مسئولہ! مولوی اسرار احمد قادری ہزاروی‘ امام و خطیب جامع مسجد بلال‘ بلدیہ ٹائون کراچی
کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین کہ آیت کریمہ وما اہل بہ لغیر اﷲ کا معتبر کتب تفسیر کی روشنی میں کیا مطلب ہے؟
برائے کرم ذرا صاف صاف لکھ دیجئے۔
بینوا بالکتاب و توجرو عندالحساب
باسمہ تعالیٰ
الجواب بعون الملک الوہاب
اللھم ہدایۃ الحق والصواب
قرآن مجید میں حکم خداوندی ہے
ترجمہ کنز الایمان: اس نے یہی تم پر حرام کئے ہیں مردار اور خون اور سور کا گوشت اور وہ جانور جو غیر خدا کا نام لے کر ذبح کیا گیا تو جو ناچار ہو نہ یوں کہ خواہش سے کھائے اور نہ یوں کہ ضرورت سے آگے بڑھے تو اس پر گناہ نہیں‘ بے شک اﷲ بخشنے والا مہربان ہے (البقرہ پ ۲ الربع الاول ع ۵)
:1احکام القرآن میں سیدنا امام حجۃ الاسلام ابوبکر احمد الرازی الجصاص علیہ الرحمہ المتوفی ۳۸۰ھ یوں رقم طراز ہیں۔
ترجمہ: یعنی آیت کریمہ اس جانور کو حرام قرار دے رہی ہے جس پر غیر خدا کا نام پکارا گیا ہو‘ اس لئے کہ غیر خدا کی پکار وہ نام خدا کے غیر کا اظہار ہے۔ پس یہ آیت حضرت مسیح علیہ السلام اور ان کے علاوہ کسی کا نام لے کر ذبح کئے گئے جانور کو حرام قرار دیتی ہے۔
(احکام القرآن‘ ج اول ص ۱۸۶‘ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ آرام باغ کراچی)
:2امام ناصر الدین الدین ابو سعید عبداﷲ بن عمر بن محمد الشیرازی البیضاوی علیہ الرحمہ اپنی مشہور درسی تفسیر ’’انوارالتنزیل واسرار التاویل‘‘ میں یوں رقم طراز ہیں۔
یعنی ’’مااہل بہ لغیر اﷲ‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ جانور کو ذبح کرتے وقت اس پر بت کا نام پکارا جائے تو وہ حرام ہوتا ہے‘ اہلال کا اصلی لغوی معنی چاند دیکھنا ہے۔ جب چاند دیکھے یا کسی کو دکھائے تو اہل اور اہللت پکارتے ہیں‘ لیکن عربوں کی عادت جاریہ یہ تھی کہ جب چاند نظر آتا تو تکبیر کی آواز بلند کرتے پھر اس کا نام اہلال رکھ دیا پھر مطلق آواز بلند کرنے کو لوگوں نے اہلال کہنا شروع کردیا۔
(بیضاوی ص ۲۸۶ طبع رحمانیہ لاہور)
:3 محی الدین محمد بن مصلح الدین مصطفے القوجوی الحنفی المتوفی ۹۵۱ھ اپنی تفسیر ’’شرح بیضاوی‘‘ المعروف ’’شیخ زادہ‘‘ میں اس کے تحت رقم طراز ہیں۔
وما اہل بہ لغیر اﷲ ای ما ذبح الاصنام والطواغیت
یعنی وہ جانور حرام ہیں جو بتوں اورشیطانوں کے نام پر ذبح کئے جاتے ہیں۔
مزید فرماتے ہیں۔
علماء فرماتے ہیں ’’اگر مسلمان نے جانور کو ذبح کرتے وقت غیر خدا کی خوشنودی اور اس سے ثواب حاصل کرنے کا ارادہ کیا تو خود مرتد ہوجائے گا اور اس کا ذبیحہ حرام ہوگا (بیضاوی معہ شرح بیضاوی مطبوعہ قدیمی ج ۲ ص ۲۳)
