مسجد النبوی الشریف علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کی پربہار فضائوں میں ایک بار امیر المومنین حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم اور دیگرصحابہ کرام علیہم الرضوان میں قرآن پاک کے فضائل پر مذاکرہ ہورہا تھا۔ اس دوران حضرت سیدنا عمرو بن معدیکرب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا۔ یا امیر المومنین! آپ حضرات بسم اﷲ الرحمن الرحیم کے عجائبات کو کیوں بھول رہے ہیں۔ خدا کی قسم! بسم اﷲ الرحمن الرحیم بہت ہی بڑا عجوبہ ہے۔ امیر المومنین حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سیدھے ہوکر بیٹھ گئے اور فرمانے لگے‘ اے ابو ماثور! (یہ حضرت سیدنا عمرو بن معد یکرب کی کنیت تھی) آپ ہمیں کوئی عجیبہ سنایئے‘ چنانچہ حضرت سیدنا عمرو بن معدی کرب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا۔ زمانہ جاہلیت تھا‘ قحط سالی کے دوران تلاش رزق کی خاطر میں ایک جنگ سے گزرا‘ دور سے ایک خیمہ پر نظر پڑی‘ قریب ہی ایک گھوڑا اور کچھ مویشی بھی نظر آئے۔ جب قریب پہنچا تو وہاں ایک حسین و جمیل عورت بھی موجود تھی اور خیمہ کے صحن میں ایک بوڑھا شخص ٹیک لگا کر بیٹھا ہوا تھا ‘ میں نے اس کو دھمکاتے ہوئے کہا ’’جو کچھ تیرے پاس ہے میرے حوالے کردے‘‘ اس نے کہا ’’اے آدمی! اگرتو مہمانی چاہتا ہے تو آجا اوراگر امداد درکار ہے تو ہم تیری مدد کریں گے‘‘ میں نے کہا ’’باتیں مت بنا‘ تیرے پاس جو کچھ ہے میرے حوالے کردے‘‘ تو وہ بوڑھا کمزوروں کی طرح بمشکل تمام کھڑا ہوا اور بسم اﷲ الرحمن الرحیم پڑھ کر میرے قریب آیا اور نہایت پھرتی سے مجھ پر جھپٹا اور مجھے پٹخ کر میرے سینے پر چڑھ بیٹھا اور کہنے لگا ’’اب بول! میں تجھے ذبح کردوں یا چھوڑ دوں؟‘‘ میں نے گھبرا کر کہا ’’چھوڑ دو‘‘ وہ میرے سینے سے ہٹ گیا۔ میں نے دل میں اپنے آپ کو ملامت کی اور کہا ‘ اے عمرو! تو عرب کا مشہور شہسوار ہے‘ اس کمزور بوڑھے سے ہار کر بھاگنا نامردی ہے۔ اس ذلت سے تو مرجانا ہی بہتر ہے۔ چنانچہ میں نے پھر اس سے کہا ’’تیرے پاس جو کچھ ہے میرے حوالے کردے‘‘ یہ سنتے ہی بسم اﷲ الرحمن الرحیم پڑھ کر وہ پراسرار بوڑھا پھر مجھ پر حملہ آور ہوا اور چشم زدن میں مجھے گرا کر سینے پر سوار ہوگیا اور کہنے لگا ’’بول! تجھے ذبح کردوں یاچھوڑ دوں؟‘‘ میں نے کہا مجھے معاف کردو۔ اس نے چھوڑ دیا مگر پھر میں نے اس سے سارے مال کا مطالبہ کردیا۔ اس نے بسم اﷲ الرحمن الرحیم پڑھ کر پھر پچھاڑ کر مجھ پر قابو پالیا۔ میں نے کہا‘ مجھے چھوڑدو‘ اس نے کہا ’’اب تیسری بار میں ایسے  نہیں چھوڑوں گا‘‘ یہ کہہ کر اس نے پکار کر کہا‘ اے کنیز‘ تیز دھار دار تلوار لے آ! وہ لے آئی۔ اس نے میرے سر کے اگلے حصے کی چوٹی کاٹ ڈالی اور مجھے چھوڑ دیا۔ ہم عربوں میں رواج ہے کہ جب کسی کی چوٹی کے بال کاٹ دیئے جاتے ہیں تو وہ دوبارہ اگنے سے قبل اپنے گھر والوں کو منہ دکھاتے ہوئے شرماتا ہے (کیونکہ چوٹی کٹ جانا شکست خوردہ کی علامت ہے) چنانچہ میں ایک سال تک اس پراسرار بوڑھے کی خدمت کا پابند ہوگیا۔
