مذہبی خبریں
(۱)… مساجد کو راستہ بنالیا جائے گا۔
(۲)… قاریوں کی کثرت ہوگی‘ حشرات الارض کی طرح پائے جائیں گے۔
(۳)… علماء وفقہاء کی قلت ہوگی۔
(۴)… شریر فقہاء ہوں گے۔
(۵)… متقی‘ مفتی ایسا عنقا ہوجائے گا کہ موٹا تازہ انسان ڈھونڈتے ڈھونڈتے دبلا ہوجائے گا مگر پھر بھی نہ پائے گا۔
(۶)… ہزاروں نماز پڑھیں گے مگر ایک بھی مسلمان نہ ہوگا۔
(۷)… قرآن کریم کو عار سمجھا جائے گا۔
(۸)… اسلام کے کام ایسے لوگ کریں گے جو خود مسلمان نہ ہوں گے (چنانچہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ مغربی قومیں قرآن و حدیث‘ تاریخ وسیر وغیرہ پر بہت مفید کام کررہی ہیں اور ایسے لوگ دین کے کام کررہے ہیںجو بظاہر بے دین معلوم ہوتے ہیں)
اخلاقی خبریں
(۱)… صرف جان پہچان والے سے علیک سلیک ہوگی۔
(۲)… بے حیائی‘ بدزبانی عام ہوگی۔
(۳)…برے ہمسایہ ہوں گے۔
(۴)… رشتہ داریاں ختم ہوجائیں گی۔
(۵)… عورتیں باغی ہوجائیں گی اور مرد نیکی کا راستہ چھوڑ دیں گے۔
(۶)… چھوٹوں کی خوب دیکھ بھال ہوگی اور بزرگوں کو نظر انداز کردیا جائے گا۔ (ترقی یافتہ ممالک میں بوڑھے والدین کو گھر سے نکال دیاجاتا ہے‘ حکومت ان کی خبر گیری کرتی ہے۔ ان کی اپنی اولاد پوچھتی تک نہیں)
(۷)… زنا کاری سے شرم نہ رہے گی (ترقی یافتہ ممالک میں یہ عام ہے‘ سب کے سامنے کوئی حیا نہیں)
(۸)… اوباش لوگ چلتی عوت سے چھیڑ چھاڑ کریں گے‘ چھیڑنے والا ہنسے گا تو اس کے ساتھ اس کے سارے ساتھی ہنسیں گے (بڑے شہروں میں یہ وبا عام ہے‘ آج ہم خود دیکھ رہے ہیں)
(۹)… عورتیں‘ بزرگوں اور بوڑھوں کو جھڑکیں گی (مغرب و مشرق میں یہ وبا عام ہے)
(۱۰)… سچا دوست اور مال حلال عنقا ہوجائے گا۔
تعلیمی و تدریسی خبریں
(۱)…علم عام ہوگا۔ مرد‘ عورت‘ بچہ‘ غلام‘ آزاد سب پڑھیں گے۔
تہذیبی و معاشرتی خبریں
(۱) … عورتیں ملبوس ہوکر بھی عریاں ہوں گی۔
(۲)… سروں پر کوہان نما شئے (یعنی ہیٹ یا اس قسم کی ٹوپی) ہوگی۔
(۳)… عورتیں اترا کر چلیں گی۔
(۴)… مرد عورتوں سے مشابہت پیدا کریں گے اور عورت مردوں سے۔
(۵)… سروں پر گانے بج رہے ہوں گے۔
(۶)… لوگ بازاروں میں اس طرح چلیں گے کہ ان کی رانیں نظر آئیں گی (یعنی عورتیں اسکرٹ پہنیں گی اور مرد تنگ پتلونیں وغیرہ)
(۷)… داڑھیاں صاف کی جائیں گی۔
(۸)… خوبصورت چمڑے کے جوتے پہنیں گے اور انہیں خوب چمکائیں گے۔
(۹)… مرد زینت کریں گے۔
(۱۰)… طرح طرح کے کھانے کھائیں گے‘ قسم قسم کے شربت پئیں گے‘ وضع وضع کے کپڑے پہنیں گے اور چکنی چپڑی باتیں کریں گے…یہ امت کے شریر لوگ ہوں گے (اﷲ اکبر! جن کو ہم شریف اور ترقی یافتہ سمجھتے ہیں وہی شریر نکلے)
سائنسی و تکنیکی خبریں
(۱)… کجادوں  کی مانند سواریاں ہوں گی (یعنی موٹریں‘ بسیں وغیرہ)
(۲)… زمانہ ایک دوسرے کے قریب ہوجائے گا اور زمین سکڑ جائے گی (یعنی جدید قسم کے ذرائع ابلاغ تار‘ ٹیلی فون‘ فیکس‘ انٹرنیٹ وغیرہ اور ذرائع حمل و نقل موٹر‘ ریل‘ جہاز وغیرہ ایجاد ہوں گے۔ جن کی وجہ سے مکان و زماں کے فاصلے کم ہوجائیں گے)
(۳)… سال مہینہ ہوجائے گا‘ مہینہ جمعہ‘ جمعہ ایک دن اور دن ایک ساعت۔
(۴)… قلم ظاہر ہوگا (اس ارشاد میں فونٹین پین‘ پنسل‘ ٹائپ رائٹر‘ پرنٹنگ پریس اور کمپیوٹر وغیرہ سب ہی آگئے)
(۵)… جوتے کا تسمہ باتیں کرے گا اور وہ کچھ سنا دے گا جواس کے پس غیبت گھر میں ہوتا رہا (ٹیپ ریکارڈر اور اسی قسم کے جدید آلات کی طرف صریح اشارہ ہے)
