جہاد کشمیراور کشمیر سے ظالمانہ مذاق

in Tahaffuz, January 2009, متفرقا ت, محمد احمد قادری نورانی

سوال یہ ہے کہ جو ڈاکٹر مریض کے خلاف ہو‘ وہ مرض کا علاج کیسے کرسکتا ہے؟
مولانا فضل الرحمن پاکستانی سیاست کے کوچہ ملامت کے وہ مسافر ہیں جن کا قول وفعل‘ کردار و عمل اور شخصیت ہمیشہ متنازعہ اور ابن الوقتی کی مظہر رہی ہے۔ دینی اور مذہبی سیاست کے اسرارورموز کیا ہیں اور اصول و تقاضے کیا کہتے ہیں۔ ان باتوں سے قطع نظر حزب اختلاف میں رہ کر اقتدار کی سیاست کے گر کوئی مولانا فضل الرحمن سے سیکھے۔ مولانا نے ہر دور میں اختلاف کی سیاست کی لیکن مزے ہمیشہ اقتدار کے لوٹے۔ انہوں نے ہمیشہ حکومت اور حکومتی کارکردگی کو تنقید کا نشانہ بنایا لیکن درپردہ حکومت اور حکومتی اقدامات کی تائید و حمایت جاری رکھ کر کسی بھی گھاٹے کا سودا نہیں کیا۔
مولانا فضل الرحمن سیاست کے مہ خانے میں ’’رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت بھی نہ گئی‘‘ وہ آئیڈیل ازم اور عملی سیاسی تقاضوں کو نہ صرف خلط ملط نہیں ہونے دیتے بلکہ بے وقت کی راگنی پر بھی اپنا وقت ضائع نہیں کرتے۔ مولانا طالبان کے ہیرو بھی ہیں اور اینٹی طالبان لابی کے بھی آئیڈیل‘ وہ جب چاہیں امریکہ کے خلاف آگ لگادیں اور جب چاہیں اس آگ پر ٹھنڈی بالٹی انڈیل سکتے ہیں۔ مولانا موجودہ کشمیر کے حق میں بھی ہیں اور اسی ناطے بحیثیت سرکاری ایلچی بھارت کے غیر سرکاری دورے کو بھی بہت اہم جانتے ہیں۔ نواز شریف کے ہیرو ہیں اور پرویز مشرف ان کو اپنا آدمی سمجھتے ہیں۔ قائد حزب اختلاف بھی ہیں اور سرکاری ہیلی کاپٹر کو بھی محبوب سواری جانتے ہیں۔ فضل الرحمن جمعیت علمائے اسلام (ف) کے جمگٹھے میں ہوں تو ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ سے کم پر راضی نہیں ہوتے‘ باہر ہوں تو جنرل پرویز مشرف کی اقتدار پسندی اور روشن خیالی کو بھی حرام نہیں کہتے‘ بس مکروہ سمجھتے ہیں۔ وہ فوجی سیٹ اپ کے یکسر مخالف بھی ہیں اور موجودہ سیٹ اپ میں وزیراعظم بننے کے خواہش مند بھی۔ مولانا فضل الرحمن واحد سیاستدان ہیں جو ایک ہی وقت میں پانچ مختلف رنگوں کی گیندیں ہوا میں اچھالنے کے ماہر ہیں اور ان میں سے کسی کو بھی زمین پر گرنے نہیں دیتے‘ انہی خصوصیات کی بناء پر ہم مولانا فضل الرحمن کو محض ایک سیاستدان ہی نہیں بلکہ ون مین پولیٹیکل آرمی سمجھتے ہیں‘‘
یہ وہ خوبصورت‘ جامع اور ہمہ گیر تبصرہ ہے جو گزشتہ سال بین الاقوامی نشریاتی ادارے بی بی سی نے مولانا کی سیاسی بصیرت‘ معاملہ فہمی اور دور اندیشی اور موقع شناسی اور ابن الوقتی پر کیا تھا‘ دینی اور مذہبی سیاست کے اسرارورموز کیا ہیں اور اصول و تقاضے کیا کہتے ہیں۔ ان تمام باتوں سے قطع نظر حزب اختلاف میں رہ کر اقتدار کی سیاست کے گر کوئی مولانا فضل الرحمن سے سیکھے۔ مولانا نے ہر دور میں اختلاف کی سیاست کی لیکن مزے ہمیشہ اقتدار کے لوٹے‘ وہ ہمیشہ کہتے نظر آئے کہ ’’اقتدار عزیز نہیں‘ جمہوری اصولوں کی پاسداری چاہتے ہیں‘‘ لیکن جمہوری اصولوں کی پاسداری اور اقتدار سے دوری کے لئے وہ ہمیشہ اس کولیشن کا حصہ رہے جو اقتدار پر قابض رہی‘ انہوں نے ہمیشہ حکومت اور حکومتی کارکردگی کو تنقید کا نشانہ بنایا لیکن درپردہ حکومت اور حکومتی اقتدامات کی تائید و حمایت جاری رکھ کر کبھی بھی گھاٹے کا سودا نہیں کیا۔ سیاسی حوالے سے ہمیشہ ان کی گفتگو تحفظات اور خدشات کے گرد گھومتی نظرآتی ہے۔ مگر درحقیقت یہ تحفظات اور خدشات اپنے مفادات کے تحفظ اور بقاء کے لئے ہوتے ہیں۔ شاید انہی خوبیوں کی وجہ سے لوگ انہیں مولانا ڈیزل جیسے خوبصورت القابات سے بھی یاد کرتے ہیں۔ عین ممکن ہے کہ آپ ہماری رائے سے اختلاف کریں اور اسے کسی سیاسی یا مذہبی مخاصمت کا شاخسانہ بھی قرار دیں‘ لیکن حقیقت ‘ حقیقت ہوتی ہے اسے زیادہ دیر تک تحفظات اور خدشات کے پردے میں دبایا اور چھپایا نہیں جاسکتا۔ ویسے تو جناب عالی! ہم اس قسم کے اختلافی موضوع جس سے سیاسی مخاصمت اور مذہبی منافرت کی بو آئے‘ حاشیہ آرائی پسند نہیں کرتے اور نہیں چاہتے کہ اس قسم کے نازک اختلافی موضوعات (جو عقیدت مندانہ اور شخصیت پرستانہ مزاج پر ناگوار گزرے) کو زیر گفتگو لایا جائے‘ مگر کیا کیا جائے کہ جب سے ہم نے یہ خبر پڑھی ہے کہ ’’مولانا فضل الرحمن کو بلامقابلہ کشمیر کمیٹی کا چیئرمین منتخب کرلیا گیا ہے‘‘ اس کے بعد سے آنے والی مسلسل رنگ برنگی خبروں نے ہمیں مجبور کردیا کہ ادب و احترام کے دائرے میں رہ کر ان خبروں پر حقیقت پسندانہ تبصرہ کیا جائے لیکن قبل اس کے کہ ہم ان خبروں کو زیر گفتگو لائیں میں آپ کے سامنے ایک ممتاز صحافی جناب صغیر قمرصاحب کی رائے بطور آغاز گفتگو پیش کرنا چاہتے ہیں۔ جس میں وہ لکھتے ہیں کہ ’’اﷲ خیر کرے‘ مولانا فضل الرحمن کشمیر کمیٹی کے چیئرمین بن چکے ہیں اور نومنتخب صدر پاکستان ستمبر کے آخر تک کشمیر پر خوشخبری کا اعلان بھی کرچکے ہیں۔ اگرچہ آصف علی زرداری کے اعلان کے بعد ریاست جموں و کشمیر کی قیادت کلی طور پر اس طرح کی کسی بھی ’’خوشخبری‘‘ کو محض خوش فہمی قرار دے چکی ہے۔ حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں نے متفقہ طور پر حق خود ارادیت کا کوئی بھی متبادل مسترد کردیاہے۔ مولانا فضل الرحمن کا چیئرمین بن جانا اس لئے بھی حیرت کا باعث نہیںکہ وہ بھی ’’این آر او‘‘ کے ذریعے پیپلز پارٹی سے استفادے کے لئے میدان میں کودے ہیں۔ حیرت اس بات پر ہے کہ جموں و کشمیر کی حیثیت کے حوالے سے ماضی میں ان کے خیالات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں‘‘ جناب صغیر قمر صاحب لکھتے ہیں کہ ’’1993ء میں اپنے دو صحافی دوستوں کے ہمراہ حج بیت اﷲ کی سعادت حاصل کرنے کے لئے گیا۔ یہ وہ دن تھے جب پاکستان میں میاں نواز شریف کی حکومت ختم کرکے عبوری سیٹ اپ بنایا گیا تھا‘ نگراں وزیراعظم بلخ شیر مزاری کی نگراں کابینہ میں وزارت مذہبی امور کا منصب مولانا محمد خان شیرانی کو نصیب ہوا تھا۔ چنانچہ وہ سرکاری وفد کی قیادت کرتے ہوئے مکہ مکرمہ پہنچے‘ اس وفد میں جہاں حریت کانفرنس کے رہنما شریک تھے‘ وہاں جماعت اسلامی آزاد جموں و کشمیر کے امیر عبدالرشید ترابی‘ انجینئر سلیم اﷲ خان اور سابق ڈپٹی چیئرمین سینیٹ فضل آغا بھی شامل تھے‘ انہی ایام میں مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداﷲ بھی بھارتی وفد کی قیادت کرتے ہوئے مکہ مکرمہ پہنچ گئے۔ ان کا وفد عرب لیڈروں سے مل کر یہ تاثر دے رہا تھا کہ اگر عربوں یا دیگر مسلمانوں نے کشمیریوں کی حمایت کی تو بھارت کے 25 کروڑ مسلمان اکیلے رہ جائیں گے۔ پاکستان ہائوس مکہ میں حج وفد کے ارکان نے ایک میٹنگ طلب کی جس میں ہم تین دوستوں کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ اس اجلاس میں یہ بات زیر بحث تھی کہ ریاست جموں و کشمیر میں حالیہ تحریک (یہ عروج کے دن تھے) اور بھارتی مظالم سے دنیا کو کیسے آگاہ کیا جائے اور یہ کہ جو وفد سرکاری خرچ پر حج کرنے آیا ہے‘ یہ دنیا بھر سے آئے ہوئے حجاج کو کس طرح کشمیر کی صورتحال کی طرف متوجہ کرے۔ ایک دو افراد کی رائے تھی کہ پاکستان کا یہ وفد مختلف ملکوں کے نمائندہ وفود سے ملے‘ ابھی حج میں چار پانچ دن باقی ہیں‘ لہذا ان ایام کا صحیح مصرف ہونا چاہئے۔ جماعت اسلامی آزاد کشمیر کے امیر عبدالرشید ترابی نے اس رائے سے اتفاق کرتے ہوئے مزید تجویز دی کہ رابطہ عالم اسلامی کی دعوت پر حج کے لئے آنے والوں سے آج ہی ملاقاتیں شروع کی جائیں۔ ابھی ان کی بات مکمل بھی نہیں ہوئی تھی کہ پاکستانی وفد کے سربراہ مولانا محمد خان شیرانی جلال میں آگئے۔ انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا ’’ہم یہاں عبادت کرنے آئے ہیں‘ ہمارے وفد کا کام کوئی قضیہ حل کرانا نہیں‘‘ ان کی بات پر سینئر صحافی سلطان سکندر نے کہا ’’مولانا یہ حج وفد تو اس لئے بھیجا گیا کہ پاکستان کی نمائندگی کرے گا اور کشمیر کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنا ہمارا فریضہ ہے‘‘ اس کے بعد مولانا کا جلال دیکھنے کے قابل تھا۔ وہ بہت ساری گفتنی ناگفتنی کہتے چلے گئے اور بیشتر لوگوں کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے۔ انہوں نے حضرت قائداعظم کی شخصیت‘ پاکستان کے قیام کی حقیقت اور مسئلہ کشمیر کی حیثیت پر طویل خطبہ دیا اور قائداعظم اور تحریک پاکستان پر اپنی جماعت کے 1947ء کے زمانے والے خیالات پیش فرمادیئے۔ جب وہ متحدہ ہندوستان کے حامی تھے اور ان کے خیال میں قومیں اوطان سے بنتی تھیں۔ مولانا شیرانی کا کہنا تھا کہ نہ پاکستان بنتا‘ نہ مسئلہ کشمیر پیدا ہوتا‘ اس کے بعد مسئلہ کشمیر‘ کشمیریوں اور تحریک آزادی کے حوالے سے انہوں نے اسے محض ’’پانی کا مسئلہ‘‘ قرار دے کر بحث سمیٹتے ہوئے کہا ’’میں یہاں صرف عبادت (جوکہ سرکاری خرچ پر تھی) کے لئے آیا ہوں‘ جن کو زیادہ تکلیف ہے‘ وہ مسئلہ کشمیر حل کرالیں‘ وہ مزید بہت کچھ کہنا چاہ رہے تھے کہ دروازے پر دستک ہوئی اور پاکستان ہائوس کے ایک اہلکار نے ایک کاغذ دروازے سے اندر پھینکتے ہوئے چیخ کر کہا ’’پاکستان میں میاں نواز شریف کی حکومت سپریم کورٹ نے بحال کردی ہے اور موجودہ کابینہ ختم‘‘ مولانا شیرانی نے چھپٹ کروہ کاغذ پکڑا اور آہستہ آہستہ ان کے چہرے پر پسینے کے قطرے ابھرنے لگے۔ اب وہ وزیر نہیں رہے تھے۔ ایک صاحب جو خاصی دیر سے بحث سن رہے تھے‘ مولانا کی وزارت ختم ہوتے دیکھ کر درشت لہجے میں بولے ’’مسئلہ کشمیر سے جو بھی بے وفائی کرے گا اس کا یہی حشر ہوگا‘‘ یہ کہہ کر وہ دروازے سے نکل گئے اور اپنے پیچھے بھرپور قہقہے چھوڑ گئے۔ سب ہنس رہے تھے لیکن وفد کے سربراہ دور کہیں خلائوں میں گم تھے۔ یادش بخیر مولانا محمد خان شیرانی کے امیر مولانا فضل الرحمن کشمیر کمیٹی کے چیئرمین بنے ہیں تو ماضی کا یہ واقعہ ذہن کے دریچے پر آدھمکا۔ چاولوں کی دیگ میں سے ایک چاول ہی سہی‘ لیکن اس سے آپ کو پوری دیگ کا ذائقہ معلوم ہوسکتا ہے۔ مولانا فضل الرحمن کا سیاست میں کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ وہ ایک فطین سیاستدان ہیں۔ ہر معاملے میں کودنے سے پہلے ایک بیلنس شیٹ تیار کرکے نفع نقصان کا حساب کرکے فیصلہ کرتے ہیں‘ مجلس عمل کی صوبہ سرحد حکومت‘ بلوچستان میں حصہ اور خود مولانا مرکز میں قائد حزب اختلاف کی حیثیت سے ایک متنازعہ شخصیت رہے ہیں‘‘
مولانا فضل الرحمن نے ہر دور میں اقتدار کے مزے لوٹے اور مراعات یافتہ عہدوں کا حصول مولانا کا محبوب مشغلہ رہا۔ وہ بے نظیر بھٹو کے دوسرے دور حکومت میں خارجہ امور کی کمیٹی کے چیئرمین رہے۔ پرویز مشرف کے مارشل لاء کے تحت وجود میں آنے والی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف رہنے والے اور جنرل پرویز مشرف کے فوجی دور حکومت کو آئینی تحفظ فراہم کرنے والی آئین کی سترہویں آئینی ترمیم کو منظور کرانے میں اہم کردار ادا کرنے والے مولانا فضل الرحمن آج کشمیر کمیٹی کے چیئرمین ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام کے وابستگان اور ہمدردوں کے لئے یہ بات یقینا فخر کا باعث ہوگی کہ قادیانیوں کے خلاف مہم میں پیش پیش رہنے والی جماعت کے قائد مولانا فضل الرحمن اپنے دل کا علاج اور انجیو پلاسٹی پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ کے ذاتی دوست اور معالج ایک قادیانی ڈاکٹر‘ ڈاکٹر مبشر احمد سے کرانا جائز سمجھتے ہیں۔ جمہوریت‘ پارلیمنٹ کی بالادستی اور آئین و قانون کے راگ الاپنے والے یہ وہی مولانا فضل الرحمن ہیںجو 9 مارچ 2007ء کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی معطلی کے غیر قانونی اقدام پر شاہراہ دستور پر شرمندہ شرمندہ دیکھے گئے اور 3 نومبر 2007ء کے غیر آئینی آمرانہ اقدام پر معزز عدلیہ کے ججز کے خلاف دل کا غبار نکالتے نظر آئے۔ اپنی مدت پوری کرتی ہوئی اسمبلیوں سے جنرل پرویز مشرف کے غیر آئینی اور غیر قانونی اتنخاب کے موقع پر متحدہ مجلس عمل کے متفقہ فیصلے کے مطابق قومی و صوبائی اسمبلیوں سے بیک وقت استعفیٰ دینے کے حوالے سے بھی مولانا کا دو رخی کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ آئینی اور قانونی موشگافیوں‘ تحفظات اور خدشات کا تذکرہ کرکے حکومتوں کو بلیک میل کرنے والے مولانا فضل الرحمن کا وطیرہ رہا ہے کہ جائز و ناجائز کسی بھی طریقے سے اعلیٰ حکومتی عہدوں کو حاصل کیا جائے۔ ان کی اس حرکت سے خود ان کے ساتھی بھی نالاں ہیں۔ اسی وجہ سے ان کے دیرینہ ساتھی مولانا عبدالغفور حیدری نے وزارتوں کی بندر بانٹ پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے خود وزارت میں شامل ہونے سے انکار کردیا اور ساتھ ہی مولانا فضل الرحمن پر کروڑوں روپے رشوت لے کر سینیٹر اعظم سواتی کو وزارت مذہبی امور دینے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔ دوسری طرف خود موجودہ حکومت بھی مولانا کی بلیک میلنگ کی وجہ سے سخت پریشان ہے اور اس نے مولانا پر واضح کردیا ہے کہ صدارتی انتخاب میں حمایت پر وعدے کے مطابق مولانا کو کشمیر کمیٹی کا چیئرمین بنادیا گیا ہے‘ لہذا مزید وزارتوں کے لئے اسے بلیک میل نہ کیا جائے جبکہ باخبر ذرائع کا کہناہے کہ صدارتی الیکشن میں حمایت پر جے یو آئی کے قائد مولانا فضل الرحمن کی جانب سے وزارت مذہبی امور‘ دفاع‘ خارجہ اور کشمیر کمیٹی کی وزارتوں کے لئے حکومت سے ڈیل ہوئی تھی جس کے تحت مولانا کو کشمیر کمیٹی کا چیئرمین بنادیا گیا ہے‘ جبکہ باقی وزارتوں کے حصول کے لئے مولانا سرتوڑ کوششوں میں مصروف ہیں۔ باخبر ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ مولانا حکومت پر یہ بھی دبائو ڈال رہے ہیں کہ انہوں نے قبائلی علاقوں میں جاری آپریشن پر حکومت کی حمایت نہیں کی ہے۔ اس لئے اس آپریشن کو جاری رکھنے کے لئے انہیں مزید وزارتیں دی جائیں‘ لیکن حکومت نے ان کے دبائو کو بلیک میلنگ قرار دے کر فی الوقت مزید وزارتیں دینے سے انکار کردیا ہے۔
ایک مقامی روزنامہ مولانا کی شخصیت اور کردار کے حوالے سے اپنے اداریئے میں لکھتا ہے کہ ’’جمعیت علمائے اسلام (ف) دیوبندی مکتبہ فکر کی نمائندہ سیاسی جماعت ہے‘ اس کے سربراہ مولانا فضل الرحمن (اخبار کے بقول) اپنے وقت کے عالم دین اور سیاسی رہنما مفتی محمود کے فرزند ہیں‘ مگر حیرت انگیز طور پر انہوں نے اپنی سیاست کی شناخت اصولوں کے بجائے وقتی مفادات کے لئے سودے بازی کو بنایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب پوری قوم جنرل پرویز مشرف کے ہاتھوں چیف جسٹس سے جبری استعفے کی کوشش اور ان کے ساتھ بدسلوکی پرسراپا احتجاج بن گئی۔ مولانا فضل الرحمن کے ضمیر نے اس وقت بھی مصلحت کوشی کی راہ اختیار کی کہ حتیٰ کہ لندن میں ہونے والی کل جماعتی کانفرنس میں وہ واحد شخص تھے جس نے چیف جسٹس کی بحالی کے مطالبے کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں حقوق نسواں بل کی بعض دفعات کے اسلام کے صریحاً متصادم ہونے کی بناء پر انہوں نے ٹی وی پر پوری قوم کے سامنے اعلان کیا کہ اگر بل منظور ہوگیا تو وہ اور ان کی جماعت کے تمام ارکان اسمبلی سے استعفے دے دیں گے اور پارلیمنٹ سے باہر آکر تحریک چلائیں گے۔ اس سے پہلے وہ اور ان کے ساتھی نواب اکبر بگٹی کے قتل پر بھی مجرموں کے خلاف کارروائی نہ ہونے کی صورت میں اسمبلیوں سے استعفے دینے کا اعلان کرچکے تھے‘ مگر ان دونوں مواقعوں پر مولانا فضل الرحمن اور ان کے ساتھیوں نے بعد میں استعفے نہ دے کر اپنی بے اصولی کا مظاہرہ کیا۔ اسلام کے علمبردار مولانا فضل الرحمن اور پختون روایات کے امین ہونے کے دعویدار اسفندیار ولی نے آصف علی زرداری صاحب کی مسلسل بدعہدی کی تمام تفصیلات سے پوری طرح آگاہ ہوجانے کے بعد بھی صدارتی انتخاب میں ان ہی کی حمایت کا فیصلہ کیا۔ اخبار لکھتاہے کہ مولانا فضل الرحمن علمائے کرام کے ایک بڑے مکتبہ فکر کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اس لئے ان کے رویئے نے بجاطور پر یہ سوال پیدا کردیا ہے کہ کیا پاکستان کے علمائے دین کی نگاہ میں بھی اس بات کی کوئی اہمیت نہیں کہ اسلام کے نام پر حاصل کئے جانے والے اس ملک کا سربراہ ایسے شخص کو ہونا چاہئے جوکم از کم یہ کہہ کر اپنے وعدے توڑتا ہوکہ یہ کوئی قرآن و حدیث تو نہیں جسے بدلا ہی نہ جاسکے۔ اگر علمائے کرام ہی دینی اور اخلاقی قدروں کا تحفظ نہیں کریں گے تو پھر اور کس سے اس کی امید لگائی جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ اصولوں کی پاسداری اور اقدار کی بجائے سیاست کی جو مثال علماء کی جماعت کوپیش کرنی چاہئے تھی‘ وہ آج نواز شریف اور ان کے ساتھی پیش کررہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ رائے عامہ کے تمام جائزوں میں ان کی مقبولیت سب سے زیادہ ہے۔‘‘
