30 ستمبر 2005ء میں ڈنمارک کے ایک اخبار نے نبی اکرمﷺ سے متعلق توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کرکے مسلمانوں کے جذبات کو جس شدت کے ساتھ کچلا‘ اس کی مذمت جتنی بھی کی جائے کم ہے۔ خاکوں کی اشاعت سے دنیا بھر کے مسلمانوں میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی۔ کم و بیش دنیا کے ہر گوشہ میں مظاہرے کئے گئے تاہم مظاہروں میں شدت دیکھنے میں نہیں آئی۔ اعدائے اسلام کا دل نہیں بھرا اور نہ ہی ان کے عزائم پورے ہوئے۔ وہ چاہتے تھے کہ مسلمانوں کو اس حد تک ورغلایا جائے کہ وہ اپنے بنائے ہوئے محلوں کو خود اپنے ہی ہاتھوں سے نذر آتش کریں۔ ان کے جذبات کو اس قدر بھڑکادیا جائے کہ برسہا برس کی محنتوں سے نکھارے گئے حسین شہروں کو خود کھنڈرات میں بدلنے پر مجبور ہوجائیں۔ ان کے ضمیر کو اس طرح جھنجھوڑ دیا جائے کہ خود ان کے حکمران ان کے پائوں میں بیڑیاں ڈال کر سلاخوں کے پیچھے دھکیلنے پر مجبور ہوجائیں۔ چنانچہ 10 جنوری 2006ء کو نرویج کے ایک اخبار نے دوبارہ اس گندی حرکت کا ارتکاب کیا۔ پھر کیا تھا مسلمان کب اپنے نبی کی شان میں اس بے ہودگی کو برداشت کرسکتے تھے۔ پوری دنیا میں توڑ پھوڑ‘ لوٹ مار کا بازار گرم ہوگیا۔ بڑے بڑے محلات نذر آتش کردیئے گئے۔ یورپی اور امریکی سفارت خانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی جھنڈے جلائے گئے۔ نرویج‘ ڈنمارک اور بالعموم یورپ و امریکہ کے شہریوں کو دھمکیاں ملنے لگیں اور کئی جگہ انہیں ہدف بھی بنایا گیا۔
مغربی حکومتیں‘ سیاستدان اور مفکرین ملزم کو سزا دینے کی بجائے حمایت دینے لگے۔ دانشوروں کے قلم کی روشنائیاں مسلمانوں کو برا بھلا کہنے لگیں۔ ہر طرف سے یہ مشورہ دیا جانے لگا کہ احتجاج مہذبانہ ہونا چاہئے۔ تاہم بعض یورپی دانشوروں نے انصاف پسندی کاثبوت دیا اور اس ماحول میں بھی حق گوئی سے باز نہ آئے۔ مارک بلوخ یونیورسٹی‘ فرانس کے پروفیسر مشہور مفکر ڈاکٹر Eric Geoffroy نے اپنے ایک بیان میں کہا ’’خاکوں کی اشاعت نے آزادی رائے سے متعلق یورپ کے دوہرے معیار کوثابت کردیا ہے۔‘‘ جب ہم نے دینی اور روحانی اقدار کی حفاظت کی بات کی تو مغرب ’’آزادی اظہار‘‘ اور ’’جمہوریت‘‘ جیسے نعرے بلند کرنے لگے۔ بعض اسلامی مقالہ نگاروں نے اس فکر کی تنقید کی تو مغربی میڈیا نے شدت کے ساتھ ان کا رد کرنا شروع کردیا۔ یہی حقیقت میں دوہرا معیار ہے۔ رسول کریم ﷺکا مرتبہ مسلمانوں کے نزدیک ہمیشہ بلندوبالا رہا ہے۔ مسلمان بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ دیگر انبیاء سے متعلق بھی ادب و احترام مسلمانوں کی فطرت میں ہے۔ مزید اس کا مناسب رد بیان کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحب نے کہا ’’ڈنمارک کے ان میڈیائی افراد کا رد غالبا قرآن کریم کی یہ آیت ہوسکتی ہے ’’وما ارسلناک الا رحمتہ للعالمین‘‘
ابھی مسلمانوں کا زخم مندمل نہیں ہوسکا تھا کہ افق عالم پر مسلمانوں کے خلاف ایک دوسری سازش رچی گئی۔ عیسائیوں کے روحانی پیشوا سولوہویں پوپ بینڈیکٹ نے 12 ستمبر 2006ء کو ریگنبرگ یونیورسٹی میں اپنی ایک تقریر کے دوران رومن بادشاہ Paleologus 11 کی بات چیت جو کسی فارسی مسلمان کے ساتھ ہوئی تھی‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا:
Show me just what Muhammad brought that was new, and there you will find things only evil and inhuman, such as his command to pread by the sword the faith he preached.
