رویت ہلال سے متعلق چند توھمات اور مفروضات کا ازالہ

in Tahaffuz, October-November 2010, پروفیسر مفتی منیب الرحمن, متفرقا ت

اس سال جمعرات 09ستمبر یعنی29رمضان المبارک کی شام کو شوال المکرم کا چاند نظر نہیں آیا تھا۔ لہٰذا جمعتہ المبارک 10ستمبرکو 30رمضان المبارک تھی اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہمیں مزید ایک روزے کی سعادت نصیب ہوئی۔ اس دن سہ پہر کو غروب آفتاب سے کچھ دیر پہلے اسلام آباد اور بعض علاقوں میں لوگوں کو چاند نظر آ گیا۔ اس سے لوگ شکوک شبہات میں مبتلا ہوئے۔ کیونکہ ہندوؤں کے ساتھ رہنے کی وجہ سے ہم بہت سے توہمات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ بعض باتیں جو روایتی طور پر چلی آ رہی ہیں ہم ان کے حصار سے نہیں نکل پاتے اور اس میں تعلیم یافتہ اور غیر تعلیم یافتہ حضرات میں بھی بعض اوقات کوئی فرق نہیں رہتا۔ خواہ جدید سائنسی علم ہو یا دینی علم۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ہمارا صرف نظریاتی(Teoratical)ہوتا ہے، عملی (Practical)اور اطلاعاتی(Applied)نہیں ہوتا۔ہمیں بتایا گیا کہ بعض روزے داروں نے روزہ توڑ دیا بہت معتکفین نے اعتکاف توڑ دیا۔ کم علمی کے سبب بعض مساجد سے غروب آفتاب سے پہلے چاند نظر آنے کا اعلان کر دیا گیا۔ ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ اس مسئلے کے تمام ضروری پہلوؤوں پر گفتگو کریں تاکہ جو لوگ مثبت ذہن کے مالک ہیں اور روایات و توہمات کے اسیر نہیں ہیں، ان میں آگہی (Awairness)پیدا ہو اور کھلے دماغ کے ساتھ وہ حق بات کو قبول کریں۔ یہ علمی بحث اس لئے ضروری ہے کہ یہ شریعت کا ایک دائمی اور ہمیشہ جاری رہنے والا مسئلہ ہے۔
قمری مہینے کا دورانیہ
قمری مہینہ یا تو29دن کا ہوتا ہے۔ یا 30دن کا۔ حدیث پاک میں ہے ترجمہ ’’عبد اللہ بن عمررضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے(اپنے دونوں ہاتھوں کی دس انگلیوں کو کشادہ کر کے تین مرتبہ اشارہ کرتے ہوئے )فرمایا(قمری مہینہ) اس طرح اور اس طرح ہوتا ہے، یعنی پورے تیس دن کا پھر آپ ﷺ نے( اسی طرح تین بار اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو کشادہ کر کے تین بار اشارہ کرتے ہوئے) فرمایا (قمری مہینہ) اس طرح، اس طرح اور اس طرح ہوتا ہے۔(اور آخری بار آپ نے ایک ہاتھ کے انگوٹھے کو دبا لیا۔ یعنی29دن کا ، یعنی کبھی مہینہ پورے30دن کا ہوتا ہے۔ اور کبھی29دن کا(صحیح بخاری، رقم الحدیث 5302)‘‘۔
کیا کئی قمری مہینے مسلسل 29دن یا 30دن کے ہو سکتے ہیں؟
شریعت میں اس طرح کا کوئی طے شدہ ضابطہ نہیں ہے کہ سال میں کتنے قمری مہینے مسلسل30دن کے یا مسلسل29دن کے ہو سکتے ہیں ؟ قرآن و سنت میں ایسی کوئی تصریح نہیں ہے۔ کہ زیادہ سے زیادہ کتنے قمری مہینے مسلسل 30دن ہو سکتے ہیں اور کتنے مسلسل 29دن کے ہو سکتے ہیں۔ امام احمد رضا قادری قدس سرہ العزیز نے علامہ قطب الدین شیرازی مصنف تحفہ شاہیہ وزیج الغ بیگی کے حوالے سے لکھا ہے کہ ’’زیادہ سے زیادہ مسلسل چار قمری مہینے 30دن کے ہو سکتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ مسلسل تین قمری مہینے ممکنہ طور پر29دن کے ہو سکتے ہیں،(فتاویٰ رضویہ، جلد26،ص423:رضا فاؤنڈیشن ،لاہور)
