دلائل الخیرات . گلدستہ درود وسلام

in Tahaffuz, April 2009, افتخار احمد حافظ قادری, متفرقا ت

دلائل الخیرات شریف مختلف صیغوں پر مشتمل گلدستہ درود وسلام اور دعائوں کا مجموعہ ہے۔ جس کا مکمل نام مصنف نے خود کتاب کے مقدمے میں تحریر فرمایا ہے۔ وہ اس طرح ہے کہ:
دلائل الخیرات و شوارق الانوار فی ذکر الصلوٰۃ والسلام علی نبی المختار اس کی غرض و غایت بھی خودمصنف نے کتاب کے مقدمہ میں بیان کردی ہے کہ فالغرض فی ہذا الکتاب ذکر الصلوٰۃ علی النبیﷺ وفضائلہا اس کتاب کو تحریر کرنے کی غرض و غایت حضور نبی اکرمﷺ پر درود پاک اور اس کی فضیلت کو بیان کرنا ہے۔
حضرت سیدنا محمد بن سلیمان الجزولی فاس میں قیام پذیر تھے۔ ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ آپ وضو فرمانے کے لئے کنویں پر تشریف لے گئے۔ لیکن اس وقت وہاں کوئی ایسی چیز میسر نہ تھی جس کے ساتھ آپ کنویں سے پانی نکالتے۔ آپ اس حالت میں تھے کہ اب کیا کریں کہ اچانک ایک لڑکی جو ایک اونچی جگہ سے یہ منظر دیکھ رہی تھی‘ اس نے آپ کا نام پوچھا۔ جواب سن کر اس لڑکی نے کہا کہ آپ وہی شخصیت ہیں جن کا ہر جگہ چرچا اور تعریف ہورہی ہے اور صرف اس بات سے پریشان ہیں کہ کنویں سے پانی کس طرح نکالا جائے۔ وبصقت فی البئر ففاض ماء ہا حتی ساح وجہ الارض تو اس لڑکی نے کنویں میں جیسے ہی اپنا لعاب ڈالا تو پانی کنویں سے ابل کر باہر زمین پر آگیا۔ حضرت سیدنا محمد بن سلیمان الجزولی جب وضو سے فارغ ہوئے تو اس لڑکی سے کہا کہ میں تجھے قسم دیتا ہوں کہ تو مجھے بتا کہ تجھے یہ مقام کیسے حاصل ہوا؟ جس کے جواب میں اس لڑکی نے کہا کہ یہ مقام مجھے اس شخصیت کبریٰ پر کثرت کے ساتھ درود پڑھنے کی وجہ سے حاصل ہوا ہے کہ جب آپ جنگل میں سے گزرتے تو وحشی جانور تک آپﷺ کے دامن خیروبرکت سے لپٹ جاتے۔ فحلف یمینا ان یولف کتابا فی الصلوٰۃ علی النبیﷺ آپ نے حلف اور قسم اٹھائی کہ وہ اب درود پاک پر ایک کتاب تحریر کریں گے۔ پھر آپ نے اس لڑکی سے وہ صیغہ درود بھی حاصل کیا جس کا وہ ورد کیا کرتی تھی۔
حضرت سیدنا محمد بن سلیمان الجزولی نے کتاب دلائل الخیرات شریف بلاد مغرب کے ایک شہر فاس جسے اولیاء اﷲ  کا شہر بھی کہا جاتا ہے‘ اس میں تحریر فرمائی۔ آپ نے کتاب مذکور کو تحریر کرتے وقت جامع قرویین کی لائبریری میں موجود کتب سے بھی استفادہ کیا۔ دلائل الخیرات شریف کی ساتویں حزب میں وہ درود پاک بھی موجود ہے جس کو آپ نے اس لڑکی سے حاصل کیا تھا۔ اسے صلوٰۃ البئر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
شہر فاس کے مدرسہ الصفارین میں آج بھی آپ کا رہائشی حجرہ معروف و مشہور ہے۔ جس کے بارے میں بیان کیا جاتا ہے کہ آپ نے اسی حجرہ مبارکہ میں دلائل الخیرات شریف تحریر فرمائی۔ بروز جمعرات 15 نومبر 2007ء اس حجرہ مبارکہ کی زیارت کا شرف حاصل ہوا اور تصاویر بھی بنائیں جو بندہ کی کتاب ’’زیارات مراکش‘‘ میں موجود ہیں۔ کنویں والادرود پاک یہ ہے
اللھم صل علی سیدنا و مولانا محمد و علی آل سیدنا و مولانا محمد صلوٰۃ دائمۃ مقبولۃ تودی بہا عنا حقہ‘ العظیم
