حضرت بابا فرید گنج شکر علیہ الرحمہ

in Tahaffuz, January 2009, د ر خشا ں ستا ر ے

حضرت سلطان الہند رحمتہ اﷲ علیہ کے بعد حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اﷲ علیہ مسند خلافت پر جلوہ افروز ہوئے اور اہل کفر کے دلوں کو اس طرح فتح کیا کہ پتھر کے بچاریوں نے ’’زنار‘‘ توڑ کر پھینک دی اور اپنے ہاتھوں سے قشقشے کا نشان کھرج کر پھینک ڈالا۔
اگرچہ حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اﷲ علیہ نے ابھی بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے سر پر دستار خلافت نہیں جو پیرو مرشد کے حکم سے مختلف ممالک میں سرگرم سفر تھا۔
٭…٭…٭
بدخشاں سے رخصت ہوکر بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ ’’چشت‘‘ پہنچے اور مشہور بزرگ حضرت ابو یوسف چشتی رحمتہ اﷲ علیہ کے مزار مبارک پر حاضری دی۔
ایک دن کسی بزرگ کی مجلس میں دیگر صوفیاء کے ساتھ بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ بھی موجود تھے۔ گفتگو کے دوران ایک درویش نے صاحب مجلس سے اپنا خواب بیان کرتے ہوئے کہا۔
’’کل رات میں نے خواب میں دیکھا کہ میری موت واقع ہوچکی ہے اور میری روح شدید اضطراب میں مبتلا ہے‘‘
صاحب مجلس نے درویش کا خواب سنا اور اپنے علم کے مطابق تعبیر بیان کی۔
جب وہ بزرگ خاموش ہوگئے تو حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نہایت ادب کے ساتھ صاحب مجلس سے مخاطب ہوئے ’’اگر آپ اجازت دیں تو میں اس خواب کے سلسلے میں کچھ عرض کروں؟‘‘
صاحب مجلس نے نوجوان کی تابناک چہرے کی طرف دیکھا اور پھر شفقت آمیز لہجے میں کہا ’’علم کسی کی میراث نہیں۔ اگر تم اس خواب کو کسی اور زاویئے سے سمجھ سکے ہو تو بے جھجھک ہوکر اپنا مفہوم بیان کرو۔ مقصد تو یہ ہے کہ کسی طرح خواب کی تعبیر حاصل کی جائے۔ ممکن ہے اﷲ نے تمہارے ذہن رسا پر خواب کی صحیح تعبیر منکشف کردی ہو‘‘
اجازت پاتے ہی بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ ان درویش سے مخاطب ہوئے جنہوں نے یہ خواب دیکھا۔ ’’اس خواب میں موت سے مراد حقیقی موت نہیں۔ اپنی کم علمی کے باوجود جہاں تک میں سمجھ سکا ہوں اس کے مطابق مجھے محسوس ہوتا ہے کہ جیسے آپ سے فجر کی نماز قصا ہوگئی ہے‘‘
تمام مجلس پر سکوت طاری تھا۔ جیسے ہی بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ خاموش ہوئے‘ ان بزرگ نے بے اختیار ہوکر کہا ’’نوجوان تمہاری پیش کردہ تعبیر بالکل درست ہے۔ واقعتاً آج میری فجر کی نماز قضا ہوگئی ہے۔ جب میں نے خواب میں یہ دیکھا کہ میں مرچکا ہوں تو شدت خوف سے میری آنکھ کھل گئی۔ میںنے گھبرا کر چاروں طرف نگاہ کی۔ اس وقت مجھے احساس ہوا کہ نماز فجر کا وقت گزر چکا ہے اور سورج طلوع ہورہا ہے‘‘