امام احمد قسطلانی نے ارشادالساری شرح صحیح بخاری میں لکھا ہے ’’2یا3 قمری مہینے مسلسل 29دن کے ہو سکتے ہیں، 4ماہ سے زائد مسلسل 29دن کے نہیں ہو سکتے، (جلد3،ص357) ‘‘۔ایک ماہر فلکیات نے لکھا ہے کہ زیادہ سے زیادہ مسلسل 5قمری مہینے 29دن کے ہو سکتے ہیں، لیکن یہ سب امکانات کی بات ہے ان پر کسی شرعی فیصلے کا مدار نہیں ہے۔ ہمارے پاس اس کی سائنسی توجیہہ کا ایک چارٹ موجود ہے جسے ہم یہاں جگہ کی تنگی کے باعث شامل نہیں کر پا رہے، ہماری فتاویٰ کی کتاب ’’تفہیم المسائل ‘‘جلد ششم میں یہ ساری تفصیلات چارٹ کے ساتھ موجود ہیں جو عنقریب شائع ہو رہی ہے۔
نئے چاند کا چھوٹا بڑا ہونا
نئی قمری تاریخ کے تعین کامدار شرعاً اور سائنسی طور پر ہلال کے چھوٹا بڑا ہونے یا غروب آفتاب کے بعد مطلع پر اس کے موجود ہونے کی مقدار وقت (Timing)سے نہیں ہوتا، جیسا کہ ہمارے بعض اوقات اہل علم بھی کہہ دیتے ہیں، کہ چاند کافی بڑا ہے اور کافی دیر تک مطلع پر موجود رہا، لگتا ہے کہ ایک دن پہلے کا ہے۔ یہ سوچ اور طرز فکر غیر شرعی اور غیر سائنسی ہے۔ حدیث پاک میں ہے ترجمہ’’ابو البختری بیان کرتے ہیں کہ ہم عمرے کے لئے گئے، جب ہم وادی نخلہ میں پہنچے تو ہم نے چاند دیکھنا شروع کیا، بعض لوگوں نے کہا کہ یہ تیسری تاریخ کا چاند لگتا ہے‘‘ اور بعض نے کہا ’’یہ دوسری تاریخ کا چاند لگتا ہے۔ ‘‘ راوی بیان کرتے ہیں پھر ہماری ملاقات حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اﷲ عنہ سے ہوئی تو ہم نے (قیاس کی بنیاد پر اختلاف کی) یہ صورتحال ان سے بیان کی ، تو انہوں نے فرمایا’’تم نے چاند کس رات کو دیکھا تھا ‘‘؟ ہم نے کہا ’’فلاں رات کو ’’انہوں نے کہا رسول اللہﷺ  نے فرمایا ’’اللہ تعالیٰ نے تمہارے دیکھنے کیلئے اسے بڑھا دیا، در حقیقت یہ اسی رات کا چاند ہے، جس رات کو تم نے اسے دیکھا ہے ‘‘ (صحیح مسلم، رقم الحدیث2418)‘‘۔
یہ حدیث اس مسئلہ میں شریعت کی اصل ہے کہ نئے چاند کا مدار رویت پر ہے، اس امر پر نہیں ہے کہ اس کا سائز چھوٹا ہے یا بڑا یا مطلع پر اس کے نظر آنے کا دورانیہ کم ہے یا زیادہ ، اس لئے کسی عالم یا تعلیم یافتہ شخص کا نیا چاند دیکھ کر یہ کہنا کہ یہ دو یا تین تاریخ کا لگتا ہے، یہ غیر شرعی اور غیر عالمانہ ہے۔ اسی طرح سائنسی حقیقت بھی یہی ہے مثلاً کسی قمری مہینے کے 29تاریخ گزرنے کے بعد شام کو نئے چاند کا غروب آفتاب کے فوراً بعد مطلع پر ظہور تو ہے مگر اس کا درجہ چار یا پانچ ہے، اس کی عمر18گھنٹے ہے اور مطلع پر اس کا ظہور پندرہ بیس منٹ ہے۔ تو اس صورت میں چاند مطلع پر موجود تو ہے لیکن اس کی رویت کا قطعاً کوئی امکان نہیں ہے۔ لہٰذا یہ قمری مہینہ30دن کا قرار پائے گا۔ اب اگلی شام کو اس چاند کی عمر 42گھنٹے ہو جائے گی۔ مطلع پر اس کا درجہ12یا اس سے اوپر ہو جائے گا اور مطلع پر اس کا استقرار بھی نسبتاً زیادہ وقت کے لئے ہوگا۔ مثلاً پچاس منٹ اور اس کا حجم (Size)بھی بڑا ہو گا لیکن یہ قطعیت کے ساتھ چاند کی پہلی تاریخ ہو گی۔ لہٰذا میری اہلم علم اور اہل وطن سے اپیل ہے کہ توہمات کے حصار سے نکلیں اور حقیقت پسند بنیں۔
