موجودہ دور میں اکثر اہل اسلام رشتہ تلاش کرتے وقت یہ کوشش کرتے ہیں کہ انہیں اس گھر سے رشتہ ملے جس گھر والے زیادہ سے زیادہ جہیز دے سکیں۔ بے محنت حاصل ہونے والی دولت کے یہ متلاشی عورتوں کی دینداری‘ حسن و جمال اور نسبی شرافت اور قرابت کو کچھ بھی اہمیت نہیں دیتے۔ اس لئے ایسے رشتے میں خیروبرکت کا فقدان ہوتا ہے۔ کیونکہ میاں بیوی کو ساری زندگی ایک رشتہ میں منسلک رکھنے والے اوصاف دونوں میں موجود ہوں گے تو وہ خوشگوار زندگی بسر کرسکیںگے ورنہ ان کی زندگی وبال جان بن کر رہ جائے گی‘ خواہ کتنا زیادہ جہیز ملا ہو۔
زیادہ برکت والا نکاح
جس نکاح میں اخراجات کی کمی ہوگی‘ وہ زیادہ برکت والا ہوگا۔ لڑکی والوں کو جہیز تیار کرنے کی مصیبت جھیلنی نہیں پڑے گی۔ لڑکے والوں کو زیادہ زیورات اور مہر کی رقوم مہیا کرنے کی زحمت اٹھانی نہیں پڑے گی۔ اور زوجین کے بے جا شادی کے اخراجات کی وجہ سے قرضوں کے جال میں پھنسنے سے محفوظ رہیں گے۔ میکے سے جہیز نہ لانے والی عورت یہ سمجھے گی کہ مجھے جو کچھ ملا ہے خاوند کی طرف سے ملا ہے‘ اس لئے مجھے خاوند کی خدمت گار بن کر رہنا چاہئے۔ لڑکا سمجھے گا میرے گھر میں جو کچھ ہے میری اپنی کمائی کا ہے‘ اس لئے وہ احساس کمتری میں مبتلا ہونے سے بچا رہے گا۔ انہی وجوہات کی بناء پر دانائے غیوب نبی امیﷺ نے ارشاد فرمایا۔ ان اعظم النکاح برکۃ یسرہ مومن بلاشبہ سب سے بڑی برکت والا وہ نکاح ہے جس میں اخراجات میں سب سے زیادہ کمی پائی جاتی ہے۔
شیخ محقق دہلوی رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں
’’بدرستی کہ بزرگ ترین نکاح ازروئے برکت آسان ترین آنست ازروئے باروگرانی و تعب و مشقت درتہیہ اسباب‘‘ یعنی سب سے بڑی برکت والا نکاح وہ ہے جس کا سامان تیار کرنے میں سب سے زیادہ آسان بوجھ اور مشقت اٹھائی جاتی ہے (اشعۃ اللمعات ص ۱۰۴‘ ج ۳)
کاش مسلمان اس حدیث نبوی کو پڑھیں اور اس پر عمل کریں تو کتنے پھندوں سے نجات مل سکتی ہے ۔ واﷲ یہدی من یشاء الی صراط المستقیم
جہیز کی خاطر رشتہ کرنا شرعا مذموم ہے
بھاری جہیز غریب لوگوں کی بچیوں کی شادی میں سخت رکاوٹ بن جاتا ہے۔ سالہا سال وہ اپنے میکے میں جوانی کا عرصہ گزارنے پر مجبور ہوتی ہیں۔ اس لئے شرع شریف نے جہیز کی خاطر رشتہ کرنے کو مذموم قرار دیا ہے۔ رسولﷺ ارشاد فرماتے ہیں۔
ترجمہ: یعنی عورت سے (چار وجوہ سے) نکاح کیا جاتا ہے۔ اس کی مالداری کے سبب سے اور اس کی خاندانی شرافت کے سبب سے اور اس کے حسن و جمال کے سبب سے اور اس کی دینداری کے سبب سے۔ سو تو دین والی عورت پر کامیابی حاصل کر‘ تیرے دونوں ہاتھ غبار آلود ہوں۔
(رواہ الشیخان فی صحیحھما عن ابی ہریرۃ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ‘ مشکوٰۃ ص ۲ ج ۲)