:4حافظ الحدیث سیدنا امام جلال الدین السیوطی الشافعی علیہ الرحمہ المتوفی ۹۱۱ھ اپنی درسی تفسیر ’’جلالین‘‘ حصہ اول مطبوعہ قدیمی کتہ خانہ کراچی پر رقم طراز ہیں۔
جس جانور کو غیر خدا کے نام پر ذبح کیا جائے وہ حرام ہے‘ اہلال آواز بلند کرنے کا نام ہے‘ کافر لوگ اپنے جانوروں کو ذبح کرتے وقت اپنے بتوں کا نام بلند کرتے تھے (جلالین معہ صاوی مطبوعہ کتب غوثیہ سبزی منڈی کراچی ج ۱ ص ۱۳)
:5سیدنا امام ابو عبداﷲ محمد بن احمد الانصاری القرطبی علیہ رحمتہ القوی اپنی تفسیر ’’الجائع لاحکام القرآن‘‘ میں رقم طراز ہیں‘‘
وہ جانور حرام ہے جس پر غیر خدا کا نام ذکر کیا جائے اور وہ مجوسی‘ بت کے پجاری اور ملحد بے دین کا ذبیحہ ہے‘ بت کا پجاری بت کے لئے‘ مجوسی آگ کے لئے ذبح کرتا ہے۔ اور معطل (یعنی جو اﷲ کو فقط عقل اول کا خالق مانتا ہے) اپنی ذات کے لئے ذبح کرتا ہے (تقرب الٰہی وغیرہ کسی چیز کا اعتقاد نہیں رکھتا) (قرطبی مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ ج ۲ ص ۲۱۹)
:6سید سلیمان المعروف جمل شاہ رقم طراز ہیں:
مشرک لوگ جانوروں کو ذبح کرتے وقت غیر خدا کا نام بلند کرتے تھے۔ اب خواہ کوئی بلند آواز سے غیر خدا کے نام پر ذبح کرے خواہ آہستہ سے نام لے وہ جانور حرام ہوگا (الجمل علی الجلالین ج ۱ ص ۲۰۸)
:7تفسیر الخازن ج ۱ ص ۱۱۲ میں سیدنا امام علامہ علاء الدین علی بن محمد بن ابراہیم علیہ الرحمہ یوں رقم طراز ہیں۔
یعنی ذبح کے وقت جس جانور پر بتوں اور شیطانوں کا نام پکارا گیا ہو وہ مردود ہیں۔ اصل میں اہلال کا معنی آواز کا بلند کرنا ہے‘ مشرکین مکہ ذبح کے وقت اپنے بتوں کا نام ذکر کرتے تھے‘ اگرچہ اصل میں اہلال آواز بلند کرنے کو کہتے ہیں۔ لیکن یہاں مطلق سبب قائم مقام مسبب کے ہے خواہ آہستہ آواز سے بھی غیر خدا کا نام بوقت ذبح ہے تو جانور حرام ہوگا (تفسیر خازن مطبوعہ حافظ کتب خانہ کوئٹہ)
:8تفسیر البغوی ج ۱ ص ۱۴۰ مطبوعہ ادارہ تالیفات اشرفیہ ملتان میں اسی مفہوم کو ادا کرتے ہوئے امام جلیل محی السنتہ ابو محمد الحسین بن مسعود الفراء البغوی الشافعی المتوفی ۵۱۶ھ علیہ الرحمہ رقم طراز ہیں۔
یعنی وہ جانور حرام ہیں جو بتوں اور شیطانوں کے نام پر ذبح کئے جائیں‘ اہلال کی اصل آواز کا بلند کرنا ہے‘ کافر جب جانور ذبح کرتے تھے‘ تو اپنے بتوں کا نام بلند کرتے تھے۔ لہذا اب جو بھی ذابح ہے ‘ اگرچہ نام آہستہ لے اسے مسھل کہتے ہیں۔
:9تفسیر الصاوی علی الجلالین مطبوعہ مکتبہ غوثیہ ج ۱ ص ۱۳۴ میں مرقوم ہے۔