اس موضوع پر ہم رویت ہلال ریسرچ کونسل کے سیکرٹری جنرل خالد اعجاز مفتی صاحب کے مضمون کا ایک اقتباس پیش کر رہے ہیں ’’بعض لوگ قمری مہینے کی 30تاریخ کی شام کو دکھائی دینے ہالے نئے چاند کی جسامت کو نسبتاً دیکھ کر یہ قیاس آرائی کرنے لگتے ہیں کہ یہ لازمی طور پر دوسری رات کا چاند ہے۔ یہ سوچ چاند کے فلکیات نظام سے لا علمی پر مبنی ہے۔نئے چاند کی جسامت کا کوئی خاص پیمانہ نہیں ہوتا۔ اس کا اندازہ اس کی عمر سے کیا جا سکتا ہے۔ قبل ازیں بیان کیا جا چکا ہے کہ ماہر فلکیات کے مشاہدوں کے مطابق20گھنٹے کی عمر کا چاند عموماً دکھائی نہیں دیتا اور20سے30گھنٹے کے درمیان عمر کا چاند دکھائی دینے کا انحصار متعدد فلکیاتی کیفیات پر ہوتا ہے۔ اس طرح چاند کے پہلی مرتبہ نظر آنے کی عمر50سے بھی زائد گھنٹوں تک ہو سکتی ہے۔لہٰذا مختلف عمروں کے چاند جسامت کے حامل ہوتے ہیں۔ اس کی وضاحت درج ذیل مثالوں سے ہو گی۔
مثال(1)ایک قمری مہینے کی29تاریخ کی شام کو ایک مقام پر چاند کی عمر21گھنٹے ہے اور اس کے دیکھے جانے میں کوئی فلکیاتی کیفیت مزاحم نہیں، لہٰذا رویت ہلال ہو گئی۔ اگر اس کی عمر 18گھنٹے ہوتی تو وہ نظر نہ آتا بلکہ اگلی شام کو مزید24گھنٹے گزر جانے کے باعث (18+24)42گھنٹے کی عمر ہو جانے پر پہلی مرتبہ دکھائی دیتا۔ اب اندازہ کیجئے کہ نیا چاند اول صورت میں 21گھنٹے کی عمر میں نظر آ گیا جبکہ صورت دوم میں42گھنٹے کی عمر میں دکھائی دیا۔دونوں چاند پہلی رات کے ہیں۔ لیکن موخر الذکر صورت میں اس کی عمر دو گنا ہو جانے کے باعث اسی قدر جسامت کا حامل ہو گا اور اس حساب سے افق سے کافی بلند ہو گا جسے لوگ غلطی سے دوسری رات کا چاند خیال کریں گے۔مثال(2)یہ کم از کم کیفیت ہے، نیا چاند اس سے بھی بڑی جسامت کا ہو سکتا ہے۔ جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا کہ20سے30گھنٹوں کے درمیان عمر کا چاند دکھائی دینے کا انحصار متعدد فلکیاتی کیفیات پر بھی ہوتا ہے۔ فرض کیجئے کہ24گھنٹے کی عمر کا چاند دیگر فلکیاتی کیفیات کے موزوں نہ ہونے کے باعث دکھائی نہ دے سکا( جیسا کہ پچھلے عنوان کے تحت نقشہ اول میں ہم اس کے عملاً واقع ہونے کی صورت میں دیکھ چکے ہیں) جب وہ اگلی شام کو نظر آئے گا تو اس کی عمر(24+24)48ہو چکی ہوگی ،لہٰذا وہ مثال اول میں42گھنٹے کی عمر میں دکھائی دینے والے چاند سے بھی بڑا ہو گا۔
مثال(3)یہی نہیں بلکہ ایک صورت میں پہلی رات کا چاند دوسری رات کے چاند سے بھی بڑا ہو سکتا ہے۔ مثال اول میں21گھنٹے کی عمر کا چاند نظر آ گیا لہٰذا اگلی شام کو جب یہ دوسری تاریخ میں داخل ہو گیاتو اس کی عمر(21+24)45گھنٹے ہوگی۔ مثال دوئم میں پہلی رات کا چاند48گھنٹے کی عمر میں دکھائی دیا۔ ظاہر ہوا کہ پہلی رات کا48گھنٹے کی عمر کا چاند دوسری رات کے45گھنٹے کی عمر کے چاند سے بھی بڑا ہے۔درج بالا مثالوں سے واضح ہوا کہ تیس کے چاند کی جسامت کو بڑا دیکھ کر یہ قیاس کرنا ضروری کرنا ہے کہ یہ ضروری طور پر دوسری رات کا چاند ہے، درست نہیں۔
چودہویں رات کے چاند سے رویت کی درستگی کا اندازہ کرنا
