انگریز کے ایجنٹ

in Tahaffuz, July 2009, متفرقا ت

امریکی وزیر خارجہ کے اس بیان پر نظر ڈالی جائے تو پاکستان میں دو فرقے وہابیت کے زمرے میں آتے ہیں۔ ایک دیوبندی فرقہ اور دوسرا دیوبندی فرقے سے ترقی کرتے کرتے غیر مقلد اہلحدیث بن گیا۔ اب ہم مستند حوالوں سے اس بات کو پائے ثبوت تک پہنچاتے ہیں اور جانتے ہیں کہ ان دونوں فرقوں کے اکابرین کا انگریزوں سے رشتہ کب کا ہے اور کب سے انگریز ان دونوں فرقوں پر مہربان ہیں لہذا اکابر دیوبند اور اکابر اہلحدیث کی کتابوں سے اصل شواہد ملاحظہ ہوں۔
اکابرین دیوبند کا انگریزوں سے رشتہ
٭ دیوبندی اکابر مولوی رشید احمد گنگوہی صاحب فرماتے ہیں کہ میں رشید سرکار (انگریز) کا فرمانبردار ہوں تو جھوٹے الزام سے میرا بال بھی بیکا نہیں ہوگا اور مارا گیا تو سرکار (انگریز) مالک ہے اسے اختیار ہے جو چاہے کرے (از کتاب: تذکرۃ الرشید صفحہ نمبر 80 مطبوعہ ادارہ اسلامیات انار کلی لاہور پاکستان)
٭ مولوی اشرف علی تھانوی صاحب کو سرکار برطانیہ (انگریز) سے چھ سو روپے ماہوار ملا کرتے تھے (مکالمۃ الصدرین صفحہ نمبر 9 دارالاشاعت دیوبند ضلع سہانپور)
٭ تبلیغی جماعت کے بانی مولوی الیاس کاندھلوی کو سرکار برطانیہ (انگریز) سے بذریعہ لیٹر پیسے ملتے تھے (از کتاب: مکالمۃ الصدرین صفحہ نمبر 8 دارالاشاعت دیوبند ضلع سہارنپور)
٭ جمعیت علمائے اسلام کو حکومت برطانیہ (انگریز) نے قائم کیا اور ان کی امداد کی (مکالمۃ الصدرین صفحہ نمبر 7‘ دارالاشاعت دیوبند ضلع سہارنپور)
٭ مولوی اسماعیل دہلوی صاحب فرماتے ہیں کہ گورنمنٹ برطانیہ (انگریزوں) سے جہاد کرنا کسی بھی صورت میں جائز نہیں (حیات طیبہ صفحہ نمبر 23-24)
قارئین کرام ان تمام باتوں کو پڑھ کر اندازہ لگائیں کہ اکابر دیوبند انگریزوں کے کس قدر فرمانبردارتھے۔
اکابرین غیر مقلدین اہلحدیث کا انگریزوں سے رشتہ
٭ پاک ہند میں لفظ ’’اہل حدیث‘‘ کی ایک سیاسی تاریخ ہے۔ جو نہایت ہی تعجب خیز اور حیران کن ہے۔ برصغیر میں اس فرقے کو پہلے وہابی کہتے تھے جو اصل میں غیر مقلد ہیں چونکہ انہوں نے انقلاب 1857ء سے پہلے انگریزوں کا ساتھ دیا اور برصغیر میں برطانوی اقتدار قائم کرنے اور تسلط جمانے میں انگریزوں کی مدد کی… انگریزوں نے اقتدار حاصل کرنے کے بعد تو اہل سنت پر ظلم و ستم ڈھائے لیکن ان حضرات کو امن وامان کی ضمانت دی۔
سرسید احمد خان (م۔1315ھ/1868ئ) کے بیان سے جس کی تائید ہوتی ہے۔
انگلش گورنمنٹ ہندوستان میں اس فرقے کیلئے جو وہابی کہلایا‘ ایک رحمت ہے جو سلطنتیں اسلامی کہلاتی ہیں ان میں بھی وہابیوں کو ایسی آزادی مذہب ملنا دشوار ہے بلکہ ناممکن ہے۔ سلطان کی علمداری میں وہابیوں کا رہنا مشکل ہے اور مکہ معظمہ میں تو اگر کوئی جھوٹ موٹ بھی وہاں کہہ دے تو اسی وقت جیل خانے یا حوالات میں بھیجا جاتا ہے… پس وہابی جس آزادی مذہب سے انگلش گورنمنٹ کے سایہ عاطفت میں رہتے ہیں دوسری جگہ ان کو میسر نہیں۔ ہندوستان ان کے لئے دارالامان ہے۔ (مقالات سرسید احمد خان صفحہ نمبر 202)
یہ اس شخص کے تاثرات ہیں جو ہندوستانی سیاست بلکہ عالمی سیاست پر گہری نظر رکھتا تھا ۔
ہندوستان میں ان حضرات کو امن ملتا اور سلطنت عثمانیہ میں نہیں (جو مسلمانوں کی عظیم سلطنت تھی‘ ایشیائ‘ یورپ‘افریقہ تک پھیلی ہوئی) امن اس حقیقت کی روشن دلیل ہے کہ ان حضرات کا تعلق انگریزوں سے رہا تھا… آل سعود کی تاریخ پر جن کی گہری نظر ہے ان کو معلوم ہے کہ انہی حضرات نے سلطنت اسلامیہ کے سقوط اور آل سعود کے اقتدار میں اہم کردار ادا کیا… یہ کوئی الزام نہیں تاریخی حقیقت ہے‘ جوہمارے جوانوں کو معلوم نہیں ہے۔
خود اہل حدیث عالم مولوی محمد حسین بٹالوی (جنہوں نے انگریزی اقتدار کے بعد برصغیر کے غیر مقلدوں کی وکالت کی) کی اس تحریر سے سرسید احمد خان کے بیان کی تصدیق ہوتی ہے وہ کہتا ہے…
اس گروہ اہل حدیث کے خیر خواہ وفاداری رعایات برٹش گورنمنٹ ہونے پر ایک بڑی اور روشن دلیل یہ ہے کہ یہ لوگ برٹش گورنمنٹ کے زیر حمایت رہنے کو اسلامی سلطنتوں کے ماتحت رہنے سے بہتر سمجھتے ہیں (مقالات سرسید احمد خان صفحہ نمبر 203)
آخر کیا بات ہے کہ اسلام کے دعویدار ایک فرقے کو خود مسلمانوں کی سلطنت میں وہ امن نہیں مل رہا ہے جو اسلام کے دشمنوں کی سلطنت میں مل رہا ہے۔ ہر ذی عقل اس کی حقیقت تک پہنچ سکتا ہے۔ اس کے لئے تفصیل کی ضرورت نہیں…
ملکہ وکٹوریہ کے جشم جوبلی پر مولوی محمد حسین بٹالوی نے جو سپاسنامہ پیش کیا اس میں بھی یہ اعتراف موجود ہے … آپ نے فرمایا:
اس گروہ کو اس سلطنت کے قیام و استحکام سے زیادہ مسرت ہے اوران کے دل سے مبارکباد کی صدائیں زیادہ زور کے ساتھ نعرہ زن ہیں (مقالات سرسید احمد خان صفحہ نمبر 204)
یہی آدمی ایک اور جگہ تحریر کرتا ہے…
جو اہل حدیث کہلاتے ہیں وہ ہمیشہ سے سرکار انگریزکے نمک حلال اور خیر خواہ رہے ہیں اور یہ بات بار بار ثابت ہوچکی ہے اور سرکاری خط و کتابت میں تسلیم کی جاچکی ہے (مقالات سرسید احمد خان صفحہ نمبر 205)
یہود ونصاری کو مسلمانوں کے جذبہ جہاد سے ہمیشہ ڈر لگتا رہتا ہے… 1857ء کے فورا بعد انگریزوں کے مفاد میں اس جذبے کو سرد کرنے کی ضرورت تھی چنانچہ مولوی محمد حسین بٹالوی نے جہاد کی خلاف 1292ھ/ 1876ء میں ایک رسالہ ’’الاقتصاد فی مسائل الجہاد‘‘ تحریر فرمایا جس پر بقول مسعود عالم ندوی حکومت برطانیہ نے مصنف کو انعام سے نوازا… (مقالات سرسید احمد خان صفحہ نمبر 206)
آپ نے بار بار لفظ ’’اہل حدیث‘‘ سنا جیسا کہ پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ اس فرقے کو پہلے ’’وہابی‘‘ کہتے تھے۔ انگریزوں کی اعانت اور عقائد میں سلف صالحین سے اختلاف کی بناء پر برصغیر کے لوگ جنگ آزادی 1857ء کے بعد ان سے نفرت کرنے لگے‘ اس لئے وہابی نام بدلوا کر ’’اہل حدیث‘‘ نام رکھنے کی درخواست کی گئی… یہ اقتباس ملاحظہ فرمائیں…
بنا بریں اس فرقے کے لوگ اپنے حق میں اس لفظ (وہابی) کے استعمال پر سخت اعتراض کرتے ہیں اور کمال ادب و انکساری کے ساتھ گورنمنٹ سے درخواست کرتے ہیں وہ سرکاری طور پر اس لفظ وہابی کو منسوخ کرکے اس لفظ کو استعمال سے ممانعت کا حکم نافذ کرے اور ان کو ’’اہل حدیث‘‘ کے نام سے مخاطب کیا جائے (مقالات سرسید احمد خان صفحہ نمبر 207)
حکومت برطانیہ کے نام مولوی محمد حسین بٹالوی کی انگریزی درخواست کا اردو ترجمہ جس میں حکومت برطانیہ سے ’’وہابی‘‘ کی جگہ ’’اہل حدیث‘‘ نام منظور کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔
ترجمہ درخواست برائے الاٹمنٹ نام اہل حدیث و منسوخی لفظ وہابی
اشاعۃ السنہ آفس لاہور
از جانب ابو سعید محمد حسین لاہوری‘ ایڈیٹر اشاعۃ و وکیل اہل حدیث ہند
بخدمت جناب سیکریٹری گورنمنٹ!
