حدیث مبارکہ میں آتا ہے کہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان مردوعورت پر فرض ہے جس کے مشہور الفاظ یہ ہیں ’’طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم و مسلمۃ‘‘ (مسند ابی حنیفہ) بعض احادیث طیبہ میں لفظ ’’مسلم‘‘ کی بجائے لفظ ’’مومن‘‘ آیا ہے اور بعض میں ’’العلم‘‘ کی جگہ ’’الفقہ‘‘ کا لفظ آیا ہے اور بعض میں ’’فریضہ‘‘ کے مقام پر ’’حق‘‘ اور بعض میں ’’واجب‘‘ کا لفظ آیا ہے (جامع بیان العلم) ان تمام الفاظ سے مقصود یہ ہے کہ علم اور فقہ کا حصول ہر شخص پر فرض و حق ہے۔ حدیث شریف کے ظاہری معنی سے معلوم یہ ہوتا ہے کہ عالم بننا ہر شخص پر فرض ہے۔ لیکن یہ حدیث سے مراد نہیں ہے۔ اس حدیث کی تشریح میں جو کچھ بیان ہوا‘ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر شخص پر جس قدر عبادت فرض ہے‘ اسی قدر اس پر حصول علم فرض ہے۔ اور تمام عبادات ہر شخص پر فرض نہیں مثلا نماز و روزہ تو ہر عاقل‘ بالغ‘ مسلمان پر فرض ہے۔ لیکن حج اور زکوٰۃ ادا کرنا ہر شخص پر فرض نہیں‘ بلکہ صرف صاحب استطاعت پر ہی فرض ہے۔ لہذا جو شخص صاحب نصاب نہیں‘ اس پر زکوٰۃ اور حج کا ادا کرنا فرض نہیں۔ امام احمد رضا (رحمتہ اﷲ علیہ) سے اس حدیث کے متعلق پوچھا گیا تو آپ رحمتہ اﷲ علیہ نے ارشاد فرمایا کہ حدیث ’’طالب العلم فریضۃ علی کل مسلم و مسلمۃ‘‘ بوجہ کثرت طرق و تعدد مخارج حدیث حسن ہے۔ اس کا صریح مفاد (جوکہ) ہر مرد و عورت پر علم کا حصول فرض ہے۔ تو یہ معنی صادق نہ آئے گا مگر اس علم پر جس کا حصول فرض عین ہو۔
1۔ ان تمام علوم کا اعم و اشمل و اعلیٰ و اکمل واہم و اجل (یعنی سب سے اہم) علم اصول عقائد ہے جن کے اعتقاد سے آدمی مسلمان ہوتا ہے۔ اور انکا رو مخالف سے کافر بدعتی (العیاذ بااللہ) سب سے پہلا فرض آدمی پر اس کا تعّلم ہے۔
2۔ پھر علمِ مسائلِ نماز یعنی اس کے فرائض وشرائط ومفسدات جن کے جاننے سے نماز صحیح طور پر ادا ہوسکے۔
3۔ پھر جب رمضان آئے تو مسائلِ صوم۔
4۔ مالکِ نصاب نامی (جس پرزکواۃ فرض) ہوتو مسائلِ زکواۃ۔
5۔ صاحبِ استطاعت ہو مسائلِ حج۔
6۔ نکاح کرنا چاہے تو اسکے متعلق ضروری مسئلے۔
7۔ تاجر ہو تو مسائلِ بیع وشراء (یعنی خریدوفروخت کے مسئلے)۔
8۔ مزارع پر مسائلِ زراعت۔
9۔ موجرو متاجر (ٹھیکدار وغیرہ) پر مسائلِ اجارہ۔ وعلیٰ ہذا القیاس۔ غرضیکہ ہر شخص پر اسکی حاجتِ موجودہ کے مسئلے سیکھنا فرضِ عین ہیں۔
10۔ اور البین میں سے مسائلِ حرام وحلال کہ ہر فرد اس کا محتاج ہے۔
11۔ مسائلٍ علمِ قلبی یعنی فرائضِ قلبیہ مثلاً تواضع، اخلاص وتوکل وغیریا۔
12۔ محرماتِ باطنیہ یعنی تکبر وریا، حسد وغیرہ اور ان کے مصالجات کہ ان کا سیکھنا بھی ہر مسلمان پر اہم فرائض میں سے ہے۔ جس طرح بے نماز فاسق وفاجر مرتکبِ کبائر ہے یوں ہی بعینبہ ریا سے نماز پڑھنے ولا انہیں مصیبتوں میں گرفتار (نسل اللہ العفووالعافیہ) تو صرف یہی علوم حدیث میں مرادیں وبس۔ (فتاوٰی رضویہ 102)   ولی اللہ ہونے کیلئے کتنا علم ضروری ہے؟ اگر کسی شخص کے ذمے دوسروں کی تربیت اور رشد وہدایت نہ ہو اور وہ اپنی ذات تک محدود ہو تو اس کے لئے اتنا علم کافی ہے جتنا اوپر ایک عام شخص کے لئے بیان ہوا مثلاً اگر وہ متوسط درجہ کا انسان ہے اور صاحبِ استطاعت نہیں تو وہ صرف نماز، روزہ کا علم حاصل کرے پھر انہیں پابندی سے ادا کرے۔ ممنوعات سے اجتناب کرے اور جس پیشے سے منسلک ہو اسے کتاب وسنت کے مطابق چلائے۔ تو وہ ولی ہے۔ یعنی کوئی حجرہ نشین شخص ہی ولی نہیں ہوتا بلکہ مارکیٹ میں بیٹھا قرآن وسنت کے مطابق عبادت کرنے ولا، کھیتوں میں ہل چلانے والا اور محنت ومزدوری کرنے والا شخص بھی درجئہ ولایت پر فائز ہوسکتا ہے۔ مزدور اور غریب شخص کی طرف سے قلیل عمل پر مولائے کریم راضی ہوجاتا ہے۔ اور اسے اپنا ولی بنا لیتا ہے۔ حضرت سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ جو شخص اللہ کی جانب سے تھوڑے رزق پر راضی ہوجائے تو اللہ اسکی طرف سے تھوڑے عمل پر راضی ہوجاتا ہے۔ (شعب الایمان 4ج)   واعظ اور مبلغ کے لئے کتنا علم ضروری ہے؟ واعظ شخص پر چونکہ خود کو سنوارنے کے ساتھ ساتھ قوم کو سنوارنے کی بھی ذمے داری ہے لہذا اسے دیگر لوگوں سے زیادہ علم حاصل کرنا شرط ہے اور اس کے بغیر اسکا وعظ کرنا حرام ہے۔ اس کی کیا مقدار ہے؟ اعلیٰ حضرت سے سنئیے۔ آپ سے ایک سوال کیا گیا۔ عرض:۔ کیا واعظ کا عالم ہونا ضروری ہے۔ ارشاد:۔ غیرعالم کو وعظ کرنا حرام ہے۔ عرض:۔ عالم کی کیا تعریف ہے۔ ارشاد:۔ عالم کی تعریف یہ ہے کہ عقائد سے پورے طور پر آگاہ ہو اور مستقل ہو اور اپنی ضروریات کو کتاب سے نکال سکے۔ بغیر کسی کی مدد کے۔ (الملفوظ  ص11.10) یہاں کتاب سے عربی  کتاب مراد ہے کیونکہ اردو کتاب سے بھی مسئلہ نکالنے کے لئے اگر کسی اور شخص کی ضرورت پڑے تو پھر خدا ہی حافظ ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں لکھتے ہیں سند حاصل کرنا کچھ ضروری نہیں ہیں۔ باقاعدہ تعلیم پانا ضروری ہے۔ مدرسے میں ہو یا کسی عالم کے مکان پر اور جس نے بے قاعدہ تعلیم پائی وہ جاہل شخص سے بدتر ’’نعیم ملا خظرئہ ایمان‘‘ ہوگا (فناوٰی رضویہ ج10) ایک اور سوال کے جواب میں لکھتے ہیں۔ سند کوئی چیز نہیں بہترے سند یافتہ شخص بے بہرہ ہوتے ہیں اور جنہوں نے سند نہ لی ان کی شاگردگی کی لیاقت بھی ان سند یافتوں میں نہیں ہوتی اور علم الفتوی پڑھنے سے نہیں آتا جب تک کہ کسی طبیبِ حاذق (جید عالم) کے مطب نہ گیا ہو۔ مفتانِ کامل کے بعض محبت یافتہ کہ ظاہری درس وتدریس میں پورے نہ تھے۔ مگر خدمتِ علماء کرام اکثر حاضر رہے اور تحقیقِ مسائل کا شغل ان کا وظیفہ تھا۔ فقیرنے دیکھا کہ وہ آج کل کہ صدہا فارغ التحصیلوں بلکہ مدرسوں بلکہ نام کے مفتیوں سے بدر جہا زائد تھے۔ پس اگر شخص مذکور فی الوال خواہ بذراتِ خواہ بعیض علمائِ کا ملین علم کافی رکھتا ہو جو بیان کرتا ہے۔ غالباً ارکثر صحیح ہوتا ہے تو حرج نہیں اور اگر دونوں وجوہ علم سے عاری ہو اور صرف خود اردو اور فارسی کی کتابیں دیکھ کر مسائل بتائے اور قرآن وحدیث کا مطلب بیان کرنے پر جرأت کرے تو سخت اشد کبیرہ ہے (فتاوٰی رضویہ ج10)
تنبیہ:۔ خیال رہے کہ اعلیٰ حضرت علامِ دین کے مقابلے میں جس شخص کو جاہل کہہ رہے ہیں وہ گاؤں یا محلہ کا عام آدمی مراد نہیں بلکہ اس سے مراد وہ شخص ہے جو عالما نہ وضع وقطع رکھتا ہو اور وعظ و تبلیغ وتقریر کرتا ہو۔