عوام الناس میں یہ تصور عام ہے کہ رویت ہلال کے مطابق چودہویں رات کو چاند پوری شب مکمل دائرے کی صورت میں روشن ہوتا ہے۔ اس تصور کے تحت بعض لوگ چاند کی گولائی کی ظاہری تکمیل سے اس ماہ کی رویت ہلال کی درستگی کا اندازہ کرتے ہیں۔ یہ معیار قطعاً درست نہیں۔ چاند کی روشن جسامت ہر لمحے مسلسل بڑھتی یا گھٹتی رہتی ہے۔ قمری مہینے کے نصف اول میں بڑھتے رہنے کے عمل کے بعد ایک لمحہ ایسا آتا ہے کہ زمین کے مقابل چاند کی پوری جسامت روشن ہو جاتی ہے۔ فلکیات کی اصطلاح میں اسے ’’فل مون (Full moon)یا ’’ماہ کامل‘‘ کہتے ہیں اور یہ وقت کرہ ارض پر صبح ، دوپہر شام اور رات کے چوبیس گھنٹوں پر پھیلے ہوئے اوقات میں کوئی لمحہ بھی ہو سکتا ہے۔ اس کے فوراً بعد اس کی روشن سطح کے گھٹنے کا عمل جاری ہوجاتا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ چاند ساری رات یکساں جسامت کے ساتھ روشن نہیں رہتا۔ محض آنکھوں سے چاند دیکھ کر یہ اندازہ کرنا کہ یہ پورا چاند ہے بالکل ممکن نہیں اور نہ ہی بظاہر پورا دکھائی دینے والے چاند پر گھنٹوں نظر جما کر بھی یہ دعویٰ کیا جا سکتا ہے۔ کہ یہ تکمیل کے مرحلے میں ہے یا اس کے بعد مسلسل گھٹنے کے عمل میں ہے۔ یہ کام رصد گاہی آلات ہی انجام دے سکتے ہیں۔ جس طرح ماہرین فلکیات اپنے خصوصی فارمولوں پر چاند کی پیدائش کے ماہانہ اوقات کا تعین کرتے ہیں ،اسی طرح وہ ہر مہینے کے ماہ کامل کے اوقات بھی معلوم کرتے ہیں۔ پس چودہویں رات کے عمومی تصور سے اس ماہ کی رویت ہلال معلوم کرنے کا معیار مقرر کرنا درست نہیں۔ ‘‘
دن کے وقت نظر آنے والے چاند کے بارے میں وضاحت
چاند کی روایت سے متعلق یہ ضابطہ ذہن نشین رہنا چاہئے کہ دن کے وقت نظر آنے والا چاند خواہ وہ زوال سے پہلے نظر آئے یا بعد میں آئندہ آنے والی رات کا قرار پائے گا۔ اور اب جو رات آئے گی، مہینے کا آغاز اسی سے ہو گا امام اعظم ابو حنیفہ اور امام محمد رحمہما اللہ کا قول یہی ہے اور یہی قول مختار ہے۔ علامہ علاؤ الدین حصکفی لکھتے ہیں کہ ترجمہ ’’ اور جو چاند دن کے وقت نظر آئے، صحیح مذہب کے مطابق وہ ہر صورت میں اگلی رات کا شمار کیا جائے گا ‘‘ علامہ ابن عابدین شامی کی اس کی شرح میں لکھتے ہیں ترجمہ ’’یعنی (دن میں چاند)زوال سے قبل نظر آئے یا زوال کے بعد( اس کا حکم ایک ہی ہے) ’’مذہب پر ‘‘ ہونے کا معنی یہ ہے کہ قول امام ابو حنیفہ اور امام محمد رحمہا اللہ کا ہے۔ بدائع الصنائع میں فرمایا’’ پس طرفین (امام اعظم اور امام محمد ) کے نزدیک وہ دن رمضان کا نہیں ہو گا ،امام ابو یوسف فرماتے ہیں کہ اگر زوال کے بعد نظر آیا تو بے شک آئندہ شب کا ہے اور اگر زوال سے قبل نظر آیا تو پچھلی شب کا ہے اور وہ دن رمضان کا ہو گا اور ائمہ احناف اسی اختلاف پر (امام یوسف کے نزدیک) یہ شوال کا چاند ہے یعنی طرفین (امام اعظم ابو حنیفہ اور امام محمد رحمہماا للہ تعالیٰ) کے نزدیک (دن میں چاند زوال سے پہلے نظر آئے یا زوال کے بعد) ہر صورت میں آئندہ شب کا ہے اور وہ دن رمضان کا ہو گا۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک اگر زوال سے پیشتر نظر آیا تو چاند شب گزشتہ کا ہے اور یہ دن عید کا ہے، اس لئے کہ ہلال عادتاً زوال سے قبل نظر نہیں آتا سوائے اس کے کہ دو رات کا چاند ہو، پس ہلال رمضان میں وہ دن رمضان کا ہونا ضروری ہوا اور شوال کے چاند میں عید کا دن اور طرفین کے نزدیک اصل یہ ہے کہ دن کی رویت کا اعتبار نہیں، اعتبار غروب کے بعد کا ہے کیونکہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’(رمضان کا) چاند دیکھ کر روزے رکھو اور چاند دیکھ کر ہی روزہ چھوڑو‘‘ (صحیح بخاری، رقم الحدیث: 1909)۔ پس صوم و افطار کا حکم رویت کے بعد ہے۔ اس صورت میں امام ابو یوسف کا قول نص کے مخالف ہے۔ ’’فتح القدیر‘‘ میں ہے: حدیث شریف نے روزہ رکھنے یا عید منانے کے لئے یہ لازم قرار دیا ہے کہ چاند پہلے نظر آئے۔ صحابہ کرام، تابعین اور ان کے بعد والے (ائمہ کرام) کے نزدیک رویت سے ظاہر مفہوم یہی ہے کہ ہر قمری مہینے کی آخری شام کو (غروب آفتاب کے بعد) چاند نظر آئے، یعنی ہر مہینے کی تیس تاریخ کو زوال سے قبل رویت معتبر نہیں ہے اور مختار قول امام ابو حنیفہ اور امام محمد رحمہما اللہ کا ہے۔ (رد المختار، جلد 3، ص: 322، داراحیاء التراث العربی، بیروت)‘‘۔
امام احمد رضا قادری قدس سرہ العزیز سے سوال کیا گیا: ’’اخیر تاریخ رمضان شریف کا روزہ چاند دیکھ کر افطار کر لینا جائز ہے یا نہیں یعنی تیسویں کا چاند اکثر تیسرے پہر سے نظر آتا ہے تو آیا اسی وقت روزہ کھول لیں یا غروب آفتاب کے بعد؟ آپ نے جواب میں لکھا: کسی تاریخ کا روزہ دن سے افطار کر لینا ہر گز جائز نہیں بلکہ حرام قطعی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرض کیا کہ روزہ رات تک پورا کرو یعنی جب آفتاب ڈوبے اور دن ختم اور رات شروع ہو، اس وقت کھولو۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ترجمہ: ’’پھر روزہ کو شام تک پورا کرو۔ (بقرہ: 187)‘‘۔ درمختار میں ہے: ترجمہ: ’’امام کے صحیح معتمد مذہب کے مطابق ہر حال میں دن کو چاند دیکھنے کا کوئی اعتبار نہیں، مگر امام ثانی (امام ابو یوسف) کے قول پر ہے کہ اگر زوال سے پہلے دیکھا تو یہ گزشتہ رات کا ہو گا، تو اب افطار کا یہ معنیٰ نہیں کہ یہ دن کے روزے کا افطار ہے بلکہ اس سے امام ثانی کے نزدیک ثبوت عید ہو رہا ہے کیونکہ گزشتہ رات کا چاند ہے تو عید کی وجہ سے افطار ہے اور حضورﷺ کے فرمان مبارک ’’چاند دیکھنے پر روزہ رکھو اور چاند دیکھنے پر عید کرو‘‘ کا معنی یہ نہیں کہ جب دیکھو تو افطار کرو، ورنہ یہ لازم آئے گا کہ مغرب کے بعد محض چاند دیکھنے سے اسی وقت روزہ لازم ہو جائے اور یہ نہایت ہی واضح ہے۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد 10، ص: 388-389، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)‘‘۔ اعتکاف خواہ قصداً توڑا ہو یا کسی عذر کے سبب، اس کی قضا واجب ہے اور جس دن توڑا فقط اس ایک دن کی قضا لازم ہے۔ یہ قضا روزے کے ساتھ ہو گی۔ علامہ نظام الدین رحمہ اللہ تعالیٰ لکھتے ہیں : ترجمہ: ’’اور جب اعتکاف واجب فاسد ہوگیا، تو اس کی قضا واجب ہے۔ پس اگر وہ کسی معین مہینے کا اعتکاف تھا، تو جس دن افطار کیا (یعنی اعتکاف فاسد ہوا) اسی ایک دن کی قضا اس کے ذمے لازم ہے۔ (فتاویٰ عالمگیری، جلد1، ص: 213)‘‘۔