جب درویش نے نماز فجر کی قضا کا اعتراف کرلیا تو بابا رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا ’’نماز کا قضا ہوجانا بھی ایک مسلمان کے لئے موت کی حیثیت رکھتا ہے۔ میرے نزدیک یہی آپ کے خواب کی تعبیر ہے‘‘
بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی اس گفتگو سے حاضرین بہت خوش ہوئے۔ پھر صاحب مجلس نے بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے بارے میں پیش گوئی کرتے ہوئے کہا ’’یہ نوجوان بہت جلد افق معرفت پر خورشید تابناک بن کر ابھرے گا‘‘
٭…٭…٭
چشت سے رخصت ہونے کے بعد بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ دمشق کی جانب روانہ ہوئے۔ یہ تاریخی شہر بھی بزرگان دین اور اہل علم و فن کے بڑے مراکز میں شامل تھا۔ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے کچھ دن تک یہاں قیام کیا اور کئی نامور اولیائے کرام کی صحبتوں سے فیض یاب ہوئے۔
اس وقت دمشق کے مشہور بزرگوں میں حضرت شہاب الدین زندوسی رحمتہ اﷲ علیہ کا نام زیادہ نمایاں تھا۔ ایک دن بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ بھی شیخ زندوسی رحمتہ اﷲ علیہ کی مجلس میں شریک تھے کہ ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس میں معرفت کے طلب گاروں کے لئے بڑا سبق تھا۔
حضرت شیخ شہاب الدین زندوسی رحمتہ اﷲ علیہ روحانیت کے کسی موضوع پر گفتگو کررہے تھے اور سننے والوں پر ایک وجد سا طاری تھا۔ پھر جیسے جیسے حضرت شیخ کی تقریر ختم ہوئی تو حاضرین مجلس میں سے ایک شخص اپنی نشست پر اٹھ کر کھڑا ہوا اور عرض کرنے لگا۔
’’شیخ آپ کا وہ مرید جسے آپ نے کچھ دن پہلے خرقہ عطا کیا ہے‘ اہل دنیا سے بہت زیادہ میل جول رکھتا ہے‘‘
حضرت شیخ شہاب الدین زندوسی رحمتہ اﷲ علیہ نے بڑے صبروتحمل سے یہ ناخوشگوار خبر سنی۔ جس مرید کے بارے میں اہل دنیا سے ربط و ضبط رکھنے کی اطلاع دی جارہی تھی‘ دراصل وہ شیخ زندوسی رحمتہ اﷲ علیہ کا محبوب ترین مرید تھا جب آپ نے اسے خرقہ (معرفت کا لباس) عطا کیا تھا تو بڑے والہانہ انداز میں فرمایا تھا۔
’’فرزند! اس درویش کے پاس جو کچھ تھا وہ سب تجھے بخش دیا‘ اپنی چاہتیں‘ اپنے جذبے‘ اپنی محبتیں اور اپنی دعائیں سب تیرے دامن میں ڈال دیں۔ اپنی فغان نیم شہی‘ اپنی آہ سحر گاہی‘ اپنے قلب کا گداز اور اپنی روح کا سوز اس خرقے میں شامل کردیا ہے۔ اسے محض ایک زرد رنگ کا کپڑا نہ سمجھنا‘ یہ تیرے شیوخ کی وہ نشانی ہے۔ جس کے ایک ایک تار میں ان کا اپنا لہو شامل ہے‘ دنیا کے گردوغبار اور حرص وہوس کی کثافتوں سے اسے محفوظ رکھنا‘‘