مجالس و محافل میں قرآن سے روگردانی
ایسے مقررین کے سارک وجود کے باعث دور حاضر میں امامت قرآن سے روگردانی کی حالت یہ ہے کہ محافل و مجالس میں اور اجتماعات میں قرآن شریف کی بجائے قصوں اور کہانیوں پر زور دیا جاتا ہے۔ مساجد کے اندر جمعہ کے خطابات میں واقعات و حکایات پر ٹرخا دیا جاتا ہے‘ حتی کہ اب قوم کے اندر قرآن و سنت پر مبنی گفتگو میں کوئی دلچسپی نہیں رہی۔ الا ماشاء اﷲ اگر کوئی شخص قرآن و سنت پر مبنی گفتگو کرے تو سامعین کو جماہی پر جماہی آنے لگتی ہے۔ یہاں تک کہ کچھ لوگ اشاروں‘ کتابوں میں اور بعض منہ پھٹ برملا فرمائش کردیتے ہیں کہ انہیں اشعار سے لطف اندوز کیا جائے غرضیکہ چند علماء کو چھوڑ کر اکثر جلسوں اور مساجد کے خطابات جمعہ میں سامعین کو اشاروں سے شاد کام کیا جاتا ہے اور بڑے بڑے اجتماعات میں خوابوں اور من گھڑت روایات پر دل بہلایا جاتا ہے۔ غیر علماء کی صدارت میں سرتاں کی مجالس کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ مجالس کے آغاز میں رسم و رواج کے طور پر تلاوت قرآن تو ہوتی ہے لیکن چار چار پانچ پانچ گھنٹوں پر مشتمل مجالس بلکہ شب بھر ہونے والی مجالس میں سامعین کو قرآن کریم کی ایک آیت بھی نہیں سمجھائی جاتی‘ یہ قرآن سے عملی روگردانی نہیں تو کیا ہے؟ مفکر اسلام نے بجا فرمایا ہے۔
حقیقت خرافات میں کھو گئی        یہ امت روایات من کھو گئی
مرشد کے لئے کتنا علم ضروری ہے
جب یہ معلوم ہوگیا کہ کوئی شخص جس پیشہ جس عہدہ جس صنعت اور حرفت سے منسلک ہو‘ اسے اس کے متعلق قرآن و سنت کے فرامین کا ازبر ہوناضروری ہے۔ تو یہاں یہ معلوم ہونا بھی ضروری ہے‘ کہ اگر کوئی شخص مسند رشد و ہدایت کو سنبھالنا چاہئے‘ تو اس کے لئے کتنا علم ضروری ہے…؟ صاف ظاہر ہے کہ مرشد کے حلقہ ارادت میں علماء کرام بھی شامل ہوتے ہیں اور مرشد اپنے فرض منصبی کے پیش نظر ان سب کی تربیت کرنا ہوتی ہے لہذا اسے اپنے تمام مریدین سے زیادہ عالم ہونا ضروری ہے۔ اس علم کی مقدار کیا ہے؟ چنانچہ پیران پیر غوث الاعظم کے شیخ سیدنا جنید بغدادی رحمتہ اﷲ علیہ نے طریقت میں داخل ہونے کے لئے یہ ضابطہ عائد فرما رکھا تھا کہ جس شخص نے قرآن حفظ نہیں کیا اور حدیث نہیں لکھی ہمارے اس طریقے میں اس کی پیروی نہ کی جائے۔ اس لئے کہ ہمارا طریقہ اور ہمارا علم کتاب وسنت سے مقید ہے (الرسالۃ التقشیریہ) جنید وبایزید کے نام پر اپنی گدیوں کو چمکانے والے کتنے پیر ہیں جو اس ضابطے پر پورے اترتے ہوں؟خلاصہ کلام یہ ہوا کہ علم کا حصول ہر شخص پر فرض و واجب ہے۔ جب اس کی ضرورت ہو۔ مثلا بالغ ہوا تو بلوغت کے متعلق تمام مسائل کو سیکھنا فرض‘ غسل کے متعلق تمام مسائل کا سیکھنا فرض‘ شادی شدہ کے لئے نکاح‘ طلاق‘ بچوں کے حقوق‘ زوجہ کے حقوق کا تعلم ضروری و واجب ہے۔ اسی طرح اگر صاحب استطاعت ہے تو اس کے لئے زکوٰۃ و حج کے تمام مسائل سیکھنا فرض ہیں۔ اسی طرح روزے کے تمام مسائل کا سیکھنا فرض ہے۔ وغیرہا چنانچہ ہر انسان پر کسی کام کے کرنے کے وقت اس کام کے متعلق علم کا تعلم نہایت ہی ضروری و واجب ہوگا۔ ’’اﷲ تعالیٰ ہم تمام مسلمانوں کو دین کی سمجھ نصیب فرمائے‘‘