میں آپ کی خدمت میں سطور ذیل پیش کرنے کی اجازت اور معافی کا درخواست گزار ہوں۔ 1886ء میں‘ میں نے ایک مضمون اپنے ماہواری رسالہ اشاعۃ السنہ میں شائع کیا تھا جس میں اس بات کا اظہار کیا تھا کہ لفظ وہابی جس کو عموما باغی و نمک حرام کے معنی میں استعمال کیا جاتا ہے‘ کااستعمال مسلمانان ہندوستان کے اس گروہ کے حق میں جو اہل حدیث کہلاتے ہیں اور وہ ہمیشہ سے سرکار انگریزکے نمک حلال و خیر خواہ رہے ہیں‘ اور یہ بات (سرکار کی وفاداری و نمک حلالی) بارہا ثابت ہوچکی ہے اور سرکاری خط و کتابت میں تسلیم کی جاچکی ہے‘ مناسب نہیں (خط کشیدہ جملہ خاص طور پر قابل غور ہے)
بناء بریں اس فرقہ کے لوگ اپنے حق میں اس لفظ کے استعمال پر سخت اعتراض کرتے ہیں اور کمال ادب و انکساری کے ساتھ‘ گورنمنٹ سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ (ہماری وفاداری‘ جاں نثاری اور نمک حلالی کے پیش نظر) سرکاری طور پر اس لفظ وہابی کو منسوخ کرکے اس لفظ کے استعمال کی ممانعت کا حکم نافذ کرے اور ان کو اہل حدیث کے نام سے مخاطب کیا جاوے۔ اس مضمون کی ایک کاپی بذریعہ عرض داشت میں (محمد حسین بٹالوی) نے پنجاب گورنمنٹ کوبھی ارسال کی ہے تاکہ اس مضمون کی طرف توجہ دے اور گورنمنٹ ہند کو بھی اس پر متوجہ فرمادے اور فرقہ کے حق میں استعمال لفظ وہابی سرکاری خط و کتابت میں موقف کیا جاوے اور اہل حدیث کے نام سے مخاطب کیا جاوے۔ اس درخواست کی تائید کے لئے اور اس امرکی تصدیق کے لئے کہ یہ درخواست کل ممبران اہل حدیث پنجاب و ہندوستان کی طرف سے ہے (پنجاب و ہندوستان کے تمام غیر مقلد علماء یہ درخواست پیش کرنے میں برابر کے شریک ہیں) اور ایڈیٹر اشاعتہ السنہ ان سب کی طرف سے وکیل ہے۔ میں (محمد حسین بٹالوی) نے چند قطعات محضرنامہ گورنمنٹ پنجاب میں پیش کئے‘ جن پر فرقہ اہلحدیث تمام صوبہ جات ہندوستان کے دستخط ثبت ہیں اور ان میں اس درخواست کی بڑے زور سے تائید پائی جاتی ہے۔ چنانچہ آنریبل سرچارلس ایچی سن صاحب بہادر (جو اس وقت پنجاب کے لیفٹیننٹ گورنر تھے) نے گورنمنٹ ہندکو اس درخواست کی طرف توجہ دلا کر اس درخواست کو باجازت گورنمنٹ ہند منظور فرمایا اور استعمال لفظ وہابی کی مخالفت اور اجراء نام ’’اہل حدیث‘‘ کا حکم پنجاب میں نافذ فرمایا جائے۔
میں ہوں آپ کا نہایت ہی فرمانبردار خادم
ابو سعید محمد حسین
ایڈیٹر ’’اشاعت السنہ)
(اشاعۃ السنہ ص 24 تا 26 شمارہ 2‘ جلد 11)
یہ درخواست گورنر پنجاب سرچارلس ایچی سن کو دی گئی اور انہوں نے تائیدی نوٹ کے ساتھ گورنمنٹ آف انڈیا کو بھیجی اور وہاں سے منظوری  آگئی اور 1888ء میں حکومت مدراس‘ حکومت بنگال‘ حکومت یوپی‘ حکومت سی پی‘ حکومت بمبئی وغیرہ نے مولوی محمد حسین کو اس کی اطلاع دی۔
سرسید احمد خان نے بھی اس کا ذکر کیا ہے‘ وہ لکھتے ہیں:
جناب مولوی محمد حسین نے گورنمنٹ سے درخواست کی  تھی کہ اس فرقے کو جو درحقیقت اہل حدیث ہے‘ گورنمنٹ اس کو ’’وہابی‘‘ کے نام سے مخاطب نہ کرے‘ مولوی محمد حسین کی کوشش سے گورنمنٹ نے منظور کرلیا ہے کہ آئندہ گورنمنٹ کی تحریرات میں اس فرقے کو ’’وہابی‘‘ کے نام سے تعبیر نہ کیا جاوے بلکہ ’’اہل حدیث‘‘ کے نام سے موسوم کیا جاوے (مقالات سرسید احمد خان صفحہ نمبر 208)
٭غیر مقلد اہلحدیث اکابر مولوی میاں نذیر احسین دہلوی) زمانہ عذر 1857ء میں جبکہ دہلی کے بعض مقتداء اور بیشتر مولویوں نے انگریز سے جہد کا فتویٰ دیا تو میاں صاحب نے نہ اس پر دستخط کئے نہ مہر… وہ خود فرماتے تھے کہ میاں وہ ہلر تھا بہادر شاہی نہ تھا… وہ بے چارہ بوڑھا بہادر شاہ کیا کرتا… بہادر شاہ کو بہت سمجھایا کہ انگریزوں سے لڑنا مناسب نہیں ہے‘ مگر وہ باغیوں کے ہاتھ میں کٹھ پتلی ہورہے تھے‘ کرتے تو کیا کرتے (الحیات بعد الممات صفحہ نمبر 125)
٭ غیر مقلد اہلحدیث اکابر مولوی میاں نذیر حسین کو شمس العلماء کا خطاب گورنمنٹ انگلشیہ کی طرف سے 22 جون 1891ء بمطابق 21 محرم الحرام 1315ھ بروز سہ شنبہ کو ملا (الحیات بعد الممات صفحہ نمبر 180)
٭ غیر مقلد اہل حدیث اکابر مولوی نواب صدیق حسن خان بھوپالی خود اقرار کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ میں تیس سال کامل سے متوسل وطن اس ریاست بھوپال کا ہوں اور ہمیشہ معزز و مکرم رہا۔ رئیسہ معظمہ (بھوپال) نے روجیت سے مجھے عزت و افتخار بخشا اور امر باطلاع گورنمنٹ عالیہ و حسب مرض سرکار انگریز ظہور میں آیا اور چوبیس ہزار روپیہ سالانہ اور خطاب ’’معتمہ الہامی‘‘ سے سرفرازی ہوئی۔ حکام عالی منزلت یعنی کار پروازان دولت انگلش کو تجربہ اس ریاست کی خیر خواہی اور وفاداری عموما اور اس سے صولت دولت (صدیق حسن خان بھوپالی) کا خصوصا ہوچکا ہے (ترجمان وہابیہ صفحہ نمبر 29,27,19,17)
٭ امام ابو ہابیہ ثناء اﷲ امرتسری نے کلکتہ کے جلسے میں آپ نے اﷲ کا شکر ادا کرنے کے بعد انگریز حکومت اور انگریز حکام کا شکریہ ادا کیا اور پھر داعیان جلسہ کا پھر دعا مانگی (از کتاب: روئیداد اہلحدیث کانفرنس صفحہ نمبر 20)
٭ غیر مقلد اہلحدیث اکابر مولوی محمد حسین بٹالوی انگریز حکومت سے تعاون کے حق میں تھے اور بظاہر انگریزی نظام کے ثناء خواں بھی تھے (از کتاب: تحریک آزادی فکر صفحہ نمبر 107)
محترم قارئین کرام! آپ نے تمام مستند حوالے ملاحظہ کئے‘ جس سے واضح ہوگیا کہ دیوبندیوں اور وہابیوں کا انگریزوں سے بہت پرانا رشتہ ہے‘ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے انگریزوں سے مال اور اسلحہ کی صورت میں مدد لے کر اسلام اور اسلامی قوانین کو نقصان پہنچایا اور مزید پہنچا رہے ہیں۔
اگر ہیلری کلنٹن کا بیان غلط ہے تو پھر اس کے بیان کے بعد دنیائے وہابیت کے کسی وہابی‘ دیوبندی مولوی نے اس بیان کے خلاف ایکشن کیوں نہیں لیا؟
21 مئی سے لے کر اب تک کسی اخبار میں امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کے بیان کی وہابیوں نے مذمت کیوں نہیں کی؟
ہم دنیائے وہابیت کی پراسرار خاموشی کو کیاسمجھیں؟
انگریز کا ایجنٹ        یا    ان کا آلہ کار؟؟؟