حضور فیض ملت کے ساتھ گزرے ہوئے لمحات

in Tahaffuz, October-November 2010, شخصیات, مو لا نا شہز ا د قا د ری تر ا بی

ماہ رمضان کی رحمتوں اور برکتوں بھری ساعتیں گزر رہی تھیں، دل ویسے بھی سیلاب زدگان بھائیوں کی تکلیف سے غم میں ڈوبا ہوا تھا۔اسی اثنا15 رمضان کی صبح ٹیلی فون کی گھنٹی بجی، فون اٹھایا تو آواز آئی کہ ساڑھے تین ہزار کتابیں لکھنے والے برصغیر کے سب سے بڑے مصنف شیخ الاسلام والمسلمین مفسر قرآن شیخ الحدیث و التفسیر بقیۃ السلف حضرت علامہ مولانا مفتی ابوصالح فیض احمد اویسی صاحب علیہ الرحمہ وصال فرما گئے ہیں۔ بس خبر سنتے ہی دل مزید غم میں ڈوب گیا۔ مصروفیات کے باوجود بھی لمحہ بہ لمحہ آپ کی یادیں، آپ کی شیریں اور شفقت بھری گفتگو، آپ کا نورانی چہرہ، آپ کی صوفیانہ ادائیں اب بھی میری نظروں میں گھومتی ہیں۔ واﷲ! میں اب تک آپ علیہ الرحمہ کی یادوں کو دل سے نہیں نکال سکا۔
آپ نے اپنی ساری زندگی لکھنے اور پڑھانے میں صرف کردی۔ ہر وقت کتابوں کے دریا میں غوطہ زن رہتے۔ اﷲ تعالیٰ نے آپ کو بے شمار صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ آپ پیر طریقت، رہبر شریعت اور ولی نعمت تھے۔ آپ کی زیارت کرنے والا یہ محسوس کرتا تھا ہم صوفیائے کرام کے دور میں دوبارہ لوٹ آئے ہیں اور ایک زندہ دل ولی اﷲ کی زیارت کررہے ہیں۔ چھوٹا ہو یا بڑا، غریب ہو یا امیر، محب ہو یا مرید سب کے ساتھ شفقت بھرا رویہ رکھتے تھے۔
میری آپ سے سب سے پہلی ملاقات 2000ء میں ہوئی، جب آپ پاکستان چوک پر واقع علامہ عثمان برکاتی صاحب کی دکان پر ماہ رمضان میں بعد نماز عصر تشریف لائے۔ تھوڑی دیر دکان پر تشریف فرما ہوئے اور اپنے کسی محب کے گھر کھارادر پولیس چوکی تشریف لے گئے۔ جب آپ علامہ عثمان برکاتی صاحب کی دکان پر تشریف فرما تھے تو علامہ عثمان برکاتی صاحب نے مجھ سے بڑی پیاری بات ارشاد فرمائی کہ آج ہماری خوش نصیبی ہے کہ برصغیر کا سب سے بڑا مصنف ہماری دکان پر تشریف فرما ہے اور مجھے اس پر فخر ہے۔
کھارادر پولیس چوکی کے قریب اپنے کسی محب کے گھر افطار کی، میں بھی آپ کے ہمراہ تھا۔ بس اس دن سے میں آپ کا گرویدہ ہوگیا۔ آپ کی سادگی، عاجزی و انکساری، صوفیانہ طرز گفتگو اور سمجھانے کا انداز کس کس خوبی کو بیان کروں؟
اس کے بعد ٹیلی فون اور بعد میں موبائل پر آپ کی طبیعت کے متعلق معلوم کرتا اور حضرت سے دعائیں لیتا، فون اٹھاتے ہی میری آواز پہچان لیتے اور مسکراہٹوں سے بھری آواز میں میرا نام لیتے اور فون پر دو باتیں ضرور ارشاد فرماتے کہ اپنے پیرومرشد علامہ سید شاہ تراب الحق قادری صاحب سے میرا سلام کہنا اور دوسری بات دعائیہ کلمات ہوتے۔ آپ فرماتے کہ شہزاد قادری ترابی! سدا بہار رہو گے… سدا بہار رہو گے… ہمیشہ سدا بہار رہو گے۔
میری دوسری ملاقات آپ کے ایک مرید کی شادی پر ہوئی۔ آپ دولہا کے برابر میں تشریف فرما تھے، میں اسٹیج پر دست بوسی کے لئے حاضر ہوا تو آپ نے میرا ہاتھ پکڑ کر اپنی برابر والی کرسی پر بٹھایا اور فرمایا کہ اب میں آپ کو کہیں جانے نہیں دوںگا۔ جب کھانا شروع ہوا تو اپنے ایک طرف دولہا کو اور دوسری طرف مجھ گنہ گار کو بٹھایا اور اپنے ہاتھوں سے میری پلیٹ میں کھانا ڈالتے رہتے، اس وقت خدا کی قسم! میری قسمت بھی اپنی قسمت پر ناز کررہی تھی۔
