آپ کا مشن جاری رہے گا

in Tahaffuz, August 2009, حا مد میر, شخصیات

ہر مشکل وقت میں ہمت و حوصلے اور شفقت سے لبریز ایک آواز سنائی دیا کرتی تھی۔ آواز دینے والا کہا کرتا تھا… ’’گھبرانا نہیں… ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں‘ آپ کے اور ہمارے دشمن مشترکہ ہیں اور اﷲ تعالیٰ ہمارے دشمنوں کو ذلیل و خوار کرے گا‘‘
افسوس کہ ہر مشکل وقت میں حوصلہ دینے والی یہ آواز پھر کبھی سنائی نہ دے گی… یہ آواز ڈاکٹر سرفراز نعیمی صاحب کی ہوا کرتی تھی۔ ان کے ساتھ نیاز مندی کافی پرانی تھی لیکن قربت گیارہ ستمبر 2001ء کے بعد پیدا ہوئی۔ جنرل پرویز مشرف نے افغانستان پر حملے کے لئے امریکہ کو پاکستان میں ہوائی اڈے فراہم کئے تو ڈاکٹر سرفراز نعیمی بھی اس فیصلے کی مخالفت کرنے والوں میں پیش پیش تھے… مشرف حکومت نے انہیں پیغام بھیجا کہ وہ حکومت پر تنقید بند کردیں ورنہ انہیں محکمہ اوقاف کی ملازمت سے فارغ کردیا جائے گا۔ ڈاکٹر صاحب پر اس پیغام کا کوئی اثر نہ ہوا۔ اسلام آباد میں تمام مکاتب فکر کے علماء کاایک اجلاس ہوا جس میں متفقہ طور پرامریکہ کو پاکستان کے ہوائی اڈے فراہم کرنے کی مذمت کی گئی۔ ڈاکٹر صاحب نے اس اجلاس میں شرکت کی اور کچھ عرصہ بعد انہیں سرکاری ملازمت سے فارغ کردیا گیا۔ 2005ء میں ڈنمارک کے ایک اخبار نے نبی کریم حضرت محمدﷺ کے توہین آمیز خاکے شائع کئے تو دنیا بھر کے مسلمانوں میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ ڈاکٹر سرفراز نعیمی نے تحفظ ناموس رسالت کے نام سے ایک محاذ قائم کیا اور احتجاج شروع کردیا۔ مشرف حکومت کو یہ احتجاج سخت ناپسند آیا اور ڈاکٹر سرفراز نعیمی کو دہشت گردی ایکٹ کے تحت گرفتار کرلیا گیا۔ انہی دنوں آرمی ہائوس راولپنڈی میں ایک بریفنگ کے دوران اس خاکسار نے جنرل پرویز مشرف سے یہ پوچھنے کی جسارت کرڈالی کہ آپ نے ایک بزرگ عالم دین ڈاکٹر سرفراز نعیمی کو دہشت گردی کے الزام میں پابند سلاسل کیوں کررکھا ہے؟ سوال سن کر حاکم وقت بھڑک اٹھا اور رعونت آمیز لہجے میں بولا ’’عالم دین؟ کون عالم دین؟ یہ تو دو ٹکے کا مولوی ہے جسے نواز شریف نے خرید رکھا ہے اور یہ پاکستان میں دہشت گردی کرتا ہے میں تو اس کو نہیں چھوڑوں گا‘‘ میں نے گزارش کی اور عرض کیا کہ ڈاکٹر سرفراز نعیمی اور مفتی منیب الرحمن ان علماء میں سے ایک ہیں جو پاکستان میں خودکش حملوں کی مخالفت کررہے ہیں۔ یہ آپ سے اختلاف رائے کرسکتے ہیں لیکن ان علماء کا دہشت گردی سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ حاکم وقت کچھ سننے کے لئے تیار نہ تھا لیکن چند ہفتوں کے بعد کوئی ٹھوس ثبوت دستیاب نہ ہونے کے باعث انسداد دہشت گردی کی عدالت کو ڈاکٹر سرفراز نعیمی کی رہائی کا حکم جاری کرنا پڑا۔
3 نومبر 2007ء کو جنرل پرویز مشرف نے ایمرجنسی نافذ کرنے کے بعد میڈیا پر پابندی عائد کردی۔ یہ خاکسار ان پانچ ٹی وی اینکرز میں شامل تھا جو کم و بیش چار ماہ تک ٹی وی اسکرین سے غائب رہے۔ پابندی کے دنوں میں لوگ ہم سے ہمدردی کیا کرتے تھے لیکن ڈاکٹر سرفراز نعیمی ہمیشہ مجھے مبارکباد دیا کرتے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنرل پرویز مشرف مسلمانون کے دشمنوں کا اتحادی ہے اور ایسے شخص کی نفرت کا نشانہ بننا کسی بھی سچے مسلمان کے لئے فخر کی بات ہونی چاہئے۔ ڈاکٹر سرفراز نعیمی ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ جنرل پرویز مشرف نے پاکستان میں تشدد اور عکسریت پسندی کو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت فروغ دیا تاکہ امریکہ مشرف کو اپنی ضرورت سمجھتا رہے۔ انہوں نے ایک مرتبہ نہیں بلکہ درجنوں مرتبہ کہا کہ جب تک امریکا کی فوجیں افغانستان میں موجود ہیں اس خطے میں امن قائم نہ ہوگا۔ اکتوبر 2008ء میں ڈاکٹر سرفراز نعیمی نے ملک بھر کے علماء کو لاہور میں اکھٹا کیا اور خودکش حملوں کی مذمت میں ایک فتویٰ جاری کیا۔ اس سال یکم مارچ کو انہوں نے جامعہ نعیمیہ لاہور میں اپنے والد مفتی محمد حسین نعیمی کی یاد میں ایک سیمینار منعقد کیا جس میں مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف ‘ پیر علائو الدین ‘ صاحبزادہ فضل کریم اور دیگر زعماء کے علاوہ مجھے بھی مدعو کیا گیا۔ جامعہ نعیمہ کے احاطے میں بنائے گئے اسٹیج پر بلٹ پروف نصب کیا گیا تھا۔ اس شیشے کو دیکھ کر نواز شریف کہنے لگے کہ موت کا ایک دن مقرر ہے‘ جس کو موت آتی ہے‘ یہ بلٹ پروف شیشہ کسی کو نہیں بچا سکتا۔ یہ سن کر ڈاکٹرسرفراز نعیمی بولے کہ موت کا واقعی دن مقرر ہوتا ہے لیکن آپ کی حفاظت کے لئے تدابیر کرنا بھی ہم میزبانوں کا فرض تھا۔ اس دن ڈاکٹر صاحب بہت خوش تھے۔ اس سیمینار میں ڈاکٹر سرفراز نعیمی نے کھل کر کہا کہ پاکستان کو درپیش تمام مسائل کی وجہ امریکی غلامی ہے جب تک ہم اس غلامی کو نہیں چھوڑیں گے‘ ہمارے مسائل حل نہیں ہوں گے۔
اس واقعے کے چند ہی دنوں کے بعد مزول ججوں کی بحالی کے لئے لانگ مارچ ہوا۔ ایک مذہبی جماعت کے سربراہ نے اس لانگ امرچ کو صرف ایک صوبے کی تحریک قرار دے کر متنازعہ بنانے کی کوشش کی حالانکہ لانگ مارچ کا آغاز سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر علی احمد کرد نے کوئٹہ سے کیا تھا۔ معزول ججوں کی بحالی کی تحریک کو متنازعہ بنانے کی کوشش کرنے والے گروہ کا سیاسی و فکری ماضی سامنے لانے پر میرے خلاف مظاہرے ہوئے اور کھلم کھلا قتل کی دھمکیاں دی گئیں۔ ایک مرتبہ پھر ڈاکٹر سرفراز نعیمی مجھے اپنے پیچھے کھڑے نظر آئے۔ وہ کئی دن تک مسلسل روزانہ فون کرکے میری خیریت دریافت کرتے رہے بلکہ انہوں نے لاہور اور کراچی میں اس ناچیز کے حق میں جلوس بھی نکال ڈالے۔ یہ میری لئے کسی اعزاز سے کم نہیں کہ ڈاکٹر سرفراز نعیمی صاحب نے جامعہ نعیمیہ کے طلبہ کے ہمراہ میرے حق میں آواز بلند کی۔ شہادت سے چند دن پہلے انہوں نے پھر فون کیا اور مجھے محتاط رہنے کی تاکید کی۔ میں نے ان کی تاکید کو نظر انداز کرتے ہوئے کہاکہ حضرت میری فکر چھوڑیں۔ آپ اپنی فکر کریں۔ انہوں نے تصدیق کی کہ وہ بھی خطرات محسوس کررہے ہیں لیکن دوسرے ہی لمحے انہوں نے ایک اور سیمینار کے بارے میں صلاح و مشورہ شروع کردیا۔
ان کا خیال تھا کہ ملک کے تمام مکاتب فکر کے جید علماء کو جامعہ نعیمیہ یا کسی اور مقام پر اکھٹا کرکے ملکی مسائل کا حل تلاش کیا جائے۔ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ ڈاکٹر سرفراز نعیمی کی شخصیت فرقہ واریت سے بالاتر تھی۔
عجیب بات ہے کہ بیت اﷲ محسود اور اس کے ساتھی ڈاکٹر سرفراز نعیمی جیسے علماء کو شہید کررہے ہیں جو امریکہ کے مخالف ہیں جبکہ امریکہ کے اعلانیہ حامیوں کے لئے ان کی دھمکیاں صرف زبانی کلامی ہوتی ہیں۔ بیت اﷲ محسود امریکہ کے مخالفوں کا صفایا بھی کررہے ہیں اور امریکہ کی شروع کردہ جنگ کو پھیلانے اور اپنانے کا سامان بھی پیدا کررہے ہیں۔ یہ ایک بہت بڑی سازش ہے اور اس سازش کو سمجھنے کے لئے جامعہ نعیمیہ لاہور میں تمام علماء کو اکھٹے ہونے کی ضرورت ہے۔ علماء کو متحد کرنا ڈاکٹر سرفراز نعیمی کا مشن تھا۔ ان کی آواز اب کبھی سنائی نہ دے گی … لیکن ہمیں ان کا مشن جاری رکھنا ہے۔