محرم الحرام اور یوم عاشورہ

in Tahaffuz, January 2009, حافظ غلام غوث, متفرقا ت

اسلامی مہینہ محرم الحرام قمری مہینوں کا پہلا مہینہ ہے اور محرم کو محرم اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس ماہ میں جنگ وقتال حرام ہے۔ یہ اﷲ تعالیٰ کا مہینہ ہے اور اس ماہ میں عاشورہ کا دن بہت تعظیم و تکریم والا دن ہے۔ یوم عاشورہ (دسویں محرم کا دن) کے دن مندرجہ ذیل بڑے بڑے واقعات رونما ہوئے۔
(۱) فرعون اور اس کا لشکر غرق ہوا۔
(۲) حضرت سیدنا آدم علیہ السلام کی توبہ بارگاہ خداوند میں مقبول ہوئی۔
(۳) حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کی توبہ قبول ہوا۔
(۴) حضرت نوح علی نبینا و علیہ الصلواۃ والسلام سلامتی کے ساتھ کشتی سے اترے اور شکرانے کے طور پر روزہ رکھا اور دوسروں کو بھی روزے کا حکم دیا۔
(۵) بنی اسرائیل کے لئے دریا پھٹا
(۶) حضرت ابراہیم علیہ السلام پیدا ہوئے۔
(۷) حضرت عیسٰی روح اﷲ علیہ الصلواۃ والسلام پیدا ہوئے۔
(فیض القدیر شرح جامع صغیر للمناوی جلد ۳ ص ۳۴)
(۸) حضرت یوسف علیہ السلام قید سے نکالے گئے۔
(۹) حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ سے باہر تشریف لائے۔
(۱۰) حضرت سیدنا موسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے۔
(۱۱) حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام پر نار نمرود گلزار ہوئی۔
(۱۲) حضرت ایوب علیہ السلام نے مرض سے شفا پائی۔
(۱۳) حضرت یعقوب علیہ السلام کی بینائی واپس آئی۔
(۱۴) حضرت یوسف علیہ السلام کنویں سے نکالے گئے۔
(۱۵) حضرت سلیمان علیہ السلام کو بادشاہی ملی۔
(۱۶) حضرت موسیٰ علیہ السلام جادوگروں پر غالب آئے۔
(۱۷) حضرت امام حسین رضی اﷲ عنہ نے مرتبہ شہادت حاصل کیا ۔
(عجائب المخلوقات ص ۴۴)
(۱۸) قیامت اسی دن برپا ہوگی۔
(۱۹) رب العالمین نے اپنی شان کے لائق عرش پر استواء فرمایا۔
(۲۰) پہلی بارش آسمانوں سے نازل ہوئی۔
(۲۱) پہلی رحمت نازل ہوئی۔    (غنیۃ الطالبین ج ۲ ص ۵۳)
(۲۲) اﷲ تعالیٰ نے کرسی کوپیدا کیا۔
(۲۳) اﷲ تعالیٰ نے قلم کو پیدا کیا۔
(۲۴) اﷲ تعالیٰ نے آسمانوں کو پیدا کیا۔
(۲۵) حضرت ادریس علیہ السلام کو جنت کی طرف اٹھایا گیا۔
(۲۶) اﷲ تعالیٰ نے پہاڑوں کو اور سمندروں کو پیدا فرمایا۔
(غنیۃ الطالبین ج ۲ ص ۵۳)
(۲۷) عاشورہ کے روز اصحاب کہف کی کروٹیں بدلی جاتی ہیں۔
(نزہۃ المجالس ج ۱ ص ۱۴۵)
عاشورہ کے دن نیک اعمال
عاشورہ ایک بزرگ دن ہے۔ اس دن ہر ایک نیک عمل بڑے اجروثواب کا موجب ہے چند نیک کاموں کا ذکر کیا جاتا ہے۔
(۱) یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرنا بڑا ثواب ہے۔ حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا۔
من مسح بیدہ علی راس یتیم یوم عاشورائ‘ رفع اﷲ تعالیٰ لہ بکل شعرۃ علی راسہ درجۃ فی الجنۃ
جو شخص یوم عاشورہ یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرے گا تو اﷲ تعالیٰ اس شخص کے لئے یتیم کے سر کے ہر بال کے عوض ایک ایک درجہ جنت میں بلند فرمائے گا (غنیۃ الطالبین ج ۲ ص ۵۳)
