دیں ہاتھ سے لے کر گر آزاد ہو ملت        ہے ایسی تجارت میں مسلماں کا خسارہ
اﷲ تبارک و تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہم مسلمانوں کا تعلق ایسے دین سے ہے جس کا نام ’’اسلام‘‘ ہے اور ’’اسلام‘‘ کا معنی و مفہوم ’’سلامتی ہی سلامتی‘‘ ایک انسان کی سلامتی‘ خواہ وہ کسی بھی دین و مذہب کا ماننے والا ہی کیوں نہ ہو۔ اسلام میں ایک انسان کی ’’حرمت و عزت‘‘ کعبتہ اﷲ سے بھی زیادہ ہے۔ اس انسان کا قتل‘ گویا کہ پوری انسانیت کو قتل کردینے کے مترادف ہے۔ اسلام تو سراپا امن و سلامتی والا مذہب ہے جس کا دامن عدل و انصاف‘ اخوت و بھائی چارگی‘ ایثار ومساوات سے بھرا ہوا ہے۔ جس کی تعلیمات میں صرف اور صرف سکون ہی سکون ہے۔ دنیاوی و اخروی‘ جسمانی و روحانی غرض کہ ہر طرح کا ’’تحفظ‘‘ موجود ہے۔ جس دین و مذہب کے آقاﷺ نبی‘ پوری کائنات کے لئے ’’رحمت‘‘ بنا کر بھیجے گئے۔ جن کی تمام زندگی انسانی حقوق کی بحالی اور تحفظ کو قائم کرنے میں بسر ہوئی۔ اس سرتاپا نورانیت کے پیکرﷺ نے انسانیت کا کون سا ایسا گوشہ و پہلو ہے جس کو تشنہ چھوڑا ہو‘ خواہ وہ عورتوں کے حقوق ہوں‘ یا بچوں کے‘ ماں باپ کے حقوق ہوں یا بیوی کے غلاموں کے حقوق ہوں یا لونڈی کے بلکہ اسلام نے تو سابقہ ادوار کی بے ہودہ رسوم و رواج اور غلامی کو ختم کرڈالا۔ چوپایوں‘ پرندوں اور درخت و نباتات تک کے حقوق متعین کردیئے گئے۔
ایسا پیارا نبی برحقﷺ اور ان کا ’’اتنا پیارااسلام‘‘ ان سے کسی بھی انسان کو خائف ہونے کی ضرورت نہیں۔ خواہ وہ ہندو ہوں یا عیسائی۔ یہودی ہوں یا سکھ یا دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والا کوئی بھی انسان ہو۔
محترم قارئین! اب موجودہ دور میں ہونے والے حالات کاجائزہ لیتے ہیں۔
(۱) نائن الیون کا ڈرامہ اور ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی تباہی‘ ہزاروں لوگوں کی جانوں کا ضیاع۔ اس واقعہ پر جتنی تحقیقات و رپورٹس شائع ہوچکی ہیں‘ دنیا جانتی ہے کہ اس کاالزام اسلام و مسلمانوں کے سر ڈالا گیا۔ حالانکہ سب کو معلوم ہے کہ اس واقعہ میں کون ملوث ہے
(۲) اسی طرح گزشتہ دنوں ممبئی میں ہونے والے واقعات اور اس میں عام لوگوں کا قتل عام ہونا۔ اس واقعہ کو پاکستان و مسلمانوں سے جوڑنا اور الزامات لگانا سمجھ سے بالاتر ہے۔ اور پھر صرف الزامات ہی نہیں لگائے جارہے‘ حملے اور جنگ کی دھمکیاں بھی دی جارہی ہیں جوکہ غیر ذمہ دارانہ طرز عمل‘ اور انتہا پسندی کا بدترین مظاہرہ ہے جوکہ کسی بھی طور پر برداشت نہیں کیا جاسکتا۔
اے امت مسلمہ کے پاسبانو! اب تو تمہاری ہندووانہ دوستی اور تعلقات سے آنکھیں کھل جانی چاہئیں۔ خدارا اپنے دشمن کو پہچانو! اور اپنے دشمن کو اپنے اپنے گھروں سے نکالنے کی کوشش کرو۔ جو ہندو تمہیں دہشت گرد‘ انتہا پسندکہہ رہا ہے۔ تم پر جھوٹے الزامات لگا رہا ہے‘تم نے اپنے فکروخیالات پر اسی کو سوار کیا ہوا ہے۔ تمہاری شادی بیاہ کی رسومات میں ہندووانہ رنگ‘ تمہارے پہننے اوڑھنے میں ہندوورانہ رنگ‘ تمہاری تہذیب و ثقافت میں ہندوورانہ رنگ۔
وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں یہود        یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کر شرمائیں ہنود
اب تو غیرت وطن‘ غیرت ایمانی کا ثبوت دو‘ اب تو اپنی خودی کی جانب لوٹ آئو‘ اب تو ہوش کے ناخن لو اور اپنے عمل‘ کردار اور جذبہ سے اپنے مشترکہ دشمن کو پہچان لو۔ جس دین کے تم ماننے والے ہو‘ وہ تو سراپا امن و رحمت ہے اسی کی جانب پلٹ آئو۔ اس کی تعلیمات کو اپنالو اپنے گھروں کو ہندووانہ رسوم و رواج سے پاک کرو۔ اپنے اپنے ٹی وی سے ان کی پوجی جانے والی مورتیوں کو مت دیکھو۔
خدارا! آج اپنے اتحاد سے اپنے ملک و ملت کا تحفظ کرو۔ اور جس پیارے وطن کے لئے ۲۰ لاکھ نفوس نے جام شہادت نوش کیا اس کی لاج رکھ لو۔ اپنے اندر جذبہ جہاد کو پیدا کرو۔ ناچ گانے دیکھنے اور سننے سے باز آجائو۔
اﷲ پاک میرا اور آپ کا حامی و ناصر ہو۔
آ تجھ کو بتاتا ہوں تقدیر امم کیا ہے        شمشیر وفنا اول طائوس و رباب آخر