میری حضرت سے زندگی بھر میں صرف دو ملاقاتیں ہوئیں، میں ان دونوں ملاقاتوں کو نہیں بھول پایا۔ چند سال قبل محمد اویس رضا قادری کو چاندی میں تولا گیا، میں کسی سنی ادارے میںبیٹھا تصویر میںیہ منظر دیکھ رہا تھا کہ اچانک ادارے کے سربراہ نے مجھ سے کہا کہ حضرت! اگر آپ کو چاندی میں تولنے کا اعلان ہوجائے تو؟ میں نے ان سے کہا کہ اگر مجھ سے کوئی یہ کہے کہ ہم آپ کوچاندی میں تولنا چاہتے ہیں تو میں ان سے عرض کروں کہ واقعی اگر آپ کو چاندی میں تولنا ہے تو مفتی فیض احمد اویسی صاحب کو تولیں ان کو توسونے میں بھی تولنا کم ہے۔ میری یہ بات سن کر وہ مسکرا دیئے اور فرمایا کہ ہاں اگر کوئی اس وقت اس لائق کوئی ہستی ہے تو وہ مفتی فیض احمد اویسی صاحب ہیں۔ میں نے اس دن یہ نیت کی تھی کہ اگر میرے پاس مال آیا تو میں مفتی فیض احمد اویسی صاحب کو چاندی میں تولوں گا۔ آہ! میری یہ نیت، نیت ہی رہ گئی اور مفتی صاحب اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔
ہمیں اس بات کا بہت افسوس ہے کہ ہم نے مفتی صاحب کی قدر نہ کی۔ ہم نے مفتی صاحب جیسی ہستی کو پہچانا ہی نہیں۔ آپ کی ایک تصنیف کابھی حق ادا نہ کرپائے، ساڑھے تین ہزار کتابوں کا مصنف کسی فرقے میں نہیں، کوئی فرقہ اتنا بڑا مصنف نہیں لاسکا، نہ لاسکے گا۔ میرے کانوں میں ناظم آباد کے اس وقت کے سابقہ دیوبندی نوجوان کے الفاظ آج بھی گونجتے ہیں، جب وہ تحقیق کی نیت سے ایک دن مکتبہ غوثیہ پرانی سبزی منڈی کراچی آیا اور ہر طرف مفتی فیض احمد اویسی صاحب کی کتابیں دیکھیں تو پکار اٹھا کہ جس مسلک میں فیض احمد اویسی صاحب جیسا مصنف ہو، وہ مسلک جھوٹا ہو ہی نہیں سکتا۔ یہ کہہ کر وہ سنی صحیح العقیدہ ہوگیا۔
صد افسوس! ہم نے کبھی حضرت کی کتابوں کو خرید کر پڑھا ہی نہیں۔ ہم اتنے سنی ہیں اگر پابندی سے مفتی صاحب کی ایک ایک کتاب بھی خریدتے تو مفتی صاحب کی ساری کتابیں شائع ہوجاتیں، کوئی مسودہ باقی نہ رہتا مگر ہماری غفلتوں کی وجہ سے مفتی صاحب کی آدھی کتابوں سے زائد اب تک شائع نہیں ہوسکیں۔ مفتی صاحب نے اپنی زندگی صرف کردی مگر ہم نے اپنا باقی نہ رہنے والا مال تک خرچ نہ کیا۔
اے میرے محترم بھائیو! مفتی صاحب علیہ الرحمہ اس دنیا سے تشریف لے گئے مگر ان کی تصانیف ہمارے لئے مشعل راہ ہیں۔ اب بھی وقت ہے کہ ہم مفتی صاحب علیہ الرحمہ کی تصانیف خرید کر اس سے استفادہ حاصل کریں، تقسیم کریں اور دوسروں کو بھی ترغیب دلائیں تاکہ مفتی صاحب علیہ الرحمہ کے احسانات کا شکریہ ادا ہوسکے۔
اﷲ تبارک و تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مفتی صاحب کی خدمات کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔ آپ کے درجات بلند فرمائے، پسماندگان خصوصا اہل خانہ کو صبر جمیل عطاء فرمائے۔ صبر جمیل پر اجر عظیم عطا فرمائے۔ آپ کی اولاد، تلامذہ اور مریدین کو آپ کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آپ کا پیغام حق دنیا کے کونے کونے میں پہنچے اور اہلسنت کو آپ کا نعم البدل عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین