حضرت مولانا مفتی ابو داؤد محمد صادق قادری رضوی دامت برکاتہم العالیہ کا تاریخی انٹرویو

in Tahaffuz, July 2009, انٹرویوز, ملک محبوب الرسول قادری

اس سوال پر کہ یحییٰ خان سے ملاقات نہ کرنے کی وجہ کیا تھی؟ انہوں نے کہا کہ الحمدﷲ یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ میں نے نبی کریمﷺ کی رحمتوں کے صدقہ اور بزرگان دین کی دعائوں کی برکت سے ہر دور میں اصلاح معاشرہ کے لئے مخلصانہ اور جاندار کوششیں کیں اور اس مقصد کے لئے برسر اقتدار طبقہ سے حتی الوسع ملاقاتیں کیں اور اصلاح احوال کے لئے جہاں تک ممکن تھا اقدامات کئے۔ میں اہل علم کی طرف سے حکمرانوں کے ساتھ ملاقاتوں کو ناجائز نہیںسمجھتا‘ یہ کوئی شجر ممنوعہ نہیں ہے لیکن یحییٰ خان سے قصدا ملاقات نہ کی کیونکہ یہ معاذ اﷲ شراب پینے کے عادی تھے۔ اس لئے میرے نزدیک ان سے ملاقات ملک کے لئے سودمند نہیں تھی اور مجھے طبعی طور پر حرام و ناجائز فعل کے مرتکب سے علیک سلیک گوارا نہیں… البتہ صدر محمد ایوب خاں اور نواب آف کالا باغ سے میری ملاقات طے ہوگئی تھی مگر میں اپنی علالت کی وجہ سے نہ جاسکا۔ تاہم اپنے جذبات ان تک پہنچانے کے لئے اپنے مخلص ساتھی الحاج محمد حفیظ نیازی (ایڈیٹر رضائے مصطفیٰ) کو بھیج دیا۔ علاوہ ازیں مختلف اوقات میں متعدد وفاقی و صوبائی وزراء وغیرہ سے میری کئی ملاقاتیں ہوئیں اور میں نے انہیں ہمیشہ ملک میں اسلامی حدود و قیود اور نظام مصطفیٰﷺ رائج کرنے کے لئے خصوصی عملی اقدامات کے لئے زبانی و تحریری طور پر توجہ دلائی۔ مولانا ابو دائود نے بتایا کہ ہماری ان ملاقاتوں کے اچھے اثرات بھی کئی دفعہ سامنے آئے۔ صدر ضیاء الحق نے ہماری ملاقات کے بعد اپنے احباب کو بہت اچھے تاثرات دیئے تھے۔ اس موقع پر حضرت مولانا مفتی ابو دائود کے رفیق خاص مولانا محمد حفیظ نیازی نے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے تفصیل سے بتایا کہ ’’صدر جنرل محمد ضیاء الحق نے حضرت علامہ ابو دائود محمد صادق صاحب سے ملاقات کے کچھ عرصہ بعد کسی ملنے والے سے کہا کہ ’’میرے ملاقاتیوں میں علامہ ابو دائود صادق صاحب وہ واحد شخصیت ہیں جنہوں نے میری دینی رہنمائی فرمائی۔ میری دینی و دنیاوی بھلائی اور میرے فائدے کی باتیں کیں اور کسی قسم کے ذاتی مفاد کے لئے کوئی فرمائش نہ کی۔‘‘ محترم محمد حفیظ نیازی مزید کہہ رہے تھے کہ جنرل ضیاء الحق سے ملاقات ہی کے حوالے سے سابق وفاقی وزیر خان غلام دستگیر خان نے خود ہمیں بتایا تھا کہ ’’مولانا ابو دائود محمد صادق صاحب کی فرمائش و مطالبے پر صدر ضیاء الحق نے ٹی وی کی خواتین انائونسروں پر فوری پابندی لگا دی تھی کہ وہ سر ڈھانپ کر خبریں وغیرہ نشر کیا کریں‘‘ کچھ عرصہ اس آرڈر پر عمل بھی کیا جاتا رہا لیکن افسوس کہ ضیاء الحق کی سستی اوربیورو کریسی کی من مانی کی وجہ سے یہ معاملہ کسی کنارے نہ لگ سکا۔
رضائے مصطفے کی گراں قدر خدمات کے حوالے سے مولانا مفتی ابو دائود نے بتایا کہ یہ جریدہ صرف ایک ماہانہ رسالہ ہی نہیں بلکہ یہ تو پوری ایک تحریک ہے اس لئے اکابر اہل سنت اس جریدہ کے مداح و معترف تھے۔ الحمدﷲ اس کے فیوض و برکات ہمیں اور پورے معاشرے کو نصیب ہورہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ماہنامہ رضائے مصطفے پہلے ہفتہ وار اخبار تھا اور اس کا اجراء 15 اپریل 1957ء بروز جمعتہ المبارک (14 رمضان المبارک 1376ھ) کو ہوا۔ اس وقت اس کی قیمت فی پرچہ دو آنے اور سالانہ چندہ 5 روپے تھا۔ پہلا پرچہ ہم نے ساڑھے سات سو کی تعداد میں شائع کیا تھا پھر اس کی مانگ و مقبولیت میں اضافہ ہوگیا اور دس ہزار کی تعداد تک شائع ہونے لگا۔ چار سال میں ہم نے اس کے ایک سو چھیانوے شمارے شائع کئے اور پھر ایک سال کے لئے پرچہ بند ہوگیا۔ ہم نے عدالت کے ذریعے پابندی ختم کرائی اور پھر پندرہ روزہ کے طور پر چھاپناشروع کیا۔ 17 شوال 1388ھ سے یہ ماہنامہ کے طور پر چھپ رہا ہے۔ انہوںنے کہا کہ اس سال کے آغاز سے ماہنامہ رضائے مصطفے کی اشاعت کا 51 واں سال شروع ہوگیا ہے نصف صدی مکمل ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ 1414ھ میں‘ میں کراچی گیا تو وہاں پر خاندان رضویت کے بزرگ پیر طریقت حضرت مولانا محمد شوکت حسن خان قادری نوری بریلوی مدظلہ نے کراچی میں میری آمد کا معلوم ہونے پر کمال شفقت فرمائی اور میری قیام گاہ پر ملاقات کے لئے تشریف لائے۔ انہوں نے مجھے سرکار اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ کے مزار پرانوار سے آئی ہوئی ایک چادر مبارک کا تبرک عطا کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’مجھے بریلی شریف میں عرس اعلیٰ حضرت کے موقع پر جب یہ چادر مبارک عنایت ہوئی تو میں نے اسی وقت ارادہ کیا تھا کہ یہ تبرک رضائے مصطفے کے حوالے سے آپ کی دینی و مسلکی خدمات کے پیش نظر آپ کو پیش کروں گا۔
اسی طرح ایک بہت بڑی نعمت کا ذکر کردوں حضور مفتی اعظم شہزادہ اعلیٰ حضرت مولاناشاہ مصطفیٰ رضا نوری علیہ الرحمہ کے مرید ڈاکٹر معین الدین صاحب کے پاس حضور سید عالمﷺ کے موئے مبارک کا جو عظیم تبرک ہے‘ انہوں نے رضائے مصطفے کی خدمات کے اعتراف میں اس میں سے ہمیں بھی تبرک عطا فرمایا۔
علامہ شاہ احمد نورانی علیہ الرحمہ اور ان کے سسر حضرت مولانا فضل الرحمن مدنی علیہ الرحمہ کے ساتھ اپنے تعلقات کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ فضیلۃ الشیخ حضرۃ العلام مولانا فضل الرحمن مدنی قادری علیہ الرحمہ اپنے والد بزرگوار خلیفہ امام احمد رضا حضرت مولانا ضیاء الدین احمد مدنی رحمتہ اﷲ علیہ کی طرح مجھ سے بہت ہی زیادہ محبت فرماتے اور اپنی محافل میں دعائوں سے نوازتے۔ نیز انتہائی شفقت فرماتے ہوئے میرے پاس گوجرانوالہ بھی تشریف لائے۔ آپ نے میرے نام بے شمار مکاتیب بھی ارسال فرمائے۔ انہوں نے مدینہ منورہ کی مقدس فضائوں میں مجھ فقیر حقیر اور رضائے مصطفے کے بارے میں بہت اعلیٰ تاثرات ارشاد فرمائے۔
ذکر میرا مجھ سے بہتر ہے کہ اس محفل میں ہے
ایک مکتوب میں مولانا فضل الرحمن مدنی نے مجھے لکھا کہ رضائے مصطفے جوکہ حسان اہلسنت ہے‘ اﷲ اسے قائم و دائم رکھے… ایک اور خط میں حضرت مولانا فضل الرحمن مدنی قادری نے آج سے تقریبا 9 سال پہلے تحریرفرمایا کہ رضائے مصطفے کو جاری ہوئے 41 سال پورے ہوگئے‘ یہ بھی رب ذوالجلال کا فضل عظیم ہے۔ بلاشبہ یہ رسالہ اہلسنت کی صحیح ترجمانی کرتا ہے۔
حضرت مولانا فضل الرحمن مدنی علیہ الرحمہ نے اپنے دورہ گوجرانوالہ کے دوران تبادلہ خیال کرتے ہوئے رضائے مصطفے کے حوالے سے بتایا تھا کہ والد گرامی حضرت مولانا ضیاء الدین مدنی بڑے اشتیاق و توجہ کے ساتھ رضائے مصطفے سنتے اور ملاحظہ فرماتے ہیں۔ الیکشن کے زمانے میں مولانا فضل الرحمن مدنی نے اس بات پر زور دیا کہ آپ انتخابات میں حصہ لے کر اسلام کی سربلندی و مسلک کے تحفظ کے لئے قوم کی نمائندی کریں کیونکہ یہ وقت کا اہم مسئلہ ہے۔
مفتی ابو دائود محمد صادق قادری نے بتایا کہ دسمبر1991ء میں اپنے دونوں بیٹوں محمد دائود رضوی اور محمد رئوف رضوی کے ہمراہ میں کراچی گیا تو وہ جمعرات کا دن تھا۔ دوست احباب کے ساتھ گفتگو کے دوران معلوم ہوا کہ مولانا شاہ احمد نورانی جب کراچی میں تشریف فرما ہوں تو جمعرات کو ان کے ہاں محفل ذکر ہوا کرتی ہے۔ چنانچہ نماز عشاء کے بعد میں عزیزان و احباب کے ہمراہ مولانا نورانی علیہ الرحمہ کے آستانہ پر حاضر ہوگیا۔ ہم پہنچے تو لائٹیں بند کراکے مولانا موصوف بڑی رقت کے ساتھ حلقہ ذکر کرارہے تھے۔ ہم بھی پیچھے بیٹھ گئے اور ذکر میں مشغول ہوگئے۔ کچھ دیر بعد جب لائٹیں روشن ہوئیں اور مولانا شاہ احمد نورانی کی توجہ ہماری طرف ہوئی تو کمال محبت کے ساتھ مرحبا مرحبا کہتے ہوئے ہماری طرف بڑھے‘ مصافحہ و معانقہ کیا اور اپنے پاس بٹھالیا اور پھر محبت بھری باتیں فرماتے رہے۔ اسی دوران آپ نے سید ارشاد علی صاحب ڈویژنل صدر جمعیت علماء پاکستان کراچی کو اپنے پاس بلایا اور میرے ساتھ ان کا تعارف کراتے ہوئے فرمانے لگے کہ ’’ایک مرتبہ جب آپ نے میرے متعلق ماہنامہ رضائے مصطفے میں کچھ لکھا تو یہ شاہ صاحب کچھ جذبات میں آگئے تھے تو میں نے انہیں کہا کہ ’’شاہ صاحب! مولانا ابو دائود محمد صادق صاحب میرے اپنے ہیں‘ مجھے ان سے بڑی محبت ہے اور وہ بھی میری خیر خواہی کے لئے خلوص کے ساتھ لکھتے ہیں۔ مجھے تو خوشی ہے کہ اصلاح کرنے والے حضرات بھی ہماری جماعت میں موجود ہیں‘‘ بعد ازاں مولانا شاہ احمد نورانی رحمتہ اﷲ نے کمال محبت سے فرمایا کہ آج آپ اپنی خوشی سے آئے ہیں۔اب میری خوشی کے لئے آپ دوبارہ میرے گھر تشریف لائیں۔ میں نے کہا کہ ماشاء اﷲ ملاقات ہوگئی۔ ویسے بھی آپ مصروف شخصیت ہیں لیکن مولانا موصوف کے شدید اصرار پر جمعہ شریف کا دن گزار کے ہفتہ کو دوبارہ ہم مولانا علیہ الرحمہ کی دعوت ظہرانہ میں شامل ہوئے۔ مفتی ابو دائود محمد صادق نے بہت محظوظ ہوکر بتایا کہ ایک مجلس میں علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی نے بڑے خوشگوار موڈ میں یہ انکشاف کیا کہ ’’جن دنوںشناختی کارڈ پر عورت کی تصویر لگانے یا نہ لگانے کی بحث جاری تھی‘ اخباری نمائندوں نے اس سلسلہ میں مجھ سے سوال کیا تو اس وقت مجھے فوری طور پر آپ (مولانا ابو دائود محمدصادق) کا خیال آگیا کہ کہیں میرے جواب پر آپ کی طرف سے گرفت نہ ہوجائے۔ چنانچہ اخباری نمائندوںکو میں نے ٹال دیا‘‘
مولانا ابو دائود نے کہا کہ میں کسی بدعقیدہ شخص سے ملنا‘ علیک سلیک رکھنا‘ بالکل درست نہیں سمجھتا کیونکہ بدعقیدگی کی نحوست بہت زیادہ اور اس کے نقصانات بڑے قوی ہوتے ہیں۔ آخرت کا خسارہ بدعقیدگی کے سبب ہوتا ہے۔ خوش عقیدگی اﷲ کی رحمت ہے اور خوش عقیدہ لوگوں کی رفاقت اخروی نجات و نفع کاباعث ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک مرتبہ ہوائی جہاز میں اچانک جے یوآئی کے سربراہ فضل الرحمن سے ہمارا آمنا سامنا ہوگیا تو میں نے انہیں کہا کہ جہاز میں ننگے سر اور کھلے منہ پھرنے والی ایئرہوٹس کو پردہ کا پابند ہونا چاہئے ان کی جگہ مرد ملازم رکھے جائیں جو مردوں کی ضیافت و ضروریات کے لئے خدمات سرانجام دیں اور خواتین کے لئے یہ خواتین کام کریں چونکہ آپ لوگ اسمبلی میں ہو‘ اس حوالے سے آواز اٹھائو تو فضل الرحمن نے کہا کہ ہم لوگ کیا کرسکتے ہیں؟ ہم حکومت میں تو نہیں۔ جس پرمیں نے برجستہ کہا کہ حکومت میں نہیں اپوزیشن میں تو ہیں۔ حکومت سے مطالبات کریں جس طرح دیگر مسائل کے حوالے سے مطالبات کرتے ہیں تو فضل الرحمن خاطر خواہ جواب نہ دے پایا اور چپ ہوگیا۔
علامہ ابو دائود محمد صادق رضوی نے احکام قرآن اور ارشادات نبویﷺ میں غوطہ زن ہوکر کہا کہ ہر مسلمان کو یاد رکھنا چاہئے کہ اﷲ سبحانہ و تعالیٰ کیا حکم ارشاد فرما رہا ہے؟ کیا اﷲ تعالیٰ نے ارشاد نہیں فرمایا؟ کہ ’’جو لوگ مسلمان ہیں اور بے حیائی و فحاشی کی اشاعت چاہتے ہیں۔ان کے لئے دنیا و آخرت میں دردناک عذاب ہے‘‘ (پ ۱۸ رکوع ۸) ’’اے ایمان والو! شیطان کی پیروی نہ کرو۔ جو شیطان کی پیروی کرے گا بے شک وہ اسے بے حیائی و برائی کی بات بتائے گا‘‘ (پ ۱۹ رکوع ۹) ’’ بے شک اﷲ حکم فرماتا ہے۔ انصاف اور نیکی اور رشتہ داروں کو دینے کا اور منع فرماتا ہے۔ بے حیائی اور سرکشی سے… تمہیں نصیحت فرماتا ہے کہ تم دھیان کرو‘‘ (پ ۱۴ رکوع ۱۹) ’’اے ایمان والو! اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو دوزخ کی آگ سے بچائو‘‘ (پ ۲۵ رکوع ۱۹) ’’نیکی اور پرہیز گاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ و زیادتی پر باہم مدد نہ دو۔ اور اﷲ سے ڈرتے رہو۔ بے شک اﷲ کا عذاب سخت ہے‘‘ (پ ۶ رکوع ۵) ’’نماز قائم کرو‘ مشرکوں میں سے نہ ہو‘‘
اسی طرح حضورﷺ نے احادیث مبارکہ میں ارشاد فرمایا ہے کہ ’’قیامت کے دن بندے سے سب سے پہلے نماز کا حساب ہوگا‘‘ … ’’باجے اور گانا سننے سے بچو۔ تحقیق گانا بجانادل میں منافقت اگاتا ہے‘‘… ’’سات برس کی اولاد کو نماز شروع کرائو۔ اور دس برس کی ہوتو مار کر پڑھائو‘‘ … علامہ ابو دائود فرما رہے تھے کہ اصلاح معاشرہ کے لئے جدوجہد کرنا ہم سب کا فریضہ ہے۔ اسی لئے ہم ہر جگہ اس امر کا ابلاغ چاہتے ہیں۔ کہ ’’مسلمانو! اپنی شکل و صورت سنت کے مطابق بنائو۔ انگریزی وضع قطع اور طور طریقوں سے باز آئو۔ معاشرہ کی اصلاح اور برائیوں کے خلاف جہاد کرو‘‘ … مسلمانو! نماز نہ پڑھنا‘ ظلم و ستم کرنا‘ جھوٹی گواہی دینا‘ سودو رشوت وغیرہ حرام کمائی کرنا‘ کسی کا حق مارنا‘ سخت گناہ و عذاب اور دوزخ کا باعث ہے… مسلمانو! نماز نہ پڑھنا‘ سنیمادیکھنا‘ گانا بجانا‘ تصاویر بنانا اور رکھنا‘ حرام کھانا اور عورتوں کی بے پردگی و باریک و تنگ لباس پہننا سخت گناہ و مسلمان کی شان کے خلاف ہے۔ لوگو! خدا تعالیٰ سے ڈرو۔ آخرت کی فکر کرو۔ دنیا کی ناپائیداری‘ موت کی سختی‘ قبر کی تنہائی اورر آخرت کی تیاری سے غافل نہ ہو۔
حضرت ابو دائود صاحب نے کہا کہ مسلمان خواتین کے لئے بالخصوص یہ کتنا لرزہ خیز ارشاد نبویﷺ ہے کہ ’’جو عورتیں کپڑے پہننے کے باوجود ننگی ہوں گی۔ ایسی ملعون عورتیں نہ جنت میں داخل ہوں گی نہ جنت کی خوشبو سونگھ سکیں گی‘‘ … ’’جب عورت خاوند کی اطلاع و مرضی سے بنائو سنگھار اور خوشبو کے ساتھ گھر سے نکلتی ہے تو اس کے ہر قدم کے بدلے (اپنے عذاب کے علاوہ) اس کے خاوند کے لئے بھی جہنم میں مکان بنتا ہے‘‘ (الحدیث)
مولانا ابو دائود نے کہا کہ چند عبرت انگیز اشعار میں اکثر پڑھتا ہوں اور سنتا ہوں۔ اس کا مقصد دلوں میں فکر آخرت اجاگر کرنا ہے ان میں سے چند اشعار یہ ہیں۔
ٹھکانا گور ہے تیرا عبادت کچھ تو کر غافل
کہاوت ہے کہ خالی ہاتھ گھر جانا نہیں اچھا
گئے سب اہل نظر دنیا سے یہ کہہ کر
یہ دنیا پیار کے قابل نہیں ہے
جگہ دل لگانے کی دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے
نہ دولت سے نہ دنیا سے نہ گھر آباد کرنے سے
تسلی دل کو ہوتی ہے خدا کو یاد کرنے سے
وہ قوم جو کل کھیلتی تھی ننگی شمشیروں کے ساتھ
آج سنیما دیکھتی ہے اپنی ہمشیروں کے ساتھ
یہ سرخی بنت حاضر کے لبوں پر
تیری غیرت کا اے مسلم لہوہے
آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں
سامان سو برس کا‘ کل کی خبر نہیں
زمین و آسماں بھی کانپتے تھے جس کی ہیبت سے
اسی مسلم کی صورت اب تو پہچانی نہیں جاتی
گوارا ہے اسے نظارہ غیر
نگاہ کی نا مسلمانی سے فریاد
جب سر محشر وہ پوچھیں گے بلا کر سامنے
کیا جواب جرم دوگے تم خدا کے سامنے
بے نمازو! کیا غضب کرتے ہو تم
حق تعالیٰ سے نہیں ڈرتے؟ ہو تم
علامہ الحاج ابو دائود محمد صادق نے ایک واقعہ سنایا کہ بہت عرصہ قبل گوجرانوالہ میں سٹی انسپکٹر خواجہ محمد طفیل نے مکتلف مکاتب فکر کے علماء کی میٹنگ بلائی‘ جس میں دوران گفتگو بعض ’’علمائ‘‘ نے مطالبہ کیا کہ اذان کے ساتھ درود وسلام بند ہونا چاہئے۔ خواجہ صاحب نے میری طرف متوجہ ہوکر پوچھا کہ آپ کی کیا رائے ہے؟ میں نے کہا کہ اس کی کوئی وجہ بھی تو ہونی چاہئے؟ خواجہ صاحب نے مخالفین سے پوچھا کہ آپ کس وجہ سے درودوسلام بند کرانا چاہتے ہیں؟انہوں نے کہا کہ یہ کوئی ضروری چیز نہیں اور کچھ عرصہ سے ہی یہ سلسلہ شروع ہوا ہے پہلے نہیں تھا‘‘ اس پر میں نے کہا کہ اگر یہی بات ہے تو لائوڈ اسپیکر پر اذان بھی بند ہونی چاہئے کیونکہ یہ بھی کوئی ضروری چیز نہیں اور کچھ عرصہ سے ہی لائوڈ اسپیکر پر اذان کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔ پہلے تو ہمیشہ بغیر اسپیکر کے ہی اذان ہوتی تھی۔ اس پر مخالف علماء نے کہا کہ اس طرح تو سارا شہر ’’اندھا بہرا‘‘ ہوجائے گا… مخالفین نے کہا ’’شہر اندھا بہرا ہوجائے لیکن ایک بدعت کا تو خاتمہ ہوجائے گا‘‘ … مخالفین نے کہا ’’ایسا نہیں ہوسکتا‘‘ اس پر میں نے کہا کہ ’’اگر ایسا نہیں ہوسکتا تو پھر لائوڈ اسپیکر پر صلوٰۃ و سلام کا سلسلہ بھی بند نہیں ہوسکتا‘‘ چنانچہ اس پر منکرین درود و سلام پر خاموشی چھا گئی۔
