قارئین کرام! گزشتہ قسط میں تبلیغی جماعت کا نظریہ توحید ملاحظہ کیا۔ اب آیئے ذرا ایک جھلک ان کی تبلیغی نصاب کی لیجئے۔
چنانچہ حمود بن عبداﷲ بن حمود توجہری رقم طراز ہیں…
واہم کتاب عندالتبلیغیین کتاب ’’تبلیغی نصاب‘‘ الذی الفہ احد رئوسائہم المسمیٰ محمد ذکریا الکاندہلولی‘ ولہم عنایۃ شدیدۃ بہذا الکتاب‘ فہم یعظمونہم کما یعظم اہل السنۃ الصحیحین‘ وغیرہما من کتب الحدیث‘ وقد جمل التبلیغیون ہذا الکتیب عمدۃ و مرجعا للہنود وغیرہم من الاعاجم التابعین لہم‘ وفیہ من الشرکیات والبدع والخرافات والاحادیث الموضوعۃ والضعیفۃ شئی کثیر‘ فہو فی الحقیقۃ کتاب شروضلال وفتنۃ‘ وقد اتخذہ التبلیغیون مرجعا لنشر بدعہم وضلالاتہم وتزیینہا للھمج الرعاع الذین ہم اضل سبیلا من الانعام … (ص 12-11)
ترجمہ: تبلیغی جماعت والوں کی اہم ترین کتاب کا نام ’’تبلیغی نصاب‘‘ ہے۔ اس کتاب کو ان کی جماعت کے بڑے رئیس محمد ذکریا کاندھلوی نے لکھا ہے۔ یہ کتاب ان کے لئے بڑی مہربانی کا سبب ہوئی ہے۔ تبلیغی  اس کتاب کی اس طرح تعظیم کرتے ہیں جیسا کہ اہل سنت صحیحین اور دیگر کتب حدیث کی تعظیم کرتے ہیں۔
نیز تبلیغی جماعت والوں نے اس کتاب کو ہندی اور دیگر عجمی لوگوں کے لئے بہترین نمونہ بنا رکھا ہے۔ حالانکہ اس میں شرکیات‘ بدعات‘ اور خرافات بھری پڑی ہیں۔ اس کے علاوہ اس میں موضوع اور ضعیف حدیثوں کا ذخیرہ موجود ہے اور درحقیقت یہ کتاب گمراہی‘ فتنہ اور شرارت کا پلندہ ہے۔
تحقیق تبلیغی جماعت والے اسی کے ذریعے اپنی بدعت اور گمراہیاں پھیلاتے ہیں اور لوگوں کو جانوروں سے بھی بدترین بنانے کے لئے اس کو زینت دیتے ہیں (القول البلیغ ص 12-11)
تبصرہ قادری: ناظرین! آپ نے دیکھا تبلیغی ایجنٹوں کا نیا کارنامہ یہ کہ لوگ بجائے حدیث کی مستند کتابوں‘ فقہ و تصوف کی معتبر تصانیف کے اپنے مولوی ذکریا سہارنپوری کی کتاب بنام ’’تبلیغی نصاب‘‘ جوکہ مولوی الیاس کاندھلوی کی خواہش پر لکھی گئی‘ اس کی تعلیمات فاسدہ کو عام کرنے کیلئے گلی گلی‘ نگر نگر‘ کوچہ کوچہ ڈگر ڈگر بیس بیس من کے بھاری بھرکم بستر اٹھا کر‘ سرپر استرا پھرا کر‘ عوام الناس کو دھوکہ دینے کے لئے انہیں زہر ملا شہد پلا کر‘ ان کے متاع ایمان کو لوٹنے کے لئے گشت کرتے اور دابۃ الارض کی طرح اپنی بساط کے مطابق دنیا بھر میں گھومنے کی سعی کرتے ہوئے لوگوں کو اپنے تئیں نیکی کی دعوت دیتے ہیں‘ مسلمانوں کو کلمہ پڑھاتے اور انگریز کے گن گاتے نظر آتے ہیں۔ اب ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر ذکریا سہارنپوری کے نظریات کی ایک جھلک ملاحظہ کیجئے۔
تبلیغی نصاب کے باب فضائل نماز کا آخری عنوان بنام آخری اپیل میں نماز کے اندر کی جانے والی تلاوت کے بارے میں کہتا ہے ’’نماز کا اہم رکن قیام ہے اور اس کا بہترین ذکر تلاوت ہے‘ بے سمجھے تلاوت کرنا بخار میں مبتلا شخص کے ہذیان (بکواس) بکنے کی طرح ہے (تبلیغی نصاب‘ باب فضائل نماز مطبوعہ کتب رحمانیہ لاہور)
علماء فرماتے ہیں کہ تلاوت قرآن اگرچہ بے سمجھے ہو اس کو ہذیان بکنے سے تشبیہ دینا کفر ہے۔ اب آپ اندازہ کیجئے‘کیسے مردود دشمن کی کتاب سے پوری دنیا کے مسلمانوں کو درس دے کر گمراہ کرنے کی سوچی سمجھی پلاننگ کی گئی ہے۔ نعوذ باﷲ من ذالک
(نوٹ: تبلیغی نصاب کا موجودہ نام ’’فضائل اعمال‘‘ ہے)
نیز حمود بن عبداﷲ بن حمود رقم طراز ہے
