واتینا عیسٰی ابن مریم البینت وایدنہ بروح القدس افکلما جآء کم رسول بمالا تہویٰ انفسکم استکبرتم ففریقا کذبتم وفریقا تقتلونO
۸۸۔ وقالوا قلوبنا غلف بل لعنہم اﷲ بکفرہم فقلیلا ما یومنون
۸۹۔ ولما جآء ہم کتب من عنداﷲ مصدق لما معہم وکانوا من قبل یستفتحون علی الذین کفروا

اور دیں ہم نے عیسٰی ‘ فرزند مریم کو‘ روشن نشانیاں اور تائید فرمائی ہم نے ان کی روح القدس سے۔ تو کیا جب لایا تمہارے پاس کوئی رسول وہ‘ جس کو نہیں چاہتا تم لوگوں کا نفس‘ تم لوگ غرور کرنے لگے۔ تو کسی کو تم نے جھٹلا دیا‘ اور کسی کو شہید کرڈالو؟
اور بکنے لگے کہ ہمارے دل غلاف میں ہیں بلکہ ملعون کیا ان کو اﷲ نے ان کے کفر کی وجہ سے تو کچھ ہی ان کے ایمان لائیں
اور جب آگئی ان کے پاس کتاب‘ اﷲ کے پاس سے‘ تصدیق کرنے والی اس کی‘ جوا ن کے پاس ہے‘ اور وہ تھے پہلے سے کہ فتح طلب کیا کریں ان پر‘ جنہوں نے کفر کیا تھا

اور (دیں ہم نے) انہیں حضرت (عیسٰی فرزند مریم کو) مردوں کو زندہ کرنے‘ اندھوں اور کوڑھیوں کو تندرست کرنے‘ غیب کی خبر بتانے‘ انجیل کی برکت لانے کی (روشن نشانیاں اور تائید فرمائی‘ ہم نے ان کی) اور قوت بخشی (روح القدس سے) ان کا روح اﷲ لقب ہوا اور روح الامین ان کے ہر وقت‘ یوم ولادت سے تینتیس برس کی عمر تک‘ جب کہ وہ آسمان پر اٹھا لئے گئے‘ ساتھ رہے۔ مگر اے ظالم یہودیو! تم اپنی شامت پر شامت دیکھو کہ کسی طرح تم اپنے انکار کی عادت کو نہ چھوڑ سکے (تو) تمہارے موروثی نامہ اعمال سے خود یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ (کیا جب) بھی (لایا تمہارے پاس کوئی) بھی (رسول وہ) خدا کا پیغام (جس کو) کسی طرح (نہیں چاہتا تم لوگوں کا نفس) تو (تم لوگ) عادی ہوگئے ہو کہ بس فورا (غرور کرنے لگے) اور پیغام لانے والوں کو دیکھا (تو کسی کو تم نے جھٹلا دیا اور) زیادہ زور دکھانے پر آئو تو (کسی کو شہید کر ڈالو)
(اور) ہر نبی کے پیغام کو اور پیغمبر اسلام کے پیغام کو سن کر کچھ نہیں تو ‘ یہی (بکنے لگے کہ) ہمیں آپ اپنا پیغام کیوں بیکار سناتے ہیں۔ کیوں (کہ ہمارے دل) تو (غلاف میں ہیں)‘ وہاں تک کسی پیغام کے گھسنے کا کوئی راستہ ہی نہیں ہے اور اس میں خود سارے علم بھرے ہوئے ہیں۔ ان کی یہ بکواس تو بے معنی ہے (بلکہ) سچ تو یہ ہے کہ (ملعون کیا) اور اپنی رحمت سے محروم قرار دیا (ان کو اﷲ) تعالیٰ (نے) خود (ان کے کفر) کی کمائی (کی وجہ سے) (تو) ہمیشہ یہی ہوگا کہ دوسری قوموں کے اعتبار سے‘ تعداد میں یہودیوں میں سے (کچھ ہی ان کے ایمان لائیں) تو لائیں۔
(اور) یہودی فطرت کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ (جب آگئی ان کے پاس کتاب) قرآن کریم (اﷲ) تعالیٰ (کے پاس سے) ‘ وہ ایسی کتاب ہے جو (تصدیق کرنے والی) ہے (اس) توریت (کی جو ان) یہودیوں (کے پاس) حضرت موسیٰ کی دی ہوئی (ہے)‘ (اور وہ) یہودی (تھے) اس زمانے کے (پہلے) ہی (سے کہ) جنگ کے وقت ہر مصیبت میں (فتح) و نصرت (طلب کیا کریں ان) سارے اپنے دشمن قبائل‘ اسد و غطفان و مزنیہ و جھفیہ وغیرہم مشرکین (پر) (جنہوں نے کفر کیا تھا) اور یوں دعا کرتے تھے کہ یااﷲ! ہماری مدد فرما‘ نبی آخر الزماں کے وسیلہ سے‘ جن کی نعت شریف توریت میں موجود ہے۔ یااﷲ! ہماری مدد فرما‘ اور فتح دے‘ نبی امی کے صدقہ میں اور مشرکین کو دھمکیاں دیتے تھے کہ نبی آخر الزماں جلد تشریف لارہے ہیں تاکہ ہماری تصدیق فرمادیں۔ اس وقت ہم تم کو اس طرح قتل کرڈالیں گے جیسے قوم عاد وارم قتل کئے گئے تھے…