اے اسلام کے پاسبانو!
کیا تم نے کبھی غور و فکرکیا کہ زلزلے کیوں آتے ہیں؟ سونامی کاطوفان مہیب یعنی ہیبت ناک طوفان کیوں بپا ہوتا ہے؟ دریائوں میںطغیانی کے سبب سیلاب لہلہاتی فصلوں اور اپنے سامنے آنے والی ہر چیزکو کیوں بہا کر لے جاتا ہے اور وہ کون ہے جس کے حکم پر آندھیاں چلتی ہیں ؟ اور ہوا کے جھکڑ ہر چیز کو اڑا کرپٹخ دیتے ہیں…؟
مقام حیرت ہے کہ خالق (عزوجل) نے پہلے خود ہی کسی شے کی تخلیق کی ہو لیکن وہ اسے تباہ و برباد کر ڈالے‘ اسے زمین کا دل چیر کر اس میں پنہاں کر ڈالے‘ اسے نیست و نابود کردے‘ اسے سمندر کی بے رحم موجوں کے حوالے کردے۔
تاریخ ارض پر طائرانہ نظر دوڑایئے‘ رب کائنات نے جب سے اس عالم رنگ وبو کو تخلیق فرمایا‘ تعمیرو تخریب کا یہ عمل جاری و ساری ہے۔ قرآن مجید کے مطالعہ سے ہمیں واضح طور پر یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ حضرت نوح‘ حضرت صالح اور حضرت لوط (علیہم السلام) وغیرہم کی اقوام پر مختلف قسم کے عذاب نازل کئے گئے۔ کسی نبی (علیہم السلام) کی قوم کو ہیبت ناک طوفان کے عذاب کا سامنا کرنا پڑا تو کسی نبی (علیہ السلام) کی قوم پر پتھروں کی بارش برسائی گئی اور کسی قوم کی پوری کی پوری بستی کو الٹ پلٹ دیاگیا۔
اے محمد عربیﷺ کے غلامو!
دیکھے چلے جائو‘ غوروفکر کرتے چلے جائو‘ یہ زلزلے‘ یہ طوفان‘ یہ سیلاب اور یہ آندھیاں بلاوجہ تو نہیں آتے۔ یقینا ان کے پیچھے ضرور کوئی نہ کوئی وجہ موجود ہے وگرنہ وہ ارحم الراحمین ذات اپنے بندوں کو عذاب میں مبتلاکیوں کرے؟
ارشاد باری تعالیٰ ہے
مایفعل اﷲ بعذابکم ان شکرتم وامنتم
ترجمہ: وہ تمہیں عذاب دے کر کیا کرے گا جب کہ تم شکر کرو اور ایمان لائو۔
ہمیں یہ بات معلوم ہونی چاہئے کہ وہ وجوہات کیا ہیں‘ جس کے سبب اﷲ تعالیٰ عذاب نازل فرماتا ہے۔
یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ ان وجوہات میں سے سے بڑا سبب اﷲ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کی نافرمانی ہے۔
محترم قارئین کرام!
کیا آج امت مسلمہ وہ تمام برائیاں‘ نافرمانیاں کھلے عام نہیں کررہی جو دیگر سابقہ اقوام و ملل نے کیں اور اس جبار و قہار (عزوجل) کے عذاب کا شکار قرار پاکر تباہ و برباد ہوگئیں؟
کیا اس جدید ترقی یافتہ معاشرے میں محبوب دوجہاںﷺ کی شان اقدس میں توہین آمیز خاکے بنا کر بے ادبی و گستاخی نہیں کی گئیں؟
کیا 57 اسلامی ملکوں کے حکمرانوں اور اربوں مسلمانوں نے کوئی منظم و مربوط تحریک چلائی؟ نہیں ہرگز نہیں…
کیا توہین آمیز خاکے بنانا انتہا پسندی و دہشت گردی نہیں ہے۔ یہ ہے وہ مکروہ چہرہ یورپ و امریکا‘ کہ جہاں کروڑوں اربوں مسلمانوں کی دل آزاریاںجاری و ساری ہیں لیکن شاید ہم شاہ سے زیادہ شاہ کی وفاداری میں لگے ہوئے ہیں اور تجاہل عارفانہ سے کام لیتے ہوئے امریکہ و یورپ کی کاسہ لیسی میں لگے ہوئے ہیں۔ مسلم خون شاید بہت ارزاں ہوگیا کہ پہلے عراق پھر افغانستان اور اب پاکستان میں خون کی ندیاں بہہ رہی ہیں۔ اس تمام کے پیچھے کون سا ہاتھ کار فرما ہے۔ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں‘ افسوس اس بات کا ہے کہ
یورپ کی غلامی پہ رضامند ہوا تو
مجھ کو تو گلہ تجھ سے ہے یورپ سے نہیں ہے
ہم مسلمانوں کو اپنے رب عزوجل سے ڈرنا چاہئے‘ پناہ مانگنی چاہئے کیونکہ رسولوں کے ساتھ استہزاء و بے ادبی موجب عذاب الٰہی ہے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے مربوط حکمت عملی بنانے کے لئے حکومتی سطح پر کوششیں کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اور اپنی صفوں میں بے ادب اور گستاخوں پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
اس کے علاوہ اگر مزید غوروفکر کیا جائے اور اپنی سرزمین پاکستان کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو کہیں مذہبی انتہا پسندی کے سبب مسلمانوں کا قتل عام کیا جارہاہے۔ اور کہیں صوبائیت اور لسانیت کے نام پر دہشت گردی کے ذریعے لوگوں کا خون بہایا جارہا ہے‘ سرحد میں مذہب کے نام پر‘ اسلام اور شریعت کے نام پر مسلمانوں کا خاص کر اہلسنت کے علماء و مشائخ کو چن چن کر قتل کیاجارہا ہے۔ ان کے مزارات کو بم دھماکوں سے تباہ کیا جارہا ہے۔ ان کے مزارات پر مسلح دہشت گرد قابض ہورہے ہیں۔ ان علماء و مشائخ کو قتل کرنے کے بعد ان کی لاشوں قبروں سے نکال کر ان کی بے حرمتی کی جارہی ہے۔ ان کی لاشوں کو چوک پر لٹکایا جارہاہے۔ بچوں کی درس گاہیں تباہ و برباد کی جارہی ہیں‘ پھر بھی ایسے لوگوں‘ مذہبی انتہا پسندوں سے ہمدردی کے جذبات رکھنا‘ سمجھ سے بالاتر ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ یہ سب اسلام و مذہب کے نام پر ہورہا ہے توبہ توبہ…
اسی طرح صوبہ سندھ میں جو حالیہ واقعات گزشتہ کئی روز سے جاری و ساری ہیں خاص کر 29 اپریل 2009ء کو جو کھیل کھیلا گیا اور پورا شہر فتنہ و فساد کی آگ میں جل اٹھا یہاں تک کہ 40 افراد کو قتل کردیا گیا۔ لوگوں کی املاک کو جلایا گیا۔
اے دردمند مسلمانو!