سال پورا ہوجانے کے بعد وہ مجھے ایک وادی میں لے گیا۔ وہاں اس نے بلند آواز سے بسم اﷲ الرحمن الرحیم پڑھی تو تمام پرندے اپنے گھونسلوں سے باہر نکل کر اڑ گئے۔ دوبارہ اسی طرح پڑھنے پر تمام درندے اپنی اپنی پناہ گاہوں سے باہر چلے گئے۔ پھر تیسری بار زور سے پڑھنے پر اونی لباس میں ملبوس کھجور کے تنے جتنا لمبا خوفناک کالا جن ظاہر ہوا۔ اس کو دیکھ کر میرے بدن میں جھرجھری کی لہر دوڑ گئی۔ پراسرار بوڑھے نے کہا۔ اے عمرو! ہمت رکھ‘ اگر یہ مجھ پر غلبہ پالے تو کہنا‘ اب کی بار میرا ساتھی بسم اﷲ الرحمن الرحیم کی برکت سے غالب ہوگا‘‘ پھروہ پراسرار بوڑھا اور کالا جن دونوں گتھم گتھا ہوگئے۔ پراسرار بوڑھا ہار گیا اور کالا جن اس پر غالب آگیا۔ اس پر میں نے کہا۔ اب کی بار میرا ساتھی لات و عزیٰ (یعنی کافروں کے ان دونوں بتوں) کی وجہ سے جیت جائے گا۔ یہ سن کر پراسرار بوڑھے نے مجھے ایسا زور دار طمانچہ رسید کیا کہ مجھے دن دہاڑے تارے نظر آگئے اور ایسا محسوس ہوا کہ ابھی میرا سر اکھڑ کر دھڑ سے جدا ہوجائے گا۔ میں نے معذرت چاہی اور کہا کہ دوبارہ ایسی حرکت نہیں کروں گا۔ چنانچہ دونوں میں پھر مقابلہ ہوا۔ پراسرار بوڑھا اس کالے جن کو دبوچنے میں کامیاب ہوگیا تو میں نے کہا ’’میرا ساتھی بسم اﷲ الرحمن الرحیم کی برکت سے غالب آگیا‘‘ یہ کہنے کی وجہ تھی کہ پراسرار بوڑھے نے نہایت پھرتی کے ساتھ اس کو زمین میں لکڑی کی طرح گاڑ دیا اور پھر اس کا پیٹ چیر کر اس میں سے لالٹین کی طرح کوئی چیز نکالی اور کہا ’’اے عمرو! یہ اس کا دھوکہ اور کفر ہے ‘‘ میں نے اس پراسرار بوڑھے سے استفسار کیا۔ آپ کا اور اس کالے جن کا قصہ کیا ہے؟ کہنے لگا ‘ ایک نصرانی جن میرا دوست تھا‘ اس کی قوم سے ہر سال ایک جن میرے ساتھ جنگ لڑتا ہے اور اﷲ عزوجل بسم اﷲ الرحمن الرحیم کی برکت سے مجھے فتح عطا فرماتا ہے۔
پھر ہم آگے بڑھ گئے۔ ایک مقام پر وہ پراسرار بوڑھا جب غافل ہوکر سوگیا تو موقع پاکر میں نے اس کی تلوار چھین کر نہایت پھرتی کے ساتھ اس کی پنڈلیوں پر ایک زوردار وار کیا اور جن سے دونوں ٹانگیں کٹ کر جسم سے جدا ہوگئیں وہ چیخنے لگا ’’او غدار! تو نے مجھے سخت دھوکہ دیا ہے‘‘ مگر میں نے اس کو سنبھلنے کا موقع ہی نہ دیا۔ پے درپے وار کرکے اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے‘ پھرجب میں خیمہ میں واپس آیا تو وہ کنیز بولی ’’اے عمرو! جن سے مقابلے کا کیا بنا؟ میں نے کہا‘ بوڑھے شیخ کو جنات نے قتل کردیاہے‘ وہ کہنے لگی تو جھوٹ بول رہا ہے‘ او بے وفا! اس کے قاتل جنات نہیں بلکہ تو خود ہے۔ یہ کہہ کر اس نے بے قرار واشکبار ہوکر عربی میں پانچ اشعار پڑھے جن کا ترجمہ ہے۔