دلائل الخیرات شریف وہ عظیم کتاب ہے جو دنیا کے کونے کونے میں پڑھی جاتی ہی۔ تمام معروف سلاسل طریقت کے شیوخ خود بھی اس کا ورد کرتے ہیں اور اپنے مریدین کو بھی پڑھنے کی تلقین کرتے ہیں ۔بارگاہ نبویﷺ میں اس وظیفہ درود و سلام کی قبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ سرکار مدینہﷺ نے بعض خوش بختوں کو اس کتاب کی خود اجازت فرمائی۔ حضرت سیدی الصدیق الفلالی‘ امی ولی اﷲ ہو گزرے ہیں۔ آپ کو مکمل دلائل الخیرات حفظ تھی اور فرمایا کرتے تھے کہ ان النبی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم علمہ ایاہ مناما رسول اﷲﷺ نے انہیں خواب میں دلائل الخیرات شریف پڑھائی تھی۔ ’’کشف الظنون‘‘ میں دلائل الخیرات کے بارے میں یہ تحریر ہے کہ و ہذا الکتاب آیۃ من آیات اﷲ فی الصلاۃ علی النبی علیہ الصلاۃ والسلام یہ وہ عظیم کتاب ہے کہ جس کے ذریعے لوگوں کو برکت اور نور نصیب ہوتا ہے۔ مختصرا یہ کہ جو بھی دلائل الخیرات شریف کی پابندی سے قرات کرے گا‘ انشاء اﷲ وہ جو حاجت بھی طلب کرے گا‘ اسے ضرور حاصل ہوگی۔
دلائل الخیرات شریف کے بے شمار فیوضات و برکات ہیں۔ بعض بزرگ اسے حل مشکلات کے لئے بھی مجرب قرار دیتے ہیں۔ حضرت شیخ ابی عبداﷲ العربی کے ذاتی نسخہ دلائل الخیرات کے آخر میں یہ عبارت تحریر تھی۔ (دلائل الخیرات شریف کا 40 مرتبہ پڑھنا قضائے حاجات‘ حل مشکلات اور دفع غم کے لئے مجرب ہے‘ قاری کو چاہئے کہ وہ اس وظیفہ کو چالیس دن کے اندر اندر مکمل کرلے تو انشاء اﷲ درود پاک کی برکت سے اس کی حاجت خواہ کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو‘ پوری ہوجائے گی)
حضرت علامہ مہدی الفاسی فرماتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ کی ذات گرامی پر کثرت درود شریف پیش کرنے کی وجہ سے آپ کی قبر مبارکہ سے کستوری کی خوشبو آتی ہے۔ شہر مراکش کے قدیم حصے میں آپ کا مزار مبارک مشہور و معروف ہے اور لوگ دور دور سے آپ کے مزار مبارک کی زیارت کے لئے حاضر ہوتے ہیں اور مراکش کے ساتھ مشہور و اہم اولیائے کرام میں آپ کا شمار ہوتا ہے۔
حضرت سیدنا محمد بن سلیمان الجز ولی رضی اﷲ عنہ کے وصال کے ۷۷ سال بعد سعدین سلطان مراکش ابو العباس سلطان احمد المعروف بہ الاعرج کے حکم سے جب آپ کے جسد اطہر کو قبر مبارکہ سے نکالا گیا تو اتنا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود درودسلام کی برکت سے اسی حالت میں تھا جیسے وقت وصال اور مرور زمانہ کے قطعا کوئی آثار نمایاں نہ تھے۔ حتی کہ آپ کے سر اور داڑھی مبارکہ کے خط بھی بالکل تروتازہ تھے۔ حاکم وقت یا اس کے کہنے پر کسی شخص نے جب آپ کے چہرہ انور کو دبایا تو فورا اس مقام سے خون ہٹ گیا اور جب اس نے انگلی اٹھائی تو خون پھر اپنی جگہ واپس آیا جیسا کہ زندہ آدمی کے ساتھ ہوتا ہے۔ آپ کے جسد مبارکہ کو مراکش کے قدیم حصہ میں دفن کیا گیا اور اس پر ایک عمارت (روضہ) بھی تعمیر کی گئی۔
علامہ یفرنی فرماتے ہیں کہ سال 1133ھ میں خلیفہ مراکش نے آپ کے روضہ مبارک کو دوبارہ تعمیر کروایا اور سنگ بنیاد کے موقع پر ایک محفل کا انعقاد بھی ہوا۔ اسی طرح سلاطین مولوی اسماعیل اور محمد بن عبداﷲ کے دور حکومت میں مزار مبارک کی توسیع کے علاوہ بعض حصوں کو دوبارہ تعمیر کیا گیا۔