مجھے دکھائو محمدﷺ کیا نئی چیز لے کرآئے ہیں‘ آپ کو برائی اورغیر انسانی چیزوں کے علاوہ کچھ بھی نہیں ملے گا۔ مثلا آپ کو ان کا یہ حکم ملے گا کہ دین کی تلوار کی جھنکار سے پھیلایا جائے۔
اگرچہ پوپ نے ایک بادشاہ کا محاورہ کسی فارسی مسلمان کے ساتھ کے ضمن میں یہ بات کہی تھی۔ تاہم دل میں جب میلا پن ہوتا ہے تو کسی نہ کسی طرح باہر آ ہی جاتا ہے۔ مسلمانوں نے اسے پوپ کی طرف سے نبی اکرمﷺ پر ناپاک حملہ تصور کیا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام تلوار کے زور سے نہیں اخلاق و کردار اور مسلمانوں کی مساعی سے پھیلا۔ نگاہ رسول کی تاثیر‘ زبان محمدی کی حلاوت تھی جو ہر آنے والے کو اپنا اسیر بنا کر ہی چھوڑتی۔ صحابہ کرام کا کردار تھا جس کو دیکھ کر پورا علاقہ مسلمان ہوجاتا تھا اور آج تک محمدی رنگ میں رنگے ہوئے صوفیاء کرام کے وہ داعیانہ اسلوب ہیں جو دیکھنے اور سننے والوں پرگہرا اثر چھوڑتا ہے۔ اس موضوع پر اپنوں سے لے کر غیروں تک نے درجنوں کتابیں‘ سینکڑوں مقالے تحریر کئے ہیں۔ ہم ایک جھلک صرف عیسائی مذہب کی دکھانا چاہتے ہیں۔ جہاں یہ کہتے ہوئے زبان نہیں دکھتی کہ عسیائیت امن وامان کا مذہب ہے اور عیسٰی علیہ السلام کی طرف منسوب اس قول کو بات بات پر دلیل بنایا جاتا ہے ’’اگر کوئی تمہارے دائیں رخسار پر تھپڑ مارے تو بائیں رخسار بھی اس کے حوالے کردو‘‘ ۔ذرا New Testament کی ان عبارتوں پر نظر ڈالیئے۔
Think not that I am come to send peace on earth: I came not to send peace but a sword, For I am come to set a man to veriance against his father, and the daughter against her mother, and the daughter in law against her mother in law, and a man’s foes shall be they of his own household.
(Mathew, 10, ve 34-37, Nashville, Tennsee, 37214)
ترجمہ: یہ مت سوچو کہ میں زمین پر امن و امان قائم کرنے آیا ہوں۔ میں امن قائم کرنے نہیں آیا بلکہ تلوار کی طاقت لے کر آیا ہوں۔ میں تو اس لئے آیا ہوں تاکہ انسان اور اس کے باپ کے درمیان جدائی کی بیج بودوں۔ ماں اور بیٹی کے درمیان اختلاف پیدا کروں اور ساس اور بہو کے درمیان تفریق ڈال دوں۔ اس طرح انسان خود اپنے اہل خانہ کا  دشمن بن جائے گا‘‘
یہ تو موجودہ بائبل کی بات ہے۔ اگر صلیبی جنگوں کی تاریخ پر ایک نظر ڈالی جائے تو امن وامان کے داعیوں کا دامن خون سے لت پت نظر آتا ہے۔ اس طرح کی ایک جنگ سے متعلق ابن اثیر کی یہ عبارت دل تھام کر پڑھ لیجئے۔
ملک الفرنج القدس نہار یوم الجمعۃ‘ لسبع بقین من شعبان‘ ورکب الناس السیف‘ ولبث الفرنج فی البلدۃ اسبوعا یقتلون فیہ المسلمین واحتمی جماعۃ فیہ ثلاثۃ ایام‘ وقتل الفرنج بالمسجد الاقصی مایزید علی سبعین الفاء منہم جماعۃ کبیرۃ من ائمۃ المسلمین وعلمائھم وعبادہم وزہادہم مم فارق الاوطان وجاور بذلک الموضع الشریف (تاریخ ابن اثیر ۸/ ۱۹۰)
فرنگیوں نے بیت المقدس پر سات شعبان بروز جمعہ قبضہ کیا۔ لوگوں نے تلواریں اٹھالیں۔ فرنگی شہر میں ایک ہفتہ تک رہ کر مسلمانوں کو قتل کرتے رہے۔ مسلمانوں کا ایک گروہ محراب دائود میں جاکر پناہ گزین ہوگیا۔ فرنگی وہاں تک پہنچ گئے اور تین دن تک لڑائی کی‘ فرنگیوں نے مسجد اقصیٰ میں تقریبا ستر ہزار لوگوں کا قتل کیا۔ ان میں ایک بڑی تعداد ایسے علمائ‘ ائمہ‘ عباد‘ زہاد کی تھی جنہوں نے اپنے وطن کو خیرباد کہہ کر اس مقدس سرزمین کی سکونت حاصل کرلی تھی۔
اس طرح کے دل دہلا دینے والے کئی واقعات اور شواہد یورپی مورخ گوسٹاولوپن نے بھی عیسائی پادری اور راہبوں کے حوالے سے اپنی کتاب مترجم ’’الحضارۃ العربیہ‘‘ میں نقل کیاہے۔ دور نہ جایئے‘ ہنگٹن کی مشہور کتاب Clash of the Civilization کو پڑھیئے۔ ایک جگہ لکھتے ہیں۔
’’مغرب دنیا پراپنی فکری برتری‘ اخلاقی‘ دین کی وجہ سے غالب نہیں ہوا‘ بلکہ منظم ظلم وزیادتی کے ذریعہ دنیا پر غلبہ حاصل کیا۔ مغرب عام طور پر اس کو بھول جاتا ہے مگر غیر یورپی شخص اسے کبھی بھی نہیں بھول سکتا‘‘
تاریخ کے ان واقعات اوران جیسے درجنوں واقعات بالخصوص انجیل کے مذکورہ اقتباسات کے بعد محمد عربیﷺ کے بارے میں یہ کہنا  کیسے درست ہوگا کہ ان کا لایا ہوا دین تلوار سے پھیلایا گیا جس کی شان اس کے رب نے ’’وما ارسلناک الا رحمتہ للعالمین‘‘ بتایا۔
بعض عیسائی معتدل مفکرین نے پوپ کی باتوں کی تاویل کی ہے۔ اور یہ کہا ہے کہ پوپ کی تقریر کا گر تجزیہ کیا جائے تو وہ اگر اسلام پر حملہ ہے تو عیسائیت پر بھی جارحانہ حملہ ہے۔ ڈاکٹر رفیق حبیب مصری جو عیسائی مفکر ہیں‘ اپنی ایک تحریر میں لکھتے ہیں:
پوپ کا خیال ہے کہ عیسائیت کا ملاپ جب یونانی فلسفہ کے ساتھ ہوا تو عقل اور ایمان میں توازن پیدا ہوا۔ بولس کے پیغام نے ایمان اور عقل کے درمیان یہ توازن پیدا کیا۔ اہل علم جانتے ہیں کہ عیسٰی علیہ السلام کا پیغام مشرقی فکر رکھنے والے اشخاص یا یہودیوں یا عربوں تک پہنچانے میں ان کے کچھ تلامذہ کااہم رول ہے۔ جن میں متی‘ پطرس‘ مرقص کا نام نمایاں ہے۔ تلامذہ کی ایک دوسری ٹیم جن میں پولس‘ یوحنا اور لوقا سرفہرست ہیں‘ نے یونان و روم کے خطہ میں عیسائی افکار کی ترویج و اشاعت کے لئے نمایاں فریضہ انجام دیا۔ اس تناظر میں اگر پوپ کا قول دیکھا جائے تو عیسائیت کے حق میں نہایت خطرناک بات ہے۔ انہوں نے ان مبشرین کے پیغامات پر زور دیا ہے جو یورپیوں کے لئے تھا۔ جس کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ یہ پیغام ایمان اور عقل کا حسین امتزاج ہے۔ اس کا واضح مفہوم ہے کہ پوپ کے نزدیک عیسائیت کی ایک دوسری قسم بھی ہے جہاں ایمان اور عقل کے درمیان ہم آہنگی نہیں۔ یہ وہ عیسائیت ہے جو یونانی افکار سے میل نہیں کھاتا۔
سچ یہ ہے کہ پوپ کا یہ کلام عرب عیسائی جو عیسائیت کی اصل ہے‘ پر جارحانہ حملہ ہے یعنی قبطیوں پر۔
ہم یہ بتادینا چاہتے ہیں کہ دین ایک ایسا آسمانی پیغام ہے جس میں تمام امت شامل ہے۔ اس کا تعلق مختلف تمدن سے ہوتا ہے۔ تمدن کے بدلنے سے دین کی بنیاد میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ دین لوگوں کے تمدن کے مخالف بھی نہیں بلکہ اس کی توجیہ کرتا ہے اور بیک وقت اس کے اختلاف کی نگہبانی بھی کرتا ہے۔ ٹھیک یہی واقعہ عیسائیت کے ساتھ ہوا۔ چنانچہ حضرت عیسٰی کے تلامذہ نے ان کاپیغام دنیا کے ان ملکوںتک پہنچایا جن کا تمدن مختلف تھا۔ وہ جہاں گئے وہاں کی زبان اپنائی اور تہذیب و تمدن کے لوگوں تک حضرت مسیح کاپیغام ان کی زبان میں پہنچایا مگر پوپ نے حضرت مسیح کے ان پیغام کا انتخاب کیا جو یونانیوں (یورپ) کے لئے تھا۔ پوپ کا یہ موقف دینی ہونے‘ ثقافتی ہونے کے ساتھ ساتھ تعصب پر بھی مبنی ہے‘ جس کی کوئی ایک دلیل بھی نہیں۔ لہذا پوپ کے نزدیک یورپ کے علاوہ یعنی عرب اور اسلامی ملکوں کے مسلمانوں کا ایمان اور اسی طرح ان ملکوں کے عیسائیوں کا ایمان خرافات پر مبنی ہوگا۔ یہ نظریہ عقل اور منطق کے بالکل خلاف ہے۔ اس سے یہ بات بھی سمجھ میں آگئی کہ پوپ کا مقصدمتعصبانہ یورپی عیسائی نظریہ کو پیش کرنا ہے اور یورپی عیسائیوں کو غیر یورپی عیسائیوں پر فوقیت دینا۔ اس نظریہ کا نقصان کسی قدر پوشیدہ نہیں۔ ملخصا
بدتمیزیوں کا طوفان کچھ دیر کے لئے تھما تھا کہ 2008ء نے ایک بار پھر مسلمانوں کے ضمیر کو چیلنج کیا۔ ناپاک ذہنیت رکھنے والے ہولنڈی ممبر آف پارلیمنٹ Geert Wilders نے ایک فلم بنام ’’فتنہ‘‘ دنیا کے سامنے پیش کیا۔ فلم کے منظر عام پر آنے سے پہلے ہی بحث و مباحثہ شروع ہوگیا تھا۔ تمام تر قیاس آرائیوں کے بعد آخرکار فلم منظر عام پر آہی گئی۔ اس فلم میں جرمنی میں شائع ہونے والے پیغمبر اسلام کے بعض توہین آمیز خاکوں کو دکھایا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ سورہ توبہ اور سورہ محمد کی بعض آیتوں کو توڑ مروڑ کر‘ سیاق و سباق سے ہٹا کر پیش کرکے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ اسلام دہشت گرد مذہب ہے۔ اپنے ماننے والوں کو دہشت گردی پر اکساتا ہے۔ دین اسلام کے دشمنوں کو اس بار کا فی حد تک ناکامیوں کا سامنا رہا۔ کیونکہ اس کا مقصد اس ناپاک حرکت کی آڑ میں مسلمانوں کو اکسا کر ان کے اپنے ہاتھوں اپنے املاک کو برباد کروانا تھا مگر ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ مسلمانوں نے دانشمندی کا ثبوت دیا۔ جوش و جذبات کا مظاہرہ ضرور کیا گیا مگر نقصانات نہیں ہوئے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ فلم بنانے والے کو اپنے ہی ملک میں تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ یورپی دانشوروں اور سیاستدانوں نے خود کھل کر مخالفت کی‘ حتی کہ ہالینڈ کے صدر اور وزیر خارجہ نے اپنی برات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فلم ’’فتنہ‘‘ حکومت کے نظریات کی ترجمانی نہیں کرتی ہے۔ دہشت گردی جس شکل میں بھی ہو‘ بری چیز ہے۔ دہشت گردی کا مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں۔ ’’فتنہ‘‘ کے ذریعہ مسلمانوں پر جو الزام لگانے کی کوشش کی گئی ہے اس میں کچھ صداقت نہیں۔ ہالینڈ میں بسنے والے آٹھ لاکھ مسلمان جن کی چار سو پچاس مسجدیں ہیں‘ امن وامان اور رواداری کے ساتھ رہتے ہیں۔
یہ اور اس طرح کے بیانات تھے جس نے Dr. Ingrid Mattson کو یہ صفائی دینے پر مجبور کردیا کہ ہالینڈ اسلام یا مسلمانوں کا دشمن نہیں۔ یورپ و امریکہ مسلمانوں کے حالات اور بڑھتی ہوئی تعداد پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنی ایک تحریر میں ڈاکٹر میٹسن نے کہا کہ یورپ کے گرجا گھر اگر خالی ہورہے ہیں‘ مسلمانوں کی مسجدیں بھری جارہی ہیں تو اس میں مسلمانوں کی کوئی غلطی نہیں۔ ان سب کی سزا مسلمانوں کو نہیں ملنی چاہئے۔
معلوم ہونا چاہئے کہ اس طرح کے واقعات کوئی نئے نہیں‘ اس کی بھی کوئی گارنٹی نہیں کہ آئندہ کوئی اور اس طرح کی مذموم حرکت نہیں کرے گا۔ ان واقعات سے کئی سوالات جنم لیتے ہیں۔ عالم اسلام نبی آخر الزماں اور اسلام کے تعارف میں ہر سطح پر کوشاں ہے ۔ ان تمام کوششوں کے باوجود اس سلسلہ کا دراز ہونا کیا کوئی معقول بات ہے؟ ہر آئے دن ڈائیلاگ کا ایک نیا دور شروع کیا جارہا ہے‘ کیا اس کے بعد بھی ناپاک حرکتوں کا سلسلہ بند نہیں ہوگا؟ اگر نہیں تو ان ڈائیلاگ کا کیا فائدہ؟ کیا یہ سمجھ لیا جائے کہ ان جرموں میں ملوث اشخاص اسلام سے نابلند ہیں؟ کیا محمد عربیﷺ کی شان میں گستاخی سے باز آرہنا کسی علم کا محتاج ہے؟ یا یہ کہا جائے کہ اس طرح کی تمام حرکتوں کا سبب تعصب‘ فکری انحطاط‘ اخلاقی اقدار سے محروم رہنا ہے۔ جواب جو بھی ہو‘ مسلمانوں کو سر جوڑ کر اس کا مستقل حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ میرے نزدیک اس کی وجہ مسلمانوں کا دین سے غافل ہوجانا ہے۔
نبی اکرمﷺ کا فرمان جس کو امام احمد بن حنبل نے حضرت ثوبان سے باسناد حسن روایت کیا ہے ’’عنقریب امتیں تمہارے اوپر ایسی ہی ٹوٹ پڑیں گی جس طرح کہ کیڑے پیالوں کے اردگرد ٹوٹ پڑتے ہیں‘‘ سوال کیا گیا: کیا اس کی وجہ ہماری تعداد کا کم ہونا ہوگا؟ فرمایا: نہیں‘ تم ایسے گھاس کی طرح ہوگے جسے سیلاب بہا لے جاتا ہے۔ تمہارے دشمنوں کے دلوں سے تمہاری ہیبت ختم ہوجائے گی۔ تمہارے دلوں میں کمزوریاں ڈال دی جائیں گی۔ پوچھا گیا ’’کمزوری‘‘ سے مراد کیا ہے؟ فرمایا ’’دنیا کی محبت اور موت سے نفرت‘‘