انوار وتجلیات سے معمور درخشاں و تاباں چہرہ‘ حسن و جمال کا مرقع‘ سفیدی اور سرخی کا چہرے میں حسین امتزاج‘ سر پر باوقار سفیدہ عمامہ اور ہمیشہ ہی سفید شلوار کرتہ پہنے‘ موتیوں جیسے سفید چمکدار دانتوں پر مسکراہٹ پھیلائے‘ میانہ قد کے ستر سالہ معمر عالم دین‘ جو بیک شیخ الحدیث بھی تھے‘ عظیم مدرس‘ مفتی اعظم پاکستان اور شیخ العلماء کے منصب جلیلہ پر فائزتھے۔ آخری دن جن کے چہرے کی سرخی‘ خون کی جولانی‘ خدمت دین کا جذبہ اور جذبات کی گرمی برقرار رہی۔ جو بیک وقت دو عظیم ادارے لاہور و شیخوپورہ میں چلانے کے ساتھ ساتھ ان دونوں کی کئی ذیلی شاخوں تک اپنا فیضان پہنچا رہے تھے۔  میری مراد حضرت قاضی صوفی عبدالحمید ہزاروی کے فرزند جلیل عبدالمصطفے ہزاروی کے عظیم المرتبت والد‘ محدث اعظم پاکستان ابوالفضل علامہ سردار احمد چشتی قادری علیہ الرحمہ کے مرید و شاگرد‘ مفتی اعظم ابو البرکات علامہ سید احمد قادری علیہ الرحمہ اور شیخ الحدیث علامہ غلام رسول رضوی مدظلہ العالی کے تلمیذ رشید‘ نورانی میاں اور نیازی صاحب کے رفیق خاص‘ سنی سپریم کونسل کے مرکزی چیئرمین‘ تنظیم المدارس اہل سنت پاکستان کے سابق صدر اور شرف ملت‘ محسن اہل سنت علامہ عبدالحکیم شرف قادری‘ مجاہد ملت‘ محسن اہل سنت علامہ عبدالستار سعیدی‘ ادیب ملت‘ محسن اہل سنت علامہ محمد صدیق ہزاروی اور مناظر اہل سنت علامہ عبدالتواب صدیقی جیسے شیوخ الحدیث جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور کے استاذ گرامی قدر‘ میری مراد استاذی واستاذ العلماء شیخ الشیوخ‘ مفتی اعظم پاکستان حضرت علامہ مولانا مفتی محمد عبدالقیوم ہزاروی علیہ الرحمہ کی ذات سودہ صفات ہیں ‘جنہوں نے عرصہ 50 برس خدمت دین میں تدریس حدیث و دیگر فنون میں گزار کر 70 سال 7 ماہ 28 دن داتا نگر مرکز الاولیاء لاہور میں ادائیگی مغرب نماز کے بعد وظائف پڑھتے‘ کلمہ اسلام اور کلمات تبلیغ ادا کرتے ہوئے دنیا سے کوچ کیا اور اپنے پیچھے ایک جہاں کو روتا چھوڑ گئے۔ بمصداق
بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
وہ اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا
حضرت شرف ملت علامہ عبدالحکیم شرف قادری علیہ الرحمہ فرماتے تھے کہ اب ڈھونڈو مفتی صاحب کو‘ کہاں سے ڈھونڈ کے لائو گے ایسا شخص‘ یہ وہ شخص ہے کہ ’’اگر دامن نچوڑ دے تو فرشتے بھی وضو کریں‘‘
میرے آقائے نعمت پیر و مرشد برحق مدظلہ العالی کو میں نے اپنے کانوں سے فرماتے سنا کہ ’’حضرت مفتی عبدالقیوم ہزاروی علیہ الرحمہ اس زمانے کے سب سے بڑے عالم تھے اور واقعی مفتی کے منصب کے اہل تھے‘‘
میرے استاد گرامی قدر مدظلہ العالی کو میں نے برموقع جنازہ فرماتے سنا کہ:
’’آج اہل سنت یتیم ہوگئے‘‘
صاحبزادہ رضائے مصطفیٰ نقشبندی مدظلہ العالی رقم طراز تھے:
’’مفتی صاحب ہمارے بزرگوں کے دوست اور ہمارے مہربان تھے۔ شیخ المحدثین کہلانا آسان ہے ہونا مشکل ہے۔ حضرت واقعی شیخ المحدثین تھے۔‘‘
الغرض مفتی صاحب قبلہ وہ پروقار شخصیت تھے کہ اپنے تو اپنے بیگانوں نے بھی ان کی موت کو عظیم سانحہ قرار دیا اور ان کے علم و فضل کا کھلے لفظوں میں اعتراف کیا اور ان کی ساری زندگی خدمت دین سے معمور تھی۔ صبح تا شام کے معمولات حیرت انگیز تھے۔ صبح تا دوپہر درس و تدریس‘ ظہر تا شام فتویٰ نویسی‘ اس کے علاوہ اہل سنت کے اجتماعی مسائل کے حل کے لئے کوشاں رہنا‘ سنی قیادتوں کے اتحاد کا خواہش مند رہنے کے ساتھ ساتھ اس کے لئے عملی کوشش کرتے رہنا اور سب سے بڑی بات کہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے فتاویٰ رضویہ کو جدید انداز پر اچھی کتابت کے ساتھ عربی و فارسی عبارات کے تراجم اور تحقیق و تخریج کے ساتھ مکمل 30 جلدوں میں تیار کروانا ان کی زندگی کا انمٹ و انمول کارنامہ ہے جو رہتی دنیا تک یاد کیا جاتا رہے گا۔
قارئین کرام! بالخصوص حضرت مفتی صاحب قبلہ ہزاروی علیہ الرحمہ کی شہرت درس ترمذی کے حوالے سے بہت تھی‘ علماء مدرسین جانتے ہیں کہ صحاح ستہ میںسے ترمذی کی جو خصوصیات ہیں‘ ان کے پیش نظر حنفی محدث کا اپنے مسلک پر استدلال آسان بات نہیں کیونکہ استاذ المحدثین امام ابو عیسٰی محمد بن عیسٰی ترمذی علیہ الرحمہ کٹر شافعی المذہب ہونے کے ساتھ ساتھ حدیث کے فن کے ماہر ہیں اور انہی خصوصیات کی بناء پر ان کی کتاب کے بارے میں علماء فرماتے ہیں:
’’من کان فی بیتہ ہذا الکتاب کان النبی صلی اﷲ علیہ وسلم یتکلم فی بیتہ‘‘
یعنی جس گھر میں ترمذی کتاب موجود ہو گویا اﷲ کے نبی بنفس نفیس اس گھر میں کلام کررہے لہذا ترمذی کی انہی خصوصیات کی بناء پر اور پھر سند پر بحث‘ جرح و تدلیل‘ رایوں کے معاملات‘ حدیث کے حسن و صحت‘ ضعف و قوت پر بحث کرنا ہر کس و ناکس کا کام نہیں۔ مشہور تھا کہ برصغیر میں ترمذی پڑھانے کے اندر مفتی صاحب کا ایک اپنا مقام ہے۔ ہمیں اس بحر بیکراں سے جبکہ یہ اپنی طغیانی پر تھا‘ زندگی کے آخری سال میں مکمل بالاستیاب ترمذی پڑھنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ ہم نے جو سن رکھا تھا‘ اس سے بھی زائدپایا۔ اس سال 1424ء میں دیگر اساتذہ حدیث کے علاوہ خاص طور پر ترمذی ہمیں حضرت سے اول تا آخر جو پڑھنے کی سعادت ملی‘ اس میں کئی اہم نکات اور ارشادات ہمیں یاد رہ گئے۔
اہل بیت کرام کیلئے صدقہ جائز نہیں۔ اس موضوع پر حضرت کی تقریر دلپذیر تمام شبہات کا قطع رد حدیث ترمذی جلد اول ص 141 مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کے تحت ایسی پرلطف تقریر تھی جس کی چاشنی ابھی بھی یاد آتی ہے تو وہ جملہ کہ اب مفتی صاحب کہاں سے ڈھونڈوگے یاد آتا ہے۔ نیز امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کی شان میں دو حدیثیں جلد ثانی ص 224 پر موجود ہیں ان کے تحت حضرت کی تقریر نے ماضی قریب کے تفضیلی نما محدث ہزاروی کے تمام شبہات کا رد کردیا اور مسئلہ رفع الیدین جلد 1 ص 59 پر تو حضرت نے دلائل قاصرہ سے خود امام ترمذی کی پیش کردہ روایات کی روشنی میں فقہ حنفی کے مطابق ترک رفع یدین کا اثبات اور رفع یدین کا انتقاء ایسا زوردار بیان کیا کہ یہ ایک یادگار علمی تقریر تھی۔
الحاصل عقائد و مسائل کے بیان کا جو اچھوتا انداز حضرت مفتی صاحب قبلہ علیہ الرحمہ کی تدریس میںتھا‘ وہ اس زمانے میں کسی آنکھ نے نہ دیکھا ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنی ستر سالہ زندگی میں جملہ فنون عقلیہ و نقلیہ کی تدریس کے ساتھ ہمیشہ مسلسل پچاس برس تک حدیث شریف بھی ضرور پڑھائی جس میں 29 برس آخر کے دورہ حدیث کے اسباق بھی شامل رہے ہیں۔ مسلم جلد اول کا مقدمہ ہر نام نہاد شیخ الحدیث کے پڑھانے کے بس کی بات نہیں۔ اس لئے عموما وہ بھی خود پڑھاتے اور ترمذی تو سالہا سال انہوں نے خود پڑھائی اور تشنگان علم کو اپنے علم سے سیراب کیا۔
آخری سال ترمذی و طحاوی کے درس کی جو شعلہ بیانیاں رہیں‘ اس میں 18 شوال المکرم 1423ھ دوشنبہ کو ترمذی شروع ہوئی اور 12 جمادی الاخری 1424ھ کو ترمذی ختم ہوئی۔ 24 جمادی الاخری بروز شنبہ کو حضرت نے طحاوی کا اہم باب رفع الیدین شروع کیا اور 28 جمادی الاخری کو اپنی زندگی کا آخری سبق پڑھایا اور صبح تا شام کے معمولات پورے کرکے اسی دن بعد نمازمغرب ذکر اﷲ کرتے ہوئے حضرت اس دار فانی سے دار باقی کی طرف رحلت کرگئے۔ ہمیں استاد العلماء سید محمد عصمت اﷲ شاہ صاحب سے جملہ فنون عقلیہ و نقلیہ کی تعلیم سے فراغت کے بعد یہاں مفتی صاحب کے ہاں امسال دورہ کی سعادت حاصل ہوئی تھی اور الحمدﷲ اس فقیر قادری کو حضرت قبلہ ہزاروی علیہ الرحمہ کا بہت قرب رہا‘ ان سے دورہ پڑھنے کے ساتھ ساتھ ان کی زیر تربیت افتاء کا کام کرنے‘ ان کے حکم کے مطابق جامع مسجد محمدیہ غوثیہ ڈیفنس میں جمعہ پڑھانے اور درس قرآن کرنے‘ نیز جامعہ نظامیہ سے متصل خراسیاں مسجد میں عصر کے بعد کبھی کبھار درس حدیث دینے اور حضرت کی زندگی کا آخری سفر جو 28 جمادی الاولیٰ 1424ھ کو اکبریہ میانوالی کا دورہ ہوا‘ اس میں شریک سفر رہنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ اس میں جو نظارے میری آنکھوں نے دیکھے‘ وہ ایک راز ہے حضرت کی زندگی کا اور وقت وصال اور وقت جنازہ جو نظارے مجھ  سمیت ان گنت علماء و مشائخ و عوام اہلسنت کثرہم اﷲ تعالیٰ نے دیکھے وہ دیدنی منظر کس آنکھ کو بھول سکتا۔ آپ کا عرس سراپا اقدس ماہ رواں کی ستائیسویں کو شیخوپورہ میں آپ کے مزار کے قرب واقع جامع مسجد رضا میں بڑی دھوم دھام سے منعقد ہوتا ہے۔