(۱) اے میری آنکھ تو اس بہادر شہسوار پر خوب رو اور پے درپے آنسو بہا (۲) اے عمرو تیری زندگی پر افسوس ہے۔ حالانکہ تیرے دوست کو زندگی نے موت کی دھکیل دیا ہے (۳) اور (اے عمرو اپنے دوست کو اپنے ہاتھوں) قتل کرنے کے بعد تو (اپنے قبیلے) بنی زبیدہ اورکفار (یعنی ناشکروں) کے گروپ کے سامنے کس طرح فخر کے ساتھ چل سکتا ہے (۴) مجھے میری عمر کی قسم (اے عمرو) اگر تو لڑنے میںواقعی سچا ہوتا (یعنی بغیر دھوکہ دیئے مردوں کی طرح اس سے مقابلہ کرتا) تو اس کی طرف سے ضرور تیز دھار تلوار تجھ تک پہنچ کر رہتی (اور تیرا کام تمام کردیتی) (۵) (اے اس بوڑھے کو قتل کرنے والے) بادشاہ حقیقی (اﷲ تعالیٰ) تجھے برا اور ذلت والا بدلہ دے (تیرے جرم کے بدلے میں) اور تجھے بھی اس کی طرف سے ذلت و رسوائی والی زندگی ملے (جس طرح کہ تو نے اپنے دوست کے ساتھ ذلت ورسوائی والا سلوک کیا ہے) میں جھلا کر قتل کرنے کے لئے اس پر چڑھ دوڑا مگر وہ حیرت انگیز طور پر میری نظروں سے اوجھل ہوگئی۔ گویا اس کو زمین نے نگل لیا (ملخص: از : لقط المرجان فی احکام البحان للسیوطی ص ۱۴۱ تا ۱۴۳)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے بسم اﷲ الرحمن الرحیم کی کس قدر حیرت انگیزبرکات ہیں۔ ان برکتوں کو لوٹنے کی عادت بنانے کے لئے دعوت اسلامی کے مدنی قافلوں میں عاشقان رسولﷺ کے ساتھ سفر کی سعادت حاصل کیجئے۔ ان شاء اﷲ عزوجل آپ کے مسائل حیرت انگیز طور پر حل ہوں گے اور اﷲ عزوجل کے فضل و کرم سے غیبی امدادیں ہوں گی۔
پانچ مدنی پھول
حضرت سیدنا عبداﷲ بن عمرو بن العاص رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا ارشاد سعادت بنیاد ہے۔ پانچ عادتیں ایسی ہیں کہ کوئی انہیں اختیار کرلے تو دنیا و آخرت میں سعادت مند ہوجائے۔
(۱) وقتا فوقتا لاالہ الا اﷲ محمد رسول اﷲﷺ کہتا رہے۔
(۲) جب کسی مصیبت میں مبتلا  ہو (مثلا بیمار ہو یا نقصان ہو جائے یاپریشانی کی خبر سنے) تو انا ﷲ و انا الیہ راجعون اور لاحول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم پڑھے۔
(۳) جب بھی نعمت ملے تو شکرانے میں الحمدﷲ رب العالمین کہے
(۴) جب کسی (جائز) کام کا آغاز کرے تو بسم اﷲ الرحمن الرحیم پڑھے اور
(۵) جب گناہ کر بیٹھے تو یوں کہے استغفر اﷲ العظیم و اتوب الیہ (یعنی میں عظمت والے اﷲ عزوجل سے مغفرت طلب کرتے ہوئے اس کی طرف توبہ کرتا ہوں) (المنبہات للعسقلانی ص ۵۸)
جیسا دروازہ ویسی بھیک