(۲) عاشورہ کے روز اپنے اہل و عیال پر دسترخوان کو وسیع کرنا چاہئے تاکہ اﷲ تعالیٰ اس گھر میں سارا سال وسعت فرمائے۔ چنانچہ حضرت سیدنا عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول خداﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو کوئی عاشورہ کے روز اپنے اہل و عیال پر نفقہ میں وسعت کرے گا تو اﷲ تعالیٰ اس پر سارا سال وسعت فرمائے گا۔ حضرت سفیان ثوری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ہم نے اس کا تجربہ کیا تو ایسا ہی پایا (مشکواۃ شریف ص ۱۲۰)
(۳) عاشورہ کے دن آنکھوں میں سرمہ لگانا‘ آنکھوںکی بیماری کے لئے شفا ہے چنانچہ نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں۔
من اکتحل بالاثمد یوم عاشوراء لم ترمد عینہ ابدا
جو شخص یوم عاشورہ آنکھوں میں سرمہ لگائے تو اس کی آنکھیں کبھی نہ دکھیں گی۔
(۴) حضرت ملا علی قاری فرماتے ہیں کہ عاشورہ کے دن آنکھوں میں سرمہ لگانا خوشی کے اظہار کے لئے نہیں ہونا چاہئے کیونکہ یہ خارجی لوگوں کا کام ہے کہ وہ اس میں خوشی کا اظہار کرتے ہیں بلکہ حدیث شریف پر عمل کرنے کے لئے آنکھوں میں سرمہ لگانا چاہئے۔
(۵) یوم عاشورہ بیمار کی بیمار پرسی کرنا بڑی نیکی ہے۔ محبوب کبریاﷺ فرماتے ہیں۔
من عاد مریضا یوم عاشوراء فکانما عاد ولد ادم
جو کوئی عاشورہ کے روز بیمار کی بیمار پرسی کرتا ہے تو گویا اس نے تمام بنی آدم کی بیمار پرسی کی ہے (غنیۃ الطالبین ج ۲ ص ۵۴)
(۶) دسویں محرم شریف (یعنی یوم عاشورہ) کے دن روزہ رکھنا بڑا ثواب ہے۔ امام الانبیاء والمرسلین علیہ الصلواۃ والسلام نے خود بھی اس روز روزہ رکھا اور اپنے غلاموں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم عنایت فرمایا۔
چنانچہ فرمایا عاشورہ کا روزہ رکھو۔ اس دن انبیائے کرام علیہم الصلواۃ والسلام روزہ رکھتے تھے (جامع صغیر ج ۴ ص ۲۱۵)
(۷) حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ رمضان المبارک کے بعد افضل روزہ اﷲ تعالیٰ کے مہینے محرم (یعنی عاشورہ) کا روزہ ہے اور فرض کے بعد افضل نماز رات کی نماز ہے (مشکواۃ ص ۱۷۱)
(۸) حضرت حفصہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریمﷺ چار چیزوں کو نہیں چھوڑتے تھے ۔ عاشورہ کا روزہ اور ذوالحجہ کا عشرہ (یعنی پہلے ۹ دن) اور ہر ماہ کے تین دن کے روزے‘ اور فرض نماز فجر سے پہلے کی دو رکعت (مشکواۃ ص ۱۸۰)
عاشورہ کے دن جو کام ممنوع ہیں
عاشورہ کے روز سیاہ کپڑے پہننا‘ سینہ کوبی کرنا‘ کپڑے پھاڑنا‘ بال نوچنا‘ نوحہ کرنا‘ پیٹنا‘ چھری چاقو سے بدن زخمی کرنا جیسا کہ رافضیوں کا طریقہ ہے‘ حرام اور گناہ ہے۔ ایسے افعال سے اجتناب کلی کرنا چاہئے (موضوعات کبیر) ایسے افعال کرنے پر سخت وعیدیں آئی ہیں۔ چنانچہ
(۱) حضرت ابو مالک اشعری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲﷺ کا ارشاد پاک ہے کہ چار خصلتیں میری امت میں جاہلیت کے کام سے پائی جاتی ہیں۔ فخر کرنا اپنے حسب میں‘ طعن کرنا‘ عیب نکالنا لوگوں کی نسب میں‘ بارش طلب کرنا ستاروں سے اور ماتم میں نوحہ کرنا اور فرمایا… نوحہ کرنے والی مرنے سے پہلے توبہ نہ کرے تو قیامت کے دن کھڑی کی جائے گی۔ اس حال میں کہ گندھک کی قمیض اس پر ہوگی اور ایک قمیض خارش والی ہوگی (مشکواۃ ص ۱۵۰)