قارئین کرام! مضمون بالا کی قسط اول آپ نے ملاحظہ کی جس میں تمہیدی طور پر مضمون کی وجہ تسمیہ و سبب تحریر‘ کتاب ’’القول البلیغ فی التحریر من جماعت التبلیغ‘‘ کا اور اس کے مولف کا مختصر تعارف اور تبلیغی جماعت کی حقیقت کا جامع‘ مانع مختصر تعارف پیش کیا گیا تھا۔ اب ’’القول البلیغ‘‘ میں سے خود مولف کتاب کا اپنی کتاب کا سبب تحریر ملاحظہ کیجئے۔
چنانچہ القول البلیغ کا مولف ’’حمود بن عبداﷲ بن حمود التویجری‘‘ المتوفی ۱۴۱۳ھ اپنی تالیف میں رقم طراز ہے:
الحمدﷲ رب العالمین‘ و صلی اﷲ وسلم علی نبینا محمد و علی آلہ واصحابہ ومن تبعہم باحسان الی یوم الدین
اما بعد
فہذا جواب کتاب ارسلہ بعض الاخوان الی و مضمونہ السوال عن جماعۃ التبلیغ‘ و عن کثرۃ الاقوال فیہم بین مویدلہم و مستنکر لاعمالہم و ذکر السائل انہ قراء فتویٰ من الشیخ محمد بن ابراہیم تتضمن التوقف فی امرہم و یقول السائل ‘ ہل الصحہ بالخروج مھم داخل البلاد السعودیۃ او خارجھا ام لا؟
والجواب؟ ان اقول ‘ اما جماعۃ التبلیغ‘ فانھم جماعۃ بدعۃ وضلالۃ‘ ولیسوا علی الامر الذی کان علیہ رسول اﷲ صلی علیہ وسلم واصحابہ والتابعون لہم باحسان‘ وانما ہم علی بعض طرق الصوفیۃ ومناہجم المبتدعہ وقد اسس بدعتہم ووضع اصولہا السنۃ محمد الیاس الدیوبندی کما سیاتی بیان ذالک ان شاء اﷲ تعالیٰ‘ وہو الامیر لجماعۃ التبلیغ ثم خلفہ فی الامارۃ  علیہم ابنۃ یوسف
واما امیر ہم فی زماننا‘ فہو المسمی‘ انعام الحسن وہو یبایع التابعین لہ علی اربع طرق من طرق الصوفیتہ وہی الجشتیہ والقادریہ والسہروردیہ‘ والنقشبندیہ
ترجمہ: حمد وصلوٰۃ کے بعد‘ میری یہ کتاب ’’القول البلیغ‘‘ بعض ان بھائیوں کے سوال کا جواب ہے‘ جنہوں نے مجھ سے تبلیغی جماعت کے بارے میں سوال کیا اور تبلیغیوں کے مختلف اقوال کے بارے میں پوچھا اور سائل نے کہا کہ میں نے اس سے پہلے شیخ محمد بن ابراہیم کا فتویٰ بھی تبلیغیوں کے بارے میں پڑھ رکھا ہے اس میں تبلیغی جماعت والوں کے بارے میں توقف کیا گیا ہے۔
سائل نے مجھ سے تبلیغی جماعت کے ساتھ تبلیغی دورے مملکت سعودیہ عربیہ اور اس کے علاوہ علاقوں میں کرنے کا حکم دریافت کیا ہے کہ آیا میں سائل کو اس کی اجازت دیتا ہوں یا نہیں؟
جواب میں (مولف) کہتا ہوں کہ تبلیغی جماعت بدعت و ضلالت پھیلانے والی جماعت ہے اور تبلیغی جماعت والے اﷲ کے رسول اور اصحاب رسولﷺ کے طریقے پر نہیں ہیں بلکہ بعض جاہل صوفیہ اور ان کے بدعتوں بھرے راستے پر گامزن ہیں اور ان کی اس بدعت کی بنیاد ان کے بانی مولوی الیاس دیوبندی چشتی نے رکھی ہے اور ان کو گمراہی کے چھ اصول اس نے دیئے ہیں‘ جن کا بیان عنقریب آئے گا۔ اس کے بعد اس کا بیٹا یوسف ان کا امیر ہوا اور آج ہمارے زمانے میں مولوی انعام الحسن ان کا امیر ہے جو ان کو اپنا مرید کرتاہے۔