مفسر شہیر حضرت مفتی احمد یار خان علیہ رحمتہ المنان فرماتے ہیں اﷲ تعالیٰ نے بسم اﷲ الرحمن الرحیم میں اپنے اسم ذات کے ساتھ رحمت کی دو صفات کا بیان فرمایا ہے کیونکہ اﷲ عزوجل کے نام مبارک میں ہیبت تھی اور رحمن اور رحیم میں رحمت۔ اﷲ عزوجل کا نام سن کر نیک بندوں کو بھی کچھ عرض کرنے کی جرات نہ ہوتی تھی لیکن رحمن اور رحیم سن کر ہر مجرم اور خطا کار کو بھی عرض کرنے کی ہمت پڑی اور حقیقت بھی یہی ہے اس کے جلال کے سامنے کون دم مار سکتا ہے اور ظہور جمال کے وقت ہر ایک ناز کرسکتا ہے۔ ’’تفسیر کبیر شریف‘‘ میں اس کے ماتحت ایک عجیب حکایت لکھی ہے کہ ایک سائل ایک بہت بڑے مالدار کے عظیم الشان دروازے پر آیا اور کچھ سوال کیا۔ مکان میں سے معمولی سی چیز آئی۔ فقیر نے لے لی اور چلا گیا۔ دوسرے دن ایک بہت مضبوط پھائوڑا لے کر آیا اور دروازہ کھودنے لگا۔ مالک نے پوچھا‘ یہ کیا کرتا ہے؟ فقیر نے کہا‘ یہ تو عطا کو دروازہ کے لائق کر یا دروازہ عطا کے لائق کر یعنی جب دروازہ اتنا بڑا بنایا ہے تو ضروری ہے کہ بڑے دروازے سے بڑی ہی بھیک ملا کرے کیونکہ عطا دروازے اور نام کے لائق ہی ہونی چاہئے۔ ہم فقیر گنہگار بندے بھی عرض کرتے ہیں اے مولیٰ عزوجل ہم کو ہمارے لائق نہ دے بلکہ اپنے جودوسخا کے لائق دے۔ بے شک ہم گنہگار ہیں لیکن تیری غفاری ہماری گنہگاری سے وسیع ہے (تفسیر نعیمی پہلا پارہ ص ۴۰)
گناہ گدا کا حساب کیا وہ اگرچہ لاکھ سے ہیں سوا
مگر اے عفو ترے عفو کا نہ حساب ہے نہ شمار ہے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اﷲ عزوجل یقینا رحمن اور رحیم ہے‘ جو اس کی رحمت پر نظر رکھے اوراس کے ساتھ اپنا حسن ظن قائم کرے انشاء اﷲ عزوجل دونوں جہاں میں اس کا بیڑا پار ہے۔ اﷲ عزوجل کی رحمت سے اس کو کبھی بھی محرومی نہیں ہوسکتی۔ چنانچہ تفسیر نعیمی پارہ اول ص ۳۸ پر ہے۔
رحمت بھری حکایت
دو بھائی تھے ایک پرہیزگار دوسرا بدکار۔ جب بدکار مرنے لگا تو پرہیز گار بھائی نے کہا ‘ دیکھا تجھے میں نے بہت سمجھایا مگر تو اپنے گناہوں سے باز نہ آیا۔ اب بول تیرا کیا حال ہوگا؟ اس نے جواب دیا کہ اگر قیامت کے روز میرا رب عزوجل میرا فیصلہ میری ماں کے سپرد کردے تو بتائو کہ ماں مجھے کہاں بھیجے گی دوزخ میں یا جنت میں؟ پرہیزگار بھائی نے کہا کہ ماں تو واقعی جنت میں ہی بھیجے گی۔ گنہگار نے جواب دیا ’’میرا رب عزوجل میری ماں سے بھی زیادہ مہربان ہے۔ یہ کہا اور انتقال ہوگیا۔ بڑے بھائی نے خواب میں اسے نہایت خوشحال دیکھا‘ مغفرت کی وجہ پوچھی کہا مرتے وقت کی اسی بات نے میرے تمام گناہ بخشوا دیئے ۔ اﷲ عزوجل کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔
ہم گنہگاروں پہ تیری مہربانی چاہئے
سب گناہ دھل جائیں گے رحمت کا پانی چاہئے