آج کے عالم نفسا نفسی میں ہم سچی خوشی حاصل کرنے کے بجائے وقتی خوشی پانا چاہتے ہیں۔ اگر ہم اپنی زندگی میں برداشت‘ درگزر اور صبروتحمل جیسے اصول شامل کرلیں تو ہمارے گھریلو تنازعات گھر کی چار دیواری سے باہر نہ نکلیں۔
کہتے ہیں کہ گھر عورت سے بنتا ہے‘ ورنہ گھر مکان میں ہی رہ جاتا ہے۔ چھوٹے چھوٹے لڑائی جھگڑے‘ اختلافات بڑھتے بڑھتے گھریلو تنازعات کی شکل اختیار کرلیتے ہیں اور اس کا انحصار بھی عورت کی برداشت پر ہوتا ہے‘ والدین کے گھر برداشت کی نوعیت سسرال سے مختلف ہوتی ہے۔ یاد رکھیں نکاح نامے پر دستخط کے ساتھ ہی لڑائی کا امتحان شروع ہوجاتا ہے اور اسے ہر موقع پر برداشت‘ صبر وتحمل کا اندازہ اپنانا ہوتا ہے۔
اگر لڑکی عقل مند اور سمجھدار ہے اور اپنے خاوند کے ساتھ خوش گوار زندگی گزارنا چاہتی ہے تو اسے ہر قدم پر صبروتحمل سے کام لینا ہوگا۔ اگر اسے سسرال والوں کی کوئی بات بری لگے تو وہ شائستہ لہجے سے اپنی بات کی وضاحت کردے‘ ایسے کہ کسی کو برا بھی نہ لگے۔
ساس صاحبہ کو بھی یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ جس طرح آپ اپنی بیٹی کو دیکھ کر خوش ہوتی ہیں‘ اسی طرح بہو کو بھی دیکھ کر خوش ہوں۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر اعتراض کرنے سے بہتر ہے کہ ایک بار سب کو بٹھا کر اپنے گھر کے طور طریقے‘ کھانا پکانے کا انداز اور وقت کے بارے میں بتادیں۔شادی کے ابتدائی دنوں میں بہو اگر باورچی خانے میں جاتی ہے تو اس کے سر پر سوار مت ہوں… وہ ہر کام ویسا نہیں کررہی ہے‘ جیسا آپ چاہتی ہے تو اسے سہولت سے اکیلے میں سمجھائیں تاکہ اسے اپنی ہتھک محسوس نہ ہو‘ بہو کے میکے یا شوہر کے ساتھ باہر گھومنے پھرنے پر بھی بعض ساسوں کو اعتراض ہوتا ہے۔ یہاں بھی ساسیں برداشت سے کام لیں۔ یہ صرف ابتدائی دنوں کا شوق ہوتا ہے۔ بچوں کے بعد اتنا وقت ہی نہیں ملتا کہ وہ گھومنے پھرنے جاسکے‘ اس لئے اس وقت کی مصلحت آمیز خاموشی آپ کوبہو کے سامنے ممتاز کرے گی اوراس کے دل میں اس کی قدر بڑھے گی۔بہت سے گھرانوں میں شادی شدہ بیٹیوں کو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔ کیونکہ میکہ ہر لڑکی کا ماں ہوتا ہے۔ نند کو یہ سوچنا چاہئے کہ وہ جس گھر میں ہے وہاں اس کے معاملات میں اگر کوئی مداخلت کرتا ہے تو اسے کتنا برا لگتا ہے۔ اس لئے اسے شادی کے بعد ماں باپ کے گھر مہمان بن کر آنا چاہئے اور کسی بھی معاملے میں اپنا مشورہ یا اپنے سسرال کا حوالہ دے کر باتیں نہیں کرنی چاہئیں۔ وہاں کے دستور‘ رسم و رواج وہاں کے لئے ہیں۔ان کا اطلاق اسے اپنے بھائی بھابھی اور والدین کے گھر نہیں کرنا چاہئے‘ نندوں کو بھی اپنا بھائیوں کے رویئے کی شکایت اپنے والدین سے نہیں کرنی چاہئے۔ اس طرح ان کے دل میں میل آجاتا ہے کیونکہ ماں باپ کے لئے بیٹی بہو کے مقابلے میں زیادہ اہم ہوتی ہے۔ بہو پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ شادی شدہ نند کا خوش دلی کے ساتھ استقبال کرے اور کسی بھی نامناسب رویئے پر برداشت کرے‘ کہ وہ تھوڑے دنوں بعد اپنے سسرال چلی ہی جائے گی۔اپنے اندر صبر و برداشت کی قوت پیدا کریں۔ آپ کا دل وسیع ہوگا تو صبر وتحمل کو سمونے میں کوئی دشواری نہیں ہوگی۔ ماں بیٹی‘ بہن‘ بیوی اور بہو کی حیثیت سے اپنے رویوں کا جائزہ لیجئے‘ اپنی خامیوں پر قابو پایئے اور زندگی کو خوشگوار بنانے کی جستجو کیجئے۔
میاں بیوی کا رشتہ مضبوط بنانے میں بھی برداشت کا بڑا عمل دخل ہے… شادی کے ابتدائی دنوں میں دونوں فریق صبروتحمل سے ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ ایک دوسرے کے بارے میں قبل از وقت رائے قائم کرنے سے گریز کریں۔
میاں بیوی ہر معاملے میں بات چیت کرکے فیصلہ کریں۔ ایک دوسرے کی رائے لینے سے دونوں کے درمیان اعتماد کی فضا قائم ہوجاتی ہے۔ کسی بھی موقع پر آپس کا رابطہ منقطع نہیں ہونا چاہئے۔ دوسری صورت میں فاصلے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔مثبت انداز فکر اپنانے والے افراد خوش گوار زندگی گزارتے ہیں۔ جبکہ تنگ نظر‘ بات بے بات اپنے آپ سے الجھتے رہتے ہیں اور اپنی زندگی دشوار بنالیتے ہیں۔کیا ہی اچھا ہو اگر ہر معاملے میں ایک دوسرے کے ساتھ مکالمہ کرنے کی عادت ڈالیں تاکہ مسائل آپ پر حاوی نہ ہونے پائیں اور آپس میں ذہنی ہم آہنگی قائم ہوسکے۔زندگی کو خوشگوار اور آسان بنانے کے لئے کوئی مسلمہ اصول نہیں ہیں کہ شادی ہوتے ہی سب اس پر عمل کرنے لگیں اور کوئی مسئلہ ہی نہ ہو‘ یہ اصول ہمیں خود بنانے پڑتے ہیں… اس بات کو ہمیشہ مدنظر رکھیں کہ صبروتحمل اور برداشت کا رویہ زندگی کے ہر مرحلے میں آپ کی معاونت کرتا ہے۔ یہ کام مشکل ضرور ہے مگرناممکن ہرگز نہیں۔اسے اپنانے میں آپ کو اپنا دل بھی مارنا پڑے گا… زندگی کو پرسکون بنانے کے لئے اپنے اندر تبدیلی لانے کی گنجائش تو ہمیشہ رہتی ہے‘ برداشت کرنے کی عادت سے ساری دنیا کو اپنا گرویدہ بنایا جاسکتا ہے۔ آپ کے اچھے رویوں کی وجہ سے اردگرد کے لوگ آپ سے محبت اور خلوص کے ساتھ بات کریں گے پھر وہ اس بات کا خیال بھی رکھیں گے کہ کہیں آپکو ان کی کوئی بات بری نہ لگ جائے۔ شادی کے بعد سسرالی رشتے داروں اور شوہر کے دل میں جگہ بنانے کے لئے برداشت کو اپنا شعار بنایئے۔
غور کریں اور یاد رکھیں کہ ہمارے اردگرد ایسی بہت سی مثالیں ہیں جہاں دونوںفریق ذرا سی بات کا بتنگڑ بنا دیتی ہیں۔ برداشت کا مظاہرہ نہیں کرتے اور پھر زندگی بھر پچھتاتے ہیں۔ غور کیجئے! آپ کی ذرا سی قربانی آپ کو زندگی بھر کا سکون دے سکتی ہے۔ غصہ آنے پر یہ ضرور یاد رکھیں کہ اس وقت کی ذرا سی برداشت آپ کی زندگی میں خوشیاں لانے اور انہیں دوبالا کرنے کا سبب بنے گی لہذا ہر معاملہ میں قوت برداشت پیدا کیجئے۔