(۶)… ایک شہر کا تاجر دوسرے شہر کے تاجر سے مشورہ کرے گا (ٹیلی فون کی طرف واضح اشارہ ہے۔ آج کل اسی کے ذریعہ شہر شہر بلکہ ملک ملک کے تاجر باہمی مشورہ کرتے ہیں)
تجارتی و اقتصادی خبریں
(۱)… تجارت عام ہوگی۔
(۲)… دولت کی ریل پیل ہوگی۔
(۳)… مرد و عورت مل کر تجارت کریں گے۔
(۴)… سود سے کوئی نہ بچے گا‘ جو بچے گا اس کو غبار سود ضرور پہنچے گا۔
(۵)… فرات سے سونے کا خزانہ ظاہر ہوگا (پیٹرول کو کالاسونا کہا جاتا ہے‘ اس کے بے شمارذخیرے اسی علاقے میںنکلے ہیں)
(۶)… فرات سے سونے کا پہاڑ ظاہر ہوگا تو لوگ اسکے بارے میں سن کر ادھر جائیں گے‘ جسکے قبضے میں یہ ہوگا وہ کہے گا کہ اگر ہم دوسرے لوگوں کواسکے لینے کی اجازت دیں گے تو وہ سب کا سب لے جائیں گے‘ اس پر لوگ قتل کئے جائیں گے (تیل کا موجودہ عالمی بحران شاہ سعود کا قتل اور مختلف اقوام کی اس مسئلہ پر باہمی کشمکش اس پر گواہ ہے)
(۷)… بہت سی کانیں نکلیں گی جن پر صرف کمینوں کا قبضہ ہوگا (چنانچہ زیادہ تر کانیں دشمنان خدا و رسول اور غارت گر نوع انسان کے قبضے میں ہیں)
سیاسی و ملکی خبریں
(۱)… مسلمان‘ مسلمان کو قتل کریں گے اور بتوں کے پجاریوں کو نظر انداز کریں گے (مسلمان مسلمان کو تو روز اول سے قتل کررہے ہیں مگر بت کے پجاریوں والی بات اس وقت سامنے آئی جب تحریک آزادی ہند میں بعض مسلمانوں نے مسلمانوں کو چھوڑ کربت پرستوںسے دوستی کی اور پھر بنگلہ دیش کی تحریک کے موقع پر یہ بھی دیکھ لیا کہ مسلمان نے مسلمان کو قتل کیا اور بت کے پجاریوں کودعوت بھی دی گئی … فاعبتروا یا اولی الابصار)
(۲)… کچھ قبیلے مشرکین سے مل جائیں گے۔ کچھ قبیلے بتوں کی پوجا شروع کردینگے
(۳)… یہ لوگ اسلام سے ایسے گزر جائیں گے جیسے تیر نشانے سے (پاکستان اور دوسرے اسلامی ملکوں میں جو لوگ قوم پرستی یا صوبہ پرستی اورآثار پرستی کی دعوت دیتے ہیں وہ اسلام سے اسی طرح دور ہیں جیسے تیر نشانے سے خطا ہوکے دور جا پڑتا ہے)
(۴)… جہاد کا بس شوروغل ہوگا (چنانچہ ہم دیکھ رہے ہیں عالم اسلام کے اہم معاملات احتجاجوں‘ ہڑتالوں‘ قراردادوں کی نذر ہوجاتے ہیں)
(۵)… خائن کو امین بنایا جائے گا۔
(۶)… حاکم بدعمل‘ بدکردار ہوں گے۔
طبی و معالجاتی خبریں
(۱)… فحش کاری سے نئی نئی بیماریاں پیدا ہوں گی۔
(۲)… لوگ اچانک مریں گے۔
(۳)… فالج اور حرکت قلب بند ہونا عام ہوجائے گا۰
یہ غیبی خبرنامہ‘ آپ نے ملاحظہ فرمالیا؟… اور دیکھا کہ کیسی کیسی ’’نامعلوم خبریں‘‘ ہیں جو آج ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اور نقش عبرت بنے ہوئے ہیں… یہ ’’نامعلوم خبریں‘‘ اس حقیقت پر گواہ ہیں کہ حضور انورﷺ کو اﷲ کے فضل و کرم سے ’’غیب‘‘ حاصل تھا… ایک عرب عالم شیخ احمد بن محمد الصدیق الغماری الحسنی نے ایک فاضلانہ کتاب لکھی ہے جس کا عنوان ہے۔
مطابقۃ الاختراعات العصریہ لما اخبربہ سید البریہ
مصنف نے اس کتاب میں ان نامعلوم خبروں کو جمع کیا ہے جو حضور انورﷺ نے ارشاد فرمائی ہیں… پڑھ پڑھ کر حیرت بڑھتی جاتی ہے اور یہ یقین‘ کامل ہوجاتا ہے کہ ماضی اور مستقبل حضور انورﷺ کے سامنے آئینہ کی طرح روشن تھے… مولیٰ تعالیٰ ہمیں اس یقین پر ثابت قدم رکھے کہ اﷲ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے حضور اکرمﷺ کو سب کچھ عطا فرمایا ہے۔ آمین