مفتی ابو دائود محمد صادق نے اپنی نجی زندگی کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ میرے دو بیٹے ہیں۔ محمد دائود رضوی… محمد رئوف رضوی… الحمدﷲ میں نے کوشش کی ہے کہ انہیں دین پڑھائوں اور خالص دینی ماحول میں ان کی پرورش و تربیت کرسکوں۔ ماشاء اﷲ دونوں نے حج کی سعادت حاصل کی ہے اور مدینہ منورہ میں حضرت مولانا محمد فضل الرحمن مدنی کے دست مبارک پر بیعت ہیں۔ دونوں مرکزی دارالعلوم جامعہ رضویہ مظہر الاسلام فیصل آباد کے سند یافتہ ہیں۔ اس وقت عزیزم محمد دائود معاون ایڈیٹر اور عزیزم محمد رئوف رضوی سب ایڈیٹر ماہنامہ رضائے مصطفے کی ذمہ داریاں بڑے شوق اور احسن طریقے سے نبھا رہے ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ مجاہد ملت حضرت مولانا عبدالستار خان نیازی مرحوم‘ مداح حبیب الحاج محمد علی ظہوری مرحوم اور ثناء خوان رسول سید فصیح الدین سہروردی سمیت بے شمار حضرات نے میری مخلصانہ کوشش و خواہش اور توجہ دلانے پر شرعی داڑھی رکھی۔
حضرت علامہ ضیاء الدین احمد مدنی رحمہ اﷲ تعالیٰ مجھ پر بے حد شفقت و نوازش فرماتے رہے اور اپنی محافل میں میرے لئے خصوصی دعائیں فرماتے تھے… بلکہ وہ تو ہمارے ماہنامہ رضائے مصطفے کے اولین قارئین میں سے تھے اور اس کی مسلکی خدمات کے معترف تھے۔ انہوں نے کہا کہ الحمدﷲ مفتی اعظم ہند علامہ محمد مصطفے رضا خان‘ ملک العلماء علامہ محمد ظفر الدین بہاری‘ محدث اعظم پاکستان مولانا محمد سردار احمد قادری چشتی‘ خلیفہ اعلیٰ حضرت علامہ محمد ضیاء الدین مدنی‘ قائد اہل سنت مولاناشاہ احمد نورانی‘ شیخ الاسلام خواجہ قمر الدین سیالوی‘ نواسہ اعلیٰ حضرت مفتی تقدس علی خان‘ تحریک آزادی کے صف اول کے رہنما علامہ عبدالحامد بدایونی‘ حکیم الامت مفتی احمد یار خاں نعیمی‘ شیخ القرآن علامہ محمد عبدالغفور ہزاروی‘ مولانا محمد عبدالستار خان نیازی‘ مولانا مفتی تقدس علی خان رضوی‘ رئیس التحریر علامہ ارشد القادری‘ غزالی زماں علامہ احمد سعید کاظمی‘ تاجدار ملتان مولانا حامد علی خان‘ علامہ عنایت اﷲ سانگلوی‘ مولانا محمد عمراچھروی‘ سمیت اکابر علماء و مشائخ رضائے مصطفے کے قارئین میں سے تھے اور اس کی مسلکی و دینی خدمات کے معترف تھے۔ حضرت محدث اعظم ہند علامہ سید محمد محدث کچھوچھوی سجادہ نشین آستانہ عالیہ کچھوچھ شریف نے رضائے مصطفے کے مسئلہ لائوڈ اسپیکر پر نماز کے عدم جواز اور رویت ہلال نمبر دیکھے تو بہت پسند فرمائے اور رضائے مصطفے کی تائید میں فتاویٰ مرحمت فرمائے۔
علامہ ابو دائود بتا رہے تھے کہ بریلی شریف دوران  تعلیم مجھے ان بزرگوں کی زیارت نصیب ہوئی ان میں حجتہ الاسلام مولانا شاہ حامد رضا خان بریلوی‘ مفتی اعظم مولانا شاہ مصطفے رضا بریلوی‘ صدر الشریعہ علامہ امجد علی اعظمی‘ صدر الافاضل علامہ نعیم الدین مراد آبادی اور دیگر متعدد اکابر شامل ہیں۔