ہمارے ملک میں خون ناحق جس تیزی سے بہہ رہا ہے‘صوبائیت و لسانیت کے نام پر جس طرح آج ہم ایک دوسرے کے دست و گریباں ہیں‘ اس عمل نے نہ تو زمانہ جاہلیت کو بھی مات دے دی۔ رب العالمین نے تو ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل کے مترادف قرار دیاہے۔ کہ
من قتل نفسا بغیر نفس او فساد فی الارض فکانما قتل الناس جمیعا
ترجمہ: جس نے کسی نفس کو بغیر نفس کے بدلے قتل کیا یا زمین میں فساد برپاکیا تو گویا کہ اس نے پوری انسانیت کا قتل کر ڈالا
یہاں توجناب 40-40 افراد کو ناحق قتل کیاجاتا ہے اور کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ کوئی تحفظ دینے والا نظر نہیں آرہا۔ حضرت امیر المومنین عمر فاروق رضی اﷲ عنہ اپنے دور خلافت و حکومت میں ارشاد فرما رہے ہیں کہ اگر ایک کتا بھی بھوک اور پیاس سے مر جائے‘ تو اس کا بھی مجھے جواب دینا پڑے گا۔
اے نااہل حکمرانو!تم کیسے ان عام مسلمانوں کے قتل کا حساب دو گے؟ ان کی آہیں‘ سسکیاں اور فریادیں تمہارے ضمیر کو کب جھنجھوڑیں گی؟ آج انہیں عدل اور انصاف فراہم کرنا تمہاری ذمہ داری ہے ورنہ یاد رکھو کہ اﷲ کی لاٹھی بے آواز ہے۔ جب وہ ذات عدل کرنے پر آئے گی تو تمہارا نام و نشان مٹ جائے گا۔ اور تمہیں اس کی گرفت سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا۔
عام لوگوں کا قتل عام ہونا اور زمین پر فتنہ و فساد بپا ہونا یقینا اﷲ کے عذاب کو دعوت دے رہا ہے اور انتہا پسندی اور دہشت گردی کا یہ عمل اﷲ عزوجل کو یقینا ناراض کرنے کا سبب ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ خون ناحق عذاب کا پیش خیمہ ثابت ہو۔ ہمیں اپنے رب کی بارگاہ میںتوبہ و استغفار کرنی چاہئے‘ اسی سے ڈرنا چاہئے‘ یقینا موت کا ایک وقت معین ہے‘ اس کے بعد سب کو لوٹ کر اسی رب عزوجل کی بارگاہ میں جانا ہے لہذا ان آنے والے لمحات کو اس طرح گزارنے کی کوشش کرنی چاہئے جیسی اﷲ عزوجل اور اس کے رسولﷺ نے گزارنے کا ہمیں حکم دیا ہے۔
تمام لوگ جو کلمہ پڑھتے ہیں ہمارے بھائی ہیں‘ ہمیں آپس میں مل جل کر‘ آپس کے اختلاف کو ختم کرنا چاہئے۔ ہمیں ایک مسلمان بن کر سوچنا چاہئے نہ کہ زبان کی بنیاد پر… ہم سندھی‘ بلوچی‘ مہاجر پختون اور پنجابی بن کر سوچیں اور ایک دوسرے سے پیار و محبت قائم کریں۔ تمام لوگ حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں۔ اولاد آدم ہونے کی وجہ سے کسی قوم کو دوسری قوم پر کوئی فضیلت نہیں سوائے تقویٰ و پرہیزگاری کے‘ لہذا ہمیں سنبھلنے کی اشدضرورت ہے۔ اپنی صفوں میں اتحاد قائم کرنے کی ضرورت اب پہلے سے کہیں زیادہ ہے‘ کیونکہ آپس کا اختلاف یقینا اﷲ سبحانہ وتعالیٰ کے عذاب کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے۔
اﷲ تبارک و تعالیٰ ہمیں ہر طرح کی دہشت گردی اور انتہا پسندی کے اثرات سے محفوظ فرمائے اور آپس میں اتحاد و اتفاق پیدا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامینﷺ