انسان جتنا بلند ہوتا ہے‘ نظر اتنی ہی وسیع ہوتی چلی جاتی ہے… فضائوں میں سفر کرنے والوں پر یہ راز کھل چکا ہے… چاند پر قدم رکھنے والوں نے اس دنیا کو ایک طباق کی شکل میں مشاہدہ کیا… اور محمد مصطفےﷺکے ایک عاشق صادق نے صدیوں پہلے کائنات کو رائی کے دانے کی طرح ملاحظہ فرمایا۔
نظرت الی بلاد اﷲ جمعا
کخر دلۃ علی حکم اتصال (قصیدۂ غوثیہ)
تو پھر اس کی بلندیوں کا کیا عالم ہوگا جس کو خود نظر دینے والا بلند کرے
ورفعنا لک ذکرک    (سورہ الم نشرح‘ آیت 4)
اور ہم نے تمہارے لئے تمہارا ذکر بلند کردیا… ذکر جبھی بلند ہوتا ہے جب انسان خود بلند ہوتا ہے اور جب خود بلند نہ ہو بلکہ بلند کیا جائے تو پھر کیوں نہ زمین و آسمان کی ہر شے اور ہر حادثہ اس کی نگاہوں کے سامنے نگینے کی طرح چمکنے لگے؟ جس طرح گھروں میں بیٹھنے والے فضائی مسافروں کی نظر تک نہیں پہنچ سکتے اور جس طرح جاہل وان پڑھ‘ پڑھے لکھوں کی آنکھ نہیں لاسکتے… اسی طرح پڑھے لکھے ان کی نگاہ نہیں پاسکتے جو فیض باری سے براہ راست مستفیض ہورہے ہیں… مگر افسوس محرم الٹی سیدھی دلیلوں سے اپنی محرومی کا حال چھپاتے ہیں اور اس طرح اپنے قلب و نظر کو بھی رسوا کرتے ہیں۔
ذرا غور تو کیجئے ایک عام سیاست دان اور سربراہ مملکت کی قدرومنزلت اس علمیت اور بصیرت کی وجہ سے ہوتی ہے جو وہ عالمی حالات اور تاریخی حادثات کی روشنی میں حاصل کرتا ہے اور جس کے طفیل وہ اپنے زمانے سے چالیس پچاس برس آگے دیکھنے لگتا ہے اور اکثر ایسے صاحب بصیرت کا کہا سچ ثابت ہوا ہے… لیکن جس انسان نے بظاہر عالمی حالات اور تاریخی حوادث کا مطالعہ نہ کیا ہو‘ دور دراز کے سفر بھی نہ کئے ہوں… دنیا کے امیروں اور بادشاہوں سے بھی نہ ملا ہو… کسی انسان سے پڑھا بھی نہ ہو… پھر اس کو رہبر عالم بنا کر پیش کیا جائے اور ساتھ ہی یہ بھی کہا جائے کہ یہ کچھ نہیں جانتا… اس کو ذرا بصیرت نہیں ہے یہ ’’لکیر کا فقیر ہے‘‘ معاذ اﷲ… تو بتایئے اس کی طرف کون متوجہ ہوگا اور کیسے اپنا رہبر و پیشوا تسلیم کرے گا؟… ہاں جب آپ یہ کہیں گے کہ بے شک اس نے تاریخ عالم کا مطالعہ نہیں کیا… اس نے دنیا نہیں دیکھی… کسی انسان نے اس کو پڑھایا بھی نہیں… لیکن وہ کچھ بتا رہا ہے وہ کسی دوسرے نے نہیں بتایا… وہ کچھ دکھا رہا ہے جو کسی دوسرے نے نہ دکھایا… وہ کچھ سنا رہا ہے‘ وہ کسی دوسرے نے نہ سنایا… بلاشبہ اب لوگ اس کی طرف دوڑ پڑیں گے… اس کو اپنا رہبر و پیشوا تسلیم کریں گے۔
تو آیئے دیکھئے خالق عالم اس رہبر عالمﷺ کے بارے میں کیا کہہ رہا ہے؟
… اے دنیا والو! ہمارا محبوب تم کو وہ کچھ بتا رہا ہے کہ اس سے پہلے تمہیں اس کی خبر بھی نہ تھی۔(سورہ بقرہ آیت 151)
ایک جگہ یوں فرماتا ہے…