اور امام غزالی لکھتے ہیں:
ترجمہ: حدیث شریف میں مروی ہے کہ جو شخص عورت کے مال و جمال کے سبب سے اس سے شادی کرے وہ اس کے مال و جمال سے محروم رہتا ہے اور جو شخص عورت کی دینداری کے سبب سے اس سے شادی کرے‘ اﷲ اسے اس عورت کا مال و جمال عطا کردیتا ہے (نزہۃ الناظرین ص ۱۴۵)
اور بعض بزرگ فرماتے ہیں:
جو شخص غنی عورت سے شادی کرے وہ اس کی طرف سے پانچ آفتوں میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ مہر کی زیادتی‘ رخصتی میں دیری‘ خدمت سے محرومی‘ اخراجات کی زیادتی اور جب وہ اس کو طلاق دینے کا ارادہ کرے تو اس کا جہیز چلے جانے کے ڈر سے قدرت نہیں رکھتا اور غریب عورت سے شادی کرنے میں ان پانچ آفتوں سے حفاظت رہتی ہے (نزہۃ الناظرین ص ۱۴۵)
مسلمان بزرگان دین کے ان ارشادات عالیہ پر غور فرمائیں اور یقین جانیں کہ اس دور میں ازدواجی زندگی کا بگاڑ زیادہ تر اسی وجہ سے پایا جاتا ہے کہ جہیز حاصل کرنے کی غرض سے امیروں کی لڑکیاں بیاہی جاتی ہیں اور غریبوں کی بچیوں سے روگردانی کی جاتی ہے۔ اگر مسلمان آج بھی سنبھل جائیں اور مالداری کی بجائے دینداری کو بنیاد بنالیں تو اور کسی قسم کی ناچاقی کے واقع ہونے کا خدشہ نہیں ہوگا۔
واﷲ یہدی من یشاء الی صراط المستقیم
نیک بیوی سعادت مندی کی علامت ہے
نیک بیوی نیک بختی کا ذریعہ ہے۔ چنانچہ رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا۔
’’دنیا متاع ہے اور دنیا کی بہترین متاع نیک عورت ہے‘‘ اور فرمایا ’’تقویٰ کے بعد مومن کے لئے نیک بیوی سے بہتر کوئی چیز نہیں۔ اگر وہ اسے حکم کرے تو وہ اس کی اطاعت کرتی ہے اور اگر اسے دیکھتے تو اسے خوش کرتی ہے اور اگر وہ اس پر قسم کھا بیٹھے تو وہ اس کی قسم کو سچا کردیتی ہے۔ اور اگر وہ کہیں چلا جائے تو وہ اپنے نفس اور شہو کے مال میں خیر خواہی کرتی ہے۔ (مشکوٰۃ ص ۲ ج ۲)
اور فرمایا:
’’جس شخص کو چار چیزیں ملیں‘ اسے دنیا اور آخرت کی بھلائی مل جاتی ہے۔ شکر گزار دل‘ یاد الٰہی کرنے والی زبان بلاء پر صبر کرنے والا بدن اور ایسی بیوی جو اپنے نفس اور شوہر کے مالک میں گناہ کی متلاشی نہ ہو (مشکوٰۃ ص ۱۴ ج ۲)
اور فرمایا: ’’تین چیزیں آدمی کی نیک بختی سے ہیں اور تین چیزیں بدبختی سے‘‘ نیک بختی کی چیزوں میں سے نیک عورت اور اچھا مکان اور اچھی سواری ہے اور بدبختی کی چیزوں میںسے بری عورت اور برا مکان اور بری سواری ہے۔
اور فرمایا ’’جسے اﷲ نے نیک بیوی نصیب کی اس کے نصف دین پر اعانت فرمائی تو باقی نصف میں اسے ڈرنا چاہئے‘‘ اور فرمایا جس شخص کو پانچ چیزیں دی گئیں۔ اسے آخرت کے عمل کے ترک پر معذور قرار نہیں دیا جائے گا۔ نیک بیوی‘ نیک اولاد‘ لوگوں سے اچھا میل جول‘ اپنے شہر میں روزگار اور آل محمدﷺ کی محبت (جامع صغیر ص ۷ ج ۲)
