دین اسلام کی عظمت و شان ہر ایک انسان پر آشکار ہے اب یہ رب کائنات جل جلالہ کی توفیق پر ہے کہ وہ جسے چاہے ہدایت کا نور عطا کرے‘ کسی نے اپنی ناقص عقل سے سورج کو خدا مانا‘ وہ گمراہ ہوئے۔ کسی نے اپنی ناقص عقل سے چاند‘ آگ‘ درخت‘ پتھروں اورشیاطین کو خدا مانا‘ وہ بھٹک گئے۔ مسلمان اس لئے ہدایت پاگئے کہ انہوں نے اپنی عقل کے گھوڑے نہیں دوڑائے‘ یعنی اپنی عقل سے کسی کو خدا نہ مانا بلکہ رسالت مآبﷺ کی معرفت خدا تعالیٰ کو مانا اور پہچانا۔
اسلام وہ واحد مذہب ہے جو کسی نبی کی شان میں گستاخی کی اجازت نہیں دیتا اور ہر نبی کی تعظیم و ادب کا حکم دیتا ہے اور ان پر نازل کئے گئے صحائف اور آسمانی کتابوں پر بھی ایمان رکھنے کا حکم دیتا ہے مگر یہ بات دوسرے مذاہب میں نہیں ہے۔ ان مذاہب کے ماننے والے اکثر و بیشتر انبیاء کرام اور فخر اسلام سرور کائناتﷺ کی شان میں گستاخی کرتے ہیں اور مسلمانوں کو اکساتے رہتے ہیں۔
اسی کی ایک کڑی موجودہ دور میں پورے ملک میں کھلے عام فروخت اور تقسیم ہونے والی ’’بنام حیات اقدس حضرت عیسٰی المسیح‘‘ ایک سی ڈی ہے جس میں انبیاء کرام علیہم السلام کی شان میں گستاخی کی گئی ہے۔ مجھے کچھ دنوں قبل کسی نے یہ سی ڈی بھیجی اور کہا کہ آج کل عیسائی مشنری اس سی ڈی کو پورے ملک میں عام کررہی ہے۔ آپ اس کو دیکھ کر ان میں موجود گستاخانہ چیزیں ہائی لائٹ کرکے  مسلمانوں کو عیسائیوں کے کفر سے آگاہ کریں اور اس  سی ڈی کی فروخت اور تقسیم روکیں تاکہ مسلمانوں کے ایمان کی حفاظت ہو۔
اب میں آپ کے سامنے اس سی ڈی میں موجودگستاخانہ باتیں پیش کروں گا تاکہ ہر مسلمان کو اندازہ ہوجائے کہ عیسائیت کی تبلیغ کے پیچھے کیا حقیقت پوشیدہ ہے۔
1: کسی گئے گزرے آدمی کو حضرت عیسٰی علیہ السلام سے تشبیہ دے کر پیش کیا گیا ہے جوکہ آپ علیہ السلام کی شان میں گستاخی ہے۔
2: حضرت بی بی مریم جیسی پاک دامن ہستی کو بے پردہ بازاروں میں گھومتا پھرتا دکھایا گیاہے۔
3: انبیاء کرام علیہم السلام کی جانب یہ کفریہ بات منسوب کی کہ گزشتہ انبیاء کہہ گئے کہ تم میں اﷲ تعالیٰ کا بیٹا آئے گا (معاذ اﷲ)
4: پاک پروردگار کی جانب یہ صدا منسوب کی کہ رب تعالیٰ نے مسیح کو فرزند کہہ کر پکارا (معاذ اﷲ)
5: حضرت عیسٰی علیہ السلام کے متعلق کہا کہ مسیح تمام لوگوں کے گناہوں کو معاف کرے گا (معاذ اﷲ)
6: حضرت عیسٰی علیہ السلام کی موجودگی میں قہقہ اور میوزک دکھایا گیا۔
7: حضرت عیسٰی علیہ السلام کی شان میں ایسے کلمات کہے جو آپ علیہ السلام کی شان کے سراسر خلاف ہیں۔
8: حضرت عیسٰی علیہ السلام کو معصوم جبکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بعد میں ایمان لانے والا کہاگیا ہے۔
9: حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت بی بی حوا کو سخت گناہ گار قرار دیا گیا (معاذ اﷲ)
10: حضرت آدم علیہ السلام اور بی بی حوا کے متعلق گستاخانہ جملے کہے کہ حضرت آدم علیہ السلام اور بی بی حوا پر اﷲ تعالیٰ نے بھروسہ کیا مگر ان دونوں نے اﷲ تعالیٰ پر بھروسہ نہیں کیا (معاذ اﷲ)
11: حضرت عیسٰی علیہ السلام کے سوا تمام انسان گناہ گار ہیں۔
12: حضرت آدم علیہ السلام اور بی بی حوا نے رب تعالیٰ کی نافرمانی کی اور گناہ کا ارتکاب کیا۔ ان کا گناہ پوری کائنات کے لئے شرمندگی کا باعث بنا (معاذ اﷲ)
13: حضرت آدم علیہ السلام اور بی بی حوا کے متعلق کہا کہ ان کے گناہ کے سبب اﷲ تعالیٰ نے ان سے اپنی قربت چھین لی کیونکہ گناہ گاروں کے لئے اﷲ تعالیٰ کا قرب نہیں (معاذ اﷲ)
14: صلیب پر لٹکاتے ہوئے حضرت عیسٰی کو بالکل برہنہ دکھایا گیا ہے۔ آپ کا ستر عورت بھی چھپانے کی زحمت نہیں کی گئی (معاذ اﷲ)
اے نبی رحمتﷺ کا کلمہ پڑھنے والے مسلمانو! کیا یہ فلم مسلمانوں کے عقائد کو نقصان پہنچانے والی نہیں؟
کیا اس میں انبیاء کرام علیہم السلام کی توہین نہیں کی گئی؟
کیا اس میں شعائر اسلام کامذاق نہیں اڑایا گیا؟
کیا اس میں پاک دامن ہستیوں کے خلاف ہرزہ سرائی نہیں کی گئی؟
کیا اسلامی ملک میں اس قسم کی فلمیں سرعام فروخت اور تقسیم کرنا نقصان دہ نہیں؟
کیا ایک غیرت مند انبیاء کرام پر ایمان رکھنے والا مسلمان ایسی گستاخیاں برداشت کرسکتا ہے؟
پھر ارباب اقتدار اور اعلیٰ حکام جوکہ فرقہ واریت کی روک تھام اور اس کو جڑ سے مٹانے کی باتیں کرتے ہیں۔ انہیں اسلامی چیزوں میں تو فورا فرقہ واریت اور انتہا پسندی نظر آجاتی ہے وہ اس کارروائی پر خاموش تماشائی کیوں؟