علم بالقلم علم الانسان مالم یعلم (سورہ علق آیت 5/4)
قلم سے سکھایا… انسان کو سکھایا… وہ کچھ سکھایا کہ نہ جانتا تھا… اب ذرا اقبال کے اس شعر کو پڑھیئے ‘جو نیا شباب لے کر سامنے آرہا ہے
لوح بھی تو قلم بھی تو تیرا وجود الکتاب
گند آبگینہ رنگ تیرے محیط میں حباب
کچھ امور غیبیہ کی ’’اطلاع‘‘ دی جاتی ہے اور کس شان سے؟
ماکان اﷲ لیطلعکم علی الغیب ولکن اﷲ یجتبی من رسلہ من یشآء (سورہ آل عمران آیت 179)
اور اﷲ کی شان یہ نہیں کہ عام لوگو! تمہیں علم غیب دے دے‘ ہاں اﷲ چن لیتا ہے اپنے رسولوں سے جسے چاہے… اور کچھ امور غیبیہ سے خود پردے اٹھائے جاتے ہیں
عالم الغیب فلا یظہر علی غیبہ احد الامن ارتضیٰ من رسول
(سورہ جن آیت26)
غیب جاننے والا ہے‘ اپنا راز کسی پر نہیں کھولتا مگر رسولوں میں سے جس پر چاہے کھول دیتا ہے… ذرا غور تو کیجئے جب وہ پردہ دار خود نقاب الٹ دے تو حسن عالم سوز کا کیا عالم ہوگا… اﷲ اﷲ
تلک من انبآء الغیب نوحیہا الیک (سورہ ھود آیت 49)
یہ غیب کی خبریں ہیں (بس اے حبیب) تمہیں کو بتلاتے ہیں… اﷲ اکبر
دامن بھر دیا… قاسم بنا دیا …اور اعلان فرمایا
وما ہو علی الغیب بضنین (سورہ تکویر آیت 24)
یہ دل کھول کر غیب کی خبریں بتاتے ہیں ’’دل تنگ نہیں‘ پوچھ لو جس کو پوچھنا ہے… ہاں بخیل وہی ہوتا ہے جو ہوتے ہوئے بھی خرچ نہیں کرتا… اس کو کون بخیل کہتا ہے جس کے پاس دمڑی بھی نہ ہو؟… آیت کے تیوربتا رہے ہیںکہ صلائے عام ہے‘ دینے والا سخی ہے‘ اس کے فرق اقدس پر تاج علوم ماکان و ما یکون رکھ دیا گیا ہے… اس کو غنی بناد یا گیا ہے… دیکھئے آیت شریفہ
ووجدک عائلا فاغنیٰ (سورہ والضحیٰ آیت 8)
تمہیں حاجت مند پایا پھر غنی کردیا… ایک نئے معنی و مفہوم کے ساتھ اپنے رخ سے گھونگھٹ اٹھا رہی ہے۔
اس نے تو بخل نہ کیا… محروموں نے لینے میں بخل کیا… اپنا دامن کھینچ لیا… ایک شور مچایا اور زمین سر پر اٹھائی… ’’غنی کے پاس تو کچھ بھی نہیں‘ غنی کے پاس کچھ بھی تو نہیں‘‘ جنون دیوانگی نے یہاں تک رسائی کی کہ تار دامن بھی  باقی نہ رہا… لیں تو کس طرح لیں؟ اﷲ اﷲ محرومی سی محرومی ہے؟ اور یہ دیوانگی اب تک نہ گئی اور یہ داغ محرومی اب تک نہ دھویا… جرات رندانہ تو دیکھئے کہ عالمی سطح پر وہ گل کھلایا کہ عقل دنگ ہے۔ غالبا 4 اپریل1976ء کو اسلامی عالمی میلہ میں رائل البرٹ ہال لندن میں ایک مجلس مذاکرہ میں پاکستان کے ایک مشہور عالم کا مقالہ پڑھا گیا… دروغ برگردن اخبار جنگ… سرکار دوعالمﷺ کے لئے اس مقالے میں کہا گیا۔
’’نہ ہی وہ نامعلوم علم کا دعویٰ رکھتے تھے‘‘
جب قرآن کہتا ہے کہ ہم نے ’’نامعلوم‘‘ علم دیا تو جھٹلانے والے کیوں جھٹلائیں؟… دیکھو یعقوب علیہ السلام کیا فرما رہے ہیں
واعلم من اﷲ مالا تعلمون (سورہ یوسف آیت 86)
مجھے اﷲ کی طرف سے وہ کچھ معلوم ہے جو تم نہیں جانتے… اور خود اﷲ گواہی دے رہا ہے اور جو کچھ کہا گیا اس کی تصدیق فرما رہے ہیں
وانہ لذو علم لما علمنہ ولکن اکثر الناس لایعلمون
(سورہ یوسف آیت 68)
’’بے شک وہ ہمارے سکھائے سے صاحب علم ہے مگر اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘
اﷲ اکبر وہ عالم الغیب ہے بے خبروں کا حال بھی خود بیان فرما رہا ہے… ہاں یہ وہ ’’نامعلوم‘‘ علم ہے جس کو سامنے لایا گیا تو ہزاروں کی آنکھیں کھل گئیں اور لاکھوں گرویدہ و وارفتہ ہوگئے… اور یہی وہ ’’نامعلوم‘‘ علم ہے جس کو آج بھی سامنے لایا جائے تو ہزاروں لاکھوں مشرف بہ اسلام ہوسکتے ہیں۔رسول کریم علیہ التحیتہ والتسلیم کو عام انسان کے روپ میں پیش کرنا پہلے اتنا خطرناک نہ تھا آج خطرناک ہے… دیکھئے اس کے رسول خود کہہ رہے ہیں…
ان نحن الا بشر‘ مثلکم ولکن اﷲ یمن علی من یشآء من عبادہ
(سورہ ابراہیم آیت 11)
ہم ہیں تو بظاہر تمہاری طرح انسان مگر اﷲ اپنے بندوں میں جس پر چاہتا ہے احسان فرماتا ہے… تو بھلا محبوب اور مردود یکساں کیسے ہوسکتے ہیں؟
ہیرا اور پتھر فطرتا ایک ہوتے ہوئے بھی ایک نہیں… یہ تو برگزیدگان الٰہی ہیں… ان کا تو پوچھنا ہی کیا… لیکن پھر بھی تم یہ کہتے ہو کہ وہ عام انسان تھا اور وہ نامعلوم‘ علم نہ رکھتا تھا تو جو کچھ ہم سن رہے ہیں … پھر یہ کیا ہے؟
دیکھئے کس شان اور یقین کے ساتھ اعلان فرما رہا ہے۔
’’قیام قیامت سے قبل ان امور عظیمہ کو دیکھ لو گے جو کبھی نہ دیکھے اور نہ سوچے‘‘ (الفتن)
یہی نہیں بلکہ مستقبل میں پیش آنے والے ان امور عظیمہ کو ایک ایک کرکے بیان فرما رہا ہے… تو ذرا بتائو تو سہی ان باتوں کی خبریں دینے والا کس جہان سے خبریں لا رہا ہے؟ اور کس جہان کی خبریں دے رہا ہے… ایک خبر نہیں اور ایک طرح کی خبریں نہیں… طرح طرح کی خبریں… مذہبی و اخلاقی… تعلیمی وتدریسی… تہذیبی و معاشرتی… سائنسی و تکنیکی… تجارتی و اقتصادی … معدنیاتی و ذراعتی… سیاسی و ملکی… طبی و معالجاتی… خبریں ہی خبریں… آیئے ذرا اس غیبی خبرنامہ کو ایک نظر ملاحظہ کیجئے… پھر بتایئے کہ یہ خبریں دینے والا ’’نامعلوم‘‘ کا علم رکھتا ہے یا نہیں؟
قد جاء کم بصائر من ربکم فمن ابصر فلنفسہ ومن عمی فعلیہا وما انا علیکم بحفیظ  (سورہ انعام آیت 104)
تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس آنکھیں کھولنے والی دلیلیں آگئیں تو جس نے دیکھا اور اپنے بھلے کو اور جو اندھا ہوا اپنے برے کو اور میں تم پر نگہبان نہیں۔
آیئے اب ’’نامعلوم خبریں‘‘ سنیں جو اس غیب کی خبریں بتانے والے آقا و مولیٰﷺ نے بتائی ہیں اور جن کی تفصیلات احادیث میں موجود ہیں۔
(باقی آئندہ )