حامدا و مصلیا و مسلما اما بعد گیارہویں شریف السید محی الدین عبدالقادر جیلانی قدس سرہ النورانی کی ایصال ثواب کی شاخوں میں سے ایک شاخ ہے اور ایصال ثواب کی ایک صورت ہے۔ شریعت محمدیہ میں بدنی اور مالی عبادات کا ثواب دوسرے مسلمان (خواہ وہ زندہ بحیات دنیوی ہو یا وصال یافتہ۔ ردالمحتار) کو بخشنا جائز ہے اور وہ ثواب اس مسلمان کو پہنچتا ہے اور اسے نفع دیتا ہے۔ اس کا ثبوت قرآن مجید و حدیث شریف اور اقوال فقہاء کرام سے ہے۔ قرآن کریم نے بہت مقامات پر مسلمانوں کو ایک دوسرے کو دعا کرنے کا حکم دیا ہے اور نماز جنازہ میں بھی فوت شدہ مسلمان کے لئے دعا کی جاتی ہے۔
اﷲ تعالیٰ نے قرآن مجید میں قیامت تک آنے والے مسلمانوں کی یہ صفت بیان کی ہے کہ وہ پہلے مسلمانوں کے لئے دعا کرتے رہیں گے‘ چنانچہ فرمایا
ترجمہ: اور وہ (مسلمان) جو ان کے بعد آئے‘ عرض کرتے ہیں اے ہمارے رب! ہمیں بخش دے اور ہمارے بھائیوں کو جو ہم سے پہلے ایمان لائے اور ہمارے دل میں ایمان والوں کی طرف سے کینہ نہ رکھ‘ ہمارے رب! بے شک تو ہی نہایت مہربان رحم والا ہے (حشر 10)
اگر ایک مسلمان کی دعا دوسرے مسلمان کو نہیں پہنچتی اور اسے فائدہ نہیں دیتی تو یہ حکم دعا اور عمل دعا فضول و لغو ٹھہرے گا۔ عاص بن وائل نے وصیت کی کہ میری طرف سے میرے فوت ہونے کے بعد) سو غلام آزاد کیا جائے۔ حسب وصیت اس کے مرنے کے بعد اس کے بیٹے ہشام نے پچاس غلام آزاد کئے اور اس کے بیٹے نے ارادہ کیا کہ میں بھی اپنے باپ کی طرف سے بقیہ پچاس غلام آزاد کروں اور کہا اس وقت تک آزاد نہیں کروں گا جب تک حضورﷺ سے نہ پوچھ لوں۔ پھر وہ حضورﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور سارا قصہ عرض کیا اور پوچھا ’’افا عتق عنہ‘‘ کیا میں اپنے باپ کی طرف سے باقی پچاس غلام آزاد کروں‘‘
فقال رسول اﷲﷺ انہ لو کان مسلما فاعتقم عنہ او تصدقتم عنہ او حججتم عنہ بلغہ ذلک (ابو دائود شریف)
حضور علیہ الصلواۃ والسلام نے فرمایا اگر وہ مسلمان ہوتا تو تم اس کی طرف سے آزاد کرتے یا صدقہ و خیرات کرتے یا اس کی طرف سے حج کرتے تو اسے یہ (یعنی ان چیزوں کا ثواب پہنچتا) (مشکواۃ شریف باب الوصا یا ج 1 ص 226)
امام المحدثین حضرت شیخ عبدالحق محدث و محقق دہلوی حنفی علیہ الرحمہ اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں
’’دل علی ان الصدقتہ لاتنفع الکافر ولاتنجیہ وعلی ان المسلم ینفعہ العبادۃ المالیتہ والبدنیتہ (لمعات ہامش مشکواۃ ص 226)
مزید فرماتے ہیں :
یعنی اس حدیث شریف سے ثابت ہوا کہ مسلمان کو مالی اور بدنی عبادت کا ثواب پہنچتا ہے اور اسے نفع دیتا ہے‘ بخلاف کافر کے کہ ’’مرگیا مردود نہ فاتحہ نہ درود‘‘ ہاں بدنی عبادت میں نیابت جائز نہیں یعنی کوئی شخص کسی کی طرف سے نماز فرض پڑھ دے تو اس کی نماز ادا نہ ہوگی‘ ہاں نماز کا ثواب بخشا جاسکتا ہے۔ (اشعتہ اللمعات جلد 3 صفحہ 100)
حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا ’’من یضمن لی مفکم ان یصلی لی فی مسجد العشار رکعتین اواربعا ویقول ہذہ لابی ہریرۃ‘‘ (ابودائود شریف)
یعنی کون میرے لئے اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ وہ نماز عشاء میں میرے لئے دو رکعت یا چار رکعت نماز پڑھے اور کہے یہ ابوہریرہ کے لئے ہے‘ یعنی اس نماز کا ثواب ابوہریرہ کے لئے ہے۔ (مشکواۃ شریف کتاب الفتن باب الملاحم ص 468)
اسی طرح ہر عبادت کا ثواب بخشا جاسکتا ہے اور اسے پہنچتا ہے‘ علاوہ ازیں بہت سی حدیثیں اس بارے میں وارد ہیں۔
یعنی اس باب میں احادیث و آثار شمار کرنے سے بھی زیادہ ہیں (شرح عقائد ص 123)
دعاء الاحیاء للاموات وصدقتہم ای صدقتہ الاحیاء عنہم ای عن الاموات نفع لہم ای للموات خلافا للمعتزلہ
یعنی زندوں کا وفات یافتہ مسلمانوں کے لئے دعا کرنا اور زندوں کا فوت شدہ مسلمانوں کی طرف سے صدقہ کرنا ان کے لئے نفع ہے بخلاف معتزلہ کے (شرح عقائد ص 122)
امام سیدی عبدالوہاب شعرانی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
ومذہب اہل السنۃ ان للانسان ان یجعل ثواب عملہ لغیرہ
یعنی اہل سنت کا مذہب یہ ہے کہ انسان اپنے ثواب کا عمل غیر کو بخش سکتا ہے (کتاب المیزان للشعرانی جلد 1 ص 210)
فاتحہ‘ تیجہ (قل خوانی)‘ دسواں‘ چالیسواں‘ شش ماہی‘ سالانہ عرس‘ جمعراتیں‘ گیارہویں شریف‘ نیاز امامین‘ سب اسی ایصال ثواب میں داخل ہیں کہ ان تقریبات میں جو کلام و طعام لوجہ اﷲ ہوتا ہے‘ اس کا ثواب وصال یافتہ حضرات کو بخشا جاتا ہے‘ باقی رہا جانوروں کو بنیت ایصال ثواب ان کی طرف منسوب کرنا یاماکولات اور مشروبات‘ دودھ‘ وشربت و پانی پر ان بزرگوں کا نام آنا بھی موجب حرمت نہیں ہے‘ بلکہ یہ بھی حدیث شریف سے ثابت ہے۔
حضرت سعد بن عبادۃ رضی اﷲ عنہ نے حضورﷺ سے عرض کی یارسول اﷲﷺ میری ماں فوت ہوچکی ہے تو (اس کی طرف سے) کون سا صدقہ افضل ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا ‘ پانی تو حضرت سعد نے کنواں کھدوایا اور کہا ’’ہذہ لام سعد‘‘ یہ سعد کی ماں (متوفیہ کا کنواں ہے) (ابودائود‘ نسائی‘ مشکواۃ ص 169‘ شرح عقائد ص 123)
اگر فوت شدہ کا نام پانی پر آنا اس پانی کے حرام ہونے کا سبب بنتا تو حضرت سعد اس کنویں پر ام سعد کا نام نہ آنے دیتے‘ مااہل بہ لغیر اﷲ کا مطلب یہ ہے کہ بوقت ذبح جانور پر غیر اﷲ کا نام نہ آئے‘ جان کا نکالنا خالق جان ہی کے نام پر ہو (تفسیر خازن ومدارک جلد 1 ص 103)
قبل از ذبح یا بعد از ذبح بغرض ملکیت یا بغرض ایصال ثواب وغیرہ کسی کا نام جانور وغیرہ پر آنا یہ سبب حرمت نہیں مثلا یوں کہا جاتا ہے۔ مولوی صاحب کی گائے‘ خان صاحب کا دنبہ‘ ملک صاحب کی بکری‘ عقیقہ کا جانور‘ قربانی کا بکرا‘ ولیمہ کی بھینس‘ ان جانور پر جو غیر اﷲ کا نام پکارا گیا تو کیا یہ حرام ہوگئے؟ ہرگز نہیں! یہی حکم ہے گیارہویں کے دودھ‘ حضور غوث الثقلین رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی طرف منسوب بکری اور منت والے جانوروں کا (تفسیرات احمدیہ)
باقی رہا تعیین یوم تو یہ نہ فرض ہے‘ نہ واجب‘ آگے پیچھے بھی ایصال ثواب ہوسکتا ہے۔ ہاں ان کے وصال والے دن کو اور دنوں پر امتیازی شان حاصل ہے‘ بوجہ فرمان خداوندی تعالیٰ ’’وذکرہم بایام اﷲ‘‘ کے لہذا اکثر وبیشتر تقریبات ان خاص دنوں میں سرانجام پاتی ہیں۔
باقی رہا جائز اور مستحب کام (ایصال ثواب بصورت گیارہویں وغیرہ) کو اتنا پابندی سے کیوں ادا کیا جاتا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس طرح کی پابندی حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے بھی ثابت ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ حضور علیہ الصلواۃ والسلام نے نماز فجر کے وقت حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے پوچھا کہ تو اپنے امید افزاء اسلامی عمل سے مجھے خبر دے کیونکہ میں نے تیرے جوتوں کی آواز اپنے آگے بہشت میں سنا ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ نے جوابا عرض کیا کہ دن ہو یا رات‘ جب بھی میں وضو کرتا ہوں تو اس وضو سے (تحیۃ الوضو کی جو نفلی نماز ہے نہ فرض ہے اور نہ ہی واجب) جتنی رکعتیں میرے مقدر میں لکھی جاتی ہیں پابندی سے پڑھتا ہوں (بخاری و مسلم وترمذی مشکواۃ ص 117-116)
اس نفلی نماز کی پابندی کی وجہ سے حضرت ابوہریرہ بہشت میں غلامانہ طور پر حضورﷺ سے آگے چل رہے تھے۔ معلوم ہوا کسی نفلی یا استحبابی کام پر ہمیشگی کرنا ’’معد عدم الفرضیۃ اعتقاد او مع الترک احیانا‘‘ موجب حرمت نہیں بلکہ موجب سعادت ہے۔
امام المحدثین حضرت شیخ عبدالحق محدث ومحقق دہلوی علیہ الرحمہ گیارہویں شریف کے متعلق فرماتے ہیں:
یعنی ہمارے شہروں میں یہ گیارہویں کا دن مشہور ہے اور یہی اہل ہند کے مشائخ کے نزدیک جو حضرت محبوب سبحانی کی اولاد سے ہوں‘ ان کے نزدیک بھی مشہور ہے‘ جیسا کہ سیدی و شیخی سید موسیٰ پاک شہید ملتانی قدس سرہ النورانی نے ذکر فرمایا ہے (ماثبت من السنتہ ص 123)
شیخ المحدثین حضرت شیخ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
یعنی اگر مالیدہ اور شیرینی کسی بزرگ کی فاتحہ کے لئے ایصال ثواب کی نیت سے پکا کر کھلا دے تو جائز ہے کوئی مضائقہ نہیں (فتاویٰ عزیزی جلد 1 ص 39)
آگے فرماتے ہیں
یعنی جس کھانے پر حضرات امامین حسنین کی نیاز کریں اس پر قل اور فاتحہ اور درود پڑھنا باعث برکت ہے اور اس کا کھانا بہت اچھا ہے (فتاویٰ عزیزی جلد 1 ص 71)
کتاب ’’وجیز الصراط فی مسائل الصدقات والاسقاط‘‘ میں مصنف علام ابن ملاجیون علیہما الرحمہ نے گیارہویں شریف کا بایں الفاظ مستقل عنوان کی حیثیت سے ثبوت پیش کیا ہییعنی حضرت غوث الثقلین کے عرس کے بیان میں جو ہر ماہ کی گیارہویں تاریخ کو ہوتا ہے اور نذر و نیاز وغیرہ صدقات کھانے کے حکم کے بیان میں حضرت حامد قاری لاہوری نے گیارہویں شریف کی نذر کے بارے میں طویل گفتگو کی ہے اور اس کو صدقہ نفل قرار دیا ہے (اور صدقہ‘ نفل اغنیاء کو بھی مباح ہے ۔ فیضی) اور گیارہویں کا طعام بھی اسی جنس سے ہے کہ حضرت غوث الثقلین الشیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی کا عرس ہے جیسے دیگر مشائخ کا عرس سال بعد معین کیا گیا ہے‘ حضرت محبوب سبحانی قدس سرہ کا عرس ہر ماہ مقرر کیا گیا ہے۔ (وجیز الصراط)
رشید احمد گنگوہی اور اشرف علی تھانوی کے پیرومرشد حاجی امداد اﷲ مہاجر مکی صاحب ’’فیصلہ ہفت مسئلہ‘‘ میں فرماتے ہیں:
نفس ایصال ثواب ارواح میت میں کسی کو کلام نہیں۔ اس میں بھی تخصیص و تعین کو موقوف علیہ ثواب کا سمجھے یا واجب و فرض اعتقاد کرے تو ممنوع ہے اور اگر یہ اعتقاد نہیں بلکہ کوء مصلحت باعث تقیید ہیئت کذائیہ ہے تو کچھ حرج نہیں‘ جب بمصلحت نماز میں سورہ اخلاص معین کرنے کے فقہاء و محققین نے جائز رکھا ہے اور تہجد میں اکثر مشائخ کا معمول ہے … جیسے نماز میں نیت ہر چند دل سے کافی ہے مگر موافقت قلب ولسان کے لئے عوام کو زبان سے کہنا بھی مستحسن ہے۔ اسی طرح اگر یہاں زبان سے کہہ لیا جائے کہ یا اﷲ اس کھانے کا ثواب فلاں شخص کو پہنچ جائے تو بہتر ہے پھر کس کو خیال ہوا کہ لفظ اس کا مشار الیہ اگر روبرو موجود ہو تو زیادہ استخصار قلب کر کھانا روبرو لانے لگے۔ کسی کو یہ خیال ہوا کہ یہ دعا ہے اس کے ساتھ اگر کچھ کلام الٰہی بھی پڑھا جاوے تو قبولیت دعا کی بھی امید ہے اور اس کلام کا ثواب بھی پہنچ جاوے گا کہ جمع بین العبادتین ہے… اور گیارہویں حضرت غوث پاک سرہ کی دسویں‘ بیسویں‘ چہلم‘ ششماہی‘ سالیانہ وغیرہ اور توشہ حضرت شیخ احمد عبدالحق اردولی رحمتہ اﷲ علیہ اور سہ منی حضرت شاہ بوعلی قلندر رحمتہ اﷲ علیہ وحلوہ‘ شب برات اور دیگر طریق ایصال ثواب کے اسی قاعدے پر مبنی ہیں (فیصلہ ہفت مسئلہ ص 7-6)
پھر فرماتے ہیں ’’پس حق یہ ہے کہ زیارت مقابر انفراداً واجتماعاً دونوں طرح جائز اور ایصال ثواب قرات و طعام بھی جائز اور تعین تاریخ بمصلحت بھی جائز سب مل کر بھی جائز … مشرب فقیر کا اس امر میں یہ کہ ہر سال اپنے مرشد کی روح مبارک کو ایصال ثواب کرتا ہوں‘ اول قرآن خوانی ہوتی ہے‘ اور گاہے گاہے اگر وقت میں وسعت ہوئی تو مولود (میلاد شریف) پڑھا جاتا ہے پھر ماحضر کھانا کھلایا جاتا ہے اور اس کا ثواب بخش دیا جاتا ہے (فیصلہ  ہفت مسئلہ ص 9-8)