سلسلہ طریقت میں خلفاء کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں حضرت ابو دائود نے فرمایا کہ میرے مخلص رفقاء میں سے پیکر شرافت علامہ سید محمد علی شاہ رضوی علیہ الرحمتہ‘ صوفی باصفاء علامہ سید محمد لیاقت علی شاہ رضوی علیہ الرحمہ‘ استاذ العلماء علامہ مفتی محمد حاکم علی رضوی صدر مدرس جامعہ حنفیہ رضویہ سراج العلوم گوجرانوالہ‘ شیخ الفقہ علامہ مفتی محمد عبداللطیف قادری مہتمم مدرسہ عطائے مصطفے جگنہ‘ گوجرانوالہ‘ عالمی مبلغ اسلام مفتی محمد عباس رضوی ریسرچ آفیسر محکمہ اوقاف دبئی‘ شیخ المیراث مفتی محمد جنید رضوی صدر المدرسین جامعہ نوریہ رضویہ کلفٹن کراچی‘ فاضل شہیر علامہ حافظ غلام محمد رضوی خطیب اعظم خوشاب‘ علامہ محمد منور عثمانی مریدکے شامل ہیں۔انہیں میں نے اپنے سلسلہ طریقت سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ میں خلافت و اجازت دی ہے۔ اﷲ تعالیٰ مجھے اور انہیں اخلاص و محبت اور تسلسل کے ساتھ دین اور مخلوق کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔ علامہ ابو دائود اپنے قائم کردہ مادر علمی اور تلامذہ کے حوالے سے بتا رہے تھے کہ 1374ھ مدرسہ جامعہ حنفیہ رضویہ سراج العلوم کی بنیاد رکھی گئی جس کا سنگ بنیاد استاذ المکرم حضرت مولانا محمد سردار احمد چشتی قادری رحمہ اﷲ تعالیٰ نے رکھا۔ اس حوالے سے الحمدﷲ ہمارے سینکڑوں کی تعداد میں شاگرد ہیں جن میں بڑے بڑے شعلہ نوا مقرر اور خطیب بھی شامل ہیں۔ ان میں مولانا پیر مراتب علی شاہ‘ مولانا سعید احمد مجددی‘ مولانا خالد حسن مجددی‘ مولانا سیدشبیر حسین شاہ حافظ آبادی‘ مولانا محمد اکرم رضوی شہید‘ مولانا صداقت علی فیضی‘ پیر طریقت حضرت خواجہ ابو الطاہر محمد نقشبند صدیقی مجددی سلطانی علیہ الرحمہ بانی جامعہ نقشبندیہ رضویہ فیض مصطفے پاکپتن شریف‘ فاضل جلیل علامہ محمد عبدالغفار صابری برادر اکبر علامہ محمد عبدالحکیم شرف قادری علیہما الرحمتہ‘ استاذ العلماء مفتی محمد حیات قادری سینئر نائب صدر جماعت اہلسنت و جمعیت علماء جموں و کشمیر‘ فاضل محتشم مفتی محمد یونس کاشمیری انگلینڈ‘ فخر السادات علامہ سید محمد حبیب الرحمن شاہ آزاد کشمیر‘ فاضل شہیر علامہ محمد نور عالم رضوی سابق مدرس جامعہ قادریہ فیصل آباد‘ نازش اہلسنت علامہ محمد شریف راولپنڈی‘ شیخ الحدیث مفتی محمد معین الدین ڈسکہ‘ مجاہد اہلسنت مولانا محمد حفیظ نیازی ایڈیٹر ماہنامہ رضائے مصطفے گوجرانوالہ وغیرہم کے نام قابل ذکر ہیں۔
اس سوال کہ ’’حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ کے ساتھ اپنے تعلقات کے بارے میں ارشاد فرمائیں‘‘؟ انہوں نے کہا کہ مفسر قرآن مولانا الحاج مفتی احمد یار خاں نعیمی رحمہ اﷲ تعالیٰ ہمیشہ مجھ سے بڑی محبت و شفقت سے پیش آتے‘ بہت حسن ظن کا اظہار فرمایا کرتے تھے اور اپنی نیک طبع و ذوق تبلیغ کے تحت امر خیر و امور تبلیغ کی بہت حوصلہ افزائی و قدردانی کرتے تھے۔ حافظ آباد میں مولانا شبیر احمد صاحب کے سالانہ جلسہ پر پہلی مرتبہ جب حضرت مفتی صاحب سے ملاقات ہوئی تو بڑی خوشنودی کا اظہار کیا اور فرمایا ’’آپ نے تو گوجرانوالہ میں اسلام کا چرچا فرما دیا ہے اور ماشاء اﷲ خوب کام کیا ہے‘‘ چونکہ حسن اتفاق سے شروع میں حضرت مفتی صاحب بھی گوجرانوالہ میں اسی مسجد میں کچھ دن تشریف فرما رہ کر قریب سے دیکھ چکے تھے کہ یہاں معاملات خاصے گھمبیر تھے۔ اس لئے آپ نے یہاں کی صورت حال کے پیش نظر مذکورہ الفاظ ارشاد فرمائے۔ حضرت مفتی صاحب رحمتہ اﷲ علیہ رضائے مصطفے کی بھی بہت قدردانی فرماتے تھے اور اس کے تبلیغی انداز کو بہت پسند کرتے تھے اور خوش ہوکر فرماتے تھے کہ اصلاح معاشرہ کاکوئی بھی اس طرح بیان نہیں کرتا۔ رضائے مصطفے کے اجراء پر تحریر فرمایا۔ اہلسنت و جماعت کے جرائد میں آپ کا جریدہ رضائے مصطفے بفضلہ تعالیٰ بہت ہی نافع ہے۔
خیروبرکت اور غیبی مدد و نصرت کے لئے حضرت صاحب نے فرمایا کہ ہمیشہ ہر روز پڑھنے والا خاص وظیفہ یہ ہے… نماز فجر کے بعد… یا عزیز یا اﷲ‘ نماز ظہرکے بعد… یا کریم یا اﷲ‘ نماز عصر کے بعد… یا جبار یا اﷲ‘ نماز مغرب کے بعد… یاستار یا اﷲ‘ نماز عشاء کے بعد…یا غفار یا اﷲ‘ ہر نماز کے بعد سو سو مرتبہ پڑھا جائے یعنی ہر نماز کے بعد ایک تسبیح اس طرح پڑھ لی جائے کہ اول و آخر تین تین مرتبہ درود شریف پڑھیں۔ اس کو پابندی سے پڑھنے والے کے لئے بے شمار دین و دنیا کی برکات ظاہر ہوں گی۔
غزالی زماں علامہ سید احمد سعید شاہ کاظمی کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں علامہ ابو دائود محمد صادق نے بتایا کہ بحمدﷲ علامہ کاظمی علیہ الرحمہ اور فقیر میں گہری موافقت اور خوشگوار تعلقات رہے۔ حتی کہ جب کلمہ حق کہنے کی وجہ سے بہاولپور جیل میں تھا تو علامہ کاظمی بنفس نفیس خود ملاقات کے لئے تشریف لائے اور کافی مقدار میں کھانے پینے کی اشیاء وغیرہ اپنے ساتھ لائے۔
جیلوںکی زندگی کے حوالے سے علامہ ابو دائود نے بتایا کہ خدمت دین کی پاداش میں گوجرانوالہ‘ بہاولپور اور میانوالی وغیرہ کی جیلوں میں مجھے 6 مرتبہ قیدوبند کی صعوبتیں پیش آئیں… اسی سلسلہ میں ایک مرتبہ ربیع الاول شریف کا مہینہ بھی جیل میں آیا۔ 1379ھ 1959ء ربیع الاول شریف کے مقدس مہینہ میں ڈسٹرکٹ جیل بہاولپور میں 11 ربیع الاول شریف کو بعد نماز عشاء بسلسلہ جشن عید میلاد النبیﷺ میں نے عظیم الشان محفل میلاد منعقد کروائی اور12 ربیع الاول شریف کو بعد نماز فجر قرآن خوانی ہوئی اور ختم قرآن مجید کے بعد پھر ایک اہم یادگار نورانی و روحانی محفل میلاد شریف کا انعقاد کروایا۔ دونوں محفلوں میں بفضل اﷲ و وببرکتہ رسول اﷲﷺ میں نے نبی کریمﷺ کی ولادت سعادت‘ عظمت و شان سیرت پاک اور اتباع شریعت و سنت کا بیان کیا جس سے حاضرین و قیدی ماشاء اﷲ خوب محظوظ و متاثر و مسرور ہوئے۔ دونوں محفلوں کا اختتام صلوٰۃ و سلام اور دعائے خیر پر ہوا اور میلاد پاک کا تبرک تقسیم کیا گیا۔ الحمدﷲ وعظ و تبلیغ اور درس و تدریس کا سلسلہ جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ میں نے جیل میں 6 سپارے بھی حفظ کرلئے۔
علامہ الحاج ابو دائود نے بتایا کہ علی پور شریف میں طالب علمی کے زمانے میں ایک دفعہ میں نے فقیہ اعظم حضرت مولانا محمد شریف محدث کوٹلوی رحمتہ اﷲ علیہ کی خدمت میں فارسی میں عریضہ ارسال کیا اور میرا ذوق بڑھانے کے لئے آپ نے بھی فارسی میںخط لکھا اور اس میں تحریر فرمایا کہ جب تم عربی میں خط لکھو گے تو مجھے اور زیادہ مسرت ہوگی۔ چنانچہ پھر میں نے ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں عربی میں مکتوب ارسال کیا۔ آپ نے بہت حوصلہ افزائی فرمائی۔ انہوں نے ساری زندگی درس و تدریس تقریر و تحریر کے ذریعے سے تبلیغ فرمائی۔ آپ کی تقریر گویا حدیث کا درس ہوا کرتا تھا۔ آپ حنفیت کے علمبردار اور مقلدین کے لئے ڈھال تھے۔ غیر مقلدیت اور آزاد خیالی کو آپ نے ہی بسمل کردیا۔ آپ نے مذہب حنفی کی بیش بہا اور شاندار خدمات انجام دیں۔ احناف آپ کے احسانات کو فراموش نہیں کرسکتے۔ اگرچہ آپ کی ساری عمر تبلیغی خدمات میں گزری لیکن اس کے باوجود اہلسنت اپنی عدم تنظیم کی وجہ سے حضرت کے علمی فیوض و برکات سے کماحقہ مستفید نہ ہوسکے۔ آپ کے صاحبزادے مولانا ابو النور محمد بشیر فرماتے تھے کہ حضرت نے کئی بار اس خواہش کا اظہار فرمایا کہ دیگرفرقوں کی طرح اہلسنت میں بھی کوئی منظم ادارہ ہو تو میں طباعت و اشاعت کی فکر سے آزاد رہ کر بہت کچھ لکھوں۔ جس سے مسلک اہلسنت کو بڑی تقویت ہو۔ آپ کو یہ بڑی حسرت تھی کہ کاش اہلسنت بھی پوری تنظیم کے ساتھ میدان میں آئیں۔ آپ نے اپنی تصانیف میں جابجا اس کا تذکرہ فرمایا ہے اور اہلسنت کو بیدار کرنے کی پوری کوشش کی ہے اور آپ کے اسی جذبہ صادقہ کا نتیجہ اور توجہات شریفہ کا ثمرہ ہے کہ آپ کے وصال کے فورا بعد آپ کے سعادت مند صاحبزادے مولانا ابو النور محمد بشیر کوٹلوی نے اکیلے ہونے اور بہت سی مصروفیات کے باوجود تقاریر و مواعظ کے علامہ ماہنامہ ماہ طیبہ کے ذریعہ اہلسنت کی مستقل اور ٹھوس تبلیغ کا بیڑا اٹھالیا اور ماشاء اﷲ تھوڑے ہی عرصے میں ماہ طیبہ کو بلند معیار پر پہنچادیا اور ماہ طیبہ کے ذریعہ سنیت کی عظیم خدمات انجام دیں۔ علامہ الحاج ابو دائود محمد صادق رضوی نے نہایت ایمان افروزواقعہ بیان کیا۔ وہ فرما رہے تھے کہ یہ 1941ء کی بات ہے کہ حضرت فقیہ اعظم قدس سرہ پر مرض فالج کا حملہ ہوا اور آپ سخت بیمار ہوگئے۔ ان دنوں سیالکوٹ چھائونی میں ایک بنگالی ڈاکٹر تھا جو بڑا قابل تھا‘ اسے لایا گیا۔ اس نے حالت دیکھ کر مایوسی کا اظہار کیا کہ ’’فالج پیر‘‘ بڑا خطرناک ہوتا ہے۔ تاہم علاج کرتا ہوں۔ اس نے علاج شروع کیا مگر بددلی کے ساتھ‘ حضرت فقیہ اعظم کی حالت یہ تھی کہ دونوں ٹانگیں بالکل بے جان ہوچکی تھیں‘ کھڑے ہوناتو درکنار بیٹھ بھی نہ سکتے تھے‘ سب پریشان تھے کہ اسی دوران فقیہ اعظم کا عشق رسولﷺ رنگ لایا اور ایک خاص کرشمے کا ظہور ہوا۔ جسے اس ڈاکٹر نے کوٹلی والوں نے‘ سیالکوٹ کے کئی باشندوں نے ‘ اپنوں اور بیگانوں نے‘ الغرض سب نے دیکھا۔ ہوا یوں کہ ایک رات جبکہ حضرت فقیہ اعظم سو رہے تھے اورآپ کے فرزند مولانا محمد بشیر پاس بیٹھ کر پنکھا ہلا رہے تھے کہ اچانک سوتے میں آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ مولانا حیران رہ گئے کہ یہ کیا بات ہے؟ اسی وقت فقیہ اعظم بیدار ہوئے اور مولانا محمد بشیر سے پوچھا کہ ’’تم نے کیا دیکھا‘‘؟ مولانا نے عرض کیا کہ ’’آپ سوتے ہوئے رو رہے تھے‘‘ پھر رو کر فرمایا کہ ’’نبی کریم رئوف و رحیمﷺ تشریف لائے تھے اور اپنے دست رحمت سے میری بند آنکھوں کو کھول کر فرمایا کہ ’’آنکھیں کھولو‘ اب ہم ایک دوسرے مریض کی جانب جارہے ہیں‘‘ پھر آپ نے فرمایا کہ ’’حضورﷺ میری آنکھیں کھول کر مجھے اچھا فرما گئے ہیں‘ مجھے اٹھا کر کھڑا کردو‘‘ جب آپ کو کھڑا کیا گیا تو حاضرین کی آنکھیں یہ دیکھ کر فرط مسرت سے پرنم ہوگئیں کہ ٹانگوں میں طاقت آگئی ہے اور بوجھ سہارنے لگی ہیں پھرآپ کو لٹادیا گیا اور اگلی صبح ہی سے آپ نے چلناشروع کردیا۔ حضورﷺ کے اس اعجاز رحمت کا قصبہ بھر میں چرچا ہوگیا اور لوگ بڑی خوشیوں کے ساتھ آپ کی زیارت کو آنے لگے۔ بنگالی ڈاکٹر بھی یہ واقعہ سن کر حیران رہ گیا اور دو ہی دن میں حضرت فقیہ اعظم کو مکمل صحت ہوگئی۔
حضرت ابو دائود محمد صادق نے محدث اعظم مولانا سردار احمد کے حوالے سے ذکر خیر کرتے ہوئے کہا کہ حجتہ الاسلام مولانا حامد رضا خان کے دیدار کی ایک تجلی نے ایک اسٹوڈنٹ کو شیخ الحدیث اور صدر المدرسین کے منصب تک پہنچا دیا۔
انہوں نے بتایا کہ مفتی اعظم ہند مولانا شاہ مصطفے رضا خاں نوری نے 1401ھ میں مجھے خلافت و اجازت سے سرفراز فرمایا۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ تقریبا ایک سو دینی‘ علمی‘ تحقیقی اشتہارات ہزاروں کی تعداد میں بیسیوں مرتبہ چھپ کر ساری دنیا میں تقسیم ہوچکے ہیں۔
علامہ ابو دائود نے بتایا کہ اصلاح معاشرہ کی تحریک کے تحت ہمارے حلقہ احباب کی طرف سے اس قسم کی اشتہارات و بورڈز گوجرانوالہ کے بکثرت مقامات کے علاوہ دیگر شہروں میں بھی لگوانے کا سلسلہ جاری رہا‘ جس کی وجہ سے ماشاء اﷲ بے شمارلوگوں کی زندگیوں میں اسلامی روحانی انقلاب آگیا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش اور خواہش ہے کہ معاشرے میں صحت مند تبدیلی کے خواہش مند صحیح العقیدہ مسلمان ہماری اس تحریک کا حصہ بنیں۔ہمارا ساتھ دیں‘ ان ارشادات و اشعار اور اقوال کو اشتہارات‘ بورڈز‘ بینرز اور پمفلٹس وغیرہ کی صورت میں پھیلائیں… انہوں نے کہا کہ چراغ سے چراغ جلتا ہے تو ظلمتوں میں نور اجالا ہوجاتا ہے۔ بدی کا راستہ روکنا اور نیکی کی قدروں کا ابلاغ ہر مسلمان کا فریضہ ہے اس لئے ہمیں اپنی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا چاہئے۔