یعنی شئے کا نام اس کو کرنے والے کے نام پر رکھ دیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے چھوٹے بچے کا نام ممسہل رکھتے ہیں کہ وہ چیخ کر آواز بلند کرتاہے‘ نئے چاند کو ہلال کہتے ہیں۔ اس لئے کہ اسے دیکھ کر آواز بلند کی جاتی ہے۔
:10(اورنگزیب عالمگیر بادشاہ کے استاد گرامی قدر شیخ احمد بمعروف ملاجیون ہندی علیہ الرحمہ کی فیصلہ کن گفتگو)
تفسیرات احمدیہ مطبوعہ پشاور ص ۴۴ پر مرقوم ہے۔
ترجمہ: آیت کریمہ ’’مااہل بہ لغیر اﷲ‘‘ کا صحیح معنی یہ ہے کہ وہ جانور حرام ہیں جو غیر اﷲ کے نام لے کر ذبح کئے گئے مثلا مشرکوں نے لات و عزیٰ کے نام پر یا یہود ونصاریٰ نے انبیاء (حضرت عزیز و عیسٰی علیہما السلام) کا نام لے کر ذبح کیا تو وقت ذبح نام غیر خدا لینا اسے حرام کردے گا۔
(تفسیرات احمدیہ ص ۴۴ مطبوعہ مدینہ پبلی کیشنز قصہ خوانی بازار پشاور)
پھر اس کی کئی صورتیں ہیں جن کے جدا احکام ہیں اور وہ درج ذیل ہیں۔
۱۔ اگر غیر خدا کا نام فقط اکیلا لے کر جانور ذبح کیا تو جانور حرام ہوگا۔
۲۔ اﷲ اور فلاں کے نام پر ذبح کرتا ہوں مثلا باسم اﷲ و محمد رسول اﷲ کہا تو جانور حرام ہوگا۔
۳۔ اگر یوں کہا باسم اﷲ محمد رسول اﷲ اور درمیان میں عطف کا حرف ’’و‘‘ نہیں لگایا تو یہ فعل مکروہ ہے اور جانور حرام نہ ہوگا (مسلمان کو اس سے بھی پرہیز کرنا چاہئے)
۴۔ اور اگر کہا اﷲ اور فلاں کے نام پر لیکن یہ بات جانور کو ذبح کے لئے لٹانے سے پہلے کہی یا جب اﷲ کے نام پر ذبح کرچکا پھر کہا اﷲ اور فلاں کے نام پر تو کوئی حرج نہیں۔ کما فی الہدایۃ یعنی یہ ساری بحث ہدایہ میں تفصیل سے موجود ہے۔
علامہ جیون یہ ساری بحث کرنے کے بعد رقم طراز ہیں۔
اسی سے معلوم ہوا کہ ہمارے زمانے میں جو لوگ اولیاء کے (ایصال ثواب) کی نذرونیاز کرتے ہیں اور گائے (وغیرہ) کی نذر مانی جاتی ہے اس کا کھانا حلال و طیب ہے۔ اس لئے کہ اگرچہ وہ اولیاء کی نیاز کی ہوتی ہے لیکن ذبح کرتے وقت اس پر غیر خدا کا نام نہیں بلکہ نام خدا کا لیا جاتا ہے۔
تلک عشرۃ کاملۃ
محترم قارئین کرام! اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے اس موضوع پر ایک تفصیلی رسالہ نافعہ بنام تاریخی ’’سبل الاصفیاء فی حکم الذبح للاولیاہ‘‘ اور خاتم الفقہاء علامہ ابن عابدین شامی قدس سرہ السامی نے رد المحتار کتاب الذبائح اور ملا نظام الدین جماعت علمائے ہند نے عالمگیری‘ کتاب الذبائح مطبوعہ رشیدیہ کوئٹہ اور درجنوں ائمہ مفسرین‘ محدثین اور فقہاء نے اپنی اپنی کتب میں دلائل قاہرہ اور براہین باہرہ سے واضح کردیا ہے جس میں یہ ثابت کردیاکہ جو مسلمان ہے اس سے یہ بات بعید ہے کہ وہ ذبح سے غیر اﷲ کے تقرب کا ارادہ کرے۔ محض ایصال ثواب کے لئے قربانی کرنا شرعاً جائز ہے۔