۱۱۸۔ وقال الذین لایعلمون لولا یکلمنا اﷲ اوتاتینا آیۃ، کذلک قال الذین من قبلہم مثل قولہم، تشابہت قلوبہم ، قدبینا الایٰت لقوم یوقنونO
۱۱۹۔ انا ارسلنٰک بالحق بشیرا و نذیرا

اور بولے جو علم نہیں رکھتے کہ کیوں نہیں مخاطب فرماتا ہمیں اﷲ یا آملتی ہم کو کوئی پہچان۔ اسی طرح بولے تھے جو ان کے پہلے سے ہوئے انہیں کی بولی جیسی۔ ملے جلے رہے ان سب کے دل۔ بے شک ظاہر فرمادیا ہم نے آیتوں کو اس قوم کیلئے جو یقین رکھیں
بے شک ہم نے بھیجا تم کو بالکل حق، خوشخبری سنانے والا

(اور) یہود تو یہود، عیسائیوں اور بت پرستوں میں سے بھی یہ کفری بول (بولے) یہ سب کے سب (جو) سرے سے (علم) ہی (نہیں رکھتے) یہودیوں کو اپنے توریت ہی کی خبر نہیں اور عیسائیوں کواپنی انجیل ہی کی خبر نہیں اور بت پرستوں کو علم سے کیا واسطہ ہوسکتا ہے۔ ان کی ایک کفری بولی یہ ہے (کہ) اے پیغمبر اسلام! اﷲ تعالیٰ آپ سے کلام فرماتا ہے تو ایسا (کیوں نہیں) ہوتا کہ وہ (مخاطب فرماتا ہمیں) بھی، اور براہ راست ہم سے بھی بات چیت کرتا (اﷲ) تعالیٰ۔ اور کہہ دیتا کہ ہمارے پیغمبر ہیں تو آپ پر ہم ایمان لے آتے (یا) یہی ہوتا کہ (آملتی ہم کو) صاف صاف آپ کی (کوئی) ایسی (پہچان) کہ پھر آپ کے رسول ہونے میں کوئی شک نہ رہ جاتا۔ اگر ہم دیکھ پاتے کہ نہ مانیں گے، تو ابھی ہم پر یہ عذاب اترنے والا ہے، تو پھر ہمیں ماننے کے سوا کیا چارہ کار تھا۔ یہ اﷲ تعالیٰ سے براہ راست بات چیت کرنے کا مطالبہ اور اس کے عذاب کی فرمائش کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ بلکہ (اسی طرح) سے وہ کفار بھی (بولے تھے جو ان کے پہلے سے ہوئے) ان کی بھی بولی (انہیں کی بولی جیسی) تھی۔ انہوں نے بھی حضرت موسیٰ سے کہا تھا کہ ہم آپ کو نہ مانیں گے جب تک اﷲ تعالیٰ کو اعلانیہ نہ دیکھ لیں گے۔ ایک عذاب کے بعد دوسرے عذاب کی فرمائش ان کا بھی دستور تھا۔ کفر نے ان کو اور ان کو ہم سنگ بنا رکھا ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ آج کے کافر پہلے کے کافروں سے گو ایک دوسرے سے زمانہ میں دور ہیں، لیکن جہاں تک کفر کا اثر ہے (ملے جلے) اور یکساں (رہے ان سب کے دل) جیسے مشترکہ سازشوں میں ہر سازشی کے دل ملے جلے رہتے ہیں ۔اگر ان کو تمہارے پہچاننے کا شوق ہوتا، تو ایک نشانی کیا بلکہ (بے شک) و شبہ و صاف صاف (ظاہر)، عیاں (فرما دیا ہم نے) تمہاری پہچان کے لئے بے شمار (آیتوں) اور نشانیوں (کو)، مگر یہ وہمی و شکی تو اندھے ہیں۔ ان کے پاس وہم وشک کے سوا کچھ نہیں ہے۔ ہماری ظاہر کی ہوئی نشانیوں سے فائدہ پانا (اس قوم کے لئے) ہے(جو) وہم وشک کے شیطان سے دور رہیں، اور اپنے پاس (یقین) کی دولت (رکھیں) جس بات کا یقین ہوجائے، اس کے خلاف خواب تک نہ دیکھیں۔
تم وہ نہیں ہو کہ کوئی آئے تو نشانی آکر تمہاری تائید کرے، تو ماننے کے قابل ٹھہرو۔ بلکہ (بے شک ہم نے) تو (بھیجا ہے تم کو بالکل حق) تمہارے ساتھ حق ہے، تمہارا دین حق ہے، تم خود سراپا حق ہو، جو آیت و نشانی تمہاری تائید کرے تو اس کی وجہ سے سچ ہوجائے اور جو آیت یا نشانی تمہارے خلاف ہو وہ خود جھوٹ ہے۔ تم اب کسی تائید کے محتاج نہیں ہو بلکہ ہر نشانی اپنے سچ ہونے کے لئے تمہاری تائید کرنے کی محتاج ہے۔ اگر ان کے پاس یقین ہوتا تو تم کو مانتے۔ اور بجائے اس کے تم سے نشانیاں مانگتے، یہ جس نشانی کو تمہاری تائید میں پاتے، اس کو اس لئے سچ جانتے کہ وہ حق کی تائید میں ہے۔ ہم نے تم کو کسی تائید سے بالاتر رکھا ہے۔ اور اپنے فرمانبرداروں، چاہنے والوں کو (خوشخبری سنانے والا)…