فلما جآء ہم ماعرفوا کفروا بہ فلعنۃ اﷲ علی الکٰفرینo
۹۰۔ بئسما اشتروا بہ انفسہم ان یکفروا بما انزل اﷲ بغیا ان ینزل اﷲ من فضلہ علی من یشآء من عبادہ فبآء و بغضب علی غضب وللکٰفرین عذاب مہین o
۹۱۔ واذاقیل لہم امنوا بماانزل اﷲ قالو انومن بمآ انزل علینا ویکفرون بما ورآء ہ

تو جب آگیا ان کے پاس جن کو پہچان چکے تھے تو انکار کردیا ان کاتو پھٹکار ہے اﷲ کی انکار کردینیوالوں پر
کتنا برا دام ہے وہ‘ کہ خریدا انہوں نے جس سے اپنے نفس کو‘ یہ کہ انکار کردیا کریں اس کا جو اتارا اﷲ نے ! حسد میں اس کے کہ اتارتا ہے اﷲ اپنے فضل سے جس پر چاہے اپنے بندوں سے۔ تو ہوگئے غضب بالائے غضب میں۔ اور انکا رکردینے والوں ہی کے لئے عذاب ہے رسوائی والا
اور جب کہاگیا ان کے بھلے کو کہ مان جائو جو کچھ اتارا ہے اﷲ نے‘ جواب دیا کہ ہم مانتے ہیں جو کچھ اتارا گیا ہم پر‘ اور انکار رکھتے ہیں جو کچھ اس کے سوا ہے۔

یا تو ان کا یہ اچھا حال تھا کہ پیغمبر اسلام کا وسیلہ پکڑتے‘ ان کا صدقہ مانگتے‘ ان کی آمد آمد کا تذکرہ علی الاعلان کرتے ‘ یا (تو) اب یہ برا حال ہے کہ (جب آگیا) پیغمبر اسلام (ان کے پاس جن کو) یہ یہودی پہلے ہی سے خوب (پہچان چکے تھے تو) دیدہ و دانستہ (انکار کردیا ان کا) (تو) ایسے ناہنجاروں کو اس کے سوا کیا کہا جائے‘ کہ (پھٹکار ہے اﷲ) تعالیٰ (کی) ان سب (انکارکردینے والوں) اور ہٹ دھرم یہودیوں (پر)
یہودیوں کا ’کتنا برا دام ہے) یہ کیسی بدقسمتی ہے‘ کون سا دام (وہ کہ خریدا انہوں نے جس) دام (سے اپنے نفس کو) اور اس کی قیمت میں (یہ) کیا کریں (کہ انکار کردیا کریں اس کا جو اتار اﷲ) تعالیٰ (نے) محض بے دلیل‘ صرف اس (حسد میں) اور (اس) جلن (کے) سبب (کہ) وہ چاہتے کہ جو نبی ہو‘ وہ انہیں کی قوم بنی اسرائیل میں ہو‘ اور بنی اسماعیل وغیرہ میں کبھی نہ ہو۔ وہ اﷲ تعالیٰ کو اس کا پابند بنانا چاہتے ہیں۔ مگر اﷲ تعالیٰ کو کسی بات کا کوئی کیسے پابند کرسکتا ہے۔ اس کا دستور یہ ہے کہ (اتارتا ہے اﷲ) تعالیٰ اپنے پیغام کو (اپنے فضل سے جس پر) بھی وہ (چاہے اپنے بندوں) میں (سے)۔ یہودیوں کے اس کافرانہ بے وجہ انکار میں‘ ایک تو اﷲ تعالیٰ کو پابند کرنے کا کفر ہے‘ دوسرے صرف اسی وجہ سے کلام الٰہی کا انکار‘ کافرانہ طرز عمل ہے۔ پھر پیغام الٰہی کا انکار کسی وجہ سے بھی ہو‘ خود کفرہے۔ پھر اس میں نبی کی نبوت کا انکار ہے‘ وہ بھی خود کفر… نبی میں ایک نہیں کتنے انبیاء کا انکار ہے‘ جو کفروں کا ایک بڑا مجموعہ ہے (تو) ان کفر بالائے کفر کی وجہ سے سارے یہودی (ہوگئے غضب بالائے غضب میں) دنیا و آخرت میں (اور) یوں تو عذاب فاسقوں پر بھی ہوسکتا ہے‘ لیکن ان (انکار کردینے والوں ہی کے لئے) اس قسم کا (عذاب ہے) جو (رسوائے والا) ہے۔
(اور) اس ڈھٹائی کو کیا کہا جائے کہ (جب) بھی (کہا گیا ان) یہودیوں (کے بھلے کو) اور سمجھا گیا (کہ) تم بھی (مان جائو) سب مسلمانوں کی طرح (جو کچھ) قرآن میں (اتارا ہے اﷲ) تعالیٰ (نے) تو اﷲ تعالیٰ سے نڈر ہوکر یہودیوں نے (جواب دیا کہ ہم) بس وہی (مانتے ہیں جو کچھ) توریت میں (اتارا گیا) ہے (ہم) اپنی اسرائیل (پر) ( اور انکار رکھتے ہیں) قرآن سے اور (جو کچھ) بھی (اس) توریت (کے سوا ہے)