حضرت علامہ مولانا مفتی فیض احمد اُویسی علیہ الرحمہ کا یادگار انٹرویو

in Tahaffuz, October-November 2010, انٹرویوز

سوال: آپ کی ولادت کب اور کہاں ہوئی؟
جواب: 1931ء یا 1932ء میں ضلع رحیم یار خان پنجاب کے گائوں حامد آباد میں ہوئی۔
سوال: آپ کے والد ماجد کا کیا نام ہے؟
جواب: میرے والد ماجد کا نام حضرت مولانا نور احمد اویسی علیہ الرحمہ ہے۔
سوال: آپ کتنے بھائی بہن ہیں۔ کیا آپ کے بھائیوں میں کوئی عالم دین ہے؟
جواب: میری دو بہنیں تھیں جو اس دنیا سے رخصت ہوچکی ہیں۔ ایک بھائی قبلہ الحاج الٰہی بخش اویسی صاحب سلمہ حیات ہیں جو فقیر سے بڑے ہیں۔
سوال: آپ نے ابتدائی تعلیم کب اور کہاں سے حاصل کی؟
جواب: شریعت مطہرہ کے مطابق چار سال چار ماہ اور چار ہفتے کے عرصے کے اندر میں نے والد گرامی حضرت مولانا نور احمد اویسی صاحب علیہ الرحمہ سے رسم تسمیہ کے بعد ناظرہ قرآن مجید پڑھا پھر اسکول میں داخل کرادیا۔ پانچ جماعتیں پڑھیں پھر قرآن مجید حفظ کرنے میں مصروف ہوگیا۔ 1942ء تا 1946ء یعنی تین سال کے اندر قرآن مجید حفظ کرنے کی سعادت حاصل کی۔
پرائمری کی تعلیم حکیم اﷲ بخش‘ مولانا کریم بخش اور مولانا خیر محمد صاحب سے حاصل کی اور حافظ جان محمد‘ حافظ محمد سراج اور حافظ غلام یاسین سے قرآن مجید حفظ کیا۔
1946ء میں نظم فارسی کا کورس شروع کردیا اور 1947ء تک کریمادیند نامہ سوری تا مثنوی شریف پڑھی۔ مولانا حکیم اﷲ بخش‘ مولانا عبدالرحیم اور مولانا واحد بخش صاحب فارسی نظم کے اساتذہ تھے۔
1947ء میں علماء مولانا محمد نواز اویسی صاحب‘ خورشید ملت الحاج مولانا خورشید احمد صاحب اور استاد العلماء حضرت علامہ مولانا الحاج محمد عبدالکریم رحمھم اﷲ تعالیٰ سے درسِ نظامی کی تعلیم حاصل کی اور 1951ء میں درس نظامی کا کورس انہی اساتذہ سے مکمل کرنا نصیب ہوا۔
سوال: آپ نے دورۂ حدیث کس سے‘ کب اور کہاں مکمل کیا؟
جواب: فقیر نے دورۂ حدیث محدث اعظم پاکستان‘ سرمایہ ملت حضرت علامہ مولانا الحاج سردار احمد خاں صاحب علیہ الرحمہ سے جامعہ رضویہ فیصل آباد (لائل پور) میں پڑھا۔ 1952ء میں علمی تکمیل سے مشرف ہوا۔
اعزازی علمی سند استاذ العلماء حضرت علامہ مولانا محمد عبدالکریم صاحب علیہ الرحمہ مدرس مدرسہ قادریہ بغداد شریف نے 1995ء میں عطاء فرمائی۔
سوال: آپ کس ہستی سے شرف بیعت ہیں؟
جواب: پیر طریقت ولی نعمت حضرت الحاج خواجہ محمد دین اویسی حنفی علیہ الرحمہ کے سجادہ نشین سلسلہ اویسیہ کے سرتاج خواجہ محمد دین علیہ الرحمہ سے بیعت ہوا اور سند خلافت حضور مفتی اعظم ہند‘ شہزادہ اعلیٰ حضرت‘ مجدد ملت علامہ الحاج محمد مصطفی رضا خانصاحب بریلوی علیہ الرحمہ نے عطا فرمائی۔
سوال: بیعت ہونے کی کیا وجوہات بنیں؟
جواب: چونکہ ہم آبائو اجداد سے اسی سلسلہ اویسیہ سے اسی درگاہ سیرانی سے وابستہ تھے۔ میرے پیرومرشد پیر طریقت‘ ولی نعمت حضرت الحاج محمد دین اویسی حنفی علیہ الرحمہ شریعت کے سخت پابند تھے۔ مریدین کو بھی اسی راہ پر لگاتے۔ فقیر تعلیمی اعتبار سے مبتدی تھا۔ مجھے مرشد کی یہ ادا پسند آتی اسی لئے ان سے بیعت ہوگیا۔ حضرت مرشد کریم کی بھی فقیر سے خصوصی شفقت ہوگئی۔ حفظ القرآن کے بعد آپ نے ہی فقیر کو علوم عربیہ پڑھنے کا حکم فرمایا اور تاوصال خصوصیت سے فقیر کی علمی و عملی تربیت فرمائی۔ وصال  کے بعد بھی ان کی نگاہ کرم تاحال جاری و ساری ہے۔
سوال: آپ کی کتنی تصانیف ہیں؟
جواب: تصانیف کا دائرہ وسیع ہے۔ زمانہ طالب علم سے تاحال یہ سلسلہ مسلسل غیر منقطع ہے۔ خدا تعالیٰ کریم کرے بوقت مرگ بھی قلم ہاتھ میں ہو۔ اسی اعتبار سے ساڑھے تین ہزار سے زائد تصانیف و رسائل و تراجم ہیں۔ صرف ایک ہزار سے کم شائع ہوسکی ہیں۔ باقی فقیر کے حجرہ میں اشاعت کی منتظر ہیں۔ اس کی تفصیل ضخیم کتاب علم کے موتی قسط اول و دوم کراچی سے شائع ہوئی ہے۔ قسط نمبر تین اشاعت کی منتظر ہے۔
سوال: آپ کی پسندیدہ تصنیف کون سی ہے؟
جواب: فقیر کو اپنی ہر تصنیف وتحریر پسندیدہ ہے۔ اولاد کیسی بھی ہو ماںباپ کے لئے تو گوہر آبدار ہوتی ہے۔
سوال: تحریری فن کس سے سیکھا؟
جواب: دور سابق میں اساتذہ تلامذہ کو طریقہ تحریر سکھاتے پھر اس پر خوب محنت کراتے۔ فقیر کے اساتذہ دوران تعلیم اسکول اور نظم فارسی کورس میں خوب محنت کرائی۔ یہاں تک کہ اساتذہ کی نظر کرم سے فقیر کے لئے تحریر غذا بن گئی جو تاحال اس کے بغیر چین نہیں آتا۔
سوال: تحریری کام کا آغاز کون سی عمر اور کس سن میں کیا؟
جواب: 1937ء ۔ 1938ء میں پرائمری اسکول میں داخل ہوا تو اس وقت سے سلسلہ فن تحریر بھی شروع ہوا۔ اس وقت فقیر کی عمر سات یا آٹھ سال تھی۔
سوال: تقریر کا فن کس سے سیکھا؟
جواب: میرے اساتذہ درس نظامی تا محدث اعظم پاکستان رحمھم اﷲ سب کے سب معروف و مشہور مقررین تھے۔ مشہور مقولہ ہے کہ اگرچہ فقیر مقرر نام کا ہے لیکن اساتذہ کرام کی برکت حاصل ہے۔
سوال: آپ کی شاگردوں کی تعداد کتنی ہے؟
جواب: شاگردوں کی تعداد گنتی سے باہر ہے کیونکہ فقیر 1947ء سے متعلم کے ساتھ تعلیم وتدریس بھی کرتا۔ اساتذہ کرام فقیر کی ابتداء پر خود فقیر کے ذمہ لگاتے۔
فراغت کے بعد تو مشغلہ ہی تعلیم و تدریس رہا۔ بالخصوص دورہ تفسیر القرآن کے تلامذہ بہت زیادہ ہیں کیونکہ فقیر کونہ صرف بہاولپور اور نہ صرف رمضان شریف میں بلکہ پاکستان کے مختلف اضلاع میں اور سال کے دوران متعدد بار دورہ قرآن مجید پڑھانے کی سعادت نصیب رہی۔
سوال: آپ کے شاگردوں میں سے کوئی ایسا شاگردجس پر آپ کو ناز ہو؟
جواب: فقیر کو ہر شاگرد پر ناز ہے۔ کیونکہ یہ اولاد معنوی ہے معنوی اولاد کو روحانی طور پر ظاہری اولاد پر ترجیح ہوتی ہے لیکن پندرہویں صدی سے صورتحال الٹ گئی۔ اب اساتذہ سے نہیں تلامذہ سے پوچھا جائے کہ آپ کو اپنے استاذ مکرم سے کتنی عقیدت ہے بلکہ فقیر کو حالات کی تبدیلی نے مجبور کردیا ہے کہ بقول استاذ العلماء علامہ عطاء محمد بندیالوی علیہ الرحمہ کہا کرتا ہوں کہ آج کے دور اساتذی شاگردی کوئی رشتہ نہیں۔ جسے پڑھاتا ہوں اسے دعا دے کر رخصت کرتا ہوں کہ علم نہ بیچنا اور نہ اسے ذریعہ معاش بنانا۔ خدا حافظ
اس کے بعد کوئی صاحب محبت کرتا ہے تو فقیر اس کے لئے دل بچھاتا ہے۔ اگر بے پرواہی کرتا ہے تو فقیر اس کے درپے نہیں ہوتا۔
سوال: آپ کے کتنے صاحبزادے ہیں اور ان میں کتنے علماء ہیں؟
جواب: الحمدﷲ فقیر کے چار بیٹے ہیں اور چاروں عالم دین ہیں۔ فقیر کا ساتھ دے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہاولپور جیسے پرخزاں شہر میں دارالعلوم اچھی حالت میں چل رہا ہے اگرچہ فقیر کا بڑا بیٹا مفتی محمد صالح اویسی علیہ الرحمہ تین سال پہلے فوت ہوگیا ہے لیکن دارالعلوم کے امور بدستور جاری ہیں۔ اب تو الحمدﷲ پوتے‘ نواسے کچھ علماء کرام اور بعض حفاظ ہیں۔ خدا تعالیٰ کرے تا قیام قیامت فقیر کی اولاد میں حق مذہب اہلسنت اور علم و عمل قائم و دائم رہے۔ آمین
سوال: کیا آپ کا کوئی دارالعلوم بھی ہے؟
جواب: بہاولپور پنجاب میں جامعہ اویسیہ رضویہ کے علاوہ اندرون شہر و بیرون شہر درجنوں مدارس ہیں جنہیں فقیر کی اولاد چلا رہی ہے۔
سوال: آپ کے دارالعلوم جامعہ اویسیہ رضویہ میں کتنے طلباء دینی تعلیم حاصل کررہے ہیں؟
جواب: دارالعلوم جامعہ اویسیہ رضویہ بہاولپور پنجاب میں تقریبا دو سو بیرونی اور علاقائی طلبہ بہاولپور کے تعلیم کے زیور سے آراستہ ہورہے ہیں۔ دوسرے مدارس کی تعداد ان کے علاوہ ہے۔
سوال: دارالعلوم جامعہ اویسیہ رضویہ سے حفظ و ناظرہ اور درس نظامی کرکے کتنے طلباء فارغ ہوچکے ہیں؟
جواب: فارغ ہونے والے طلباء کی کوئی گنتی نہیں کی اور نہ ہی کوئی رجسٹر رکھا ہے۔
سوال: اہلسنت سیاسی میدان میں بالکل پیچھے ہیں اس کی کیا وجہ ہے؟
جواب: اہلسنت ہر شعبے میں زبوں حالی کا شکار ہیں۔ سیاست تو ویسے بھی مرچکی۔ ہر شعبے میں ایک لاعلاج مرض ہے وہ ہے ہمچومادیگرے نیست۔
سوال: ہمارے علماء کرام کے آپس کے اختلافات سے عوام اہلسنت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ یہ اختلافات کیسے ختم ہوسکتے ہیں؟
جواب: علمائے اہلسنت کے اختلافات سے عوام پر نقصانات کی ژالہ باری ہورہی ہے۔ اﷲ تعالیٰ انہیں اپنے حفظ و امان میں رکھے۔ اختلافات ختم ہونے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ سیدنا امام مہدی رضی اﷲ عنہ کا انتظار کررہے ہیں اور بس…
سوال: اتحاد اہلسنت کے لئے کچھ تجاویز پیش کریں؟
جواب: تجویز کیا عرض کروں جب بیمار کو علاج کی ضرورت نہ ہو تو علاج کا اظہار کیا۔ فقیر نے بہت پہلے عرض کی تھی اور اب بھی عرض کرتا ہے کہ ہر سنی بھائی دوسرے سنی بھائی کو جان سے پیارا سمجھے اور ایک دوسرے سے عوام و خواص کو ثابت کردے ’’من ترا حاجی بگویم تو مرا حاجی بگو‘‘ اور اس جملے میں لفاظی نہ ہو۔ خلوص و حقیقت ہو۔ یہی فقیر کا پیغام جملہ اہلسنت‘ مشائخ عظام‘ علماء کرام‘ طلبہ حضرات اور عوام صاحبان کو ہے۔
سوال: ماہنامہ تحفظ آپ کو کیسا لگا؟
جواب:  ماہنامے کے مجھے کچھ پرچے ملے۔ بہت خوب کام ہے مگر ہر ماہ ماہنامہ تحفظ مجھے نہیں ملتا۔
مدینے کا بھکاری
فقیر فیض احمد اویسی غفرلہ

قبلہ مفتی صاحب آپ کا بہت بہت شکریہ۔ آپ نے سخت علالت کے باوجود ہمارے سوالات کے جوابات مرہمت فرمائے جس کے لئے ہمارا پورا ادارہ بلکہ تمام قارئین ماہنامہ تحفظ آپ کے شکرگزار ہیں۔
ہم مفتی صاحب کو ہر ماہ ماہنامہ تحفظ بذریعہ ڈاک بھیجتے ہیں مگر ڈاک کی گڑبڑ کی وجہ سے مفتی صاحب کو نہیں ملتا۔ اس لئے مفتی صاحب کا شکوہ بجا ہے لیکن ہم کوئی ایسا سلسلہ بنائیں گے کہ ہر ماہ پابندی کے ساتھ مفتی صاحب کو رسالہ ملتا رہے انشاء اﷲ
قارئین کرام سے عرض ہے کہ وہ قبلہ مفتی صاحب کی صحت یابی کے لئے خصوصی دعا فرمائیں اور آپ کی کتب کا مطالعہ کریں اور خود خرید کر اپنے مرحومین کے ایصال ثواب کے لئے تقسیم کریں۔
اﷲ تعالیٰ مفتی صاحب کی عمردراز بالخیر فرمائے۔ آپ کو کسی کا محتاج نہ بنائے۔ آپ کی تمام ظاہری و باطنی بیماریاں دور فرمائے۔ آپ کے قلم میں زور نصیب فرمائے۔ آپ کی اولاد کو سلامت رکھے اور ان کو آپ کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائی۔ آمین ثم آمین