اور فرمایا ’’کیا میں تجھے خبر نہ دوں اس بہترین چیز کے بارے میں جو مرد جمع کرتا ہے‘ وہ نیک عورت ہے کہ جب وہ اس کی طرف دیکھے وہ اسے خوش کرے اور جب اسے حکم کرے تو وہ اطاعت کرے اور جب وہ موجود نہ ہوتو حفاظت کرے (جامع صغیر ص ۷۲‘ ج ۱)
جہیز شرعا واجب نہیں ہے
چونکہ بچی کے والدین اس کی پیدائش سے لے کر جوان ہونے تک اس کی تربیت و تعلیم پر مسلسل مال خرچ کرتے رہتے ہیں‘ اس لئے شرع شریف نے شادی کے موقع پر بچی کو جہیز دینا ان پر واجب نہیں کیا ہے اور نہ اس حق پرورش کے بدلہ میں کچھ لڑکے والوں کی طرف سے لینا جائز قرار دیا ہے۔ فی الواقع اگر شادی کے موقع پر شرع شریف لڑکی کے والدین پر جہیز دینا واجب کرتی تو لڑکی ان کے لئے وبال جان بن جاتی اور وہ اسے زندہ درگور کردینے کے درپے ہوجاتے۔
جہیز اپنی حیثیت کے مطابق دینا جائز ہے
اگر شرع شریف نے لڑکی والوں پر جہیز دینا واجب نہیں کیا لیکن اگروہ اپنی حیثیت سے مطابق کچھ جہیز دیں تو اس سے انہیں منع بھی نہیں کیا ہے۔
مولانا عبدالمصطفی اعظمی امجدی کتاب جنتی زیور ص ۱۲۶ پر لکھتے ہیں ’’ماں باپ کچھ کپڑے کچھ زیورات ‘ کچھ سامان برتن پلنگ‘ بستر‘ میز‘ کرسی تخت جائے نماز‘ قرآن مجید دینی کتابیں وغیرہ لڑکی کو دے کر اس کو سسرال بھیجتے ہیں۔ یہ لڑکی کا جہیز کہلاتا ہے۔ بلاشبہ یہ جائز ہے بلکہ سنت ہے کیونکہ حضورﷺ نے بھی اپنی پیاری بیٹی حضرت فاطمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کو جہیز میں چند سامان دے کر رخصت فرمایا تھا لیکن یاد رکھو کہ جہیز میں سامانوں کا دینا ماں باپ کی شفقت و محبت کی نشانی ہے‘ ہاں لڑکی والوں کو اپنی حیثیت سے بڑھ کر جہیز تیار نہیں کرنا چاہئے۔
جہیز نقدی کی صورت میں دینا جائز ہے
ہمارے علاقے میں رواج ہے کہ جہیز میں سامان خانہ داری خریدا جاتا ہے حالانکہ یہ چیزیں پہلے سے دولہا کے گھر موجود ہوتی ہیں ۔اس لئے سالہا سال تک یہ جہیز کا سامان یونہی پڑا رہتا ہے اور استعمال میں نہیں آتا۔ اس لئے بہتر یہ ہے کہ جہیز میں صرف وہ چیزیں دی جائیں جن کی ضرورت پڑے گی۔ یا نقدی کی صورت دیں۔ تاکہ وہ اپنی منشاء کے مطابق اس سے جو چیز چاہیں‘ خرید لیں اور اس میں ریا کاری بھی پائی نہیں جائے گی۔
خاتون جنت کا جہیز
نبی اکرمﷺ نے اپنی لخت جگر حضرت فاطمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے نکاح کے وقت جو چیزیں دی تھیں‘ انہیں حضرت مولانا مفتی احمد یار خان نعیمی رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہ نے اس نظم میں بیان کیا ہے
فاطمہ زہرا کا جس دن عقد تھا
سنو لو ان کے ساتھ کیا کیا نقد تھا
ایک چادر سترہ پیوند کی
مصطفیﷺ نے اپنے دختر کو دی
ایک توشکل جس کا چمڑے کا غلاف
ایک تکیہ ایک ایسا ہی لحاف
جس کے اندر اون نہ ریشم روئی
بلکہ اس میں چھال خرمے کی بھری
ایک چکی پیسنے کے واسطے
ایک مشکیزہ تھا پانی کے لئے
ایک لکڑی کا پلایہ
ساتھ میں نقری کنگن کی جوڑی ہاتھ میں
اور گلے میں ہار ہاتھی دانت کا
ایک جوڑا بھی کھڑائوں کا دیا
شاہزادی سید الکونینﷺ کی
بے سواری ہی علی کے گھر گئی
واسطے جن کے بنے دونوں جہاں
ان کی تھیں سیدھی سادی شادیاں
اس جہیز پاک پہ لاکھوں سلام
صاحب لولاک پہ لاکھوں سلام
(بیاہ شادی کی رسمیں ص ۲۶‘ مطبوعہ بزم کنز الایمان‘ کراچی)
جہیز کی رقم دولہا سے لینا جائز نہیں
بعض لوگ جہیز کی رقم لڑکے والوں سے لیتے ہیں۔ بلکہ بارات کا کل خرچ بھی ان سے مانگتے ہیں۔ حالانکہ یہ دونوں باتیں شرعا جائز نہیں۔
مفتی احمد یار خان نعیمی کے فتاویٰ میں ہے۔
استفتاء
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی لڑکی کے نکاح میں لڑکے والوں سے کہا کہ مہر کے علاوہ بغیر قرض اگر آپ اس شرط پر روپیہ دیں گے تو میں بارات کا کھانا کھلا سکتا ہوں۔ ورنہ نہیں۔ یہ روپیہ لینا جائز ہے‘ یا نہیں۔
الجواب بعون الملک الوہاب: یہ سوال ناجائز ہے اس لئے کہ اگر روپیہ کی شرط پر نکاح کرتا ہے کہ بغیر اس کے ادا کئے نکاح کرے تو یہ رشوت ہے اور رشوت لینا حرام ہے اور اگر یہ روپیہ شرط نکاح نہیں ہے بلکہ ویسے دعوت کے لئے مانگنا ہے تو سوال ہے اور مہمانوں کی دعوت اتنی ضروری نہیں کہ اس کے لئے سوال جائز ہو (فتاویٰ نعیمیہ ص ۵ بتصرف)
جہیز کے لئے قرض اٹھانا مذموم ہے
بعض لوگ جہیز کی رسم پوری کرنے کے لئے بے جا قرضہ اٹھاتے ہیں‘ یہ بھی شرعا مذموم ہے کہ جس کام کو شرع نے لازم قرار نہیں کیا۔ اس کے لئے قرضہ میں زیر بار ہونا دانشمندی نہیں۔ بہتر ہے کہ لڑکی کے والدین چند سال تک تھوڑا تھوڑا جہیز تیار کرتے رہیں تاکہ بروقت پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
جہیز عورت کی ملکیت ہوتا ہے
بعض دفعہ دیکھا جاتا ہے کہ میاں بیوی کی ناچاقی کی صورت پیدا ہوتی ہے اور ان میں طلاق واقع ہوجاتی ہے تو خاوند مہر میں دیا ہوا زیور بھی لے لیتا ہے اور عورت کا جہیز بھی ہڑپ کرلیتا ہے۔ یہ شرعا سخت حرام اور ظلم عظیم ہے۔ اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی قدس سرہ کی کتاب احکام شریعت ص ۱۷۸ میں یہ فتویٰ درج ہے ’’کیا فرماتے ہیں علمائے دین مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ جہیز کس کا حق ہوتا ہے؟ لڑکی والوں کا یا لڑکے والوں کا بعد وفات زوجہ کے اس میں تقسیم فرائض ہوگی یا نہیں۔ زید سلیمہ کا شوہر تھا۔ سلیمہ کے مرنے کے بعد کہتا ہے کہ میں نے اس کو کھلایا پلایا ہے۔ لہذا جہیز میرا حق ہے۔ یہ قول زید کا صحیح ہے یا باطل۔ اگر جہیز میں تقسیم فرائض نہ ہو تو آیا صرف والدین کو ملے گایا اور کس کس کو۔ بینو اوتو جروا
الجواب: جہیز عورت کی ملک ہے۔ اس کے مرنے کے بعد حسب شرائط فرائض ورثہ پر تقسیم ہوگا۔ زید کا دعویٰ باطل محض ہے۔ نفقہ کے عوض میں کچھ نہیں لے سکتا کہ نفقہ اس پر شرعا واجب تھا۔
جہیز کے متعلق ایک تحقیقی مقالہ
جہیز کے بارے میں ضروری گزارشات عرض کرنے کے بعد ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ رسالہ رضائے مصطفی گوجرانوالہ میں شائع شدہ ایک تحقیقی مقالہ کے ضروری حصے بھی یہاں شامل کردیئے جائیں تاکہ اس مسئلہ پر مزید روشنی پڑ جائے۔ وباﷲ التوفیق
’’ہندو دھرم (مذہب) میں دختر کے لئے وراثت میں حصہ نہیں اس لئے وہ اس کی تلافی یوں کرلیتے ہیں کہ جب بیٹی کی شادی کرتے ہیں تو جتنا کچھ اسے دے سکتے ہیں‘ جہیز کے نام سے دے دیتے ہیں۔ مسلمان بھی یہی کچھ ان کی دیکھا دیکھی کرنے لگے ہیں۔ بہت سے خاندانوں میں بیٹی کو ترکہ نہیں ملتا لیکن دوسرے حصہ میں تقریبا سب عمل کرتے ہیں۔ یعنی بیاہتے ہوئے اسے جہیز دینا اتنا ضروری سمجھتے ہیں کہ گویا اس کے بغیر شادی ہی مکمل نہیں ہوتی۔
اس پر غضب تو یہ ہوا کہ انہوں نے مروجہ جہیز کی سنت رسولﷺ بھی قرار دے دیا ہے۔ ظاہر ہے کہ سنت رسولﷺ کے بغیر دین مکمل نہ ہو تو ازدواج بھی بغیر سنت جہیز مکمل نہیں ہوسکتا۔ پھر سب سے زیادہ دلچسپ استدلال جہیز کے سنت ہونے پر یہ ہے کہ حضور اکرمﷺ نے سیدہ فاطمہ زہرا رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کو جہیز دیا تھا۔ جس میں بان کی چارپائی‘ چکی‘ مٹی کے گھڑے‘ ہاتھی دانت کے کنگن‘ چاندی کا ہار‘ مشکیزے اور اذخر سے بھری توشک تھی۔ گویا مقدمات کی ترتیب یوں ہوئی کہ حضورﷺ نے حضرت فاطمہ زہرا رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کو فلاں فلاں چیزیں جہیز میں دیں لہذا جہیز دینا سنت ٹھہرا اور سنت کے بغیر دین مکمل نہیں ہوسکتا لہذا جہیز کے بغیر ازدواج مکمل نہ ہوگا۔
اب ذرا ہماری گزارشات کو بھی غور سے سن لیجئے۔ آپ کے سامنے خدا کی کتاب کھلی ہے۔ احادیث کے دفتر موجود ہیں۔ ہر مشرب کی کتب فقہ رکھی ہوئی ہیں۔ آپ کو ہر جگہ زر مہر کی تصریح ملے گی۔ قرآن نے اسے فریضہ‘ صدقات اور اجر کہا ہے۔ احادیث میں اسے صداق اور مہر بھی کہا گیا ہے۔ کتب فقہ میں اس کے مستقل ابواب ہیں اور ہر جگہ اسے ایک واجب الادا فرض بتایا گیا ہے۔ حتی کہ مسند احمد کی روایت ہے کہ جوشخص ایک عورت سے کسی مہر پر نکاہ کرے اور نیت یہ ہو کہ وہ اسے ادا نہیں کرے گا تو اس کا شمار زانیوں میں ہے۔ اور قرآن پاک میں اس کی بار بار تاکید آئی ہے۔ کہ عورتوں کا ان کا مہر خوش دلی کے ساتھ ادا کرو۔ سب کا ذکر یہاں مقصود نہیں۔ عرض یہ کرنا ہے کہ مہر کے سارے احکام قرآن میں ‘ احادیث میں اور فقہ میں وضاحت کے ساتھ موجود ہیں۔ لیکن جو چیز آپ کو کہیں نہ ملے گی وہ ہے جہیز کا ذکر قرآن اس ذکر سے قطعا خالی ہے۔ احادیث میں اس کا کہیں ذکر نہیں۔ حتی کہ فقہ میں کہیں کوئی باب الجہیز موجود نہیں۔ اب خود ہی سوچئے کہ یہ جہیز سنت کیسے بن گیا۔
پھر اس پر غور فرمایئے کہ حضورﷺ کی اور بھی تین صاحبزادیاں تھیں۔ زینب‘ رقیہ‘ ام کلثوم رضی اﷲ عنہن۔ کیا آپ نے کبھی یہ بھی سنا کہ حضورﷺ نے زینب‘ رقیہ و ام کلثوم کو جہیز دیا۔ جس میں فلاں فلاں چیزیں تھیں۔ اسے بھی جانے دیجئے۔ حضورﷺ کے شرف زوجیت میں کتنی امہات المومنین آئیں۔ لیکن آپ نے کبھی یہ بھی پڑھا ہے کہ عائشہ کے جہیز میں یہ چیزیں تھیں یا حفصہ یا سودہ یا دوسری ازدواج النبیﷺ فلاں فلاں چیز جہیز میں لائی تھیں۔ چلئے جانے دیجئے۔ دوسرے بے شمار صحابہ رضوان اﷲ تعالیٰ علیہم اجمعین نے بھی شادیاں فرمائیں۔ لیکن کتنوں کے متعلق آپ نے کبھی یہ ذکر پڑھا ہے کہ ان کی ازواج سنت رسولﷺ کی طرح جہیز لائی تھی پھر ذرا عقل پر زور دے کر سوچئے کہ آخر یہ سنت رسول کی کون سی قسم ہے جو ازدواج کے سوا اور کہیں بھی نظر نہیں آتی؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ حقیقت کچھ اور ہے اور ہم نے کچھ اور فرض کرلیا ہو؟ ہاں یقینا یہی بات ہے۔ آیئے ذرا اس پر غور کریں۔
اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ حضورﷺ وہ چیزیں جن کا اوپر ذکر ہوا۔ جناب فاطمہ کو دیں‘ لیکن کیا وہی چیز تھی جسے ہم عرف عام میں جہیز کہتے ہیں۔ یقینا انہیں مروجہ جہیز کی اصطلاح سے اسے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ پھر یہ کیا تھا؟ اس لئے اس پر اس وقت غور کرنا ہے۔ ذرا توجہ سے کام لے کر حقیقت حال  پر غور فرمایئے۔
حضورﷺ نے جناب فاطمہ زہرا رضی اﷲ تعالیٰ عنہا اور حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ دونوں کے کفیل اور سرپرست تھے۔ اس لئے دونوں کے ازدواج کا اہتمام بھی حضورﷺ ہی کو کرنا تھا۔ جناب علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو بھی گھر بسانا تھا‘ اس لئے اسی کا انتظام بھی حضورﷺ ہی فرما رہے تھے۔ خانہ داری کے انتظام کے لئے جو کچھ مختصر انتظام حضورﷺ نے مناسب سمجھا کردیا۔ سونے کو چارپائی اور اذخر گھاس سے بھری توشک اور تکیہ مشکیزے گھڑے چکی۔ رہا چاندی کا ہار تو وہ یوں بھی حضرت فاطمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا ہی کا تھا۔ جو آپ کو سیدہ خدیجہ کے ترکے میں ملا تھا‘ یہ سارا انتظام حضورﷺ کو اس لئے کرنا پڑا کہ آپﷺ کو ایک الگ گھر بسانا تھا۔ اگر حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا پہلے ہی سے کوئی الگ گھر ہوتا تو حضورﷺ شاید اتنا کچھ نہ کرتے۔ حضرت ابو العاص کا گھر پہلے سے موجود تھا۔ اس لئے سیدہ زینب کو بیاہنے کے لئے حضورﷺ نے ایسا کوئی انتظام نہ کیا۔ سیدنا عثمان غنی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا الگ گھر بھی پہلے موجود تھا۔ اس لئے سیدہ رقیہ اور ام کلثوم رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کو بہانے میں حضورﷺ کو ایسے کسی انتظام کی ضڑورت نہ پڑی۔ اسی طرح حضورﷺ کی زوجیت میں جو ام المومنین آئیں ان کے والدین کو بھی ایسے کسی انتظام کی حاجت نہ تھی۔ لیکن سیدنا علی المرتضیٰ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی حیثیت ان سے مختلف تھی اب تک وہ حضورﷺ کے ساتھ ہی رہتے تھے اور جب ازدواج فاطمہ ہوا تو سارا اہتمام ازسر نو کرنا پڑا۔ سیدنا علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے پاس کوئی الگ گھر نہ تھا۔ ایک انصاری حارثہ بن نعمان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اپنا ایک گھر حضورﷺ کی خدمت میں اسی خدمت کے لئے بخوشی پیش کردیا۔ جس میں یہ پاکیزہ نیا جوڑا منتقل ہوگیا۔ اور خانہ داری کے مختصر اسباب وہاں بھیج دیئے گئے۔ یہ جہیز نہ تھا صرف ایک انتظام خانہ داری تھا۔ اس کے جہیز نہ ہونے کی ایک اور دلیل بھی سن لیجئے۔ جناب خدیجہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے متروکات سے سوا دوسری چیزیں حضورﷺ نے کہاں سے مہیا فرمائی تھیں۔ یہ بھی یاد رکھنے کے قابل چیز ہے۔ حضورﷺ نے حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے حق مہر پہلے ہی لے لیا تھا ایک زرہ تھی جو حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے حضرت عثمان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ سوا سو روپے کی رقم (تقریبا پانچ سو درہم) میں فروخت کی تھی۔ یہی رقم حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ حضورﷺ کی خدمت میں لے کر آئے اور اسی رقم سے حضورﷺ نے خانہ داری کا سب سامان اور کچھ خوشبو وغیرہ منگوائی تھی۔ ذرا سوچئے! کیا جہیز کی یہی صورت ہوتی ہے۔ اگر لوگ فی الواقع جہیز کو سنت سمجھتے ہیں تو انہیں چاہئے کہ اسے زر مہری سے مہیا بھی کریں۔
الغرض ضروری ہے کہ غیر ضروری اور تباہ کن رسم جہیز کو کسی نہ کسی طرح بے جان بنا دیا جائے اور حکومت مروجہ جہیز کی تباہ کاری اور اپنے فرائض کا احساس کرتے ہوئے علمائے کرام کے مشورے سے فوری طور پر جہیز کی اصلاح کے لئے قانون نافذ کرکے اپنے فرائض سے سبکدوش ہو اور اہل وطن کی دعائیں لے۔