آج اسی مرید کے بارے میں شیخ زندوسی کو خبر ملی تھی کہ اس نے تمام نصیحتوں کو فراموش کرکے اہل دنیا سے رشتہ جوڑ لیا ہے۔
’’اس کے مزید اعمال کیا ہیں؟‘‘ حضرت شیخ شہاب الدین زندوسی رحمتہ اﷲ علیہ نے کہنے والے شخص سے دریافت کیا۔
’’لوگ آپ کے بخشے ہوئے متبرک خرقے کے باعث خاموش رہتے ہیں لیکن وہ مسلسل اس پردے میں دنیاوی مفادات حاصل کررہا ہے‘‘ کہنے والے نے مزید وضاحت کی۔
پھر اہل مجلس نے دیکھا کہ حضرت شیخ شہاب الدین زندوسی رحمتہ اﷲ علیہ کے چہرہ مبارک کا رنگ متغیر ہوگیا اور اذیت و کرب کے آثار نمایاں ہونے لگے۔ بڑا تکلیف دہ مرحلہ تھا۔ ایک شخص جس نے اپنی زندگی کی ساری لذتوں کو ترک کرکے خانقاہ کا وقار قائم کیا تھا‘ اس کا ایک نمائندہ کوچہ در کوچہ روحانی نظام کو بدنام کرتا پھر رہا تھا۔ حضرت شیخ زندوسی رحمتہ اﷲ علیہ بہت دیر تک سوگوار بیٹھے رہے جیسے ان کا کوئی محبوب عزیز دنیا سے گزر گیا ہو۔ اس کے ساتھ ہی پوری مجلس کا رنگ بھی بدل کر رہ گیا اور شیخ زندوسی رحمتہ اﷲ علیہ کا اضطراب دیکھ کر حاضرین بھی اداس نظر آنے لگے۔
پھر ایک طویل وقفہ سکوت کے بعد حضرت شیخ رحمتہ اﷲ علیہ نے اپنے خدمت گاروں سے فرمایا۔ ’’اسے تلاش کرکے میرے روبرو حاضر کرو‘‘
پھر جب وہ نافرمان مرید حضرت شیخ شہاب الدین زندوسی رحمتہ اﷲ علیہ کے بارگاہ میں حاضر ہوا تو مجلس کے درودیوار تک ساکت ہوگئے۔ وہاں موجود ہر شخص خاموش تھا مگر اس کے ذہن میں کئی سوالات ابھر ابھر کر ڈوب رہے تھے۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ حضرت شیخ زندوسی رحمتہ اﷲ علیہ اپنے اس مرید کے ساتھ کیا سلوک کریں گے؟ بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ بھی حیران تھے۔ کبھی اس سرکش مرید کو دیکھتے اور کبھی حضرت شیخ رحمتہ اﷲ علیہ کی طرف نگاہ کرتے۔
مرید سر جھکائے کسی مجرم کی طرح بارگاہ شیخ میں کھڑا رہا۔ حضرت شیخ شہاب الدین زندوسی رحمتہ اﷲ علیہ کی چشم جلال اٹھی اور وہ عہد شکن کانپ کر رہ گیا۔
’’لوگ کہتے ہیں کہ تونے میرے پہنائے ہوئے خرقے کو نیلام گاہ میں فروخت کردیا ہے؟‘‘ شیخ زندوسی رحمتہ اﷲ علیہ اپنے مرید سے مخاطب ہوئے تو حاضرین کو محسوس ہوا جیسے آپ کی نوائے آتشیں سے پوری مجلس جل اٹھی ہو۔
مرید کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا۔ اس لئے بدستور خاموش کھڑا  رہا۔
’’آخر تونے ایسا کیوں کیا؟‘‘ حضرت شیخ زندوسی رحمتہ اﷲ علیہ کے لہجے کا جلال مزید نمایاں ہوگیا تھا۔
