عبدالرحمن بابا علیہ الرحمہ کے مزار پر حملہ کرنے والا پاگل ہوگیا

in Tahaffuz, May 2009, متفرقا ت, منصور قادری ترابی

بلاشبہ تمام تعریفوں کا لائق اﷲ تبارک و تعالیٰ ہے اور بے حد و بے حساب درود  وسلام کے لائق حضور اکرم نور مجسمﷺ کی ذات بابرکات ہے‘ اس کے بعد تمام کرامات سے مالا مال اولیاء اﷲ ہیں جنہوں نے اپنی ساری زندگی بندوں کو پاک پروردگار جل جلالہ سے ملانے میں صرف کردی جوکہ کائنات کے کونے کونے‘ گوشے گوشے میں اپنی مرقد انور میں آرام فرما ہیں اور بعد از وصال بھی خلق خدا کو اپنے فیوض و برکات سے مالا مال کررہے ہیں۔
انہی میں سے ایک نام صوبہ سرحد کے مشہور شہر پشاور کے صوفی اور عاشق رسول شاعر حضرت عبدالرحمن بابا علیہ الرحمہ کا بھی ہے جنہوں نے نہایت ہی غربت و تنگ دستی کے باوجود رب کریم کے بندوں کی مدد اور بھلائی میں اپنی تمام عمر گزاری‘ پشاور میں آپ کا عالی شان مزار موجود ہے۔ حضرت عبدالرحمن بابا علیہ الرحمہ کی ولادت 1653ء میں ہوئی اور آپ کا وصال 1711ء میں پشاور میں ہوا۔
ماہ مارچ میں متعدد اخبارات میں یہ خبریں شائع ہوئیں کہ حضرت عبدالرحمن بابا علیہ الرحمہ کے مزار کو شرپسند گروہ کے ایک فرد نے بارود سے اڑا کر شہید کردیا۔ یہ خبر پڑھ کر دل خون کے آنسو رویا کیونکہ کچھ شرپسند ایک عرصے سے اپنے ناپاک عزائم کے ذریعے بزرگان دین کے مزارات کی بے حرمتی اور ان کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ دو ماہ قبل حضرت کاکا صاحب علیہ الرحمہ کے مزار کو جو کوہاٹ کے راستے میںواقع ہے‘ شہید کردیا۔ حضرت پیر بابا علیہ الرحمہ کا مزار جوکہ سوات میںواقع ہے‘ اس کو بھی شہید کردیا۔ حضرت عبدالشکور ملنگی علیہ الرحمہ کے مزار کے باہر بم دھماکے کرائے گئے‘ یہی نہیں بلکہ جی روڈ چمکنی گائوں کے قریب حضرت میاں عمر بابا علیہ الرحمہ کے مجاور کو روز بروز دھمکیاں دی جارہی ہیں کہ عمر بابا علیہ الرحمہ کے مزار شریف کی شاندار تعمیر روک دو ورنہ مزار سمیت تم کو بھی بم سے اڑا دیا جائے گا۔
ہمارا سوال صرف اتنا ہے کہ جن صوفیاء اور اولیاء اﷲ نے اپنے کردار و افکار و اخلاق سے پورے عالم میں اسلام کو پھیلایا‘ کیا بندوق کی نوک پر اسلام نافذ کرنے والوں کے دلوں میں ان اولیاء اﷲ اور ان کے مزارات کے متعلق اتنی نفرت کیوں؟ صوفیاء کرام نے بغیر ہتھیار اپنی زبان و قلم سے لوگوں کے دلوں پر حکومت کی اور بعد از وصال بھی کررہے ہیں اور کرتے رہیں گے مگر تم لوگ تو خودکش حملوں کے بعد بھی کسی ایک مسلمان کو حقیقی مسلمان نہ بنا سکے۔
مسلمانوں پر شرک و بدعت کے فتوے لگا کر اسلام کے شیرازے کو بکھیر دیا۔
میں پوچھنا چاہتا ہوں ان مولویوں سے جب انہوں نے ہندوستان میں موجود تھانہ بھون میں مولوی اشرف علی تھانوی کے مزار کی بے حرمتی پر احتجاج کیا تھا۔ وہ آج صوبہ سرحد میں اولیاء اﷲ کے مزارات کو بم سے اڑانے پر خاموش تماشائی کیوں؟
کیا اس لئے کہ صوبہ سرحد میں عسکریت پسند انہی مولویوں کی سرپرستی میں کام کررہے ہیں یا انہی مولویوں کے ہم عقیدہ اور ہم مسلک لوگ ہیں؟
یاد رکھو! عبدالرحمن بابا سے تو بچ جائو گے مگر رحمن و رحیم پروردگار سے نہیں بچ سکو گے‘ وہ دنیا میں دشمنان اولیاء کو پاگل کرکے شرپسندوں کو یہ پیغام دے رہا کہ:
جس نے میرے کسی ولی سے دشمنی کی‘ میرا اس کے خلاف اعلان جنگ ہے

عبدالرحمن بابا علیہ الرحمہ کے مزار پر حملہ کرنے والا پاگل ہوگیا