سلجوق کا نام پکارا گیا تو وہ مدھم مسکان سجائے پراعتماد قدموں سے چلتا ہوا اسٹیج کے وسط میں پڑے باکس کی طرف بڑھتا چلا گیا۔ تقریری مقابلے کا آج فائنل رائونڈ تھا۔ اس رائونڈ میں ہر مقرر کو باکس میں سے ایک پرچی اٹھا کر اس پر لکھے کسی بھی موضوع پر 2 منٹ کی فی البدیہ تقریر کرنی تھی۔ سلجوق کا اعتماد یہ ظاہر کررہا تھا کہ جس طرح وہ ابتدائی مقابلے جیتتا  آیا ہے‘ اسی طرح وہ یہ آخری مقابلہ بھی جیت جائے گا۔ اس نے پرچی اٹھائی اور مسکراتی نظروں سے سامنے دیکھا۔ پہلی قطار میں اس کے استاد اور اس کا دوست حرم موجود تھے۔ اس نے اطمینان سے پرچی کھولی اور موضوع پر نظر دوڑائی۔ تبھی اس کی نظریں جم سی گئیں۔ ایک لمحہ فقط ایک لمحے میں اسے یوں لگا جیسے گردش کائنات تھم گئی ہو۔ ہر چیز ساکت ہوگئی ہو۔ دل کی دھڑکن کنپٹیوں میں گونج اٹھی اور پیشانی پر پسینے کی بوندیں نمودار ہونے لگیں۔ کائونٹ ڈائون شروع ہوگیا۔ 120 سیکنڈ کا وقت… اس کے لئے بہت تھا مگر سارے الفاظ‘ سارے معانی اس کے حلق میں ہی پھنس کر رہ گئے۔ تیس سیکنڈ گزر گئے اور وہ کچھ نہ بول سکا۔ تبھی ہال میں چہ میگوئیاں شروع ہوگئیں‘ بے بسی کے عالم میں اس نے ہونٹ بھینچے اور بیک دی اسٹیج بھاگ گیا۔ ’’سلجوق رکو‘ کیا ہوا تمہیں؟‘‘ حرم اس کے پیچھے چلا آیا۔ سلجوق نے خاموشی سے ہاتھ میں دبی پرچی اس کی طرف بڑھا دی۔ حرم نے پرچی پر نظر دوڑائی ’’کمال ہے اس موضوع پر تم 2 منٹ کیا 2 گھنٹے بھی بول سکتے تھے‘‘ سلجوق نے ایک لمحے میں فیصلہ کیا کہ وہ حرم کو سب کچھ بتادے گا‘‘ حرم میں نے تم سے کچھ چھپایا ہے‘‘ حرم نے سوالیہ انداز میں اس کی طرف دیکھا۔ تبھی گرم پانی کے دو قطرے اس کی آنکھوں سے بہہ نکلے۔
شبنم سے بھیگی لان کی گھاس پر وہ رات کے اس پہر تنہا بیٹھا تھا۔ الجھن تھی کہ بڑھتی جارہی تھی۔ گٹھن تھی کہ سانس رکا جارہا تھا۔ تب وہ بے اختیار ہوگیا۔ بہتی آنکھوں سے ایک طویل سجدہ کیا ’’یاخدا! میری مدد فرما‘ اک تو ہی ہے جو میرے دل کا حال جانتا ہے۔ اگر میرا راستہ صحیح ہے تو مجھے اس پر چلنے کی توفیق فرما اور اگر میرا راستہ کھوٹا ہے تو میری رہنمائی فرما‘ میری مدد فرما‘ میں تو بس تیری ہی مدد کا طالب ہوں‘‘ تبھی ایک آواز نے اس چونکا دیا ’’ارے بیٹا‘ اتنی سردی میں کیا کررہے ہو؟‘‘ سلجوق نے نم آنکھوں سے اس کی طرف دیکھا‘ سرخ و سپید چہرہ‘ سفید لمبی داڑھی‘ چمکدار آنکھیں اور بارعب نین نقش‘ وہ پہچان نہ سکا کہ یہ بوڑھا رات کے اس پہر لان میں کیا کررہا ہے۔ اس کی سوالیہ نظروں کا جواب بوڑھے نے یوں دیا ’’مالی بابا‘‘
پیریڈ کے دوران وہ چپکے چپکے حرم کی طرف دیکھتا رہا۔ مگر حرم نے کوئی خاص توجہ نہ دی چنانچہ تفریح ہوتے ہی وہ افسردہ سا گرائونڈ میں مخصوص جگہ پر آکر بیٹھ گیا۔ چند لمحوں بعد اس نے حرم کو اپنے قریب پایا۔ کچھ دیر دونوں خاموش رہے ‘ پھر حرم اس کی طرف دیکھے بغیر بولا ’’اس دن جب تم مجھے بتا رہے تھے تو تم … رو کیوں رہے تھے؟‘‘ سلجوق ایک بار پھر بے چین ہوگیا ’’یہی… یہی تو وہ سوال ہے جس کے جواب کی تلاش نے میری راتوں کی نیند اڑا رکھی ہے۔ میں خود نہیں جانتا حرم کہ ایسا کیوں ہے؟ مگر کچھ تو ہے… کچھ ایسا جو مجھے جاننا چاہئے۔ حرم کی آنکھیں یکدم چمک اٹھیں ’’جاننا چاہوگے؟‘‘ سلجوق نے چونک کر اس کی طرف دیکھا اور اثبات میں سر ہلا دیا۔
سلجوق کی طبیعت میں تجسس اور جستجو کا عنصر بچپن سے ہی تھا‘ اس کا ذہن اپنے گرد کے ماحول کو جلدی اپنانے کی بجائے کریدنا زیادہ پسند کرتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ اس کے ذہن میں ہر وقت سوالات امڈتے رہتے مگر اس نے جس ماحول میں آنکھیں کھولی تھیں‘ وہاں سوال کرنا اور خاص طور پر مذہب کے بارے میں سوال کرنا ناگوار سمجھا جاتا تھا۔ سلجوق کو پہلی بار یہ بات اس وقت معلوم ہوئی جب وہ اسکول سے ملا اسلامیات کا سبق دہرا رہا تھا۔ اتفاقاً آغا حسن نے اسے سن لیا اور پھر پاس بٹھا کر سمجھانے لگے۔ سلجوق کا تجسس جاگ اٹھا ’’مگر ابو کتاب میں تو لکھا ہے محمدﷺ خدا کے آخری نبی ہیں‘‘
’’بیٹا یہ کتاب ہمارے لئے نہیں ہے‘‘ وہ سمجھاتے ہیں ’’اگر کتاب میں غلط لکھا ہے تو ٹیچر کیوں پڑھاتے ہیں؟‘‘ وہ نیا سوال کردیتا کیونکہ بیٹا وہ لوگ اسے مانتے ہیں۔ بس تم یہ اسلامیات کا پریڈ مت پڑھا کرو‘‘ … ’’مگر باقی سب تو پڑھتے ہیں‘‘ … سلجوق زیادہ سوال نہیں۔ جتنا کہا جائے اس پر عمل کیا کرو‘‘ وہ جھڑکتے اور چلے جاتے اور سلجوق ان جوابوں میں الجھ کر رہ جاتا۔ کبھی کبھی وہ اپنی بہن مثال سے کہتا ’’باجی کیا ہم مسلمان نہیں ہیں؟‘‘
’’کیوں نہیں ہیں؟ بالکل ہیں…‘‘ وہ گھور کر بولی ’’پر باجی! ہمارے ٹیچر تو کہتے ہیں جو نبی محمدﷺ کو آخری نبی تسلیم نہیں کرتا وہ مسلمان نہیں ہے‘‘
’’سلجوق ابھی تمہاری عمر اتنی نہیں ہے۔ تم ان باتوں کو نہیں سمجھوگے یہ بڑوں کی باتیں ہیں‘‘
’’کیوں باجی کیا مذہب بچوں کے لئے نہیں ہوتا؟‘‘ وہ معصومیت سے پوچھتا تو وہ زچ ہوجاتی پھر وہ کہتا ’اگر ہم صحیح ہیں تو کیا میں اپنے دوستوں کو بتائوں کہ وہ سب غلط ہیں۔ ہمارے ٹیچر بھی غلط ہیں‘‘ … ’’خبردار سلجوق جو کسی سے بات بھی کی۔ تم نہیں جانتے یہ لوگ ہمارے کتنے خلاف ہیں۔ تمہیں اسکول سے نکال دیں گے‘‘ وہ دھمکاتی تو وہ خاموش ہوجاتا۔ مگر جیسے جیسے بڑاہوتا گیا‘ سوالات کا دائرہ بھی وسیع ہوتا چلا گیا۔ اسکول کی کتابوں‘ ٹیچروں کے لیکچر اور دوستوں کی باتوں میں سننے والا اسلام اس کے گھر میں پنپنے والے ’’اسلام‘‘ سے کتنا مختلف تھا۔ سچا کون ہے؟ اور جھوٹا کون؟ اسی کشمکش میں وہ الجھتا رہا مگر جواب نہ پاسکا۔ مگر پھر ایک دن تقریری مقابلے میں اسے زبردست تحریک ملی۔ اسکول کا بہترین مقرر تھا۔ سارے رائونڈ جیت گیا مگر فائنل رائونڈ جس میں 2 منٹ کی تقریر کرنا تھی وہ پھنس گیا۔ باکس سے نکلی پرچی پر تقریر کا موضوع تھا ’’عقیدہ ختم نبوتﷺ‘‘ ساری تقریریں سارے لفظ اس کے حلق میں اٹک گئے۔ وہ بھاگ کر باہر نکل گیا۔ تب اس کی برداشت کی حد ختم ہوگئی۔ اس نے اپنے دل کو کھولا۔ اپنے دوست حرم کے سامنے بھی اور بھیگی لان کی گھاس پر سجدہ ریز ہوکر خدا کے سامنے بھی۔ جہاں اس کی ملاقات مالی بابا سے ہوئی تھی… باہر کڑاکے کی سردی تھی مگر مالی بابا کا کوارٹر گرم تھا۔ سلجوق بے چینی سے ٹہل رہا تھا۔ ’’یہ کیسے ہوسکتا ہے جب میں اسی خدا کی عبادت کرتا ہوں جس کی آپ کرتے ہیں‘ وہی کلمہ پڑھتا ہوں جو آپ پڑھتے ہیں۔ زندگی کا فلسفہ‘ موت کی حقیقت‘ آخرت کا یقین جتنا آپ کو ہے اتنا ہی مجھے بھی۔ تب یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ آپ مسلمان ہیں اور میں نہیں۔ صرف اور صرف فرقے کی بناء پر؟ کہ آپ کا فرقہ اور ہے اور میرا اور؟‘‘ … مالی بابا تجمل سے بولے بات فرقے کی نہیں بنیاد کی ہے… کیونکہ جو بات اسلام کی بنیاد ہے اسے تو آپ مانتے ہی نہیں… یعنی ختم نبوتﷺ اور جس مذہب کی بنیاد کو ہی تسلیم نہ کرو تو وہ مذہب تمہارا کیسے ہوسکتا ہے؟ ’’وہ روہانسا ہوگیا‘‘ میں کیسے مان لوں کہ آپ سچے ہیں؟‘ یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ تم غلط ہو اور ہم صحیح…؟؟‘‘ مالی بابا مسکرا دیئے ’’جو لوگ سچ پر ہوتے ہیں نا… وہ اتنے بے چین نہیں ہوتے جتنے کہ تم ہو‘‘ سلجوق سر تھام کر بیٹھ گیا ’’سنو محمد عربیﷺ اﷲ تعالیٰ کے آخری اور سچے نبی ہیں۔ ان کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنیوالا کافر و مرتد ہے… یقین نہیں ہے تو ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی مرتدین کے خلاف جنگ کی تاریخ پڑھو… ان تمام لوگوں کی تاریخ پڑھو جنہوں نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا اور ان کا حشر کیا ہوا؟ سنو سلجوق عقیدہ ختم نبوتﷺ پر صرف عام لوگوں کا ایمان نہیں ہمارا ایمان بھی تو ہے…‘‘ سلجوق نے آخری بات سن کر حیرانگی سے مالی بابا کی طرف دیکھا… مسکراتے ہونٹوں سے سفید دودھیا دانت جھلک رہے تھے۔ ان کی آنکھوں میں کچھ ایسا تھا کہ سلجوق کتنی ہی دیر بت بنا رہ گیا ’’تم قرآن پڑھو سلجوق‘‘ بغیر بشک و شبہ والی کتاب ’’ذلک الکتاب لاریب فیہ‘‘ قرآن کی کئی آیات میں یہ بات کہی گئی ہے کہ محمدﷺ آخری نبی ہیں‘‘ سلجوق نے زیر لب دہرایا ’’قرآن… بنا شک و شبہ والی کتاب‘‘
اس رات گھر میں موت کا سا سکوت تھا۔ مثال اور سلجوق کی امی خوفزدہ کھڑی تھیں سلجوق مطمئن تھا جبکہ آغا حسن کے ہاتھ میں وہ کتابیں تھیں جو سلجوق کی الماری سے برآمد ہوئی تھیں۔ ان کے گھر سے سیرت النبیﷺ اور دوسری اسلامی کتب کا برآمد ہونا عجیب بات تھی۔ یہ کتابیں وہ چھپ چھپ کر پڑھتا تھا ’’یہ کیا ہے؟‘‘ تفتیش شروع ہوگئی ’’کتابیں…‘‘ جواب دیا گیا ’’جانتا ہوں‘ یہ کون لایا ہے یہاں اور پڑھتا کون ہے؟‘‘ … ’’میں لایا ہوں اور پڑھنے کے لئے ہی لایا ہوں کیونکہ میں سچائی جاننا چاہتا ہوں…‘‘
’’سچائی کے بچے…‘‘ پہلا تھپڑ اس کے گال پر پڑا۔ وہ دیوار سے جا ٹکرایا۔ ’’سچائی وہی ہے جو ہم ہیں۔ باقی سب جھوٹ ہے… گمراہی ہے اور خبردار جو آئندہ ایسی کتابیں پھر نظر آئیں مجھے…‘‘
’’نہیں ابو… سچائی کچھ اور ہے۔ ہم تو جھوٹ کا پلندہ ہیں۔ وہ تو سچا راستہ ہے گمراہ ہم ہیں‘‘ وہ سسک کر بولا ’’شٹ اپ… اس عمر میں سچائی ڈھونڈ رہے ہو‘ پہلے کچھ بن کر تو دکھائو۔ آئندہ ایسی کتابیں مجھے نظر آئیں تو ان کے ساتھ ساتھ تمہیں بھی جلا ڈالوں گا…‘‘ وہ بھڑک کر بولا۔
’’جلا ڈالئے مجھے ابو… اس آگ میں جل کر مرنے کا مجھے کوئی خوف نہیں… مگر میں اس جہنم کی آگ سے بہت ڈرتا ہوں۔ جس میں صرف جلایا جائے گا۔ مرنے کی اجازت نہیں ہوگی‘‘ سلجوق بولا۔ آغا حسن پھٹی پھٹی نظروں سے اس کی طرف دیکھتے رہے۔ ہونٹ پھڑپھڑاتے رہے مگر ایک لفظ بھی مزید ادا نہ کرسکے… سفید براق کپڑے پہنے‘ ہونٹوں میں مسکان سجائی مالی بابا اپنے کوارٹر میں بیٹھے تھے… آج سلجوق‘ حرم کو بھی ساتھ لایا تھا۔ حرم نے مصافحے کے لئے ہاتھ بڑھایا مگر مالی بابا نے صرف سر کے اشارے سے جواب دیا۔ ایک مختصر سے وقفے بعد سلجوق کہنے لگا ’’بچوں کا ذہن تو صاف سلیٹ کی طرح ہوتا ہے‘ ماں باپ جو چاہیں اس سلیٹ پر لکھ دیں… میری بدقسمتی تھی کہ میرے والدین نے جو میرے ذہن کی سلیٹ پر لکھا وہ جھوٹ ہی نہیں ایک ایسا گناہ بھی تھا جو خدا کے نزدیک ناقابل معافی ہے‘ مگر میری خوش قسمتی کہ مجھے آپ دونوں مل گئے۔ جانے یہ میری فطرت کا تجسس تھا یا خدا کو میری کوئی ادا پسند آگئی کہ مجھ بھٹکے ہوئے کو آپ جیسے راہ نما مل گئے۔ مالی بابا نے مجھے یقین کی طاقت دی اور میرے دوست حرم نے مجھے وہ وسائل دیئے اور ہمت دی جس کی مجھے ضرورت تھی۔ حرم کی کتابوں کے تحائف اور میری جستجو نے بالاخر مجھے روشنی کے راستے پر لاکھڑا کیا ہے۔ یہ کوئی اچانک واقعہ نہیں کوئی حادثاتی اتفاق نہیں۔ میں نے لمحہ بہ لمحہ تاریخ کو پڑھا اور سچائی کو جانا ہے۔ پوری تاریخ میں نہ کوئی انسان محمدﷺ جیسا‘ نہ کوئی نبی محمدﷺ جیسا‘ نہ کوئی ’’صادق‘‘ محمدﷺ جیسا‘ نہ کوئی ’’امین‘‘ محمدﷺ جیسا اور جب ایک کامل انسان‘ ایک کامل نبی اور ایسا سچا جس کی گواہی اس کے دشمن دیں‘ کہہ رہا ہے کہ وہ اﷲ کے آخری نبیﷺ ہیں تو آج میرا رواں رواں یہی پکار رہا ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ اﷲ کے آخری نبی ہیں۔ ان کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنے والا‘ کافر و مرتد ہے‘‘ جوش سے سلجوق کی آواز بیٹھ گئی‘ حرم نے اسے گلے سے لگالیا‘ مالی بابا کی آنکھوں سے آنسو ٹپک پڑے اور کوارٹر میں حدت کا اضافہ ہوگیا۔
کچھ عرصہ بعد امتحانی سینٹر سے دونوں مسکراتے ہوئے نکلے۔ ’’بالاخر یہ آخری پیپر بھی تمام ہوا… حرم بولا… سلجوق مسکرا کر رہ گیا ’’سلجوق ایک بات کہوں… اب تمہارا اس گھر میں رہناٹھیک نہیں ہے۔ تم میرے ساتھ چلو میرے گھر… حرم بولا تو سلجوق نے اس کے ہاتھ تھام لئے ’’بہت چھوٹا لفظ ہے شکریہ اور تمہارا احسان بہت بڑا مگر میں ابھی اسی گھر میں رہنا چاہتا ہوں کیونکہ وہاں سب بھٹکے ہوئے لوگ رہتے ہیں… مجھے تو تم اور مالی بابا مل گئے تھے ان کو سمجھانے کے لئے اب مالی بابا نہیں… میں ہی ہوں…‘‘ حرم چونک کر بولا ’’کیوں مالی بابا کیا نوکری چھوڑ کر چلے گئے؟‘‘ …’’مالی بابا…‘ نوکری… ’’سلجوق نے آہ بھر کر آسمان کی طرف دیکھا ’’سچ بہت عجیب ہے… بہت ہی عجیب… دراصل میرے اﷲ نے مجھ پر خصوصی کرم کیا…اس کی شان ہی نرالی ہے وہ تو صرف اتنا کہتا ہے کہ کن (ہوجا) … اور وہ ہوجاتا ہے ’’فیکون‘‘
حرم حیرانی سے بولا ’’مجھے تمہاری بات بالکل پلے نہیں پڑرہی۔ میں نے مالی بابا کے بارے میں پوچھا تھا … ’’جانتے ہو حرم وہ پہلی بات کیا تھی جس نے میرے اندر روشنی بھر دی تھی؟ وہ پہلی بات مالی بابا نے کہی تھی کہ عقیدہ ختم نبوتﷺ پر عام لوگ ہی نہیں بلکہ ان کا بھی ایمان ہے…‘‘ حرم ابھی تک مجسم سوال تھا سلجوق کہہ رہا تھا ’’تم نے محسوس کیا ہوگا کہ باہر سردی کے مقابلے میں ان کا کوارٹر کافی گرم ہوا کرتا تھا اور وہ کسی سے ہاتھ ملا کر سلام نہیں کرتے تھے… حرم نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ سلجوق آہستہ سے جھک کر بولا ’’خدا کی ایک مخلوق ایسی ہے جن کے ہاتھوں میں ہڈی نہیں ہوتی‘ وہ کسی سے سلام لے کر اپنا راز فاش نہیں کرتے اور ان کی تخلیق آگ سے ہوئی ہے‘‘ حرم بھونچکا رہ گیا۔ سلجوق زیر لب بولا…
یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید    کہ آ رہی ہے دما دم صدائے کن فیکون