دنیا کے دیگر ممالک کی طرح ہمارے وطن عزیز پاکستان میں بھی ’’دلائل الخیرات شریف‘‘ کثرت سے پڑھی جاتی ہے۔ یہ متبرک کتاب معروف سلاسل کے شیوخ کے اپنے وظائف میں بھی شامل ہوتی ہے اور مریدین کو بھی اس کے پڑھنے کی تلقین فرماتے ہیں ’’دلائل الخیرات شریف‘‘ کا انفرادی اور اجتماعی طور پر بھی ورد کیا جاتا ہے۔ یہ امر نہایت قابل ستائش و تحسین ہے کہ شہر کراچی میں اس نیک اور بابرکت کام کے لئے ایک مجلس بھی عرصہ سے قائم ہے جس کا نام ’’مجلس دلائل الخیرات شریف‘‘ ہے جس کے اہم اغراض و مقاصد میں ’’دلائل الخیرات شریف‘‘ کی قرأت‘ طباعت و اشاعت و بلاہدیہ تقسیم و ترویج شامل ہے۔
دلائل الخیرات شریف کے افتتاح کے لئے اﷲ تبارک و تعالیٰ کے گھر کا انتخاب کیا گیا اور یہ عظیم سعادت کراچی کی مشہور زمانہ مسجد ’’جامع مسجد آرام باغ‘‘ کے حصہ میں آئی۔ بروز سوموار شریف 19 صفر 1422ھ بمطابق 14 مئی 2001ء درودوسلام کی بابرکت مجلس کا افتتاح ہوا جو بحمداﷲ آج تک بغیر کسی ناغہ کے جاری و ساری ہے اور انشاء اﷲ العزیز یہ بابرکت اور مقبول عمل جاری رہے گا۔ اس میں ہر طبقہ کے لوگ نہایت ذوق و شوق اور محبت سے شامل ہوکر حضور نبی اکرمﷺ کی بارگاہ اقدس میں ہدیہ درود وسلام پیش کرکے ثواب اور برکت کے ساتھ ساتھ سکون قلب کی عظیم دولت سے سرشار ہوتے ہیں۔ جامع مسجد آرام باغ کراچی میں ہر روز بعد نماز عصر بارگاہ رب العالمین میں سیدی محمد بن سلیمان الجزولی کے واسطے سے ایک عاجزانہ التجا پڑھی جاتی ہے‘ پھر تمام حاضرین مل کر اس دن کی حزب (منزل دلائل الخیرات شریف) پڑھتے اور سنتے ہیں اور مغرب کی اذان سے پہلے دعائے خیر وبرکت کے ساتھ درودسلام کی یہ بابرکت محفل اختتام پذیر ہوتی ہے۔
ہر قمری (چاند) ماہ کے پہلے اتوار کو قطب زمانہ صاحب دلائل الخیرات شریف حضرت سیدی محمد بن سلیمان الجزولی رضی اﷲ عنہ کی یاد میں بعد از نماز مغرب نعت خوانی ہوتی ہے۔ اس کے بعد تمام حاضرین مل کر ایک مخصوص منقبت بارگاہ سیدی الجزولی رضی اﷲ عنہ میں پیش کرتے ہیں۔ پھر خطاب ہوتا ہے جس کے اختتام پر دعا اورپھر لنگر شریف تقسیم کیا جاتا ہے۔
الحمدﷲ! اس بندہ ناچیز کو کئی بلاد عربیہ و اسلامیہ میں بزرگوں کے اعراس میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی لیکن آج تک کسی ایسے عرس میں نہ تو شرکت کی اور نہ ہی سنا کہ کسی مقام پر صاحب دلائل الخیرات شریف کا سالانہ عرس منعقد ہوتا ہے۔ یہ جان کر انتہائی دلی مسرت و راحت حاصل ہوئی کہ پاکستان کے شہر کراچی میں سیدی محمد بن سلیمان الجزولی رضی اﷲ عنہ کا عرس منعقد ہوتا ہے۔ میری قلیل معلومات کے مطابق ایشیا و بلاد عربیہ میں صرف کراچی میں ہی مجلس دلائل الخیرات شریف کے زیر انتظام عرس منعقد ہوتا ہے۔ اب تک مجلس کے زیر انتظام چھ سالانہ عرسوں کی تقریبات منعقد ہوچکی ہیں۔ ان سالانہ اعراس کی تقریبات کا آغاز ربیع الاول شریف 1423 بمطابق2002ء میں ہوا اور بحمدﷲ! یہ سلسلہ جاری و ساری ہے۔
اس سال بھی بروز ہفتہ 28 فروری 2009ء سیدی محمد بن سلیمان الجزولی کے عرس مبارک کی تقریبات جامع مسجد آرام باغ میں منعقد کی گئیں۔ جس میں دلائل الخیرات شریف کی قرات کے علاوہ محفل نعت خوانی اور جلیل القدر علمائے کرام نے بھی خطاب فرمائے۔  اسی طرح دلائل الخیرات کے 425سالہ قدیم قلمی نسخے کا عکس بھی کتابی صورت میں برائے زیارت عام رکھا جائے گا۔ اﷲ تبارک و تعالیٰ ہمیں سیدی محمد بن سلیمان الجزولی رضی اﷲ عنہ کے فیوضات سے مستفیض فرمائے۔ آمین