’’شیخ محترم! میں اپنے دل سے مجبور ہوگیا تھا‘‘ مرید کے جسم پر لرزہ طاری تھا اور اس کی آواز بھی کانپ رہی تھی ’’میں نے بہت کوشش کی کہ آخرت کے وعدے پر مطمئن ہوجائوں مگر میرے دل میں دنیا کی محبت اس طرح موجزن تھی کہ میں اپنی ذات کو غرقاب ہونے سے نہیں بچا سکا۔ میری ظاہر پرست فطرت نے مجھے نام و نمود کے کوچہ و بازار میں لے گئی اور پھر صبر کا دامن میرے ہاتھوں سے چھوٹ گیا ’’مرید برسر مجلس اعتراف جرم کررہا تھا۔ اور وہ ایسا کرنے پر مجبور تھا کہ اس کا گناہ شیخ کی نگاہ کشف سے پوشیدہ نہیںرہ سکتا تھا۔
’’وہ دن یاد کر جب تو اس خانقاہ میں داخل ہوا تھا اور تونے مجھ سے دل کی دولت طلب کی تھی ’’حضرت شیخ شہاب الدین زندوسی رحمتہ اﷲ علیہ کی پرجلال آواز کی گونج رہی تھی اور اہل مجلس پرسکوت مرگ سا طاری تھا ’’کیا میں نے تجھ سے نہیں کہا تھا کہ یہ زندگی کا مشکل ترین راستہ ہے؟ کیا میں نے تجھے خبردار نہیں کردیا تھا کہ اس ریگزار میں تیرے پائوں آبلوں سے بھر جائیں گے؟ کیا تجھ پر یہ راز فاش نہیں کیا گیا تھا کہ اس راستے میں لوگ مصلوب بھی کئے جاتے ہیں‘ حوالہ زنداں بھی ہوتے ہیں… زنجیر ستم ہڈیوں پر اپنے نشانات بھی چھوڑ جاتی ہے اور جب قتل گاہ شوق ویران ہونے لگتی ہے تو اسے زندانہ جاں دے کر آباد کیا جاتا ہے… تجھ پر ایک ایک بات روشن تھی۔ پھر بھی تو روشنی کے حصار سے نکل کر اندھیروں کے سراغ میں چلا گیا… تونے آداب سفر بھلا دیئے اور رہزن دنیا کی رہنمائی قبول کرلی۔ منزل سے برگشتہ ہوگیا۔ اپنے قول سے انحراف کیا اور سارے عہدوپیمان بھلا دیئے۔ پھر کیا باقی رہا؟ خدا کی قسم! اب غبار ہی غبار ہے۔ گرد ہی گرد ہے اور خاک ہی خاک ہے۔ قبائے بے رنگ پہن کر کچھ دن اور جی لے۔ بہت جلد سانسوں کا شمار ختم ہونے والا ہے پھر تجھے معلوم ہوجائے گا کہ دنیا اور آخرت ایک مرکز پر جمع نہیں ہوسکتے‘‘ حضرت شیخ شہاب الدین زندوسی رحمتہ اﷲ علیہ بول رہے تھے اور خانقاہ میں موجود درویشوں کا یہ حال تھا کہ وہ پتھروں کے ستون کے مانند ہوکر رہ گئے تھے تو مرید کے لئے اب کوئی جائے اماں نہیں تھی‘ کوئی پناہ گاہ نہیں تھی۔ وہ بحر ندامت میں ڈوبتا جارہا تھا۔
’’تونے اس رشتہ اعتبار کو پامال کر ڈالا۔ جو اہل وفا کی پہچان ہے‘‘ حضرت شیخ زندوسی رحمتہ اﷲ علیہ مختصر سی خاموشی کے بعد اپنے مرید سے دوبارہ مخاطب ہوئے ’’جب تیری پہچان ہی گم ہوگئی تو خود بھی میری بارگاہ سے چلا جا اور اپنی ذات کو سرکشی کے غبار میں گم کردے۔ یہاں تک کہ وقت معلوم سر پر آپہنچے اور پھر تیرے پاس کوئی دلیل باقی نہ رہے‘‘ اتنا کہہ کر حضرت شیخ الدین زندوسی رحمتہ اﷲ علیہ اپنی نشست سے اٹھے اور آگے بڑھ کر مرید کے جسم سے وہ خرقہ اتار لیا جو خود ہی آپ نے اپنے ہاتھوں سے بڑے نازو محبت کے ساتھ اسے پہنایا تھا۔
باقی آئندہ شمارے میں ملاحظہ فرمائیں