہے کہ ایسا ہو مگر وہ خود آگے نہیں بڑھنا چاہتا‘ کوئی اور آجائے اور یہ کام ہوجائے آسمان سے امداد نازل ہوجائے بس ہمیں کچھ نہ کرناپڑے۔
فلسطین کے مسلمانوں کو سکون میسر آجائے۔ اب آنکھیں یہودیوں کی وحشت و بربریت کو دیکھ نہیں پاتیں… عراق و افغانستان کی سرزمین میں سے امریکی فوج چلی جائے جس نے ظلم و ستم میں چنگیز خان کو بھی پیچھے چھوڑ دیاہے… اسلامی لٹریچر عام ہوجائے… بدعقیدہ اور مشنری ادارے اپنا غلیظ لٹریچر پھیلانا بند کردیں…استشراق اور تبشیری تحریکیں بندہوجائیں … اور ہر طرف اسلام کا بول بالا ہوجائے…
ان کے لئے بس اتنا ہی کہوں گا
صاحبان شب دیجور سحر مانگتے ہیں
پیٹ کے زمزمہ خاں درد جگر مانگتے ہیں
کور دل خیر سے شاہیں کی نظر مانگتے ہیں
آکسیجن کے تلے عمر خضر مانگتے ہیں
اپنے کشکول میں ایوان گہر ڈھونڈتے ہیں
اپنے شانوں پر کسی اور کا سر ڈھونڈتے ہیں