(حضرت قطب مدینہ شیخ العرب و العجم شاہ محمد ضیاء الدین احمد مدنی علیہ الرحمہ حرمین طیبین کو مملکت سعودیہ عربیہ کہنے سے منع فرماتے تھے اس لئے کہ سعود بے بہبود ابن عبدالوہاب نجدی کا ایجنٹ تھا اس کی طرف نسبت جائز نہیں۔ قادری غفرلہ)
تبصرہ قادری: فقیر غفرلہ القدیر اپنی رائے بیان کرنے سے قبل مولف کی عبارت پر تبصرہ کرنے کی خواہش رکھتا ہے کہ مولف نے خاص یہ کتاب ’’القول البلیغ فی التحذیر من جماعتہ التبلیغ‘‘ تبلیغی جماعت کے رد میں لکھی ہے جو آج گلی گلی‘ نگر نگر‘ کوچہ کوچہ‘ ڈگر ڈگر پر حشرات الارض کی طرح کہہ لیں یا برسات کے پتنگوں اور مینڈکوں کی طرح پھیلی ہوئی نظر آتی ہے۔ عرب و عجم میں کافی پھلی پھولی ہے لیکن دیار عرب میں اس کے اپنے بڑے بھائی اس کی مخالفت پر کمربستہ ہوکر اس کے خلاف کتابیں لکھنے لگے۔ انہی کتب عربیہ میں سے ایک کتاب مولف کی مذکور کتاب ہے جس کا سبب تالیف یہ بیان کیا کہ کسی سائل نے تبلیغ کے نام پر تخریب کرنے والوں کے ساتھ قریہ قریہ گھومنے کی اجازت طلب کی تو مولف نے یہ کہہ کر منع کا فتویٰ صادر کیا کہ ’’فانہم جماعۃ بدعۃ وضلالۃ‘‘ کہ یہ تو ضلالت و بدعت کا گروہ ہے لہذا سائل ہرگز ان کے جھانسے میں نہ آئے اور ان کے ساتھ جانا ممنوع ہے۔ وجہ اس کی آگے چل کر تفصیل سے بیان کریں گے۔ رہی اس جماعت کے بانی کی بات تو وہ مولوی الیاس دیوبندی چشتی ہے اس کے وضع کردہ اصول ستہ پر یہ لوگ کار بند جن کی تفصیل عنقریب آئے گی‘ الیاس کے بعد اس کا بیٹا یوسف امیر مقرر ہوا اور مولف کے زمانے میں ان کا امیر انعام الحسن ہوا‘ اس نے ایک سازش یہ کی (اہل سنت و جماعت) کے طریقے پر سلاسل اربعہ (قادریہ‘ چشتیہ‘ نقشبندیہ سہروردیہ) میں اپنے متعلقین اور جماعت کے نام نہاد مبلغین کو بیعت کرنا شروع کردیا جس کا منطقی نتیجہ یہ نکلا کہ عوام الناس ان کو پکا سچا سنی سمجھنے لگ گئے۔ اس کے علاوہ انہوں نے نمازبمطابق طریقہ حنفی پڑھنا شروع کردی جس کی وجہ سے لوگ ان کو غیر مقلد وہابی سمجھنے کے بجائے پکا حنفی سمجھنے لگے اور یوں بظاہر سنی حنفی بن کر انہوں نے اولاً برصغیر کے سنی حنفی مسلمان کو تبلیغ کی آڑ میں عقائد وہابیہ کی طرف چلانے کی کوشش شروع کی اور بعد ازاں عرب دنیا میں اپنا جال پھیلانے کی ناپاک کوشش کی جس کے نتیجہ میں کچھ لوگ وہاں بھی ان کے دام فریب میں آنا شروع ہوگئے اور کچھ جوکہ خود غلط العقائد ہیں‘ انہوں نے ان کے خلاف کتابیں لکھنی شروع کردیں جبکہ علمائے اہل سنت نے بھی تحریر و تقریر کے ذریعے ان کی خوب خبر لیکن …     (باقی آئندہ)