علامہ غلام رسول سعیدی تفسیر تبیان القرآن میں علامہ ابن عابدین شامی حنفی کے حوالے سے لکھتے ہیں: ’’رمضان کے آخری عشرہ کا اعتکاف ہر چند کہ نفل ہے لیکن شروع کرنے سے لازم ہو جاتا ہے، اگر کسی شخص نے ایک دن کا اعتکاف کر کے فاسد کر دیا تو امام ابو یوسف کے نزدیک اس پر پورے دس دن کی قضا لازم ہے اور امام ابو حنفیہ اور امام محمد رحمہما اللہ کے نزدیک اس پر صرف اسی دن کی قضا لازم ہے (یعنی روزے کے ساتھ ایک دن کا اعتکاف)۔ اس کے برعکس نفل میں اگر کچھ دیر مسجد میں بیٹھ کر باہر نکل گیا تو اس پر قضا نہیں کیونکہ اس کے باہر نکلنے سے وہ اعتکاف ختم ہو گیا۔
(تبیان القرآن، جلد 1،ص: 739)‘‘۔
جن لوگوں نے روزہ توڑ دیا ان کے لئے حکم یہ ہے کہ وہ بعد میں اس ایک روزے کی قضا رکھیں، کفارہ لازم نہیں۔ اس کی نظیر یہ مسئلہ ہے کہ اگر کسی نے رمضان یا عید کا چاند دیکھا مگر اس کی گواہی کسی سبب سے رد کر دی گئی مثلاً فاسق ہے یا عید کا چاند اس نے تنہا دیکھا تو اسے حکم ہے کہ روزہ رکھے اگرچہ اس نے خود عید کا چاند دیکھا ہے، مگر اس روزہ کو توڑنا جائز نہیں اگر توڑے گا تو کفارہ لازم نہیں۔ علامہ علاؤ الدین حصکفی لکھتے ہیں : ترجمہ: ’’کسی عاقل بالغ نے رمضان یا عید کا چاند دیکھا اور اس کا قول دلیل شرعی کی بنا پر رد کر دیا گیا (یعنی اس کی گواہی قبول کر کے اس پر فیصلہ نہیں کیا گیا) تو اس کے لئے مطلقاً روزہ رکھنا واجب ہے اور ایک قول یہ ہے کہ اس کے لئے روزہ رکھنا مستحب ہے، اگر روزہ نہ رکھا تو فقط قضا ہے، کیونکہ گواہی رد ہونے کی بنا پر اس کے لئے صورت مسئلہ مشتبہ ہے (اور حدود و کفارات شبہے کی بنا پر ساقط ہو جاتے ہیں)۔
(رد المحتارعلی الدرالمختار، جلد 3، ص: 313، داراحیاء التراث العربی، بیروت)‘‘
فقہی حوالہ جات کی روشنی میں شرعی مسئلہ واضح کرنے کے بعد ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ سائنسی اور فنی وجوہات کو بھی قارئین کے سامنے لائیں۔ اس سلسلے میں رویت ہلال ریسرچ کونسل کے سیکرٹری جنرل خالد اعجاز مفتی صاحب کی سائنسی توجیہہ درج ذیل ہے:
’’09 ستمبر 2010ء بمطابق 29/ رمضان المبارک کی شام پاکستان کے کسی بھی حصے سے رویت ہلال کی مستند شہادتیں موصول نہ ہونے کے باعث مرکزی رویت ہلال کمیٹی پاکستان نے عدم رویت کا فیصلہ کیا اور اس طرح 10/ستمبر 2010ء جمعتہ المبارک کو 30 رمضان المبارک اور 11/ستمبر 2010ء کو یکم شوال المکرم 1431ھ قرار دیا۔ یہ فیصلہ سائنس اور فلکیات کی رو سے بھی درست ہے۔ جمعتہ المبارک 10/ستمبر کو سہ پہر تقریباً تین بجے اسلام آباد میں چاند دکھائی دینا کوئی غیر معمولی بات نہیں بلکہ سائنس کے عین مطابق ہے۔ ’’نئے چاند‘‘ کی فلکیاتی اور دینی اصطلاحات کے علاوہ رویت ہلال کے سائنسی پہلوؤں پر غور کرنا ہو گا۔ اگر ہم چاند کے بڑھنے گھٹنے کے عمل پر غور کریں تو ہم محسوس کرتے ہیں کہ قمری ماہ کے پہلے دو ہفتوں کے دوران یہ ہمیں روز بڑھتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ یہاں تک کہ ایک موقع پر یہ دائرے کی صورت میں مکمل ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد اگلے دو ہفتے اس کی جسامت (Size) ہر روز کم ہوتی نظر آتی ہے اور ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ چاند نظروں سے بالکل غائب ہو جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی دوبارہ چاند کے بڑھنے کا عمل نئے سرے سے شروع ہوتا ہے۔ اس وقت کو قرآن شمس و قمر (Conjunction) یا اتصال شمس و قمر یا اماوس کہتے ہیں۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب سورج اور چاند ایک سیدھ میں صفر درجہ پر ہوتے ہیں۔ علم فلکیات میں یہی اس کے ’’نیا چاند‘‘ کہلانے کا وقت ہے اور رصد گاہی کی کتب میں نئے چاند کے اوقاف اسی کیفیت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسے نئے چاند کی پیدائش بھی کہتے ہیں اور چاند کی طبعی عمر اسی وقت سے شمار کی جاتی ہے۔
فلکیاتی اصطلاح کا نیا چاند اپنے ابتدائی دور میں بال سے زیادہ باریک، سورج سے بہت قریب اور اس کی طاقت ور شعاعوں کی براہ راست زد میں ہوتا ہے، لہٰذا انسانی آنکھیں یا غیر معمولی قوت کی دوربینیں بھی اسے دیکھنے کے قابل نہیں ہوتیں۔ جوں جوں چاند کی عمر زیادہ ہوتی جاتی ہے، اس کی جسامت بھی بڑھتی جاتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ وہ سورج سے دور ہٹتے ہوئے اس کی شعاعوں کی طاقت سے بھی بتدریج محفوظ ہوتا چلا جاتا ہے۔ بالآخر ایک وقت اس کا وجود اس قدر ہو جاتا ہے کہ سورج سے ایک خاص فاصلے پر غروب آفتاب کے بعد انسانی آنکھوں کو پہلی بار نظر آنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ یہ بصری نیا چاند ہے، جو دوسرے الفاظ میں رویت ہلال کے معروف نام سے موسوم ہے۔ فلکیاتی اور مقامی احوال کے تحت رویت ہلال پر اثر انداز ہونے والے عوامل یوں ترتیب دیئے جا سکتے ہیں۔
فلکیاتی کیفیات: (الف) چاند کی عمر (ب) غروب شمس اور غروب قمر کے درمیان فرق (ج) چاند کا سورج سے زاویائی فاصلہ (Longitudinal Distance) (د) سورج کا افق سے نیچے ہونا (ح) چاند کا ارتفاع (Altitude of Moon) (و) چاند کا زمین سے فاصلہ۔
مقامی کیفیات: (الف) مطلع (Horizon) کی کیفیت (ب) فضا کا شفاف پن (Transparency) (ج) مقام مشاہدہ کا محل وقوع یعنی طول بلد (longitude) اور عرض بلد (Latitude)۔ مقام مشاہدہ کی بلندی اگر سطح سمندر سے کم ہو تو انعطاف نور (Refraction of Light) کی شرح زیادہ ہو گی اور رویت ہلال کے لیے زیادہ سازگار ہو گی۔ اس سے معلوم ہوا کہ پہاڑوں کے بہ نسبت ساحل سمندر پر نیا چاند دکھائی دینے کے امکانات زیادہ وہتے ہیں۔ سائنسی اور فلکیاتی توضیحات کی باریکیوں میں الجھے بغیر ایک عام آدمی بھی مطلع صاف ہونے کی صورت میں صرف دو معلومات کی بنائ￿  پر کسی حد تک رویت ہلال کے امکان کا پیشگی تعین کر سکتا ہے یا شہادتوں کے معیار کو پرکھ سکتا ہے۔ اول چاند کی عمر اور دوئم غروب شمس اور غروب قمر کا درمیانی فرق۔ رویت ہلال کیلئے چاند کی عمر کم از کم بیس گھنٹے نیز غروب شمس اور غروب قمر کا درمیانی فرق کم از کم چالیس منٹ ہونا چاہیے، اگر چاند کی عمر 30 گھنٹوں سے بڑھ جائے تو غروب شمس اور غروب قمر کا درمیانی فرق 35 منٹ ہونے پر بھی ہلال نظر آ جاتا ہے یا اگر غروب شمس اور غروب قمر کا درمیانی فرق 50 منٹ سے بڑھ جائے تو تقریباً 19 گھنٹے کی عمر کا چاند بھی دکھائی دے جاتا ہے۔