ہم یہاں مقامی روزنامے کے اداریئے پر اس سے زیادہ تبصرہ نہیں کرنا چاہتے کہ مولانا فضل الرحمن بھی پاکستانی سیاست کے کوچہ ملامت کے وہ مسافر ہیں جن کا قول وفعل‘ کردار و عمل اور شخصیت ہمیشہ متنازعہ اور ابن الوقتی کی مظہر رہی ہے۔ سیاست کے اس کوچہ ملامت میں مولانا کے قدم اگر لڑکھڑا گئے تو اس میں حیران ہونے کی کوئی بات نہیں۔ اس کوچے میں تو بڑے بڑے صاحب کردار لوگوں کے قدم ڈگمگا جاتے ہیں۔ سیاستدان تو سیاستدان ہی ہوتا ہے وہ کبھی بھی گھاٹے کا سودا نہیں کرتا۔ مولانا فضل الرحمن بھی سیاستدانوں کے اسی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں جو ہار کر بھی جیت جانے اور فائدہ اٹھانے کا گر جانتے ہیں۔ ہم خدا کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمن کا تعلق حضرت قائداعظم محمد علی جناح اور علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی کی طرح اصول پسندی اور کردار کی پختگی کے حامل سیاستدانوں میں سے نہیں‘ جو اپنے اعلیٰ و ارفع اصولوں‘ سچے نظریات اور بے داغ کردار و عمل کو اپنی قوت کا مرکز و محور بنا کر زندگی کے کمزور اور نازک لمحوں میں بھی اپنے اجلے اور بے داغ دامن پر حرص و طمع اور غرض و لالچ کا داغ نہیں لگتے دیتے۔ مولانا فضل الرحمن کا قول و فعل‘ کردار و عمل جیسے قابل فخر افعال و اعمال سے کیا واسطہ‘ اگر ہوتا تو کشمیری مجاہدین کی تنظیم جمعیت المجاہدین مولانا کو کشمیر کمیٹی کا چیئرمین بنانے پر احتجاج کرتے ہوئے اسے جہاد کشمیر اور کشمیر کاز سے ظالمانہ مذاق قرار نہیں دیتی۔ بہرحال جمعیت المجاہدین کچھ بھی کہے‘ ہم اسے مولانا کے نام فضل کا فضل ضرور سمجھتے ہیں جس کی وجہ سے مولانا ہر دور میں فائدے میں رہے اور آج کشمیر کمیٹی کے چیئرمین ہیں۔
آخر میں ہم جناب صغیر قمر صاحب کی اس رائے سے مکمل اتفاق کرتے ہوئے اجازت چاہتے ہیں کہ ’’ایسے حالات میں جبکہ مملکت خداداد سنگین ترین حالات سے دوچار ہے اور ریاست جموں و کشمیر میں آزادی کی تحریک ایک نئی بھرپور لہر کے ساتھ اٹھی ہے‘ یہ پہلا موقع ہے کہ بھارتی جبر کے خلاف اس قدر نفرت کے ساتھ لاکھوںلوگ گھروں سے نکلے ہیں‘ بھارت ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت کشمیر کی قیادت کو راستے سے ہٹا رہا ہے‘ جیلوں اور عقوبت خانوں میں ہزاروں کشمیری گزشتہ انیس‘ بیس برسوں سے ظلم کا شکار ہیں۔ ایسے کڑے وقت میں جبکہ ریاستی عوام کی پاکستان سے امیدیں اور تمنائیں کئی گنا بڑھ گئی ہیں‘ کشمیر کمیٹی کے چیئرمین کے حیثیت سے مولانا فضل الرحمن کا انتخاب کیا رنگ لاتا ہے؟ کیا وہ کچھ دے سکیں گے یا صرف لینے کے باٹ ساتھ لائے ہیں؟ آنے والے دنوں میں سب کچھ سامنے آجائے گا‘ اگرچہ گزشتہ پانچ برسوں میں حامد ناصر چٹھہ کی قیادت میں کشمیر کمیٹی نے صرف مراعات حاصل کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔ یقین ہے کہ مولانا فضل الرحمن بھی کچھ نہیں کرپائیں گے‘ اس لئے کہ جو ڈاکٹر مریض کے خلاف ہو‘ وہ مرض کا علاج کیسے کرسکتا ہے…!!!