یہ ہے ہمارا پاکستان

in Tahaffuz, April 2009, متفرقا ت

ملک پاکستان میں بڑھتی ہوئی افراتفری ‘ پاکستانی علاقوں پر امریکی اور اتحادی فوجیوں کی شدید بمباری‘ مہنگائی کا طوفان‘ سردیوں میں بھی معمول کی لوڈشیڈنگ‘ بجلی‘ گیس اور دیگر چیزوں کے نرخوں میں روز بروز اضافہ‘ بسوں‘ کوچوں‘ منی بسوں‘ ریلوے اور ہوائی جہاز کے کرایوں میں بھرپور اضافہ اور سہولتوں کی کمی‘ گندم‘ چاول اور تیل کی قیمتوں میں بے انتہا اضافہ مگر کوالٹی کا ملیامیٹ‘ سرمایہ کاروں اور تاجروں سے جبرا بھتے کی وصولی اور نہ دینے پر گرفتاری اور کارروائی کی دھمکی‘ ماحول سازگار نہ ہونے کی وجہ سے سرمایہ کاروں کی بیرون ملک روانگی‘ بے روزگاری کی وجہ سے اسٹریٹ کرائم اور ڈکیتی کی وارداتوں میں دن بدن اضافہ‘ لسانیت کی بنیاد پر قتل عام میں بے انتہا اضافہ‘ نام نہاد مذہبی جماعتوں کی جانب سے مسلمانوں پر خودکش حملے‘ بے لگام میڈیا پر بے لگام نام نہاد مذہبی اسکالرز کی جانب سے شعائر اسلام کا انکار‘ پولیس والوں کی جانب سے رشوت کی وصولی میں ترقی اور پولیس اسٹیشن رشوت خوری اور چوروں کی سرپرستوں کی آماج گاہ ‘سڑکوں پر موت کا رقص‘ لاقانونیت‘ حادثات میں اضافہ اور ٹریفک کا اژدھام‘ قومی خزانے ملک و قوم کے بجائے صدر‘ وزیراعظم‘ وزیراعلیٰ‘ گورنر‘ وزیر خارجہ‘ وزیر داخلہ‘ وزیر تعلیم‘ وزیر کھیل‘ وفاقی وزراء اور ان کے پیارے پیارے چہیتے سیکریٹری اور مشیران کے شاہانہ ٹھاٹھ پر خرچ ہوتے ہیں۔ قوم پرستوں کی جانب سے پاکستان میں رہتے ہوئے الگ ہونے کی صدائیں لگانا‘ پاکستان میں رہ کر یہاں سے مال کما کر اسی ملک کو توڑنے کی سازش ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود حکمرانوں کے دلوں میں امریکہ کا خوف‘ دنیا کی ہر نعمت ہونے کے باوجود بھی حکمران آئی ایم ایف کے در کے گدا اور آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کواپنی معراج تصور کرتے ہیں۔ حکمران جب برسر اقتدار نہیں ہوتے تو مکتہ المکرمہ اور مدینہ منورہ کا نام لینے بھی نہیں آتا اور برسر اقتدار آتے ہی قومی خزانے سے اپنے ہمراہ ڈھائی سو افراد کا وفد لے کر عمرہ ادا کرنے جاتے ہیں۔ پاکستانی سیاستدان پاکستان میں ہی رہ کر اور بعض باہر ملک بیٹھ کر اپنے ہی ملک پاکستان کے خلاف بیان بازی کرتے ہیں۔ حکومت پاکستان ایسے عناصر کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیتی۔ کسی بھی سیاسی یا مذہبی رہنما کے قتل کے بعد سرکاری اور نجی املاک کو جلا دیا جاتا ہے اور دکانوں اور بینکوں کو لوٹا جاتا ہے۔ اس وقت یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے یہاں کسی حکومت کا وجود ہی نہیں ہے۔ وڈیروں اور جاگیرداروں نے گائوں کے غریب لوگوں کو غلام بنا کر رکھا ہوا ہے۔ وڈیرے اور زمیندار اپنی اولادوں کو یورپ تعلیم حاصل کرنے کے لئے بھیجتے ہیں اور غریبوں کی اولاد کو تعلیم سے دور رکھا جاتا ہے۔ دیہاتوں میں موجود اسکول بند کروا کر وہاں وڈیرے اور جاگیردار اپنے جانور باندھتے ہیں۔ اس ملک میں مال کے بل بوتے پر قومی شناختی کارڈ اور پاکستانی پاسپورٹ آپ جتنے چاہیں بنوا سکتے ہیں جبکہ لیگل کام کے لئے پاکستانیوں کو دھکے کھلائے جاتے ہیں۔ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں میرٹ کی بنیاد پر نہیں بلکہ سفارش اور مال کی بنیاد پر داخلے دیئے جاتے ہیں۔ سرکاری اداروں میں قابلیت کی بنیاد پر نہیں بلکہ سفارش اور رشوت کی بنیاد پر نوکریاں دی جاتی ہیں۔ کراچی پاکستان کا وہ واحد شہر ہے جو سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرتا ہے اسی شہر میں رہنے والوں کوسب سے زیادہ تکلیف دی جاتی ہے۔نظر انداز کیا جاتا ہے‘ ملک کے محافظ ملک کو لوٹنے والے بن چکے ہیں۔ ہمارے رہنما سازشوں کی قیادت کرتے ہیں۔ سرکاری عہدیدار ملک میں ذخیرہ اندوزوں کی سرپرستی کرتے ہیں‘ غریب غریب ترین اور امیر‘ امیر ترین ہوتا جارہا ہے جس ملک کو بنانے میں علمائے اہلسنت اور بیس لاکھ مسلمانوں نے اپنے خون کا نذرانہ پیش کیا‘ اس ملک میں بھائی بھائی کو خون سے لہولہان کررہا ہے‘ لکھنے کو تو بے شمار باتیں ہیں مگر اس پر اختتام کرتا ہوں کہ یہ ہے ہمارا پاکستان…
سب سے پہلے یہ قائداعظم کا پاکستان تھا۔ پھر یہ بھٹو کا پاکستان بنا‘ آگے چل کر یہ مشرف کا پاکستان بنا۔ اب یہ کس کا پاکستان ہے؟ لٹیروں کا‘ بھتہ خوروں کا یا جاگیردار اور وڈیروں کا؟؟؟