اصل مسئلہ: رویت ہلال کے لئے غروب آفتاب کا وقت اس لئے مقرر کیا گیا ہے کہ اس سے قبل ہم نیا چاند دیکھنے کی کوشش کریں گے تو سورج کی تیز روشنی کے باعث ہماری آنکھیں چندھیا جائیں گی اور ہم اتنا باریک چاند اس کی موجودگی کے باوجود دیکھ نہیں پائیں گے۔ نیا چاند دکھائی دینے کیلئے سورج کا غروب ہونا یا سورج کی براہ راست شعاعوں کی زد سے محفوظ ہونا ضروری ہے۔ ستمبر 2010ئ￿  میں نیا چاند، 8/ ستمبر کو پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق سہ پہر تین بج کر تیس منٹ پر پیدا ہوا۔ 9/ستمبر کو غروب آفتاب کے وقت اگرچہ چاند کی عمر پاکستان کے تمام شہروں میں ساڑھے 26 گھنٹوں سے بھی تجاوز کر چکی تھی لیکن غروب شمس اور غروب قمر کا درمیانی فرق کسی بھی شہر میں 28 منٹ سے زائد نہیں تھا، لہٰذا جمعرات کی شام نیا چاند دکھائی نہیں دیا۔ اگر نیا چاند سہ پہر ساڑھے تین بجے کی بجائے گیارہ بجے قبل از دوپہر پیدا ہوا ہوتا تو وہ جمعرات کی شام دکھائی دے جاتا۔ جمعتہ المبارک 10/ستمبر بمطاق 30 رمضان المبارک کی سہ پہر اسلام آباد میں سورج کے آگے اتنے گھنے بادل آ گئے کہ وہ سورج کی براہ راست روشنی کے آئی نائن سیکٹر پہنچنے کی راہ میں مزاحم ہو گئے جبکہ بادلوں کے اوپر سے سورج کی روشنی چاند کے جس حصے پر پہنچ رہی تھی، وہ روشن ہو رہا تھا، لہٰذا وہ پتنگ اڑاتے بچے کو بھی دکھائی دے گیا حالانکہ وہ بچہ رویت ہلال کی کوشش نہیں کر رہا تھا۔ یہ امر مد نظر رہے کہ اس وقت چاند کی عمر 47 گھنٹوں سے بھی تجاوز کر چکی تھی۔ اگر بادل سورج کی روشنی میں مزاحم نہ ہوتے تو کوئی بھی انسان چاند کی وہاں موجودگی کے باوجود اسے تلاش کرنے کی کوشش کرتا، تو آنکھیں چندھیا جانے کے باعث اسے دیکھ نہ پاتا۔ رہا یہ سوال کہ اس واقعہ سے ماہ شوال 1431ھ کا 10/ستمبر کی شام سے آغاز مشکوک قرار پاتا ہے، تو اس کا انتہائی سادہ جواب یہ ہے کہ جب 9/ستمبر کی شام رویت ہلال نہیں ہوئی تھی، تو شرعی حکم کے مطابق رمضان المبارک کے تیس ایام مکمل کرنے کے بعد ہی شوال کا آغاز ہونا تھا‘‘۔
ہم نے شرعی اور سائنسی دونوں پہلوؤں کی وضاحت کر دی ہے۔ سائنسی اور فلکیاتی اعتبار سے قمری ماہ کی انتیس یا تیس تاریخ کو دن کے وقت بعض موسمی احوال کی وجہ سے چاند نظر آ سکتا ہے، لیکن اس سے چاند کی تاریخ پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ وہ چاند گزشتہ شب ہی سے متعلق ہوتا ہے۔ شرعی اور سائنسی اعتبار سے نئے قمری ماہ کا آغاز اسی صورت میں ہو گا جب چاند اس دن غروب آفتاب کے بعد نظر آئے۔ یہ تفصیلی بحث ہم نے اس لئے کی کہ جب تک دنیا قائم ہے، نظام شمس و قمر بھی اللہ تعالیٰ کے حکم سے جاری رہے گا۔ شمسی اور قمری مہینوں کا آغاز اور اختتام بھی ہوتا رہے گا اور ان کے ساتھ جو دینی امور متعلق ہیں وہ بھی جاری و ساری رہیں گے۔ بس یہ ضابطہ ذہن میں رہے کہ نئے قمری مہینے کا آغاز اسی وقت ہو گا، جب قمری مہینے کی انتیس تاریخ کو غروب آفتاب کے بعد مطلع پر چاند نظر آئے، ورنہ وہ قمری مہینہ تیس کا قرار پائے گا اور اگلے دن کو بعض موسمی وجوہ اور فلکیاتی احوال کے باعث کسی وقت آسمان پر چاند نظر بھی آ جائے، تو اس سے قمری تاریخ میں کوئی رد و بدل نہیں ہو گا۔ اس لئے تمام برادران ملت سے گزارش ہے کہ وہ اس حوالے سے توہمات اور ضعیف الاعتقادی میں مبتلا نہ ہوں۔