بت پرستوں کو چھوڑ کر مسلمانوں کو قتل کرنے والا گروہ

in Tahaffuz, October-November 2010, متفرقا ت

حضور سیدی ومرشدی کراچی کے بے تاج بادشاہ حضرت سید عبداﷲ شاہ غازی علیہ الرحمہ کے مزار پرانوار کے باہر ہونے والا خودکش حملوں کا واقعہ پاکستان میں مزارات اولیاء کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا جانے کاپہلا واقعہ نہیں ہے۔ 2005ء سے یہ سلسلہ جاری ہے جن کی تفصیل کچھ یوں ہے۔
27 مئی 2005: وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مشہور بزرگ بری امام کے مزار پر پانچ روزہ عرس کے اختتامی دن ایک خودکش حملے میں 20 افراد جاں بحق جبکہ درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔ اس کے بعد سے آج تک مقامی انتظامیہ نے عرس کی اجازت نہیں دی۔
31 جولائی 2007: قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں کالعدم تحریک طالبان کے دہشت گردوں نے اسلام آباد میں لال مسجد آپریشن کے ردعمل میں برطانوی سامراج کے خلاف لڑنے والے حریت پسند بزرگ حاجی صاحب تورنگزئی کے مزار پر قبضہ کرلیا۔ صدر مقام غلنئی سے 25 کلومیٹر شمال میں اس مزار اور اس کے قریب مسجد کو کالعدم تحریک طالبان کے دہشت گردوں نے لال مسجد کانام دیا تھا، کئی روز تک اس پر قبضہ جاری رکھا۔
18 دسمبر 2007: مشہور بزرگ حضرت قبلہ عبدالشکور ملنگ بابا علیہ الرحمہ کے مزار کو دھماکے سے نقصان پہنچایا گیا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
مارچ 2008: پشاور سے ملحق قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں سرگرم لشکر شیطان (لشکر اسلام) نے صوبائی دارالحکومت کے قریب شیخان کے علاقے میں چار سو سال پرانا حضرت ابو سید بابا کا مزار تباہ کرنے کی کوشش ناکام بنانے کے دوران جھڑپ میں دس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
خیبر ایجنسی میں لشکر شیطان (لشکر اسلام) کے منگل باغ نے 2008ء میں حضرت پیر سیف الرحمن علیہ الرحمہ کو شدید جھڑپوں کے بعد علاقہ بدر کردیا تھا۔ ان کے علاقے سوات کے گدی نشین حضرت پیر سمیع الرحمن کو دسمبر 2008ء میں کالعدم تحریک طالبان کے خلاف لشکر کشی کے بعد شہید کردیا گیا تھا۔ شہید کرنے کے بعد ان کی لاش کو قبر سے نکال کر مینگورہ کے ایک چوراہے پر لٹکادیا گیا تھا۔
5 مارچ 2009: صوبہ خیبر پختونخواہ کے دارالحکومت پشاور کے مضافات میں چمکنی کے علاقے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے پشتو کے مشہور صوفی شاعر اور بزرگ حضرت عبدالرحمن بابا علیہ الرحمہ کے مزار کے ستونوں کے ساتھ دھماکہ خیز مواد رکھ کر مزار کو تباہ کردیا۔ اس مزار کے چوکیدار کے مطابق اسے تین روز قبل دھمکیاں دی جارہی تھیں۔
6 مارچ 2009: نوشہرہ میں واقع بہادر بابا کے مزار کو کالعدم تحریک طالبان نے بموں سے نقصان پہنچایا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
11 مئی 2009: خیبر ایجنسی میں لنڈی کوتل سب ڈویژن میں مقبول شاعر امیر حمزہ خان شنواری کے مزار کی بیرونی دیوار کو دھماکہ خیز مواد سے اڑادیا گیا۔
یکم جولائی 2010: جمعرات کی رات داتا دربار لاہور میں تین خودکش دھماکے ہوئے، جس کے نتیجے میں 50 زائرین شہید اور 200 زخمی ہوئی۔
7 اکتوبر 2010: جمعرات کی رات مغرب کی نماز کے بعد حضرت سید عبداﷲ شاہ غازی علیہ الرحمہ کے مزار شریف کے مرکزی گیٹ پر دو خودکش حملے ہوئے جس کے نتیجے میں 20 افراد شہید اور 50 زخمی ہوئے۔ اسی رات کو کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے اس دہشت گردی کی ذمہ داری قبول کرلی۔ جس کے تمام کئی ٹی وی چینلز اور اخبارات گواہ ہیں۔
محترم قارئین کرام! آپ نے مزارات اولیاء پر حملوں کی فہرست ملاحظہ فرمائی۔ اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اولیاء اﷲ رحمہم اﷲ جوکہ ساری زندگی مسلمانوں کی جان و مال کے تحفظ کا درس دیتے رہے، ان سے عداوت اور نفرت رکھنے والے لوگ کون ہیں؟ آیئے قول رسولﷺ کی جانب رجوع کرتے ہیں۔
حدیث شریف: حضور سید عالمﷺ نے ارشاد فرمایا ’’جس نے اﷲ تعالیٰ کے دوست سے ذرا سی بھی دشمنی کی تو اس نے اﷲ تعالیٰ سے اعلان جنگ کیا‘‘ (سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث 1787، ص 486 مطبوعہ فرید بک لاہور پاکستان)
حدیث شریف: حضور سید عالمﷺ نے فرمایا، حدیث قدسی ہے کہ ’’رب فرماتا ہے جو شخص میرے کسی ولی سے عداوت رکھتا ہے ، میں (رب تعالیٰ) اس کے خلاف اعلان جنگ کرتا ہوں‘‘ (بخاری شریف، جلد سوم، رقم الحدیث 1422، ص 624، مطبوعہ شبیر برادرز لاہور پاکستان)
یہ وہی ظالمان ہیں جن کے دلوں میں اولیاء اﷲ رحمہم اﷲ کے خلاف نفرت بھری ہوئی ہے اور اسی نفرت کی آگ کو بجھانے کے لئے مزارات پر خودکش حملے کرواتے ہیں تاکہ ان کے عداوت بھرے دل کو سکون ملے مگر ایسے لوگ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔ انہیں خبر ہی نہیں کہ وہ کن ہستیوں سے عداوت رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج ان ظالمان کا کوئی مددگار نہیں، ان کو ہر لمحہ شکست ہی شکست نصیب ہوتی ہے جس سینے میں بغض اولیاء رکھتے ہیں، بمبار کا بم اسی سینے کو سب سے پہلے ٹکڑے ٹکڑے کرتا ہے۔
عبداﷲ شاہ غازی علیہ الرحمہ کے مزا رپر ظالمان نے یہ ظالمانہ اور فاسقانہ فعل اس وقت انجام دیا جب سینکڑوں لوگ مزار شریف کے اردگرد موجود تھے۔ دن بھی جمعرات کا چنا، جب عقیدت مندوں کی ایک کثیر تعداد غازی بابا علیہ الرحمہ کے مزار پر حاضری دیتے ہیں۔انہوں نے جمعرات کا دن اس لئے بھی منتخب کیا تاکہ جمعۃ المبارک جوکہ مسلمانوں کے لئے عید کا دن قرار دیا گیا ہے، یوم سوگ بن جائے۔
گزشتہ 13 صدیوں سے ہمیشہ گلاب کے عطر سے غازی بابا علیہ الرحمہ کے مزار پرانوار کو غسل دیا جاتا رہا ہے لیکن پہلی بار امن وسلامتی کے دشمنوں، اولیاء اﷲ سے عداوت اور ان کے مزارات سے بغض رکھنے والے تحریک طالبان پاکستان نے اسے خون کا غسل دیا ہے۔
حضرت غازی بابا علیہ الرحمہ کے مزار پرانوار کو اپنی نفرت کی بھینٹ چڑھانے والے دراصل اس وہابی فرقے کے حامل ہیں، جنہوں نے سوات اور اس کے مضافات میں واقع مزارات کو آگ لگائی۔ بم دھماکوں سے اڑایا، علمائے اہلسنت کو سرعام قتل کیا گیا، یہیں پر بس نہیں کیا گیا بلکہ تدفین کے بعد علمائے اہلسنت کی لاشوں کو قبروں سے نکال کر چوراہوں پر لٹکایا گیا۔
کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کے بعد بھی کہا جائے گا کہ بیرونی ہاتھ نے خون کی یہ ندی بہائی ہے اور خونخواروں کا تعلق اسلام سے نہیں ہے؟
محترم قارئین! یہ گھسا پٹا بیان قابل قبول نہیں، نہ حقیقت پر مبنی۔ جو گروہ یا جہادی تنظیمیں کالعدم سپاہ صحابہ، کالعدم لشکر جھنگوی، کالعدم جیش محمد، کالعدم تحریک طالبان پاکستان، کالعدم نفاذ شریعت محمدی، کالعدم لشکر طیبہ ملک بھر میں آگ و خون کا یہ بہیمانہ کھیل کھیل رہی ہیں۔ ان تمام کا تعلق دیوبندی اور غیر مقلد اہلحدیث فرقے سے ہے۔ ان کالعدم جماعتوں کے سربراہ، عہدیداران اور کارکنان سب کے سب دیوبندی اور اہلحدیث فرقے کے مدارس سے پڑھے ہیں اور وہ خود کو مسلمان اور مسلمانان اہلسنت کو مشرک و بدعتی اور غیر مسلم قرار دیتے ہیں اور انہیں گردن زدنی کہتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی خبر 14 سو برس پہلے تاجدار کائنات حضور اکرم نور مجسمﷺ نے دی تھی۔
حدیث شریف: حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے حضور سید عالمﷺ کی خدمت میں کچھ خام سونا مٹی میں لگا ہوا بھیجا تو آپﷺ نے وہ چار آدمیوں میں تقسیم فرمادیا (یعنی اقرع بن حابس حنظلی مجاشعی، عینیہ بن بدرالغزاری، زید الخیل طائی اور علقمہ بن علاثہ عامری کے درمیان) قریش اور انصار اس پر ناراض ہوئے اور کہاکہ نجد کے رئیسوں کو مال عطا فرمادیا اور ہمیں نظر انداز کردیا گیا۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں ان کے دلوں میں اسلام کی محبت ڈالتا ہوں۔ پس ایک آدمی آگے بڑھا جس کی آنکھیں دھنسی ہوئی تھیں، گال پھولے ہوئے تھے، پیشانی ابھری ہوئی تھی اور داڑھی گھنی تھی۔ اس نے کہا اے محمدﷺ! اﷲ تعالیٰ سے ڈر (معاذ اﷲ) آپﷺ نے فرمایا! اﷲ تعالیٰ کی اطاعت کون کرے گا؟ اگر میں اس کی نافرمانی کرتا ہوں۔ اﷲ تعالیٰ نے تو مجھے زمین والوں پر امانت دار شمار فرمایا ہے، لیکن کیا تم مجھے امانتدار نہیں سمجھتے؟ پس ایک آدمی نے اسے قتل کرنے کا سوال کیا۔ میرے خیال میں وہ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ تھے، آپﷺ نے منع فرمایا جب وہ لوٹ گیا تو آپﷺ نے فرمایا اس کی نسل یا پیٹھ سے ایسے لوگ (پیدا) ہوں گے جو قرآن مجید پڑھیں گے لیکن (قرآن) ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ وہ اسلام سے نکلتے ہوئے ہوں جیسے کمان سے تیر نکل جاتا ہے۔ وہ اہل اسلام کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو چھوڑ دیا کریں گے۔ اگر میں انہیں پائوں تو قوم عاد کی طرح مٹا کر رکھ دوں (ابو دائود، جلد سوم، کتاب السنت، رقم الحدیث 1337، ص 497 مطبوعہ فرید بک لاہور پاکستان)
یہی وہ خودکش حملہ آوروںکے سرپرست ہیں جو مسلمانوں کے دلی بدخواہ اور بت پرستوں (کافروں، مشرکوں) کے خیرخواہ ہیں، جنہوں نے کبھی کسی مندر پر خودکش حملہ نہیں کیا، کسی چرچ یا گردوارے پر خودکش حملہ نہیں کیا، کسی سنیما کو بم سے نہیں اڑایا، کسی شراب خانے پر حملہ نہیں کیا اور نہ ہی کبھی طوائفوں کے مرکز پر حملہ کیا۔ اگر حملہ کیا تو مسلمانوں کی مسجدوں پر دوران نماز حملہ کیا، اگر حملہ کیا تو اﷲ تعالیٰ کے نیک بندوں کے مزارات پر حملہ کیا، اگر حملہ کیا تو پاک فوج کے دستوں پر حملہ کیا۔ کیوں؟
صرف اس لئے کہ ان کا مقصد صرف اور صرف رشد و ہدایت کے مرکز پر حملہ کرنا ہے۔ یہی وہ خارجی گروہ ہے جو ہر دور میں مختلف رنگوں کے اندر نظر آتے ہیں ان کا آخری گروہ دجال کے ساتھ ہوگا۔
مگر افسوس کہ وہابیوں اور دیوبندیوں کی کالعدم مذہبی جماعتیں جن میں کالعدم سپاہ صحابہ، کالعدم لشکر جھنگوی، کالعدم جیش محمد، کالعدم تحریک نفاذ شریعت محمدی، کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور کالعدم لشکر طیبہ شامل ہیں، انہوں نے ہمیشہ سے ان خارجیوں اور حملہ آور گروہ کی حمایت کی ہے۔ کبھی ان کی مذمت اور ان سے لاتعلقی کا اعلان نہیں کیا۔ جماعت اسلامی کے امیر منور حسن اور جمعیت علماء اسلام کے سربراہ فضل الرحمن تو ان حملہ آور گروہ کی آج تک حمایت کرتے ہیں۔ ان کے مدارس سے ان دہشت گردوں کے خلاف اب تک کوئی فتویٰ جاری نہیں ہوا، عوام اس کو کیا سمجھے؟
ضرورت اس امر کی ہے کہ کالعدم قرار دی گئی تنظیموں اور ان کی حمایت کرنے والوں کے خلاف کریک ڈائون کیا جائے۔ ان کے خلاف بھرپور آپریشن کیا جائے۔ ہر سیاسی اور مذہبی تنظیم کو غیر مسلح کیا جائے۔ خدارا! اب بھی حکومت اور فوج ہوش کے ناخن لے۔ کالعدم مذہبی جماعتوں کو ہرگز ڈھیل نہ دی جائے۔ کالعدم تنظیموں پر نہیں بلکہ ان کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کی جائے اور ان کے ہر کارکن اور حمایتی پر کڑی نظر رکھی جائے۔