وللتبلیغیین کتاب آخر یعتمدون علیہ ویجعلونہ من مراجع اتباعہم من الاعاجم من الہنود وغیرہم‘ وہوالمسمی حیاۃ الصحابہ‘ لمحمد یوسف الکاندہلوی‘ وہو مملوء بالخرافات والقصص المکذوبۃ والاحادیث الموضوعۃ والضعیفۃ وہو من کتب الشرو والضلال والفتنۃ        (القول البلیغ ص 13)
ترجمہ: تبلیغیوں کو ایک دوسری کتاب پر بھی بہت اعتماد ہے اور اس کو بھی اپنے عجمی پیروکاروں کے لئے مرجع قرار دیتے ہیں‘ اس کا نام کتاب ’’حیات الصحابہ‘‘ ہے جوکہ مولوی محمد یوسف کاندھلوی کی ہے حالانکہ یہ کتاب بھی (میرے نزدیک) خرافات‘ جھوٹے قصے اور گھڑی ہوئی روایات سے بھری پڑی ہے اور (میرے نزدیک) یہ کتاب بھی گمراہی‘ شر اور فتنہ کا پلندہ ہے۔
تبصرہ قادری: قارئین! آپ نے دیکھا کہ تبلیغی ایجنٹ ’’حیاۃ الصحابہ‘‘ نامی کتاب کو بھی اپنا خاص مواد بناتے ہیں جبکہ مولف القول البلیغ کے نزدیک یہ بھی گمراہی کا ہتھیار ہے اور عجمیوں کو اپنے دام تزویر میں پھانسنے کا جال ہے۔ بہرحال فقیر قادری غفرلہ عرض گزار ہے کہ یہ کتاب میں نے اپنے کالج کے زمانہ میں 1414ھ بمطابق 1994ء جبکہ میں فرسٹ ایئر کا طالب علم تھا‘ اس کا خوب مطالعہ کیا تو نتیجہ یہ نکالا کہ تبلیغی جماعت والے لوگوں کو اپنی طرف مائل کرنے کے لئے صحابہ کرام علیہم الرضوان کی راہ دین میں کی گئی کوششوں کے واقعات لوگوں کو ترغیب دلانے کے لئے بیان کرتے ہیں اور شاید یہ کتاب اسی نیک مقصد کے لئے لکھی گئی ہوگی جبکہ یہ زمانہ میرا دینی علوم سے دوری اور غفلت و لاپرواہی کا تھا۔ جوں جوں شعور کی دنیا میں قدم رکھا اور علوم دینیہ سے آراستہ ہوا اور انگریز کے خود کاشتہ پودا ’’تبلیغی جماعت‘‘ کی حقیقت مجھ پر آشکار ہوئی تو پھر سے ان کی کوک شاستری نما کتب دیکھنے کا شوق پیدا ہوا تاکہ ان کی نقاب کشائی کی جائے اور مسلمانوںکے سامنے ان کے بدنما حلیہ سے ظاہری پاکدامنی کا پردہ اٹھا کر انہیں ان کا اصل چہرہ دکھایا جائے اس سلسلے میں ’’حیات الصحابہ‘‘ کو قرآن و سنت کی روشنی میں جانچنے کی کوشش کی تو چند باتیں نمایاں میرے سامنے آئیں اور وہ درج ذیل ہیں۔
٭ یہ کتاب روایات موضوعہ و ضعیفہ کا مجموعہ ہے
٭ تبلیغی اس کے ذریعے لوگوں کو بظاہر صحابہ کرام کی راہ دین میں کی گئی کوششوں کے احوال سناتے اور در پردہ اپنی شان باور کرانا چاہتے ہیں۔
٭ اس کا مصنف گمراہ کن نظریات کے حامل انگریز نواز علماء کا پیروکار ہے۔
٭ صحابہ کرام جیسی مقدس جماعت پر تبلیغی جماعت اس کتاب کے سہارے اپنے آپ کو قیاس کرتی اور غرور و تکبر کا شکار بنی پھرتی ہے۔
٭ قرآن و سنت سے تو یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اﷲ کے محبوب اعظمﷺ کے جانثار صحابہ ان کو بے مثل و مثال مانتے تھے جبکہ مصنف حیات الصحابہ کی تحریر یہ نظریہ دیتی ہے کہ وہ بھی ہمارے طرح عام انسان تھے (معاذ اﷲ)
الغرض ذکر کردہ ہر دو کتابیں ’’تبلیغی نصاب‘‘ اور ’’حیات الصحابہ‘‘ تبلیغیوں کی نام نہاد تبلیغ کی کل کائنات ہیں جبکہ ان کے سہارے یہ لوگوں کو گمراہ کرنے کی ناپاک کوشش میں مصروف ہیں اور جہالت کا دور دورہ کرنے کے لئے بڑے بے تاب اور مثل ماہی بے آب تڑپ رہے ہیں۔ آپ اول الذکر کتاب کی جگہ ’’فیضان سنت‘‘ اور ثانی الذکر کی جگہ ’’صحابہ کرام کا عشق رسول‘‘ نامی کتابوں کو پڑھ کر دیکھیں ‘ اظہر من الشمس ہوجائے گا کہ وہابی تبلیغی کیا درس دے رہے ہیں اور سنی مبلغین کی تبلیغ کا مرکز و محور کیا ہے؟ یقینا وہابی سوئے نجد بلا رہا ہے تو سنی سوئے مدینہ جانے کی صدا لگا رہا ہے۔    (باقی آئندہ)